وزارت خزانہ

وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے جی - 20 کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنروں کی تیسری میٹنگ میں شرکت کی

Posted On: 18 JUL 2020 9:21PM by PIB Delhi

نئی دلّی ،19 جولائی  / خزانے اور کارپوریٹ امور کی مرکزی وزیر   محترمہ نرملا سیتا رمن نے   آج یہاں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے سعودی عرب کی صدارت کے تحت   کووڈ – 19 عالمی وباء  کے دوران  عالمی اقتصادی  منظر نامے کے ساتھ ساتھ   جی – 20 کے  سال 2020 ء کے مالی  ٹریک کی ترجیحات   پر تبادلۂ خیال کے لئے  جی – 20 کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنروں  ( ایف ایم  سی بی جی ) کی  تیسری میٹنگ میں شرکت کی ۔

          وزیر خزانہ  نے میٹنگ کے پہلے اجلاس میں  کووڈ – 19 سے متعلق اقدامات   کے لئے  جی – 20 ایکشن پلان  پر بات  کی تھی  ، جس   کی توثیق   جی – 20 کے وزرائے خزانہ اور  مرکزی بینکوں کے گورنروں نے  15  اپریل ، 2020 ء کو ہوئی اپنی  میٹنگ میں توثیق کی تھی ۔  جی – 20 کے اِس ایکشن پلان میں   صحت  اقدامات  ، اقتصادی اقدامات   ، مضبوط اور پائیدار بحالی  اور بین الاقوامی مالی تعاون   کے لئے  اجتماعی عہد   شامل ہیں ، جن کا مقصد   عالمی وباء سے نمٹنے کے لئے  جی – 20 کی کوششوں   میں  تال میل  پید اکرنا ہے ۔ محترمہ سیتا رمن نے  زور دیا کہ   اس بات کو یقینی بنانا بہت اہم  ہے کہ یہ ایکشن پلان   موثر اور  بر وقت  ہو ۔

          محترمہ سیتا رمن نے  ایکشن  پلان سے متعلق  آئندہ اقدامات کے اپنے  نظریہ کو اجاگر  کیا اور   اس سے نمٹنے کی  حکمت عملی  سے باہر آنے  کے اثرات  سے نمٹنے میں بین الاقوامی تعاون کی ضرورت پر زور دیا ۔  اس بات پر زور دیتے ہوئے    کہ معیشتوں کے ایکشن پلان  سے   اِس بات کی عکاسی ہونی چاہیئے  کہ کووڈ – 19 سے نمٹنے  کے اقدامات کےلئے معیشتیں  کس طرح  اپنی مانگ اور سپلائی  کا توازن  قائم کر رہی ہیں ، محترمہ سیتا رمن نے اپنے ہم منصبوں کو  بتایا کہ  کس طرح  بھارت   زیادہ نقد رقم  کی فراہمی کے لئے  قرض کی اسکیموں ،  فوائد کی براہ راست منتقلی اور  روز گار گارنٹی اسکیموں کے ذریعے اِس توازن کو  یقینی بنانے  کا کام کر رہا ہے ۔ وزیر خزانہ نے  بحالی اور فروغ کے لئے 295 ارب ڈالر سے زیادہ  ، جو  بھارت کی جی ڈی پی کا تقریباً 10 فی صد ہے ، جامع اقتصادی پیکیج  کا حوالہ دیا ۔ اس کے علاوہ ، محترمہ سیتا رمن نے  ریٹنگ ایجنسیوں کے ذریعے کریڈٹ  ریٹنگ میں کمی کئے جانے اور  پالیسی متبادل  پر اِس کے اثرات ، خاص طور پر ای ایم ای پر پڑنے والے اثرات  پر اظہارِ خیال کیا ۔

          میٹنگ کے دوسرے اجلاس میں جی – 20 کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنروں نے   سعودی عرب کی صدارت کے تحت جی – 20 کے مالی ٹریک  اقدامات میں پیش رفت پر   تبادلۂ خیال کیا ۔

          محترمہ سیتا رمن نے اِس طرح کے دو اقدامات  پر بات کی ۔ پہلا یہ کہ سعودی  صدارت کے تحت خواتین  ، نو جوانوں اور ایس ایم ایز   کے لئے مواقع تک رسائی  ایجنڈے کی ترجیحات میں شامل ہے اور  مواقع تک رسائی کے لئے متبادل پالیسیوں کا ایک  مینو جی- 20 کے ذریعے تیار کیا گیا ہے ۔ اس مینو میں نو جوانوں  ، خواتین  ، غیر رسمی معیشت  ، ٹیکنا لوجی  اور بالغان کی ہنر مندی  اور مالی شمولیت   سے متعلق  پالیسیوں  کے بارے میں جی – 20 کے رکن ملکوں  کے  تجربات کو پیش کیا گیا ہے ۔  وزیر خزانہ نے اِس بات کو  اجاگر کیا کہ   یہ ایجنڈا اب اور زیادہ  اہمیت اختیار کر گیا ہے  کیونکہ اس عالمی وباء سے  سب سے زیادہ اثر  کمزور طبقوں پر پڑا ہے ۔ 

          دوسرا ، بین الاقوامی  ٹیکسٹیشن  ایجنڈے اور  ڈجیٹل  ٹیکس سے متعلق   چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے قابلِ عمل حل  مرتب کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے محترمہ سیتا رمن نے ایجنڈے پر پیش رفت  کو اجاگر کیا  اور کہا کہ  یہ بات نا گزیر ہے   کہ اتفاقِ رائے پر مبنی  حل آسان  ، شمولیت والا اور اقتصادی اثرات کے تجزیہ  پر مبن ہونا چاہیئے ۔

          اس اجلاس کے دوران وزیر خزانہ نے  فوائد کی براہ راست  منتقلی   ، زراعت اور ایم ایس ایم ای سیکٹروں کے لئے خصوصی مدد   ، دیہی روز گار گارنٹی اقدامات   وغیرہ سمیت عالمی وباء سے نمٹنے کے لئے  حکومتِ ہند کے ذریعے  کئے گئے  کچھ پالیسی  اقدامات کے بارے میں بھی  بتایا ۔ محترمہ سیتا رمن نے اِس بات کو خاص طور پر اجاگر کیا کہ    بھارت نے کس طرح  پورے ملک میں  ڈجیٹل ادائیگی بنیادی ڈھانچے  کا فائدہ اٹھا کر  ، جو  پچھلے پانچ برسوں میں تیار کیا گیا ہے ،  کسی کے رابطے میں آئے بغیر  420 ملین لوگوں  کے کھاتوں میں براہ راست  نقد رقم  منتقل کرکے  مالی شمولیت کے لئے ٹیکنا لوجی کا استعمال کیا ہے ۔  انہوں نے نومبر ، 2020 ء تک  8 مہینے  تک  800 ملین لوگوں کو  مفت اناج دینے  کے اقدامات کے بارے میں بھی مطلع کیا۔    

                   

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( م ن ۔ و ا ۔ ع ا )

(19-07-2020)

U. No.  4009



(Release ID: 1639762) Visitor Counter : 6