کامرس اور صنعت کی وزارتہ

صنعت و تجارت کے وزیر جناب پیوش گوئل نے خدمات برآمدکاروں سے ملاقات کی
انھیں مسابقتی قواعد کو فروغ دینے، معیار پر توجہ مرکوز کرنے اور نئے منازل نیز نئی خدمات کی تلاش کرنے کے لئے متحرک کیا

خدمات کے شعبے سے برآمدات پر انحصار کو کم کرنے اور ملک کے اندر بڑے اور متنوع قسم کی ہنرمند افرادی قوت کو موقع دینے کی اپیل کی

Posted On: 23 JUN 2020 7:19PM by PIB Delhi

نئی دہلی،  23/جون 2020 ۔ صنعت و تجارت کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل نے آج ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ایک میٹنگ کی، جس میں سروسیز ایکسپورٹ پرموشن کونسل (ایس ای پی سی) کے عہدیداروں اور مختلف خدمات کے شعبوں کی نمائندگی کررہے حصص دار شامل ہوئے۔ حصص داروں نے میٹنگ کے دوران کووڈ-19 کی وبا، اس کے بعد ہوئے لاک ڈاؤن اور حال میں جاری اَن لاکنگ سے متعلق متعدد مشورے دیئے اور مطالبات پیش کیے۔ خدمات کا شعبہ ہندوستان کی بیرونی تجارت کے لئے اہم ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپریل 2020 میں خدمات کی برآمدات 125409 کروڑ روپئے کے برابر تھی  جبکہ درآمدات 70907 کروڑ روپئے کے برابر تھی۔

مختلف مشوروں کے جواب میں جناب پیوش گوئل نے کہا کہ خدمات کے شعبے میں لامحدود امکانات ہیں، لیکن اس سے پوری طرح فائدہ نہیں اٹھایا جاسکا ہے۔ انھوں نے کہا کہ خدمات کے شعبے میں جو جزو (سگمنٹ) سب سے زیادہ کامیاب رہا ہے، وہ ہے اطلاعاتی ٹیکنالوجی اور متعلقہ خدمات اور یہ اپنی خود کی صلاحیتوں کے سبب بڑھی اور اس سے حکومت کی مدد کی زیادہ ضرورت نہیں پڑی، جس میں کئی بار نوکر شاہی کے تار اور کنٹرول بھی آجاتے ہیں۔ انھوں نے صنعتی دنیا سے مسابقتی قواعد کو فروغ دینے، معیار پر توجہ مرکوز کرنے، نیز نئے منازل اور نئی خدمات کی تلاش کرنے کی اپیل کی۔ وزیر موصوف نے کہا کہ حکومت کی بھی ترجیحات اور حدود ہیں۔ یہ مرکوز پالیسی جاتی مداخلت کرسکتی ہے، سیکٹر / صنعت کو اس کے دخولی مرحلے / اسٹارٹ اپ سطح میں مدد کرسکتی ہے، انھیں بڑھنے میں مدد دے سکتی ہے، غیرمناسب طور طریقوں پر قدغن لگاسکتی ہے، لیکن انھیں ہر وقت مدد دستیاب نہیں کراسکتی۔ انھوں نے شرکاء سے تعمیری اور مستقبل پر مرکوز مشورے دینے کو کہا۔ انھوں نے کہا کہ بیرون ملک واقع ہندوستانی مشنوں میں وہاں ہندوستانی برآمدات کی تلاش کرنے کے لئے  مؤثر طریقے سے کام کرنا شروع کردیا ہے۔

وزیر موصوف نے خدمات کے شعبے کو کووڈ کے بحران کو ایک موقع کی شکل میں دیکھنے کی رغبت دلائی، نہ صرف کسی چیلنج کی شکل میں دیکھنے کی۔ انھوں نے کہا کہ کووڈ کے بعد دنیا الگ طرح کی ہوجائے گی، کیونکہ کام، تعلیم، تفریح، صحت وغیرہ کے لحاظ سے نئے اصول وضع ہورہے ہیں۔ کچھ مشوروں پر وزیر موصوف نے کہا کہ ٹیکسٹروں کو پہلے خود ہی سبھی حصص داروں سے بات کرکے اتفاق رائے قائم کرنا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ اس کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ جب ہمارے پاس بڑی اور مختلف قسم کی ہنرمند افرادی قوت ہے تو خدمات کے شعبے میں اتنی زیادہ درآمدات ہوں۔ انھوں نے اس شعبے سے اپیل کی کہ وہ مختلف خدمات میں ہندوستانیوں کی مدد لیں اور صحیح معنوں میں تجربہ حاصل کرنے اور صلاحیت سازی کے ذریعے ان کی ہنرمندیوں کو نکھارنے میں مدد کریں۔

******

 

م ن۔ م م۔ م ر

U-NO. 3463

23.06.2020



(Release ID: 1633829) Visitor Counter : 14