سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت

‘‘ریگولیٹری سسٹم میں اصلاحات کی ضرورت ہے اور سی ایس آرمیکنزم کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ تحقیق وترقی کی سرگرمیوں میں مدد دے سکیں’’ :پروفیسر کے وجے راگھون


سائنس ٹیکنالوجی انوویشن اور پالیسی(ایس ٹی آئی پی) 2020 تشکیل کے لیے اعلیٰ سطح کے صنعتی صلاح ومشورے، تحقیق وترقی کو مالیہ فراہم کرنے کے لیے صنعت کی حوصلہ افزائی کے لیے طریقوں پر تبادلہ خیال

Posted On: 05 JUL 2020 3:15PM by PIB Delhi

نئی دہلی،4 جولائی،         تقریباً 30 صنعتی سرکردہ اشخاص نے جو سی آئی آئی کے ممبر ہیں دو روزہ گول میز میٹنگ میں شرکت کی اور نئی ایس ٹی آئی پی 2020 کے لیے اپنے خیالات اور تجویزیں پیش کیں اور اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ تحقیق وترقی (آر اینڈ ڈی) کے نظام کو  کس طرح دیر پا بنایا جائے جس سے سماجی مسائل حل ہوسکیں۔ صنعتی لیڈروں نے صنعت اور ماہرین تعلیم کے درمیان زیادہ تال میل کی ضرورت کو اجاگر کیا اور جی ڈی پی کے فیصد کے طور پر آر اینڈ ڈی میں سرمایہ کاری بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

گفتگو کے دوران صنعت کی  حوصلہ افزائی کے لیے مزید ترغیبات دینے  اور اس کے کام کو تسلیم کیے جانے کی ضرورت پر توجہ دی گئی تاکہ وہ آر اینڈ ڈی میں رقمیں لگائے اور اس وقت تک کے لیے اور اس مقصد کے لیے سی ایس آر کے فنڈز کے استعمال میں مدد دے۔ میٹنگ کے دوران صنعتی رہنماؤوں نے ان طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا کہ سی ایس آر کے فنڈز کو صنعت، تعلیمی میدان اور سرکار میں  ایک کلچر کے قیام کے لیے کیسے استعمال کیا جائے جس سے دیسی ٹیکنالوجی  کو ترقی دینے میں اور خود کفالت کی طرف سے آگے بڑھنے میں مددملے گی۔

نئی سائنس ٹیکنالوجی اور انوویشن پالیسی ایس ٹی آئی پی 2020 کی تشکیل کے سلسلے میں اعلیٰ سطح کے صنعتی صلاح ومشورے  کے موقع پر بھارت سرکار کے پرنسپل سائنسی مشیر پروفیسر کے وجے راگھون اور ڈی ایس ٹی سکریٹری پروفیسر آشوتوش شرما نے  صنعت کی حوصلہ افزائی کے لیے زیادہ ترغیبات دینے اور اس کے کام کو تسلیم کیے جانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ وہ آر اینڈ ڈی میں پیسہ لگائے اور اس مقصدکے لیے سی ایس آئی کے فنڈ کے استعمال میں مدددے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003LH58.jpg

پروفیسر کے وجے راگھون نے اپنے افتتاحی خطبے میں اس بات کو اجاگر کیا کہ ریگولیٹری نظام میں اصلاح کیے جانے کی ضرورت  ہے اور سی ایس آر میکنزم کو توسیع دیئے جانے کی ضرورت ہے تاکہ آر اینڈ ڈی سرگرمیوں کو مدد دی جاسکے۔ پروفیسر آشوتوش شرما نے  ایک طویل مدتی زبردست پالیسی کی ضرورت کو اجاگر کیا جس کے تحت آر اینڈ ڈی نے  صنعت کی سرمایہ کاری کو راغب کیا جاسکے۔

جناب چندر جیت بینرجی، ڈائرکٹر جنرل کنفڈریشن آف انڈین انڈسٹری (سی آئی آئی) میں آر اینڈ ڈی کے ان اہم پہلوؤں پر زور دیا جنھیں فوری طور پر مستحکم بنائے جانے کی ضرورت ہے۔ مثلاً تعلیمی نظام میں  پبلک کے فنڈ والی ریسرچ کی اہمیت، آر اینڈ ڈی کے توجہ طلب پروگرام  وغیرہ وغیرہ۔

صنعت کی طرف سے میٹنگ میں شرکت کرنے وا لے سرکردہ افراد میں جناب سلیل سنگھل، چیئرمین اور ایم ڈی ، سی آئی انڈسٹریز لمیٹڈ، ڈاکٹر بی بی آر موہن ریڈی، ایگزکیٹیو چیئرمین سی اینٹ لمیٹڈ، جناب بی تھیاگ راجن ، مینیجنگ ڈائرکٹر بلیو اسٹار لمیٹڈ، جناب دیپ کپوریہ، چیئرمین آئی ٹیک گروپ، جناب ایم ایس اُنّی کرشنن، مینیجنگ ڈائرکٹر اور سی ای او، تھرمیکس، مسٹر کنال بہل، بانی اور سی ای او اسنیپ ڈیل، جناب آشنک دیسائی، بانی اور سابق چیئرمین ، ماسک ٹیک لمیٹڈ، جناب سنجے نایک سی ای او اور مینیجنگ ڈائرکٹر، تیجس نیٹ ورکس لمیٹڈ، جناب آنند دیش پانڈے، چیئرمین، پرسسٹینٹ، جناب پلانی اپّن کی سی ای او مہندرا ویسٹ ٹو اینرجی سولیوشن لمیٹڈ جناب کے آنند کرشنن، سی ٹی او، پی سی ایس، جناب اجیت سپرے، گروپ پرسیڈینٹ ریلائنس، ڈاکٹر بدری گوماتم، گروپ سی ٹی او، اسٹرلائٹ ٹیکنالوجیز لمیٹڈ اور جناب  کے کے کول ڈائرکٹر سی سی ایم شری رام  نے  ا پنے خیالات کا اظہار کیا اور ایس ٹی آئی پی 2020 کے بارے میں توقعات ظاہر کیں۔

ایس ٹی آئی پی 2020 سکریٹیریٹ کے سربراہ اور مشیر ، ڈی ایس پی، ڈاکٹر اکھلیش گپتا نے  ٹریک –I سے ٹریک –IV تک ایس ٹی آئی پی 2020 کی تشکیل کے عمل کا خاکہ پیش کیا جس کی شروعات  ایس ٹی آئی پی 2020 کے سکریٹریٹ نے کی ہے۔ انھوں نے صنعت کاروں کے سامنے حکومت کی کچھ اہم توقعات بھی پیش کیں۔

ایس ٹی آئی پی 2020 کی تشکیل کا عمل انتہائی مربوط چار ٹریکوں میں منظم کیا جاتا ہے۔ جو  پالیسی کے تشکیل کے سلسلے کی صلاح ومشورے کے لیے تقریباً 15000 ساجھے داروں تک پہنچے گا۔

****************

م ن۔ اج ۔ ر ا

U:3726



(Release ID: 1636928) Visitor Counter : 126