وزیراعظم کا دفتر

وزیر اعظم نریندر مودی نے ریوا الٹرا میگا شمسی بجلی پروجیکٹ قوم کے نام وقف کیا

Posted On: 10 JUL 2020 1:15PM by PIB Delhi

نئی دلّی ،10 جولائی  / وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج ویڈیو کانفرنس کے ذریعے  ریوا الٹرا میگا شمسی بجلی پروجیکٹ قوم کے نام وقف کیا ۔

یہ ایشیا کا  سب سے بڑا شمسی بجلی پروجیکٹ ہے ۔

          اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ریوا پروجیکٹ  پورے خطے کو    ، اِس دہائی میں صاف ستھری اور پیور توانائی کا  ایک بڑا مرکز  بنا دے گا ۔  وزیر اعظم نے  اس کوشش کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ یہ   ریوا کے آس پاس پورے خطے کے ساتھ  دلّی میٹرو  کو بھی  بجلی سپلائی کرے گا  ۔

          انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش جلد ہی  بھارت میں شمسی توانائی کا  ایک اہم مرکز ہو گا  کیونکہ یہاں نیمج  ، شاجا پور   ، چھتر پور  اور اومکا ریشور   میں  ، اِس طرح کے بڑے پروجیکٹ  بنائے جا رہے ہیں ۔

          انہوں نے کہا کہ  اس کا سب سے زیادہ فائدہ  مدھیہ پردیش کے غریبوں  ، متوسط طبقے ، قبائلیوں اور کسانوں کو ہو گا ۔

          وزیر اعظم نے کہا کہ  شمسی توانائی  21 ویں صدی میں امنگوں والے بھارت  میں توانائی  کی ضروریات  فراہم کرنے  کا ایک بڑا ذریعہ ہو گا ۔

          انہوں نے  شمسی توانائی کو ایسی توانائی  قرار دیا ، جو  شِیور ، پیور اور سکیور  ( یقینی ، صاف ستھری اور  محفوظ ) ہے ۔ یہ اس لئے یقینی ہے کہ اس کے لئے سورج کی توانائی  سے سپلائی حاصل ہوتی ہے ، پیور اِس لئے ہے کہ یہ ماحول دوست ہے اور سکیور اِس لئے ہے  کہ یہ ہماری توانائی کا ایک اہم وسیلہ ہے ۔

          وزیر اعظم نے اِس طرح کے شمسی  توانائی پروجیکٹوں کو  آتم نربھر بھارت   کی حقیقی نمائندگی  والا قرار دیا ۔

          انہوں نے کہا کہ  معیشت  ، خود کفالت اور ترقی کا ایک اہم  پہلو ہے ۔ اس تذبذب کا حوالہ دیتے ہوئے کہ آیا  معیشت پر توجہ دی جائے یا ماحولیات پر ، وزیر اعظم نے کہا کہ  بھارت  نے  اس طرح کے تذبذب  کو    شمسی توانائی کے پروجیکٹوں  اور دیگر ماحول دوست اقدامات پر   توجہ دے کر حل کیا ہے  ۔ جناب مودی نے کہا کہ  معیشت اور ماحولیات  ایک دوسرے  سے متضاد نہیں ہیں بلکہ ایک دوسرے   کے لئے  ضروری ہیں ۔ 

          انہوں نے کہا کہ حکومت کے تمام پروگراموں میں  ماحولیات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ رہن سہن میں آسانی  کو ترجیح دی جا رہی ہے  ۔ انہوں نے  سووچھ بھارت ، غریب کنبوں  کے لئے  ایل پی جی کے مفت سلینڈروں کی سپلائی ، سی این جی نیٹ ورک کا فروغ   جیسے پروگراموں  کا حوالہ دیتے ہوئے   ، اِنہیں  غریبوں اور متوسط طبقے  کی زندگی کو بہتر بنانے   اور رہن سہن میں آسانی کے لئے اہم قرار دیا ۔

          وزیر اعظم نے کہا کہ ماحولیات کا تحفظ  صرف چند پروجیکٹوں تک محدود نہیں ہے  بلکہ یہ ایک طرز زندگی ہے ۔

          وزیراعظم نے کہا کہ  اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ  صاف توانائی  کے لئے عہد بستگی  زندگی کے ہر پہلو میں  نظر آنی چاہیئے ۔  حکومت  اِس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ اس کے فوائد   ملک کے ہر کونے تک  ، سماج کے ہر طبقے تک  اور ہر شہری تک پہنچیں ۔ انہوں نے   اِس بات کی وضاحت   ، اِس مثال سے پیش کی کہ ایل ای ڈی بلبس   کو متعارف کرانے سے بجلی کے بلوں میں کس طرح کمی ہوئی ہے ۔   ایل ای ڈی بلب کی وجہ سے ماحولیات میں تقریباً 40 ملین ٹن  کاربن ڈائی آکسائڈ کو پیدا ہونے سے  روکا گیا ہے ۔  انہوں نے کہا کہ  اِس سے  بجلی کے استعمال میں بھی  6 ارب یونٹوں کی کمی آئی ہے اور اِس سے  سرکاری  اخراجات میں  24000 کروڑ روپئے کی بچت ہوئی ہے ۔

          انہوں نے کہا کہ حکومت   ہمارے  ماحول ، ہماری ہوا  ، ہمارے پانی  کو بھی   پیور رکھنے کے لئے کام کر رہی ہے  اور یہی   فکر  شمسی توانائی کی پالیسی اور حکمتِ عملی سے بھی ظاہر ہوتی ہے ۔

          جناب مودی نے کہا کہ  شمسی توانائی کے شعبے میں بھارت کی مثالی ترقی دنیا کی دلچسپی   کا ایک بڑا ذریعہ ہو گا ۔  انہوں نے کہا کہ اِس طرح کے بڑے اقدامات کی وجہ سے  بھارت  صاف توانائی کی سب سے  پسندیدہ مارکیٹ سمجھی جا رہی ہے ۔

          وزیر اعظم نے کہا کہ  بین الاقوامی شمسی اتحاد ( آئی ایس اے ) شمسی توانائی  کے لئے پوری دنیا کو متحد کرنے  کے مقصد سے شروع کیا گیا تھا  ۔ انہوں نے کہا کہ اس جذبے کے پیچھے ایک دنیا ، ایک سورج  اور  ایک گرڈ کا نظریہ ہے ۔

          وزیر اعظم نے اِس یقین کا اظہار  کیا کہ مدھیہ پردیش کے کسان  حکومت کے کُسم پروگرام کا بھی استعمال کریں گے اور اپنی آراضی پر شمسی توانائی کے پلانٹ  لگائیں گے اور  اُسے اپنی  اضافی آمدنی کا ذریعہ بنائیں گے ۔

          انہوں نے امید ظاہر کی کہ بہت جلد بھارت بجلی کا ایک بڑا بر آمدکار بن جائے گا ۔

          وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت شمسی توانائی کے پلانٹس کے لئے  ضروری مختلف ساز و سامان  جیسے فوٹو وولٹک سیل  ، بیٹری اور اسٹوریج وغیرہ کی در آمد پر انحصار کو  کم کرنے پر  توجہ مرکوز  کر رہا ہے ۔

          انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں کام تیزی سے جاری ہے  اور حکومت  صنعت ، نو جوانوں  ، ایم ایس ایم ای  اور اسٹارٹ اَپس  کی ہمت افزائی کر رہی ہے کہ وہ اِس موقع کو نہ گنوائیں اور شمسی توانائی  کے لئے  ضروری سامان کی پیداوار کے لئے کام کریں ۔

          کووڈ – 19 کے پیشِ نظر جاری بحران کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ چاہے وہ  حکومت ہو یا  سماج ہو  ، جذبہ اور نگرانی  اِس مشکل  چیلنج کو حل کرنے کے لئے سب سے بڑے مدد گار ہیں ۔ انہوں نے   کہا کہ  لاک ڈاؤن  شروع  ہونے کے ساتھ ہی حکومت نے  اِس بات کو یقینی بنایا کہ غریبوں  اور ضرورت مندوں کو خوراک اور ایندھن کی یقینی سپلائی کی جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ اسی جذبے کے ساتھ   حکومت نے  ایل پی جی اور خوراک کی مفت سپلائی کو   اِس سال نومبر تک  یعنی اَن لاک ڈاؤن  کے مرحلے میں بھی  جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

          نہ صرف یہ بلکہ حکومت  پرائیویٹ سیکٹر کے ملازمین  کے لاکھوں  ای پی ایف  کھاتوں میں بھی  مکمل تعاون  کر رہی ہے ۔  اسی طرح پی ایم سوو نِدھی اسکیم کے ذریعے  ، اُن لوگوں کو بھی ، جن کی رسائی نظام تک  بہت کم ہے ، فائدہ پہنچا ہے ۔

          انہوں نے مزید کہا کہ  جب لوگ  مدھیہ پردیش کو عظیم بنانے کے لئے  باہر نکل رہے ہیں ، انہیں اِن اصولوں پر   عمل کرنا چاہیئے  کہ دو گز  کا فاصلہ بر قرار  رکھیں ، چہرے پر ماسک لگائیں اور صابن سے   کم از کم 20 سیکنڈ تک ہاتھوں کو اچھی طرح دھوئیں ۔  

                   

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( م ن ۔ و ا ۔ ع ا ) (10-07-2020)

U. No.  3821



(Release ID: 1637892) Visitor Counter : 210