وزارت خزانہ

وزیر خزانہ نے جی 20 کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینک کے گورنروں کے ساتھ دوسری غیرمعمولی آن لائن میٹنگ میں شرکت کی

प्रविष्टि तिथि: 31 MAR 2020 8:15PM by PIB Delhi

 

نئی دہلی،  یکم اپریل 2020؛  / خزانے اور کارپوریٹ امور کی مرکزی وزیر محترمہ نرملا سیتا رمن نے گروپ 20 کے وزرائے خزانہ اور سینٹرل بینک کے گورنروں اور سینٹرل بینک کے گورنروں  (ایف ایم سی بی جی) کی دوسری غیرمعمولی میٹنگ میں شرکت کی۔ یہ میٹنگ سعودی عرب کی صدارت کے تحت منعقد کی گئی جس کا مقصد عالمی معیشت پر کووڈ – 19 وبا کے اثرات اور اِس عالمی چیلنج سے نمٹنے کے لیے کی جانے والی مربوط کوششوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

وزیر خزانہ نے اِن میٹنگوں کے انعقاد پر سعودی صدارت کو سراہا جن کے ذریعے گروپ 20 کے سبھی ارکان کو یہ موقع فراہم ہوا کہ وہ نہ صرف اپنے انفرادی تجربات سے ایک دوسرے کو آگاہ کریں بلکہ وہ بہتر تال میل کے ساتھ اس سلسلے میں کام کریں۔

گروپ 20 کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینک کے گرنروں نے گروپ 20 کی ایف ایم سی بی جی کی پہلی غیرمعمولی آن لائن میٹنگ 23 مارچ 2020 کو منعقد کی تھی جس میں کووڈ – 19 وبا کے پھیلنے پر  مذاکرات جاری رکھنے کے سلسلے میں آن لائن میٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔  میٹنگ میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا تھا کہ کووڈ – 19 کے ، مارکیٹ اور معاشی حالات پر کیا اثر پڑیں گے اور اِس وبا کے دوران اور اس کے بعد کے حالات پر معیشت کو سہارا دینے کے لیے مزید کیا کام کیے جائیں۔ اِس میٹنگ کا انعقاد پہلی آن لائن میٹنگ پر کیے گئے مذاکرات پر عمل کرنے کے سلسلے میں کیا گیا تھا۔ نیز اِس بات پر بات چیت کرنے کے لیے کیا گیا تھا کہ 26 مارچ 2020 کو گروپ 20 کی رہنماؤں کی آن لائن سربراہ کانفرنس کے دوران اِن رہنماؤں کی طرف سے دیئے گئے بیانات پر عمل کیا جائے۔ سربراہ میٹنگ کے دوران رہنماؤں  نے گروپ 20 کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینک کے گورنروں کو یہ کام دیا گیا کہ وہ کووڈ -19 کی روک تھام کے لیے کارروائی میں گروپ 20 کا ایک لائحہ عمل تیار کریں۔ یہ لائحہ عمل متعلقہ بین الاقوامی تنظیمیں کے ساتھ قریبی تعاون سے کیا جائے۔

محترمہ سیتا رمن نے گروپ 20 کے مجوزہ لائحہ عمل کی حمایت کی اور اِس بات پر زور دیا کہ اس طرح کے طریقۂ کار سے مختلف طبقوں کو سیکھنے اور گہرائی سے غور و خوض کرنے کا ایک موقع فراہم ہوگا۔ گروپ 20 کے رہنماؤں کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے جو ضابطہ ذاتی اور نگرانی کے اقدامات کے بارے میں تھا انہوں نے اس بات کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا کہ مالی نظام کی طرف سے مدد جاری رہے گی اور معیشت جلد از جلد بحال ہو جائیں گے۔

وزیر خزانہ  نے آئی ایم ایف ٹول کٹ کا جائزہ لینے اور اسے فروغ دینے میں خصوصی مداخلت کی۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ آئی ایم ایف کووڈ – 19 سے متعلقہ مالی ضرورتوں کو پورا کرنے  کے لیے اختراعی انداز کے دیسی طریقے تیار کر سکتا ہے۔

محترمہ سیتا رمن نے ایک ملک کی کرنسی دوسرے ملک میں استعمال کرنے کے معاملے پر بین الاقوامی مالی فنڈ آئی ایم ایف کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ غیر منجمد مختصر مدتی تحلیلی سویپ سہولت کی تشکیل کے لیے اپنے موجودہ مسائل کا استعمال کرے۔ جسے دنیا کے ممالک جیسے اور جب ضرورت ہو تیزی سے استعمال کر سکیں۔ انہوں نے ضرورت کے مطابق دو طرفہ سویپ انتظامات کی نئی لائنوں کو کام میں لانے کی غرض سے ملکوں کے لیے لچکدار رویے کی اجازت دیئے جانے کی ضرورت پر زور دیا۔

محترمہ سیتا رمن نے مداخلت کرتے ہوئے گروپ 20 کے اپنے ہم منصبوں کو کووڈ – 19 بحران سے نمٹنے کے لیے  حکومت ہند کی طرف سے کی جانے والی  کوششوں سے بھی واقف کرایا جس میں  غریبوں کے لیے ایک اعشاریہ سات ٹریلین روپے کے راحت پیکیج ، 150 ارب روپے کا ہنگامی صحت فنڈ اور دیگر بہت سے مالی اور ضابطہ جاتی اقدامات بھی  شامل ہیں ۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

م ن ۔ ا س۔ ت ح ۔

U - 1424

 


(रिलीज़ आईडी: 1609946) आगंतुक पटल : 151
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Assamese , Gujarati , Tamil , Telugu