• Sitemap
  • Advance Search
Technology

سیمی کنڈکٹر اور مصنوعی ذہانت انقلاب

प्रविष्टि तिथि: 13 AUG 2026 13:34 PM

مستقبل کو توانائی فراہم کر رہا ہے

چِپس سے مصنوعی ذہانت تک: بھارت کی تکنیکی قیادت کی تعمیر

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image004TWNC.png

سیمی کنڈکٹر جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد ہیں، جو اسمارٹ فونز اور گاڑیوں سے لے کر سیٹلائٹس اور مصنوعی ذہانت کے نظام تک ہر چیز کو توانائی فراہم کرتے ہیں۔ اب مصنوعی ذہانت جدید چِپس، خصوصی پروسیسرز اور اعلیٰ کارکردگی والے کمپیوٹنگ نظام کی مانگ میں تیزی پیدا کر رہی ہے، جس کے باعث یہ دونوں ٹیکنالوجیاں باہم ایک دوسرے سے مزید گہرائی سے جڑتی جا رہی ہیں۔ اس باہمی انضمام کو مدنظر رکھتے ہوئے بھارت چِپ ڈیزائن اور تیاری سے لے کر کمپیوٹنگ بنیادی ڈھانچے اور مقامی مصنوعی ذہانت کے ماڈلز تک اپنی صلاحیتوں کو  فروغ دے رہا ہے۔ دونوں شعبوں میں حکومت کے اقدامات ایک مربوط تکنیکی ماحولیاتی نظام تشکیل دے رہے ہیں، جو خود انحصاری، سپلائی چین کی مضبوطی اور اختراع کو فروغ دیتا ہے۔ یہ باہمی انضمام جدید مینوفیکچرنگ، تحقیق، کاروباری سرگرمیوں اور اعلیٰ قدر والے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کر رہا ہے۔ بھارت کے 80ویں یومِ آزادی کے موقع پر یہ صلاحیتیں عالمی تکنیکی قیادت اور وِکست بھارت کی جانب ایک فیصلہ کن قدم کی حیثیت رکھتی ہیں۔

 

سیمی کنڈکٹر: تکنیکی خود انحصاری کی بنیاد

بھارت سیمی کنڈکٹر کے پوری قدر افزا سلسلے میں ملکی صلاحیتیں پیدا کر رہا ہے، جس میں چِپ ڈیزائن اور تیاری سے لے کر جدید پیکیجنگ، آلات اور خام مال تک کے شعبے شامل ہیں۔ آج ملکی صلاحیتوں کو مضبوط بنا کر بھارت خود کو مستقبل کی ٹیکنالوجیوں کی تشکیل میں اہم رول ادا کرنے کے لیے تیار کر رہا ہے۔

خود انحصاری کی بنیاد کے لیے مخصوص مشن کا قیام

  • سیمی کون 1.0 نے 76,000 کروڑ روپے کے مالیاتی حجم کے ساتھ بھارت میں سیمی کنڈکٹر ماحولیاتی نظام کی تعمیر کی بنیاد رکھی۔
  • یہ چِپ ڈیزائن، چِپ تیاری، پیکیجنگ، جانچ، آلات، خام مال اور ہنرمند افرادی قوت سمیت پوری قدر افزا سلسلے کو معاونت فراہم کرتا ہے۔
  • سیمی کون 2.0 جولائی 2026 میں منظور کیے گئے 1,27,500 کروڑ روپے کے مالیاتی حجم کے ساتھ اس بنیاد کو عالمی ماحولیاتی نظام میں قیادت کی سمت وسعت دے رہا ہے۔
  • سیمی کون انڈیا 2.0 کی رہنمائی چھ اہمیت کے حامل:چِپ ڈیزائن، سیمی کنڈکٹر آلات اور خام مال، چِپ تیاری کے مراکز، جدید پیکیجنگ، تحقیق و ترقی، اور ہنرمندی کی ترقی کے ستونوں کے ذریعے کی جا رہی ہے۔

یہ مربوط حکمتِ عملی سپلائی چین کو مزید مضبوط بناتی ہے، ملکی سطح پر قدر میں اضافے کو وسعت دیتی ہے اور بھارت کو مستقبل میں سیمی کنڈکٹر کے شعبے میں عالمی قیادت کے لیے تیار کرتی ہے۔

پالیسی سے سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ تک

چھ ریاستوں میں 12 سیمی کنڈکٹر پروجیکٹوں کو منظوری دی گئی ہے، جن میں 1.64 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری کا عہد شامل ہے۔

  • ان منصوبوں میں سلیکون اور کمپاؤنڈ سیمی کنڈکٹر فیب، ڈسپلے فیبریکیشن اور جدید پیکیجنگ کی سہولتیں شامل ہیں۔
  • تین سہولت مراکز میں تجارتی پیداوار پہلے ہی شروع ہو چکی ہے، جو بھارت کی سیمی کنڈکٹر پالیسی سے عملی مینوفیکچرنگ کی جانب منتقلی کی علامت ہے۔

 

سیمی کنڈکٹر کی سہولتیں گاڑیوں، ٹیلی مواصلات، ایرو اسپیس، پاور الیکٹرانکس اور صارفین کے لیے تیار کی جانے والی الیکٹرانک مصنوعات کے لیے اہم پرزے فراہم کریں گی۔

· سیمی کنڈکٹر فیبس ایسے کارخانے ہوتے ہیں جہاں خام سلیکون ویفرز کو فعال مربوط سرکٹس اور مائیکرو چِپس میں تبدیل کیا جاتا ہے۔

· ڈسپلے فیبریکیشن ایسے کارخانے ہوتے ہیں جہاں فون، گاڑیوں اور دیگر الیکٹرانک آلات کے لیے سپاٹاور لچک دار اسکرینیں تیار کی جاتی ہیں۔

· جدید پیکیجنگ کے طریقوں کے ذریعے نازک چِپس کو محفوظ تہہ میں بند کیا جاتا ہے، ان میں برقی رابطے قائم کیے جاتے ہیں اور انہیں تحفظ فراہم کیا جاتا ہے، تاکہ وہ زیادہ تیزی سے کام کریں اور زیادہ عرصے تک کارآمد رہیں۔

 


ملک میں ہی تیار کیے گیے سیمی کنڈکٹر ڈیزائن کی صلاحیتوں کو فروغ دینا

 

  • مستقبل میں افرادی قوت کی ضروریات پوری کرنے کے لیے حکومت نے چِپس ٹو اسٹارٹ اَپ (سی ٹو ایس) جیسے اقدامات کے ذریعے سیمی کنڈکٹر شعبے میں ہنرمندی کی ترقی کو ترجیح دی ہے، جس کے تحت:
  • الیکٹرانک ڈیزائن آٹومیشن (ای ڈی اے) ٹولز 320 تعلیمی اداروں میں فراہم کیے گئے ہیں۔
  • 68,000 سے زائد طلبہ کو تربیت دی جا چکی ہے، جس سے جدید چِپ ڈیزائن کی صلاحیتوں تک رسائی میں توسیع ہوئی ہے۔

مزید جاننے کے لیے: چِپس ٹو اسٹارٹ اَپ (سی ٹو ایس) پروگرام

  • ڈیزائن لنکڈ انسینٹیو (ترغیبات سے منسلک ڈیزائن )اسکیم کے تحت 24 سیمی کنڈکٹر ڈیزائن پروجیکٹوں کو مالی معاونت کے لیے منظوری دی گئی ہے، جبکہ 105 اسٹارٹ اَپس/ایم ایس ایم ایز کو ای ڈی اے ٹولز کی معاونت فراہم کی گئی ہے۔

مزید معلومات کے لیے: ڈیزائن لنکڈ انسینٹیو اسکیم کے بارے میں پڑھیں

 

الیکٹرانک ڈیزائن آٹومیشن (ای ڈی اے)

 

ای ڈی اے ٹولز ایسے سافٹ ویئر پلیٹ فارم ہیں جو سیمی کنڈکٹر چِپس کے ڈیزائن، نقلی تجربات، جانچ اور کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ یہ پیچیدہ چِپ ڈیزائنز کو منظم کرتے ہیں، مینوفیکچرنگ سے پہلے نقائص کی نشاندہی کرتے ہیں اور کارکردگی، توانائی کی بچت اور قابلِ اعتماد ہونے کی صلاحیت کو بہتر بناتے ہیں۔ ڈیزائن کے وقت اور اخراجات میں کمی اور مینوفیکچرنگ کے خطرات کو کم کرکے ای ڈی اے ٹولز مختلف شعبوں میں استعمال ہونے والی جدید چِپس کی تیز رفتار تیاری کوبھی ممکن بناتے ہیں۔

 

 

  • اپریل 2026 تک 75 اداروں کی جانب سے 211 چِپس کا ٹیپڈآؤٹ مکمل کیا جا چکا ہے، جو ملک میں سیمی کنڈکٹر ڈیزائن کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کا عکاس ہے۔
  • 12 نینو میٹر جیسے جدید نوڈز سمیت مختلف نوڈز پر 7 چِپس کامیابی کے ساتھ تیار کی جا چکی ہیں۔
  • سیمی کون 2.0 کے تحت سیمی کنڈکٹر آئی پی، چِپ اور سسٹم ڈیزائن کو مزید معاونت فراہم کرنے کا منصوبہ ہے، جس  سے عالمی سیمی کنڈکٹر ڈیزائن مرکز کے طور پر بھارت کی پوزیشن مزید مضبوط ہوگی۔

 

عالمی شراکت داریاں

  • امریکہ، جاپان، سنگاپور، نیدرلینڈز، جرمنی اور یورپی یونین کے ساتھ عالمی شراکت داریاں تکنیکی تعاون اور ماحولیاتی نظام کی ترقی کو مضبوط بنا رہی ہیں۔
  • سیمی کون انڈیا 2025 میں 48 ممالک اور خطوں کے 350 سے زائد نمائش کنندگان اور شرکا نے حصہ لیا ، جس سے عالمی سطح پر بھارت کے سیمی کنڈکٹر تعاون کو مزید تقویت حاصل ہوئی ہے۔
  • اس تقریب میں 35,000 رجسٹریشنز، 30,000 شرکا کی آمد اور آن لائن 25,000 ناظرین ریکارڈ کیے گئے، جو بھارت کے سیمی کنڈکٹر شعبے کے عزائم میں عالمی دلچسپی کا عکاس ہیں۔
  • مصنوعات کی تیاری، خدمات اور سیمی کنڈکٹر شعبے میں ہنرمندی  کےفروغ کو مضبوط بنانے کے لیے 12 مفاہمت کے اقرار ناموں(ایم او یوز) کا اعلان کیا گیا۔

 

مذکورہ شراکت داریاں بھارتی کمپنیوں کو عالمی سیمی کنڈکٹر ویلیو چین میں شامل کرنے اور ملکی صلاحیتوں کی ترقی کو تیز کرنے میں معاون ثابت ہو رہی ہیں۔

 

انڈیا اے آئی مشن: بھارت کے خودمختار اور جامع مصنوعی ذہانت کے ماحولیاتی نظام کی تعمیر

 

تقریباً 10,372 کروڑ روپے کے مالیاتی حجم کے ساتھ منظور کیے گئے انڈیا اے آئی مشن نے گزشتہ ایک سال کے دوران نمایاں پیش رفت  حاصل کی ہے۔ اس مشن کا مقصد ایسی صلاحیتیں پیدا کرنا ہے جو محفوظ، جامع اور بھارتی ضروریات سے ہم آہنگ ہوں۔ اس کا ہدف مصنوعی ذہانت کو اختراع، اقتصادی ترقی اور عوامی خدمات کی فراہمی کے لیے ایک اہمیت کی حامل صلاحیت بنانا ہے۔

بڑے پیمانے پر خودمختار مصنوعی ذہانت کی کمپیوٹنگ صلاحیت

انڈیا اے آئی مشن نے جون 2026 تک مشترکہ کمپیوٹنگ کی صلاحیت کو 45,000 سے زائد گرافکس پروسیسنگ یونٹس (جی پی یوز) تک بڑھا دیا ہے۔

  • اگست 2026 تک 237 پروجیکٹوں نے رعایتی اے آئی کمپیوٹنگ کی سہولت سے استفادہ حاصل کیا، جس کے تحت 93.18 لاکھ جی پی یو گھنٹے فراہم کیے گئے۔ اس سے اے آئی ماڈلز کی تیاری، تربیت، جانچ اور تحقیق کے لیے کم قیمت اور اعلیٰ کارکردگی والی کمپیوٹنگ سہولت دستیاب ہو رہی ہے، جس سے بھارتی محققین، اسٹارٹ اَپس اور اختراع کاروں کے لیے اس شعبے میں شامل ہونے میں حائل بندشیں کم ہو رہی ہیں۔

 

گرافکس پروسیسنگ یونٹ (جی پی یو)

جی پی یو ایک خصوصی الیکٹرانک پروسیسر ہے، جسے گرافکس، تصاویر کی پروسیسنگ اور دیگر ڈیٹا پر مبنی پیچیدہ کمپیوٹنگ کاموں کو تیز کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ جی پی یوز کمپیوٹرز، اسمارٹ فونز، سرورز اور دیگر ڈیجیٹل آلات میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتے ہیں۔

بنیادی مصنوعی ذہانت کے ماڈلز

  • موصول ہونے والی 506 درخواستوں میں سے حکومت نے مقامی بنیادی مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی تیاری کے لیے 20 تجاویز منتخب کی ہیں، جن میں 12 بڑے ملٹی ماڈل ماڈلز اور 8 چھوٹے لسانی ماڈلز شامل ہیں۔
  • اس اقدام سے بھارتی زبانوں، ضروریات اور حالات کے مطابق مصنوعی ذہانت کے ماڈلز تیار کرنے کی بھارت کی صلاحیت مزید مستحکم ہوگی۔

مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کے لیے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ

جولائی 2026 تک اے آئی کوش پر 14,000 سے زائد ڈیٹا سیٹس اور 331 مصنوعی ذہانت کے ماڈلز موجود ہیں، جو محققین، ڈویلپرز اور اختراع کاروں کو مصنوعی ذہانت کے حل تیار کرنے اور انہیں بڑے پیمانے پر وسعت دینے کے لیے اہم وسائل تک رسائی فراہم کرتے ہیں۔

لیبارٹریوں سے حقیقی دنیا میں حکمرانی تک

  • اگست 2026 تک انڈیا اے آئی کے اقدامات کے تحت 62 مصنوعی ذہانت کے نمونے تیار کیے گئے ہیں اور سرکاری شعبے کے اداروں میں 20 مصنوعی ذہانت کے حل نافذ کیے جا چکے ہیں۔
  • قومی سطح پر 11 ہیکاتھون اور اختراعی چیلنجز خیالات کو عملی طور پر قابلِ استعمال حل میں تبدیل کرنے کے عمل کو مزید وسعت دے رہے ہیں۔

ایکسلی  لنس کے مراکز کے ذریعے اختراع

  • اگست 2026 تک ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں مصنوعی ذہانت کے 58 ایکسی لنس مراکز (اے آئی سی او ایز) کو منظوری دی جا چکی ہے۔
  • 13 ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 22 ایکسی لنس مراکز کو پہلے ہی منظوری دی جا چکی ہے اور ان کا آغاز ہو چکا ہے۔
  • یہ مراکز مخصوص شعبوں میں تحقیق، اختراع اور عملی استعمال کے لیے حل تیار کرنے کی صلاحیتوں کو مضبوط بنا رہے ہیں۔

ہنرمندی اور گہری ٹیکنالوجی کے ماحولیاتی نظام کی تشکیل

  • بین شعبہ جاتی سائبر فزیکل نظاموں کے قومی مشن (این ایم-آئی سی پی ایس) کے تحت معروف تعلیمی اداروں میں 25 ٹیکنالوجی اختراعی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔
  • یہ مراکز مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، سائبر سکیورٹی، کوانٹم ٹیکنالوجیز اور دیگر ابھرتے ہوئے شعبوں میں تحقیق، ہنرمندی کے فروغ، اسٹارٹ اَپس اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے لیے معاونت فراہم کرتے ہیں۔

تیز رفتاری اپنائے جانے کے ساتھ قابلِ اعتماد مصنوعی ذہانت

  • جولائی 2026 تک بھارتی حکومت نے انڈیا اے آئی مشن کے محفوظ اور قابلِ اعتماد مصنوعی ذہانت کے ستون کے تحت 13 ذمہ دارانہ مصنوعی ذہانت کے پروجیکٹوں  کو منظوری دی ہے۔ یہ پروجیکٹ  تعصب میں کمی، مشین اَن لرننگ، ڈیپ فیک کی شناخت، رازداری کے تحفظ پر مبنی مصنوعی ذہانت، قابلِ فہمیت اور مصنوعی ذہانت کے خطرات کی تشخیص جیسے اہم چیلنجز سے نمٹ رہے ہیں۔

مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کی معاونت کے لیے ڈیٹا سینٹر کی صلاحیت میں توسیع

  • ڈیٹا سینٹر ملک بھر میں ممبئی، نوی ممبئی، چنئی، حیدرآباد، بنگلورو، دہلی این سی آر اور گجرات سمیت مختلف مقامات پر قائم ہیں۔
  • نصب شدہ صلاحیت 2020 میں 375 میگاواٹ سے بڑھ کر اب تقریباً 1,575 میگاواٹ ہو گئی ہے۔
  • ڈیٹا سینٹر کی صنعت اب آندھرا پردیش، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور مغربی بنگال جیسی ریاستوں میں بھی وسعت اختیار کر رہی ہے، جہاں نئی سرمایہ کاری کے لیے مقامات تیار کیے جا رہے ہیں۔

 

عالمی سطح پر پذیرائی

 

  • اسٹینفورڈ گلوبل اے آئی وائبریسی رپورٹ 2025 نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مسابقتی صلاحیت اور ماحولیاتی نظام کی فعالیت کے لحاظ سے بھارت کو عالمی سطح پر تیسرے مقام پر رکھا۔
  • 2025 میں بھارت گٹ ہب پر مصنوعی ذہانت کے پروجیکٹوں میں دوسرا سب سے بڑا معاون ملک رہا، جو اس کی ڈویلپر اور اختراعی برادری کی مضبوطی کی عکاسی کرتا ہے۔
  • انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 فروری 2026 میں منعقد ہوئی۔ اس میں 100 سے زائد ممالک اور 20 بین الاقوامی تنظیموں کے وفود نے حصہ لیا، جبکہ 92 ممالک اور تنظیموں نے اعلامیے کو اپنایا۔
  • انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے دوران بھارت نے پیکس سلیکا اتحاد میں شمولیت اختیار کی، جس کے تحت امریکہ اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر عالمی سطح پر مضبوط اور لچک دار سلیکن سپلائی چینز کو مستحکم کرنے کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔
  • مذکورہ اقدامات خود انحصار، جامع اور عالمی سطح پر مسابقتی مصنوعی ذہانت کے ماحولیاتی نظام کی تعمیر کے لیے بھارت کی داخلی کوششوں کو مزید تقویت فراہم کرتے ہیں۔

چِپس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں رفتار برقرار رکھنا

بھارت کا سیمی کنڈکٹر پروگرام منظوریوں اور ڈیزائن کے لیے معاونت سے آگے بڑھ کر تجارتی پیداوار کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اگلے مرحلے، سیمی کون 2.0، میں آلات، خام مال، جدید پیکیجنگ، تحقیق، مقامی دانشورانہ املاک اور ہنرمند افرادی قوت پر توجہ کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔ انڈیا اے آئی مشن مشترکہ کمپیوٹنگ کی سہولتیں تیار کر رہا ہے اور حکومت، صنعت، تعلیمی اداروں اور اسٹارٹ اَپس میں مصنوعی ذہانت کے مختلف استعمالات میں معاونت کر رہی ہے۔ یہ مربوط حکمتِ عملی تکنیکی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے، ذمہ دارانہ مصنوعی ذہانت کی حکمرانی کو فروغ دینے اور مسلسل اختراع کو تقویت فراہم کرنے میں معاون ثابت ہو رہی ہے۔

حوالہ جات:

الیکٹرانکس اور مواصلاتی ٹکنالوجی

سائنس و ٹیکنالوجی کی وزارت

 

 

پی آئی بی بیک گراؤنڈرس

 

 

پی ڈی ایف کے لیے دیے گیے لنک پر کلک کریں

پی آئی بی ریسرچ

*******

ش ح۔ش م ۔ ش ا

U. NO.: 2554

(तथ्य सामग्री आईडी: 150966) आगंतुक पटल : 10


Provide suggestions / comments
इस विश्लेषक को इन भाषाओं में पढ़ें : English , हिन्दी , Bengali , Kannada , Malayalam , Assamese , Telugu