وزارت سیاحت

وزارت سیاحت نے ’دیکھو اپنا دیس‘ سیریز کے تحت 29 ویں ویبینار کے ذریعہ مدھیہ پردیش کے جنگلی عجائبات کی ورچوول سفاری پیش کی

Posted On: 08 JUN 2020 5:58PM by PIB Delhi

نئی دہلی،  8 جون 2020،      مدھیہ پردیش کی پرکشش قدرتی خوربصورتی اور ایکو سسٹم  کی نمائش کے  لئے  وزارت سیاحت نے  ’دیکھو اپنا دیس‘ ویبینار سیریز کے تحت ‘مدھیہ پردیش کے جنگلی عجائبات’ پر ایک ویبینار پیش کیا۔ اس ویبینار میں دنیا میں حیاتیاتی تنوع سے مالا مال مقامات: مدھیہ پردیش ریاست ، جس کو انکریڈیبل انڈیا کا دل بھی کہا جاتا ہے،  کا ایک ڈیجیٹل  باتصویر ورچوول سفاری  پروگرام پیش کیا ہے۔

دیکھو اپنا دیش ویبینار سیریز  کے  29 ویں اجلاس  کی  6 جون 2020 کو  وزارت سیاحت  کی  ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل محترمہ روپیندر برار نے  ماڈریشن کی اور  یہ پروگرام جنگلی حیات کے ایک نوجوان فلمساز جناب سویش کیسری  نے پیش کیا، جن کی پیدائش بھی مدھیہ پردیش میں ہوئی تھی اور یہی پر ان کی پرورش ہوئی۔ انہوں نے مدھیہ پردیش کی جنگلی حیات پر بہت زیادہ کام کیا ہے۔ دیکھو اپنا دیش ویبینار سیریز  ایک بھارت سریشٹھ بھارت کے تحت  ہندوستان کے مالا مال تنوع کی جھلک پیش کرنے کی ایک کوشش ہے۔

مدھیہ پردیش میں قدرتی جنگلی جانور تاریخ اور  دیو مالائی  قصوں کا  ایک سنگم ہے۔ سویس نے اپنے اس دلکش سفر کا آغاز باندھو گڑھ  نیشنل پارک  سے کیا ۔ اس کو ٹائگر کی جنت بھی کہا جاتا ہے۔ اس نیشنل پارک میں تقریباً 32 پہاڑیوں کی  خوبصورتی بھی شامل ہے۔ باندھو کا مطلب بھائی اور گڑھ کا مطلب قلعہ ہوتا ہے۔ دیو مالائی  قصے کے مطابق  بھگوان رام نے  قلعہ  (جو کہ نیشنل پارک کی چوٹی پر واقع ہے)،اپنے بھائی لکشمن کو تحفے میں دیا تھا۔ اسی وجہ سے اس نیشنل پارک کا نام باندھو گڑھ نیشنل پارک پڑا۔

ٹائگرس کے علاوہ اس نیشنل پارک میں تتلیوں کی بھی حیرت انگیز قسمیں پائی  جاتی ہیں اور  یہاں پر ہندوستانی بھینسا بھی پایا جاتا ہے جو کہ دنیا میں اپنی نسل میں سب سے بڑا ہوتا ہے۔ اکتوبر 2018 سے یہاں پر  اوڈیشہ سے ہاتھی بھی آگئے ہیں، جو یہیں  پر رہنے لگے  ہیں۔

جناب سویش نے ٹائگروں کے بارے میں  کچھ  دلچسپ حقائق س بھی روشناس کرایا مثلاً ٹائگر کی عمر کا تعین  اس کی ناک کے رنگ سے ہوتا ہے۔ جتنی گلابی اس کی ناک ہوگی، اتنی ہی ٹائگر کی عمر کم ہوگی۔باندھو گڑھ نیشنل پارک کے علاوہ   ہندوستان کے اس دل میں دیگر مقامات بھی ہیں جن سے ہمارے ملک کے حیاتیاتی تنوع کا اظہار ہوتا ہے۔ جیسے سنجے ڈوبری نیشنل پارک ، پنچ مڑھی بایو اسپیئر ریزرو جو اپنے جھرنوں کے لئے مشہور ہے۔

قدرتی حیاتیات تنوع کے علاوہ  مدھیہ پردیش میں یونیسکو کے کئی عالمی وراثت کے مقامات بھی ہیں۔ جیسے بھیم بیٹکا  راک شیلٹر، سانچی استوپ  اور کھجراہو کے مندر۔

محترمہ روپیندر برار نے اپنے  اختتامی خطاب میں  وزارت سیاحت کے انکریڈیبل انڈیا  ٹورسٹ  فیسیلی ٹیٹر  سرٹی فکیشن پروگرام کے بارے میں بتایا جس کے تحت ایسے مقامی شہری تربیت حاصل کرسکتے ہیں، جو  کوئی خصوصی ہنر تو نہ جانتے ہوں لیکن مقامی زبان میں مہارت رکھتے ہوں۔ اس طرح وہ اپنے گھروں کے لئے  کمامے کا ایک ذریعہ بن سکتے ہیں۔ اس کے لئے اندراج کرانے کے واسطے https://iitf.gov.in/login/signup.php لاگ آن کریں۔

سیاحت پر کووڈ۔ 19 کے اثر  کے پیش نظر مدھیہ پردیش سیاحت نے کرائے پر ایسے کاررواں سواریوں کا نظریہ پیش کیا ہے جن میں تمام طرح کی سہولتیں  مثلاً بستر ، ریفریریٹر اور ضروریات کا سامان ہو گا تاکہ سوشل ڈسٹنسنگ کے پیش نظر یہاں کے دورے پر آنے والوں کو ہوٹلوں کی میں ٹھہرنے کی ضرورت نہ پڑے اور وہ ان سواریوں کو کرائے پر لے سکیں۔

اگلا دیکھوں اپنا   دیس ویبینار 9 جون کو پیش کیا جائے گا۔ جس میں چھتیس گڑھ کے چھپے ہوئے خزانوں کی جھلک پیش کی جائے گی۔  شرکا https://bit.ly/ChhattisgarhDAD پر اپنا اندراج کراسکتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

م ن۔  ا گ۔ن ا۔

U-3142

                          



(Release ID: 1630460) Visitor Counter : 20