نیتی آیوگ

اٹل انوویشن مشن نے آتم نربھر بھارت اے آر آئی ایس ای۔ اے این آئی سی پہل کا آغاز کیا

اسرو اور چار وزارتیں بھی اس میں شامل

Posted On: 09 SEP 2020 7:55PM by PIB Delhi

 

اٹل انوویشن مشن (اے آئی ایم)، نیتی آیوگ نے آج اپنے سب سے زیادہ انتظار کئے جانے والے پروگراموں میں سے ایک پروگرام آتم نربھر بھارت اے آر آئی ایس ای۔ اٹل نیو انڈیا چیلینجز کا آغاز کیا تاکہ ہندوستانی ایم ایس ایم ایز اور اسٹارٹ اپ میں قابل عمل تحقیق اور اختراع کو فروغ دیا جا سکے۔

یہ پروگرام ہندستانی خلائی تحقیق تنظیم (اسرو)، چار وزارتوں۔ وزارت دفاع، ڈبہ بند خوراک کی صنعتوں کی وزارت، صحت اور کنبہ بہبود کی وزارت اور ہاوسنگ اور شہری امور کی وزارت اور متعلقہ صنعتوں کے ذریعہ چلایا جائے گا جس سے الگ الگ سیکٹر کے مسائل کا اختراعی حل تلاش کیا جا سکے۔

اس اقدام کے ورچوئل آغاز پر بولتے ہوئے بہت چھوٹی، چھوٹی اور متوسط درجے کی صنعتوں کے وزیر جناب نتن گڈکری نے کہا ، "ایم ایس ایم ای ملک کے ترقیاتی انجن ہیں اور ان سے بہت سی توقعات ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اس اقدام سے اس شعبے کو فروغ دینے کے لئے ضروری اختراعات کی نشاندہی اور انہیں فروغ دینے میں مدد ملے گی''۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے سائنسی تحقیق پر توجہ دینے کے ویژن کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا ،" سائنس کو معاشرتی اور معاشی مسائل حل کرنے میں مدد کرنی چاہئے اور سائنسی تحقیق کو تجربہ گاہوں سے زمین تک لے جانا چاہئے'۔

محترم وزیر کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے نیتی آیوگ کے وائس چئیرمین ڈاکٹر راجیو کمار نے کہا کہ اس اقدام سے ان تکنیکی ماہرین کو بڑھاوا ملے گا جو ہندستان کو آگے لے جانے کی اپنی بےپناہ صلاحیت کی وجہ سے مدد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک تاریخی دن ہے کیونکہ سائنس اور ٹیکنالوجی شعبہ کی اہم شخصیتوں نے ایم ایس ایم ای شعبہ کو فروغ دینے کے لئے ہمارے ساتھ تعاون کیا ہے۔

آتم نربھر بھارت اے آر آئی ایس ای – اے این آئی سی پروگرام مجوزہ ٹیکنالوجی حل اور / یا مصنوعات کی تیزرفتار ترقی کے لئے 50 لاکھ روپے تک کی فنڈنگ سپورٹ فراہم کرکے قابل عمل تحقیق کی بنیاد پر اختراعات کی مدد کرے گا۔

نیتی آیوگ کے سی ای او شری امیتابھ کانت نے کہا کہ ''اسرو کے علاوہ جو کہ ٹکنالوجی کو بہت زیادہ فروغ دینے والا ہے ، ہندوستانی محکمے اور بڑی کمپنیاں کبھی بھی ان نئے اسٹارٹ اپ کی حوصلہ افزائی نہیں کرتی ہیں اورانہیں فروغ نہیں دیتی ہیں جنھوں نے انوکھا کام کیا ہے۔ اے آر آئی ایس ای-اے این آئی سی کی کامیابی کے لئے حکومت کو لازمی طور پر پہلے خریدار بننا چاہئے۔ مجھے یقین ہے کہ اے آئی ایم ان چیلنجوں کے ساتھ نئی بلندیوں کو چھوئے گا جو نئی ہندوستانی مصنوعات کی تعمیر کا باعث بنے گی ''۔

پرنسپل سائنسی مشیر پروفیسر وجے راگھون نے کہا ، اگرچہ سائنس اور ٹکنالوجی میں آگے بڑھنے والی مصنوعات کا ہونا ضروری ہے ، لیکن ان مصنوعات کی خریداری کا موقع ملنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ "ایسا ہونے کی اجازت دینے کے لئے گذشتہ سالوں میں حکومتی پالیسیاں ڈرامائی انداز میں تبدیل ہوچکی ہیں۔ اب اسے ریاستی حکومتوں کے خرید میکانزم میں شامل ہونے اور ہندستان میں بنی مصنوعات کو بازاروں میں پہنچانے کا موقع دئیے جانے کی ضرورت ہے''۔

اے آر آئی ایس ای-اے این آئی سی اقدام کا ایک اہم حصہ ہونے کی وجہ سے اسرو کے چیئرمین ڈاکٹر کے سیون نے کہا ، "اسرو نے ایم ایس ایم ای شعبے کی بڑے پیمانے پر مدد کی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ بہت سارے اسٹارٹ اپ اور ایم ایس ایم ای ہیں جن کو اپنے خیالات کو قابل عمل مصنوعات میں تبدیل کرنے کے لئے ہینڈ ہولڈنگ کی ضرورت ہوتی ہے اور اس اقدام کے ساتھ ہم اس ہدف کو حاصل کرنے کے منتظر ہیں۔

اے آئی ایم مشن کے ڈائریکٹر شری آر رامنن نے کہا کہ ایم ایس ایم ای سب سے تیزی سے بڑھنے والے شعبوں میں سے ایک ہے جو وزیر اعظم کے آتم نربھر بھارت کے ویژن کو حاصل کرنے میں غیر متنازعہ طور پر ایک اہم کردار ادا کرے گا۔

"انہوں نے آگے کہا کہ ایم ایس ایم ای اسٹارٹ اپ کے شعبے میں میک ان انڈیا اختراعات کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے 15 شعبوں میں چیلنجوں پر توجہ مرکوز کرنے کے لئے آتم نربھر بھارت اے آر آئی ایس ای کی ایک نمایاں پہل ہے۔ اس میں ایڈوانسڈ تحقیق اور ترقی کے آئیڈیاز کو بازار کے حساب سے موزوں بنانے اور حکومت کے ذریعہ خریداری کی جا سکنے والے ایم ایس ایم ای مصنوعات کو بنانا شامل ہے۔

 

سائڈلائٹس:

*       اسرو اٹل انوویشن مشن سے 100 اٹل ٹنکرنگ لیبز کو اپنائے گا۔

*       عہدیداروں نے مہاتما گاندھی چیلنج طریقہ کا استعمال کرتے ہوئے اختراع کاروں کو راغب کرنے پر زور دیا۔

*       سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کے وزیر نے اٹل انوویشن مشن کے تحت اے آر آئی ایس ای - اے این آئی سی کے اقدام کی مدد سے ایم ایس ایم ای شعبے کو ترقی دینے پر زور دیا۔

11.jpg

22.jpg

33.jpg

 

                                          **************

م ن۔ن ا۔ م ف    

U: 5310



(Release ID: 1653677) Visitor Counter : 11