وزارت دفاع

سی این ایس نے سمندر میں کارروائی کے لئے تیاری کا جائزہ لیا

Posted On: 22 OCT 2020 7:41PM by PIB Delhi

نئی دہلی /22اکتوبر۔ بحریہ کے سربراہ( سی این ایس) ایڈ مرل کرم  بیر سنگھ نے 22 اکتوبر 2020 کو ہندوستانی بحریہ کے  اہم ترین لڑاکوؤں کی کارروائی کرنے اور جنگی تیاریوں کا جائزہ لیا۔

بحریہ کے سربراہ کے ساتھ مغربی بحری کمانڈ کے فلیگ آفیسر کمانڈنگ انچیف، وائس ایڈ مرل اجیت کمار بھی کاروار بحریہ کے اڈے پر پہنچے، جہاں انہوں نے عملے کے ساتھ بات چیت کی اور ان کی جنگی صلاحیتوں کو تیز کرنے کے لئے مرمت، رکھ رکھاؤ اسپیئر سپورٹ اور تیرنے والی یونٹوں کے لئے اوپ  لاجسٹک کے اہم معاملات پر زور دیا۔ انہوں نے سائبر سیکوریٹی،  دہشت گردانہ حملوں اور غیر متوازن جنگ سےفوج کے تحفظ  کے مختلف پہلوؤں پر بات چیت کی اور عملے سے کہا کہ وہ ہوشیاری کی اعلی سطح برقرار رکھیں۔

ایڈ مرل کرم بیر اس کے بعد کیریئر بیٹل گروپ، جس میں وکرم آدتیہ، ڈسٹرائرز، فریجیٹ کارویٹ، بیڑے کے امدادی جہاز اور سوئنگ روڈ جنگجو اور ہیلی کاپٹر شامل ہیں،پر ہیلی کاپٹر سے پہنچے۔ملک میں ہی تیار کئے گئے گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر چنئی پر پہنچنے پر  انہیں فلیٹ کمانڈر کے ذریعہ کارروائی کرنے کی تیاری کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ اس کے بعد حقیقت کے مشابہ حالات کے تحت ہتھیاروں سے فائرنگ، ہوا سے ہوا میں جنگی کارروائی آبدوز مخالف جنگی مشقیں اور بیڑے کے کام کاج کا  مظاہرہ کیا گیا۔اس کے بعد بحریہ کے سربراہ  بیڑے کے  امدادی جہاز کے عملے سے بات چیت کرنے کے لئے بیڑے کے  امدادی جہاز دیپک پر پہنچے۔ اس کے بعد وہ طیارہ بردار جہاز وکرم آدتیہ پر پہنچے جہاں انہوں نے  بیڑے کے فضائی دفاع اور حملے کرنے کی کیرئیر بیٹل گروپ کی صلاحیتوں کا جائزہ لیا۔

وکرم آدتیہ سے براڈکاسٹ کے ذریعہ کیرئیر بیٹل گروپ کے لڑاکو ؤں سے خطاب کرتے ہوئے بحریہ کے سربراہ نے کووڈ-19 سے متعلق چیلنجوں  کے باوجود  گزشتہ مہینوں میں جنگ کے لئے تیاری اور کارروائی کرنے کی تیاری کی مسلسل اعلی سطح کو برقرار رکھنے کے لئے ان کی ستائش کی۔ ہندوستانی بحریہ بحر ہند خطے میں مسلسل مشن موڈ میں  اور جنگ کے لئے تیار رہتی ہے یہاں تک کے مانسون کی مدت میں اور خراب موسم کے باوجود وہ  ملک کے سمندری تحفظ کو برقرار رکھتی ہیں ۔ انہوں نے بحر ہند خطے کے ممالک سے پریشان حال شہریوں کی نقل مکانی کے سلسلے میں آپ سمندر سیتو میں  اور مشن ساگر کے حصے کے طور پر  بحر ہند خطے میں دوست پڑوسی ممالک کو  ادویات اور ساز وسامان  کی امداد فراہم کرانے میں بحریہ کیےتعاون کی اب ملک بھر میں ہونے والی تعریف کا ذکر کیا۔ انہوں نے جوش وجذبے کے اعلی سطح پر اطمینان کااظہار کیا اور کہا کہ ہندوستانی بحریہ ہمارے پلیٹ فارموں کو چلانے کے لئے بہترین سرمایہ ہے۔

 ملک کی سیکوریٹی کی موجودہ  صورت حال کا جائزہ پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بحریہ آئندہ مہینوں میں کارروائی کرنے کے اسی جذبے کو برقرار رکھے گی۔انہوں نے اسلحہ سے بالکل صحیح فائرنگ کرنے پر کیریئر بیٹل گروپ اور اس کے لڑاکو ؤں کی تعریف کی، جس سے  کسی بھی طرح کی ہنگامی صورتحال سے مقابلہ کرنے کے لئے بحریہ کی تیاری کے بارے میں کوئی شبہ نہیں رہ جاتا۔ بحریہ کے سربراہ نے کہا کہ تینوں افواج کے تعاون کے ساتھ کام کرنے سے جو طاقت پیدا ہوئی ہے اس کو  فوجی امور کے محکمے کے قیام میں مزید بڑھایا ہے اور یہ بات حال ہی میں تینوں افواج کی مشترکہ کارروائی سے ظاہر ہوتی ہے۔

 بحریہ کے سربراہ نے کووڈ-19 عالمی وباء کے سلسلے میں بحریہ کے عملے اور ان کے خاندان کے افراد کو پروٹوکول پر عمل جاری رکھنے کا بھی مشورہ دیا۔

بحریہ کے سربراہ سمندر میں اپنی سرگرمیوں کو مکمل کرنے کے بعد گوا واپس آئے اور انہوں نے نیول ایئر  کرافٹ یارڈ کا دورہ کیا۔ اس کے بعد وہ نئی دہلی کے لئے روانہ ہوئے اور فلیگ آفیسر کمانڈنگ انچیف ویسٹ نے انہیں  وداع کیا۔

مغربی سمندر میں لڑائی کے لئے بحریہ کی تیاری کا جس وقت بحریہ کے سربراہ جائزہ لے رہے تھے۔ اس وقت ہندوستانی بحریہ کی آبدوز مخالف جنگ کی صلاحیت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ فوج کے سربراہ جنرل منوج مکند نرونے نے وشاکھا پٹنم میں مشرقی سمندر میں اے ایس ڈبلیو کارویٹ کاوارتی کو سمندر میں اتار کر کیا۔ یہ جہاز ہندوستانی بحریہ نے  ڈیزائن کیاہے اور گارڈن ریچ شپ بلڈرز اینڈ انجینئرز لمٹیڈ کولکاتہ نے تیار کیا ہے جو کہ آتم نربھر بھارت کی ایک عمدہ  مثال ہے۔

ہندوستانی بحریہ کووڈ-19 عالمی وباء کے باوجود کارروائی کرنے اور جنگ کرنے کے لئے  پوری طرح تیار ہے اور جنگی جہازوں، آبدوز کشتیوں، طیاروں اور اپنے اڈوں پر سخت ترین پروٹوکول پر عمل کررہی ہے اور اپنے معاون افواج کے تعاون سے سمندر میں کسی بھی چیلنج کا سامنا کرنے کے لئے پوری طرح تیار ہیں۔

****

( م ن۔ا  گ۔رض)

U- 6704



(Release ID: 1667561) Visitor Counter : 6