امور داخلہ کی وزارت
وزیرداخلہ امت شاہ نے نئی دلی میں منشیات کے ناجائز کاروبار سے نمٹنے کے بارے میں دو روزہ بمسٹیک کانفرنس ک افتتاح کیا
منشیات سے پاک ہندوستان کے وزیراعظم کے ویژن کو پورا کرنے کے لئے قطعی برداشت نہ کرنے کی پالیسی :ہندوستان اپنی سرحدوں کے اندر منشیات کی ناجائز تجارت کی قطعی اجازت نہیں دے گا:امت شاہ
ہندوستان اپنے ملک میں دنیا کے کسی بھی ملک کی منشیات کو داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گا نا ہی اسے ملک سے باہر جانے کی اجازت دے گا:وزیر داخلہ
خلیج بنگال سے منسلک ممالک ہندوستان کی پڑوسی پہلے اور ایکٹ ایسٹ پالیسیوں کی توجہ کا مرکز ہیں:امت شاہ
منشیات کی لعنت سے نمٹنے میں سبھی ممالک متحد ہوں اور ایک دوسرے کی کوششوں میں تعاون کریں، کیونکہ یہ عالمی سطح کی لعنت، کسی ایک ملک کےذریعے نہیں لڑی جا سکتی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
13 FEB 2020 2:46PM by PIB Delhi
نئی دہلی،13؍فروری،مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے آج نئی دلی میں منشیات کے ناجائز کاروبار سے نمٹنے کے بارے میں دو روزہ بمسٹیک کانفرنس کا افتتاح کیا۔ انہوں نے اس اہم کانفرنس کا اہتمام کرنے کےلئے نارکوٹکس کنٹرول بیورو این سی بی کو مبارکباد دی اور بنگلہ دیش، بھوٹان، میانما، نیپال، سری لنکا، تھائی لینڈ اور ہندوستان کی مختلف ریاستی سرکاروں سمیت شراکت دار ملکوں کے وفود کا کانفرنس میں شرکت کرنے پر خیر مقدم کیا۔ اس موقع پر وزیر داخلہ نے این سی بی کی انتظامی اور آپریشنل کتابچہ بھی جاری کئے۔

اس عظیم الشان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جناب امت شاہ نے منشیات کے ناجائز کاروبار کو ایک عالمی لعنت قرار دیا اور کہا کہ یہ ایک سرخیوں میں رہنے والا عالمی معاملہ ہے، جس کی گرفت میں ہر ملک، خصوصاً خلیج بنگال سے منسلک ممالک ہیں۔اس طرح تمام ملکوں کے لئے یہ نہایت ضروری ہے کہ وہ اس لعنت سے نمٹنے کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ اپنے خیالات، پالیسیاں اور بہترین قسم کے طور طریقوں کی جانکاری فراہم کریں۔
وزیر داخلہ نے منشیات کی عالمی لعنت کو ختم کرنے کے لئے وزیراعظم جناب نریندر مودی کے ویژن کے بارے میں بات کی اور 2018 کے کٹھمنڈو بمسٹیک کانفرنس کا ذکر کیا، جہاں وزیراعظم نے منشیات کے ناجائز کاروبار سے نمٹنے کے بارے میں موجودہ کانفرنس کا اعلان کرتے ہوئے شراکت دار ملکوں کوہندوستان نے مدعو کیا تھا۔جناب امت شاہ نے وزیراعظم کا کے بیان کا حوالہ دیا اور کہا کہ دنیا میں کوئی بھی ایسا ملک نہیں ہے، جو عالمی دہشت گردی، بین ملکی جرائم اور منشیات کے ناجائز کاروبار سے متاثر نہ ہوا ہو۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ کانفرنس نئے مواقع فراہم کرے گی اور خطے میں منشیات کے ناجائز کاروبار کی لعنت سے نمٹنے کے لئے نئے حل تلاش کرے گی۔
وزیر داخلہ نے وفود کو یقین دلایا کہ ہندوستان کو منشیات سے پاک بنانے کے وزیراعظم کے ویژن کے تحت حکومت ہند نے ایک منظم حکمت عملی تشکیل دی ہے تاکہ منشیات کے ناجائز کاروبار کی لعنت کو ختم کرنے کےلئے ایک دوسرے کے ملکوں کی ایجنسیوں میں تال میل کو یقینی بنایا جا سکے اور مقدمہ چلانے کے میکانزم کو متحرک کیاجا سکے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان اپنی سرحدوں کے اندر کبھی بھی اس بات کی اجازت نہیں دے گا کہ منشیات کی غیر قانونی یا نا جائزتجارت ہو یا نشہ آور چیزوں کا کاروبار پھلے پھولے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم ہر گز اس بات کی بھی اجازت نہیں دیں گے کہ دنیا کے کسی بھی ملک سے منشیات ہمارے ملک میں داخل ہو اور نا ہی ہم اس بات کی اجازت دیں گے کہ ملک سے باہر یہ منشیات باہر جائے۔
منشیات اور اعصاب کو متاثر کرنے والی چیزوں کی تجارت کیخلاف حکومت کے ذریعے اپنائی جانے والی قطعاً عدم برداشت کی پالیسی کے بارے میں بااات کرتے ہوئے جناب امت شاہ نے ان مختلف اقدامات کے بارے میں بات کی، جو ہندوستان کی طرف سے اقوام متحدہ انٹرپول سمیت قومی اور بین الاقوامی سطحوں پر کئے گئے ہیں تاکہ اس لعنت کا مقابلہ کیا جا سکے۔ وزیر داخلہ نے کہاکہ ہندوستان اس بمسٹیک کانفرنس کا اہتمام کرنے میں قائدانہ رول ادا کر رہا ہے اور یہ کانفرنس خطے کے اندر نئے طریقوں کے پیش خیمے کے طور پر کام کرے گی، جس سے دیگر ملکوں کو اسی طرح کے پلیٹ فارم پر لانے میں مدد مل سکے گی تاکہ منشیات کے ناجائز کاروبارسے نمٹنے کے لئے حل تلاش کئے جا سکیں۔انہوں نے خلیج بنگال سے منسلک ملکوں کو ہندوستان کی پڑوسی پہلے اور ایکٹ ایسٹ پالیسیوں کی توجہ کے طور پر قرار دیا اور کہا کہ یہ ہندوستان کی پڑوسی پہلے اور ایکٹ ایسٹ پالیسیوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان، جو اس خطے میں ایک سب سے بڑا ملک ہے،منشیات کے ناجائز کاروبار اور دہشت گردی سے نمٹنے میں اپنی ذمہ داریوں سے کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔
منشیات کے ناجائز کاروبارکے مسئلےکی سنجیدگی کے بارے میں بات کرتے ہوئے جناب شاہ نے اقوام متحدہ کی ورلڈ ڈرگ رپورٹ کا حوالہ دیا اور کہا کہ 15سے64 سال کی عمر کے درمیان5 فیصد سےزیادہ عالمی آبادی نشہ آور چیزوں کی عادی ہے اور وہ ناجائز ڈرگس کا استعمال کرتی ہے۔ وزیر داخلہ نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ گزشتہ 10 سال میں نشہ آور چیزوں کا استعمال کرنے والے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہو اہے اور یہ شرح تیزی سےبڑھ رہی ہے اور یہ 30فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے انسانیت کیلئے نشہ کی لت کو ایک دھبہ قرار دیا، کیونکہ یہ نہ صرف نشہ کے عادی لوگوں کو ہلاک کر دیتی ہے، بلکہ کنبوں کے ساتھ ساتھ معاشرے کو بھی تباہ کردیتی ہے۔ اس کی گندی رقم کے ذریعے عالمی دہشت گردی اور بین ملکی جرائم کی برائی کو شہ ملتی ہے۔ جناب شاہ نے کہا کہ دنیا بھر میں سالانہ 400ارب ڈالر سےزیادہ کامنشیات کا ناجائز کاروبار ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس زبردست مسئلے کے بارے میں ذکر کیا، جس کا انسانیت کوسامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

وزیر داخلہ نے دنیا کے تمام ملکوں سےاس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ وہ متحد ہوں اور اس لعنت کا مقابلہ کرنے میں ایک دوسرے کی کوششوں میں ہاتھ بٹائیں، کیونکہ اس عالمی سطح کی لعنت سے کوئی بھی ملک اکیلا نہیں لڑ سکتا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بمسٹیک کے ممبر ممالک خاص طور پر منشیات کے ناجائز کاروبار، بین ملکی جرائم اور دہشت گردی سے بری طرح متاثر ہیں، جس سے سبھی ملکوں کے لئے اس طرح کی کانفرنس جیسے پلیٹ فارم کو استعمال کرنے کی اہمیت اور زیادہ بڑھ گئی ہے تاکہ اس برائی کوجڑ سے ختم کرنے میں مربوط حکمت عملی وضع کی جا سکے۔جناب شاہ نے کہا کہ کس طرح ہندوستان کی سکیورٹی ایجنسیوں نے ستمبر 2019 تک 2 میٹرک ٹن سے زیادہ غیر قانونی ہیروئن ضبط کرنے کے لئے دانش مندی سے کام کیا۔ حالانکہ 2018 میں 1.2میٹرک ٹن منشیات ضبط کی گئی تھی۔ وزیر داخلہ نے کہاکہ منی پور اور میزورم، جو میانما اور دیگر ساحلی ریاستوں سے منسلک ہیں، حساس ریاستیں ہیں اور وہ ہندوستان میں نا جائز منشیات کے داخلے کےلئے ایک راستہ بن سکتی ہیں، جسے روکنے کی ضرورت ہے۔
منشیات کے ناجائز کاروبارسے نمٹنے میں ہندوستان کی حکومت کی طرف سے کئے گئے اقدامات کے بارے میں بات کرتے ہوئے جناب شاہ نے کہا کہ مرکزی حکومت نے ےمرکز کے ساتھ ساتھ ریاستوں کی ایجنسیوں کے مابین تال میل بڑھانے کے لئے ایک منصوبہ بند حکمت عملی وضع کی ہے اور وزارت داخلہ نے منشیات کے کاروبار پرنگرانی بڑھانے کے لئے ایک مشترکہ تال میل کمیٹی قائم کی ہے۔ وزارت نے ڈرگ ڈاٹا کے ڈیجیٹلائزیشن کے لئے ایک پورٹل بھی شروع کیا ہے، جسے مختلف ڈرگ کو کنٹرول کرنے والی ایجنسیوں کے ذریعہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 5 سال کے عرصے میں ہندوستان میں ایک لاکھ 89 ہزار سے زیادہ نارکوٹکس کے معاملے درج کئےگئے، جس میں ایجنسیوں کے ذریعے 2 لاکھ 31 ہزار سےزیادہ ڈرگ اسمگلروں کو گرفتار کیاگیا، جس میں 1500سےزیادہ غیر ملکی شہری شامل تھے۔
وزیر داخلہ نے یہ بھی بتایا کہ وزارت نے بھوپال میں منشیات کے قوانین کے نفاذ سے متعلق این سی بی کے افسروں کے لئے ایک تربیتی مرکز قائم کرے گی۔ اس عالمی لعنت سے نمٹنے کے لئے ہندوستان نے دیگر ملکوں کے ساتھ اب تک 26باہمی سمجھوتوں پر دستخط کئے ہیں۔ 15اقرار ناموں اور 2 سیکیورٹی پیکٹ بھی کئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے ناجائز منشیات کی تجارت میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے استعمال کو بازرکھنے کےلئے بیداری پیدا کرنے کی غرض سے ایک حکمت عملی بھی وضع کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہند نے نارکوٹکس اور ناجائز منشیات کی آن لائن فروخت کو روکنے کے لئے بی2بی کمپنیوں کے رجسٹریشن سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔
اپنے خطاب کو ختم کرتے ہوئے جناب شاہ نے بمسٹیک شراکت دار ملکوں سے اپیل کی کہ وہ متحد ہوں اور ایک دوسرے کو معلومات فراہم کرنے کے لئے بنیادی ڈھانچہ قائم کر کے ، منشیات کو قابو میں کرنے والی ایجنسیوں کے افسروں کی تربیت اور نئی حکمت عملی وضع کرنے کے لئے مربوط کارروائی کرنے کی خاطر قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے درمیان بین مشترکہ کارروائی کو یقینی بناکر ناجائز منشیات کی تجارت اور عالمی دہشت گردی کی برائیوں کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے ایک مربوط طریقے سے کام کریں تاکہ 900سےزیادہ نئی تیار کی گئی سنتھیٹک اعصاب کو متاثر کرنے والی چیزوں کے استعمال کو روکا جا سکے، جو انٹرنیشنل ڈرگ کنٹرول نظام کے دائرے میں نہیں آتیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سائنسی برادری کے لئے ضروری ہے کہ وہ دواسازی کے سیکٹر کو نارکوٹک ڈرگس کے استعمال سے پاک بنانے میں تحقیق کے کام میں مشغول ہوں اور اس کے لئے تحقق و ترقی کے سیکٹر میں مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

اس موقع پر جو دیگر شخصیات موجود تھیں، ان میں امور خارجہ کے وزیر مملکت جناب وی مُرلی دھرن، بمسٹک کےسکریٹری جنرل جناب شاہد الاسلام اور مرکز اور ریاستی سرکاروں کے سینئر افسران شامل ہیں۔
۰۰۰۰۰۰۰۰
(م ن- ح ا -ک ا)
U- 750
(ریلیز آئی ڈی: 1603112)
وزیٹر کاؤنٹر : 218