صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت

وزارت صحت نے کووِڈ۔19 جانچ سے متعلق تازہ ایڈوائزری جاری کی

جانچ کے عمل کو آسان بنانے کے ساتھ ساتھ پہلی مرتبہ ’مطالبے پر‘ جانچ کو منظوری دی

Posted On: 05 SEP 2020 11:35AM by PIB Delhi

بھارت کی یومیہ جانچ صلاحیت میں غیر معمولی اضافہ رونما ہوا ہے۔ مسلسل دو دنوں کے دوران یومیہ 11.70  لاکھ جانچیں انجام دی گئیں۔ اب تک ملک بھر میں مجموعی طور پر 4 کروڑ 77 لاکھ جانچیں انجام دی جا چکی ہیں۔ اب 1647 جانچ تجربہ گاہیں سرگرم عمل ہیں جو تمام ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کا احاطہ کرتی ہیں۔ اسی پس منظر کو مدنظر رکھتے ہوئے وزارت صحت نے جانچ سے متعلق تازہ ایڈوائزری جاری کی ہے۔

کووِڈ۔19 سے متعلق نیشنل ٹاسک فورس کے ذریعہ پیش کی گئیں سفارشات کی بنیاد پر نئی ایڈوائزری کے تحت جانچ کے عمل کو مزید سہل بنایا گیا ہے اور ساتھ ہی عوام کے لئے جانچ کی ان آسان سہولتوں کی دستیابی کے لئے ریاستی حکام کو مزید آزادی اور اختیارات فراہم کیے گئے ہیں۔

ان مزید سہل کاریوں کے علاوہ، پہلی مرتبہ جانچ کی اعلیٰ سطح کو یقینی بنانے کے لئے ’’مطالبے پر‘‘ جانچ کے لئے رہنما خطوط جاری کیے گئے ہیں۔

یہ ایڈوائزری مختلف حالات میں جانچ کے انتخاب (ترجیح کے لحاظ سے) کے بارے میں تفصیل فراہم کرتی ہے۔

  1. کنٹنمنٹ علاقوں میں داخلے کی جگہوں پر معمول کے مطابق نگرانی:

جانچ کا انتخاب (ترجیح کے لحاظ سے):

  1. ریپڈ اینٹی جن ٹیسٹ (آراے ٹی) [منسلک الگورتھم کے مطابق]
  2. آر ٹی ۔ پی سی آر یا ٹرو نیٹ یا سی بی این اے اے ٹی

1.         صحتی اور صف اول کے کارکنان سمیت بیماری کی علامات نہ رکھنے والے (آئی ایل آئی علامات) تمام معاملات

2.       تجربہ گاہ سے تصدیق شدہ بیماری کی علامت نہ رکھنے والے راست اور زیادہ خطرے کے حامل تمام افراد کو(کنبہ میں اور کام کی جگہ پر، 65 برس اور اس سے زیادہ عمر والے بزرگ، کمزور قوت مدافعت کے حامل، ایک یا زیادہ بیماریوں کے شکار افراد، وغیرہ) کی رابطے میں آنے کے پانچویں اور 10ویں دن کے درمیان ایک مرتبہ جانچ کی جانی چاہئے۔

3.       روک تھام والے علاقوں میں بیماری کی علامات نہ رکھنے والے زیادہ خطرے سے دوچار تمام افراد (65 برس یا اس سے زیادہ عمر کے بزرگ، ایک یا ایک سے زیادہ بیماری سے نبردآزما افراد، وغیرہ)

غیر روک تھام والے علاقوں میں معمول کے مطابق نگرانی:

جانچ کا انتخاب (ترجیح کے لحاظ سے):

  1. آر ٹی ۔ پی سی آر یا ٹرو نیٹ یا سی بی این اے اے ٹی
  2. ریپڈ اینٹی جن ٹیسٹ (آر اے ٹی) *

4.         گذشتہ 14 دنوں کے دوران بین الاقوامی دورہ کرنے والے، بیماری کی علامات سے مبرا (آئی ایل آئی علامات) افراد۔

5.       تجربہ گاہ میں تصدیق شدہ، بیماری کی علامات سے مبرا (آئی ایل آئی علامات) تمام رابطے۔

6۔         بیماری کی روک تھام اور اس کے اثر کو کم کرنے کے عمل مصروف بیماری کی علامات سے مبرا تمام صحتی کارکنان / صف اول کے کارکنان۔

7.       بیماری کے 7 دنوں کے اندر گھر واپس آنے والوں اور مہاجرین میں موجود بیماری کی علامات سے مبرا تمام آئی ایل آئی معاملات۔

8.         بیماری کی علامات سے مبرا زیادہ خطرے کے حامل رابطے (کنبے میں اور کام کی جگہ پر، 65 برس یا اس سے زیادہ عمر کے بزرگ، ایک یا ایک سے زیادہ بیماریوں سے نبردآزما افراد، وغیرہ) [ترجیح کے لحاظ سے آر اے ٹی جانچ کو اولیت دینے کی تجویز پیش کی جاتی ہے۔]

  1. ہسپتالوں میں:

جانچ کا انتخاب (ترجیح کے لحاظ سے)

  1. آر ٹی ۔ پی سی آر یا ٹرو نیٹ یا سی بی این اے اے ٹی
  2. ریپڈ اینٹی جن ٹیسٹ (آر اے ٹی)

9.         سانس کی تکلیف کے شکار (ایس اے آر آئی) تمام مریض

10.     صحتی مرکز میں لائے جانے والے بیماری کی علامات کے حامل (آئی ایل آئی) تمام مریض

11.     بیماری کی علامات سے مبرا زیادہ خطرے کے حامل وہ مریض جنہیں ہسپتال میں بھرتی کرایا گیا ہو یا کمزور قوت مدافعت والے افراد، مہلک بیماری سے نبردآزما مریض، ٹرانسپلانٹ مریض، ایک یا ایک سے زائد دائمی مرض کے شکار مریض، 65 برس یا اس سے زیادہ عمر کے بزرگ جیسے افراد جنہیں فوری طور پر ہسپتال میں بھرتی کرائے جانے کی ضرورت ہو۔

12.     سرجیکل / نان سرجیکل پروسیجر سے گزرنے والے بیماری کی علامات سے مبرا مریض (ہسپتال میں بھرتی کے دوران ہفتے میں ایک سے زائد جانچ نہیں کرنی ہے)

13.   ہسپتال میں داخل کی گئیں وہ تمام حاملہ خواتین جن کے حمل کا وقت قریب ہے۔ ان نکات پر توجہ دینا ضروری ہے:

        • جانچ کے سہولت کے فقدان کی صورت میں ایمرجنسی طریقہ کار (ڈلیوریوں سمیت) میں تاخیر نہیں کی جانی چاہئے۔ تاہم، درج بالا نکات (1 سے 13) کے ظاہر ہونے کی صورت میں،ساتھ ساتھ نمونے کو جانچ کے لئے بھیجا جا سکتا ہے۔
        • جانچ کی سہولت کے فقدان کی صورت میں حاملہ خواتین کو دوسرے ہسپتال نہیں بھیجا جانا چاہئے۔ نمونے کے جمع کرنے اور جانچ کے لئے دوسرے سہولتی مرکز بھیجنے کے لئے تمام انتظامات کیے جانے چاہئیں۔
        • کووِڈ۔19 سے متاثرہ ماؤں کو، 14 دنوں تک، بچوں کو چھونے کے وقت ماسک پہننے اور کثرت سے ہاتھ دھونے کی صلاح دی جانی چاہئے۔ انہیں نوزائیدہ کو دودھ پلانے سے قبل پستانوں کی صفائی کا بھی مشورہ دیا جانا چاہئے۔ ان اقدامات سے ان کے بچوں میں کووِڈ۔19 بیماری کی منتقلی کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔

14.       بیماری کی علامات کے حامل تمام نوزائدہ بچے جنہیں سانس کی بیماری/ سیپسس جیسی بیماری لاحق ہیں۔ (ان بیماریوں کی علامات میں نوزائیدہ بچوں میں سانس لینے میں تکلیف اور کھانسی یا کھانسی کے بغیر، بخار یا بخار کے بغیر سوتے وقت سانس رکنے جیسی علامات شامل ہیں۔ نوزائیدہ بچوں میں بخار، سستی، کم دود پینا، دورے یا پیچش جیسی غیر تنفس والی بیماری کی علامات بھی پائی جا سکتی ہیں۔)

15.     علاج کرنے والے معالج کی صوابدید کی بنیاد پر غیر معمولی علامات [اسٹروک، دماغ کی سوزش، ہیموپٹیسس، پلمونری امبولزم، اکیوٹ کورونری سمپٹمز، گیلین بیری سنڈروم، ملٹیپل آرگن ڈسفنکشن سنڈروم، پروگریسیو گیسٹروئن ٹیسٹینل سمپٹمز، کواسکی ڈیزیز (بچوں کو لاحق ہونے والی بیماری) ] کے حامل بھرتی ہونے والے مریض۔

’’مطالبے پر جانچ‘‘ سے متعلق ایڈوائزری میں مجموعی طور پر نیا سیکشن شامل کیا گیا ہے جو تمام عملی مقاصد کے لئے رجسٹرڈ میڈیکل پرکٹیشنر کے ذریعہ تجویز کردہ نسخہ کو ختم کرتا ہے، حالانکہ ریاستی حکومتوں کو سہل بنائے گئے طریقہ کار پر فیصلہ لینے کی آزادی ہے۔

نئے سیکشن میں یہ تمام باتیں لکھی ہوئی ہیں -

  1. مطالبے پر جانچ (سہل بنائے گئے طریقہ کار پر ریاستی حکومتیں فیصلہ لیں گی):
      1. دوسرے ممالک / بھارتی ریاستوں کا سفر کرنے والے افراد کے لئے داخلے وقت کووِڈ۔19 منفی ٹیسٹ لازمی ۔
      2. وہ تمام افراد جو اپنی خود کی جانچ کرانا چاہتے ہیں۔

جانچ کرنے والی تجربہ گاہوں کو، پبلک ہیلتھ اتھارٹیوں کو مطلع، کرکے ڈھونڈنے اور تلاش کرنے کے میکانزم کو یقینی بنانا چاہئے۔

جانچ کے عمل کثرت:

  • ایک واحد آرٹی۔پی سی آر/ٹرو نیٹ/سی بی این اے اے ٹی/آر اے ٹی پازیٹیو ٹیسٹ کو، دوبارہ جانچ کے بغیر، تصدیقی جانچ تسلیم کیا جانا چاہئے۔
  • کووِڈ۔19 سہولتی مرکز سے شفایاب ہونے کے بعد چھٹی سے قبل دوبارہ جانچ کی تجویز نہیں دی جاتی (برائے مہربا نی صحت و کنبہ بہبود کی وزارت کے ذریعہ جاری کردہ رہنما خطوط پڑھیں)، اس میں کووِڈ سے متاثرہ علاقے / سہولتی مرکز سے غیر متاثرہ کووِڈ علاقے/ سہولتی مرکز میں منتقلی بھی شامل ہے۔
  • اگر منفی آر اے ٹی جانچ کے بعد بیماری کی علامات ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں تو دوبارہ آر اے ٹی یا آر ٹی ۔ پی سی آر جانچ کی جانی چاہئے (آر اے ٹی کی تشریح کے لئے ایلگورتھم کو ضمیمہ 1 میں دیا گیا ہے)

قابل توجہ نکات:

  • آئی ایل آئی کے لئے ڈبلیو ایچ او کی جانب سے وضع کی گئی تعریف: وہ افراد جنہیں 38C یا اس سے زیادہ بخار کے ساتھ سانس لینے میں تکلیف اور 10 دنوں کے اندر کھانسی کی شکایت ہے۔
  • ایس اے آر آئی کے لئے ڈبلیو ایچ او کی جانب سے وضع کی گئی تعریف: وہ افراد جنہیں 38C یا اس سے زیادہ بخار کے ساتھ سانس لینے میں تکلیف اور 10 دنوں کے اندر کھانسی کی شکایت ہے اور جنہیں ہسپتال میں داخل کرانے کی ضرورت ہے۔
  • مشتبہ/شناخت شدہ کووِڈ۔19 مریضوں کے رابطے میں آنے والے تمام صحتی و صف اول کے کارکنان کے لئے پی پی ای کٹ کے صحیح طور پر استعمال کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
  • پروسیجر سے قبل انفیکشن کے امکانات کو کم کرنے کی غرض سے الیکٹیو سرجری سے گزرنے والے افراد کو 14 دنوں کے ہوم کوارنٹائن کی تجویز دی جاتی ہے۔

کووِڈ۔19 سے متعلق تکنیکی مسائل کے لئے صحیح اور تازہ ترین معلومات ، رہنما خطوط اور ایڈوائزری کے لئے برائے مہربانی باقاعدگی کے ساتھ ویب سائٹ https://www.mohfw.gov.in/ اور @MoHFW_INDIA دیکھتے رہیں۔

کووِڈ۔19 سے متعلق تکنیکی سوالات technicalquery.covid19[at]gov[dot]in پر اور دیگر سوالات ncov2019[at]gov[dot]in اور @CovidIndiaSeva پر ارسال کیے جا سکتے ہیں۔

کووِڈ۔19 سے متعلق کسی بھی قسم کے سوالات کے لئے برائے مہربانی وزارت برائے صحت و کنبہ بہود کے ہیلپ لائن نمبر +91-11-23978046 یا 1075 (ٹول فری) پر کال کریں۔ کووِڈ۔19 کے لئے ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ہیلپ لائن نمبروں کی فہرست https://www.mohfw.gov.in/pdf/coronvavirushelplinenumber.pdf پر بھی دستیاب ہے۔

 

****

 

م ن۔ ا ب ن

U:5109



(Release ID: 1651591) Visitor Counter : 145