جل شکتی وزارت

جل شکتی کے مرکزی گجیندر سنگھ شیخاوت نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے کیرالہ کے وزیراعلیٰ کے ساتھ تبادلہ خیال کیا

کیرالہ 2023 تک تمام دیہی گھروں میں نلوں کے کنکشن فراہم کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے

Posted On: 30 JUL 2020 7:10PM by PIB Delhi

 

نئی دہلی،30؍جولائی، جل شکتی کے مرکزی وزیر گجیندر سنگھ شیخاوت نے  کیرالہ میں جل جیون مشن کو نافذ کرنے کے بارے میں ریاست کے وزیراعلیٰ پینارائی وجاین کے ساتھ  آج  ویڈیو کانفرنس کے ذریعے تبادلہ خیال کیا۔ اس اہم پروگرام کا مقصد  ملک کے دیہی علاقوں میں گھروں میں نلوں کے کنکشن کے ذریعے  پانی فراہم کرنا ہے تاکہ لوگوں کی زندگی  کو بہتر بنایا جاسکے۔  دیہی علاقوں کے تمام گھروں میں مسلسل اور طویل   مدتی بنیاد پر  مناسب مقدار میں پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کے لئے  جل جیون مشن  (جے جے ایم)  ریاستوں کی ساجھیداری  میں نافذ کیا  جا رہا ہے۔ اس مشن کا مقصد  سبھی کا احاطہ کرنا  ہے یعنی گاؤں کا ہر کنبے  کو  اس کے گھر میں  پانی کا  نل کا کنکشن  حاصل  ہوسکے۔

 کیرالہ نے 2023  تک  تمام دیہی  گھروں میں نل کے کنکشن  فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ دیہی علاقوں میں کُل 67.15  لاکھ  گھروں میں سے ریاست  2021  تک  21.42  لاکھ  ایف ایچ ٹی سی  کا ہدف  حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ 20-2019 میں 10.10  لاکھ دیہی  گھروں کے نشانے  کے لئے ریاست نے  صرف  85476 مکانوں میں  ہی  نل کے کنکشن  فراہم کئے تھے۔

 میٹنگ میں اس بات کو اجاگر کیا گیا کہ ان تمام گاؤں میں جہاں پانی کی سپلائی کا نظام موجود ہے،  بقیہ گھروں میں  پانی کے نل  کے  کنکشن  فراہم کئے جائیں گے۔ یہ  مکان زیادہ تر غریبوں اور  سماج کے کمزور طبقے کے ہیں۔ کیرالہ وزیراعلی  سے درخواست کی گئی کہ وہ  اگلے  تین چار مہینوں میں ایسے تمام گھروں  میں نل کے کنکشن فراہم کرنے کی خصوصی مہم چلائیں تاکہ  اس سے کوئی بھی محروم نہ رہے۔

میٹنگ میں  مرکزی وزیر جناب شیخاوت نے  کارکردگی اور فنڈ کے استعمال کی موجودہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔ پچھلے سال ریاست کو  امدادی گرانٹ کے طور پر 101.29  کروڑ روپے فراہم کئے گئے تھے۔ لیکن ریاست  صرف 62.69  کروڑ روپے  کو ہی استعمال کرسکی تھی۔ سال کے آخر میں ریاست کے پاس  تقریبا  41  کروڑ روپے  کے مرکزی  فنڈ  غیر استعمال شدہ  تھے۔ اس کے علاوہ  ریاست کی حصہ داری کے 44 کروڑ  بھی کم رہے۔ سال 21-2020  میں ریاست  کو 404.24  کروڑ روپے  مختص کئے گئے ہیں۔ پچھلے بقایا  41.18  کروڑ روپے اور مرکز کی جانب  سے جاری کئے گئے   72.16  کروڑ روپے  کے ساتھ  اب ریاست کے پاس  113.34  کروڑ روپے  کے فنڈ دستیاب ہیں۔ پچھلے چار مہینوں میں  مرکزی فنڈ کے  صرف  19.49  کروڑ روپے اور  ریاستی حصے کے 18.59  کروڑ روپے  ہی استعمال کئے گئے ہیں۔ اس لئے  وزیراعلی  سے  کہا گیا ہے کہ وہ  مشن کو نافذ کرنے میں تیزی لائیں اور  مشن نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو  وقت  پر مرکزی اور ریاستی  فنڈ کے اجراء  کو یقینی بنائیں تاکہ کام پر اس کا منفی اثر نہ پڑے۔

 اس کے علاوہ  کیرالہ  کو  پی آر آئی کے لئے  15 ویں مالی کمیشن کی مدد کے طور پر 1628  کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں جس کا 50 فیصد حصہ پانی  کی سپلائی اور  صفائی ستھرائی کے لئے  استعمال کیا جائے گا۔ مرکزی وزیر  نے وزیراعلی سے درخواست کی کہ وہ  دیہی  پانی کی سپلائی ، گندے پانی کی صفائی  اور دوبارہ استعمال کئے جانے  کے علاوہ  ان کی طویل مدتی  نفاذ اور پانی کی سپلائی کی اسکیموں کی دیکھ بھال  کے لئے  اس فنڈ کو استعمال کریں۔

ان امور کا نوٹس لیتے ہوئے وزیراعلی نے  2023  تک  ہدف کو پورا کرنے کے لئے  مشن کو  مقررہ وقت میں نافذ کرنے کی کوششوں کو تیز تر کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ کیرالہ ، خاص طور پر  انسانی فروغ کے پیمانے پر دیگر  تمام ریاستوں کے لئے ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔ غیر مرکوزیت والی  منصوبہ بندی میں  ایک قائد  ہونے اور پی آر آئی کے مضبوط نظام کے ساتھ ریاست میں اس غیر مرکوز  ، مانگ پر مبنی  اور  سماجی  سطح پر  بندوبست  والے اس پروگرام کو نافذ کرنے کی وسیع صلاحیت ہے۔ مرکزی وزیر  نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ ریاست نے  سماجی سطح پر منصوبہ بندی  کا کام  شروع کردیا ہے اور تقریبا 700 گرام پنچایتوں میں  اپنے ایکشن پلان کو  قطعی شکل دے دی ہے۔

اس کے علاوہ پینے کے پانی کے معیار کا تجزیہ کرنے کے لئے  اس کی ٹیسٹنگ ، خاص طور پر مانسون کے دوران پانی میں  بائیو لوجیکل آلودگی کے لئے ٹیسٹنگ بہت اہم ہے۔ ریاست میں  پینے کے پانی  کی لیبوریٹریز کو مستحکم  ؍ جدید بنانے اور  انہیں عوام کے لئے کھولنے کو ترجیح دی گئی ہے تاکہ عوام  اپنے نمونوں کو  معمولی قیمت پر ٹسٹ کراسکیں۔

 مرکزی وزیر  نے  گاؤں کے ایکشن پلان  تیار کرنے کے ساتھ ساتھ گرام پنچایت کی ذیلی کمیٹی کے طور پر گاؤں میں پانی اور صفائی ستھرائی کی کمیٹی  تشکیل دینے پر بھی زور دیا  جس  کے   ارکان  میں کم از کم 50  فیصد خواتین ہونی چاہئے۔ یہ کمیٹی   گاؤں میں پانی  کی سپلائی کے بنیادی ڈھانچے  کی منصوبہ بندی ، ڈیزائننگ، نفاذ اور  رکھ رکھاؤ  کے لئے  ذمہ دار ہوگی۔ تمام گاؤں میں  ولیج ایکشن پلان  (وی اے پی)  تیار کرنا ہوگا  جو  بنیادی طور پر  پینے کے پانی  وسائل کے فروغ  ؍ اضافے،  پانی کی سپلائی ، گندے پانی  کو صاف کرنے اور اسے پھر سے  قابل استعمال بنانے  اور  پانی کی سپلائی کے نظام  کا رکھ رکھاؤ شامل ہے۔

مقامی لوگوں کو  راج مستری ، پلمبنگ ، بجلی کے کام، پمپ چلانے وغیرہ  کی تربیت  شروع کی جانی چاہئے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ گاؤوں میں  پانی  سے متعلق کام  کو چلانے اور اس کے رکھ  رکھاؤ کے لئے تربیت یافتہ  انسانی وسائل دستیاب ہوں۔ اس کے علاوہ  دیہی  پانی کی سپلائی سے متعلق کاموں میں واپس آنے والے  مہاجر مزدوروں کو  استعمال کرنے  کے مواقع بھی فراہم ہوں گے۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 (م ن-   و ا- ق ر)

U-4260



(Release ID: 1642554) Visitor Counter : 9