زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت

چار ستمبر 2020تک 1095.38لاکھ ہیکٹیئر رقبے پر خریف فصلوں کی ریکارڈ بوائی


چاول کی بوائی ابھی بھی جاری، جبکہ دالوں، موٹے اناجوں، باجرہ اور تلہنوں کی بوائی تقریباً ختم ہو گئی ہے

حکومت کے بیج، کیڑے مار دوا، کھاد، مشینری اور کریڈٹ جیسے بروقت تعاون نے وبا اور لاک ڈاؤن جیسی صورتحال میں بھی خریف بوائی کے بڑے رقبے کے احاطے کو ممکن بنایا:مرکزی وزیر زراعت اور کسانوں کی بہبود، جناب نریندر سنگھ تومر

Posted On: 04 SEP 2020 2:13PM by PIB Delhi

 

نئی دلی، 4ستمبر، خریف 2020 کے موجودہ سیزن ؍ موسم میں 1095.38لاکھ ہیکٹیئر رقبے کا احاطہ کیاگیا ہے۔ چاول کی بوائی ابھی بھی جاری ہے، جبکہ موٹے اناجوں، دالوں، باجرہ اور تلہنوں کی بوائی تقریبا ختم ہو چکی ہے۔ آج کی تاریخ تک خریف فصلوں کے احاطے میں پیش رفت پر کووڈ-19 کا کوئی اثر نہیں ہے۔

زراعت اور کسانوں کی بہبود کے مرکزی وزیر جناب نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ حکومت ہند کی جانب سے بروقت تعاون ؍ان پٹس جیسے بیچ، کیڑے مار دوا، کھاد اور کریڈٹ نے وبائی مرض اور لاک ڈاؤن جیسی صورتحال میں بھی خریف بوائی کے بڑے رقبے کے احاطے کو ممکن بنایا ہے۔ وزارت زراعت اور کسانوں کی بہبود اور ریاستی حکومتوں نے مشن پروگراموں اور فلیگ شپ اسکیموں کے کامیاب نفاذ کے لئے تمام تر کوششیں کی ہیں۔ جناب تومر نے کہا کہ بروقت عمل اور ٹیکنالوجیز کو اپنانے اور سرکاری اسکیموں کا فائدہ اٹھانے کا سہرا کسانوں کے سر جاتا ہے۔

خریف موسم کیلئے بوائی کے حتمی اعداد و شمار 2اکتوبر 2020 تک بند ہو جائیں گے۔ خریف کی فصلوں کے تحت بوائی کے رقبے کے پوزیشن درج ذیل ہیں:

چاول: گزشتہ سال کی اسی مدت کے دوران 365.92 لاکھ ہیکٹیئر کے مقابلے میں 396.18 لاکھ ہیکٹیئر رقبے پر بوائی کی اطلاع ملی ہے، یعنی بوائی علاقے کے احاطے میں 8.27فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

دالیں: گزشتہ سال کی اسی مدت کے دوران 130.68 لاکھ ہیکٹیئر کے مقابلے میں 136.79 لاکھ ہیکٹیئر رقبے پر بوائی کی اطلاع ملی ہے، یعنی بوائی علاقے کے احاطے میں 4.67فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

موٹے اناج: گزشتہ سال کی اسی مدت کے دوران 176.25 لاکھ ہیکٹیئر کے مقابلے میں 179.36 لاکھ ہیکٹیئر رقبے پر بوائی کی اطلاع ملی ہے، یعنی بوائی علاقے کے احاطے میں 1.77فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

تلہن: گزشتہ سال کی اسی مدت کے دوران 174.00 لاکھ ہیکٹیئر کے مقابلے میں 194.75 لاکھ ہیکٹیئر رقبے پر بوائی کی اطلاع ملی ہے، یعنی بوائی علاقے کے احاطے میں 11.93فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

گنا: گزشتہ سال کی اسی مدت کے دوران 51.71 لاکھ ہیکٹیئر کے مقابلے میں 52.38 لاکھ ہیکٹیئر رقبے پر بوائی کی اطلاع ملی ہے، یعنی بوائی علاقے کے احاطے میں 1.30فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

کپاس: گزشتہ سال کی اسی مدت کے دوران 124.90 لاکھ ہیکٹیئر کے مقابلے میں 128.95 لاکھ ہیکٹیئر رقبے پر بوائی کی اطلاع ملی ہے، یعنی بوائی علاقے کے احاطے میں 3.24فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

جوٹ اور میسٹا: گزشتہ سال کی اسی مدت کے دوران 6.86 لاکھ ہیکٹیئر کے مقابلے میں 6.97 لاکھ ہیکٹیئر رقبے پر بوائی کی اطلاع ملی ہے، یعنی بوائی علاقے کے احاطے میں 1.68فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

چار ستمبر 2020 کو خریف کی فصلوں کے تحت رقبے کا احاطہ

نمبرشمار

فصل

بویاگیا رقبہ (لاکھ ہیکٹیئر میں)

فیصد؍اضافہ

2020-21

2019-20

2019-20

1

چاول

396.18

365.92

8.27

2

دالیں

136.79

130.68

4.67

3

موٹے اناج

179.36

176.25

1.77

4

تلہن

194.75

174.00

11.93

5

گنا

52.38

51.71

1.30

6

جوٹ اور میسٹا

6.97

6.86

1.68

7

کپاس

128.95

124.90

3.24

کُل

1095.38

1030.32

6.32

تین ستمبر 2020تک ملک میں اصل بارش 795.0ملی میٹر ہے، جو یکم جون 2020 سے 3ستمبر 2020 تک کی مدت کے دوران معمول کی بارش 730.8 ملی میٹر سے 9فیصد(+)زیادہ ہے۔

جیسا کہ مرکزی آبی کمیشن نے اطلاع دی ہے کہ 3ستمبر 2020 تک ملک 123آبی ذخائر ہیں۔ ذخائر میں 104 فیصد رواں آبی ذخیرے ہیں اور گزشتہ 10 برس میں 120فیصد آبی ذخیرے ہیں۔

چار ستمبر 2020 کو خریف فصلوں کے رقبے کے احاطے کی تفصیلات کیلئے یہاں کلک کریں:

Click here for details of Kharif crops area coverage as on 04.09.2020

 

*************

( م ن ۔ ع س۔  ک ا(

U. No. 5080



(Release ID: 1651286) Visitor Counter : 177