پی آئی بی فیکٹ چیک یونٹ
پس منظر

حکومت ہند (کام کی تقسیم) کے قواعد، 1961 کے تحت، وزارت اطلاعات و نشریات (ایم آئی بی) کو مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعے سرکاری پالیسیوں، اسکیموں اور پروگراموں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ وزارت اپنی ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے حکومت ہند کی پالیسیوں، اقدامات، اسکیموں اور پروگراموں کو پریس ریلیز، پریس کانفرنس، ویبنار، کتابوں کی اشاعت وغیرہ کے ذریعے عام کرتی ہے۔ اس اہم کام کو انجام دینے کے لیے، وزارت کے پاس پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی) سمیت کئی منسلک اور ماتحت دفاتر ہیں۔
حکومت ہند کے کام کاج کے بارے میں عوام کو معلومات کی سہولت فراہم کرنے کی ایک اہم ذمہ داری میں فرضی، جھوٹی اور گمراہ کن معلومات کے پھیلاؤ کا مقابلہ کرنا بھی شامل ہے۔ پی آئی بی طویل عرصے سے درست اور قابل اعتماد معلومات کی وسیع تقسیم، تردید جاری کرنے وغیرہ کے ذریعے اس کام کو انجام دے رہا ہے۔
سوشل میڈیا کے دور میں جہاں معلومات تیزی سے پھیلتی ہیں، خاص طور پر جمہوری طور پر منتخب حکومت کے کام کاج سے متعلق فرضی اور من گڑھت معلومات کی تشہیر معاشرے کے لیے خطرناک ہے کیونکہ ان میں سماجی، معاشی اور سیاسی تنازعات کو بڑھانے اور جمہوری اداروں پر عوام کے اعتماد کو کمزور کرنے، اور یہاں تک کہ شہریوں کی زندگی کو خطرے میں ڈالنے کی بھی صلاحیت ہوتی ہے۔
پی آئی بی فیکٹ چیک یونٹ
پریس انفارمیشن بیورو حکومت ہند سے متعلق فرضی خبروں سے نمٹنے کے لیے فعال اقدامات کرنے میں سب سے آگے رہا ہے۔ نومبر 2019 میں، پی آئی بی نے حکومت ہند، اس کی مختلف وزارتوں، محکموں، پبلک سیکٹر انڈرٹیکنگس، اور مرکزی حکومت کے دیگر اداروں سے متعلق فرضی خبروں کے معاملے سے نمٹنے کے مقصد سے ایک فیکٹ چیک یونٹ (ایف سی یو) قائم کیا۔
یہ یونٹ حکومتی پالیسیوں، ضوابط، اعلانات اور اقدامات کے بارے میں دعووں کی تصدیق کرتا ہے۔ حقائق کی جانچ کے ایک سخت طریقہ کار کے ذریعے، پی آئی بی فیکٹ چیک یونٹ خرافات، افواہوں اور جھوٹے دعووں کو ردّ کرنے میں مدد کرتا ہے، اور عوام کو درست اور قابل اعتماد معلومات فراہم کرتا ہے۔
تنظیم
پی آئی بی فیکٹ چیک یونٹ کی سربراہی انڈین انفارمیشن سروس (آئی آئی ایس) کے ایک سینئر ڈی جی/اے ڈی جی سطح کے افسر کرتے ہیں۔ یونٹ کی روزمرہ کی کارروائیوں کو مختلف سطحوں پر آئی آئی ایس افسران سنبھالتے ہیں۔ یہ یونٹ پرنسپل ڈائریکٹر جنرل، پی آئی بی کو رپورٹ کرتا ہے جو حکومت ہند کے پرنسپل ترجمان کے طور پر کام کرتے ہیں۔
حقائق کی جانچ کا طریقہ کار
صارفین واٹس ایپ، ای میل یا ویب پورٹل پر درخواستیں بھیجتے ہیں۔ موصول ہونے والی ایسی ہر درخواست کو ’سوال‘ سمجھا جاتا ہے۔ سوالات کو یونٹ کے ذریعہ حکومت ہند سے متعلق معاملات سے ان کی مطابقت کی بنیاد پر الگ کیا جاتا ہے۔ صرف حکومت ہند سے متعلق سوالات پر غور کیا جاتا ہے اور انہیں قابل عمل سوالات کے طور پر لیا جاتا ہے، جبکہ دیگر سوالات کو کارروائی کے لیے مناسب نہیں سمجھا جاتا ہے۔ زیر بحث معلومات کو حکومت کے اوپن سورس کی معلومات، تکنیکی آلات کے استعمال اور حکومت ہند کے متعلقہ ادارے سے تصدیق کے ذریعے کراس چیکنگ کی متعدد پرتوں کے ذریعے سختی سے جانچا جاتا ہے۔
اگر یونٹ کو ایسی کوئی معلومات حاصل ہوتی ہے جس کے بارے میں یونٹ کو لگتا ہے کہ ہندوستان کے لوگوں کے وسیع تر فائدے کے لیے، سرکاری اور مستند ذرائع سے چھان بین اور تصدیق کے بعد، اس کا پردہ فاش کرنا ضروری ہے تو وہ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر ایک ’فیکٹ چیک‘ شائع کرتا ہے۔ حقائق کی جانچ اکثر متعدد سوالات کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔
حقائق کی جانچ پڑتال کے مواد کو درج ذیل تین زمروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
1. فرضی – کوئی بھی جھوٹی خبر، مواد، یا، حکومت ہند سے متعلق معلومات کا وہ ٹکڑا، جسے جان بوجھ کر یا غیر ارادی طور پر پھیلایا گیا ہو، جو ممکنہ نقصان پہنچانے کے ارادے کے ساتھ یا اس کے بغیر، سامعین کو دھوکہ دے سکتا ہو یا انہیں متاثر کر سکتا ہو، اسے ’فرضی‘ قرار دیا جا سکتا ہے۔
2. گمراہ کن – پیش کی گئی کوئی بھی معلومات، جو یا تو جزوی طور پر درست ہویا حقائق یا اعداد و شمار کی منتخب پیشکش کے ساتھ ہو یا حقائق یا اعداد و شمار کو مسخ کرنے کے ساتھ اور معلومات کے وصول کنندہ کو دھوکہ دینے یا گمراہ کرنے کی نیت سے پیش کی گئی ہو۔
3. صحیح: کوئی بھی معلومات جو تحقیقات کے بعد حقیقت میں درست پائی جاتی ہے۔
ہم سے رابطہ کریں
ہمارے کام کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے، براہ کرم ہم سے رابطہ کریں:
جناب سوربھ سنگھ
جوائنٹ ڈائرکٹر، پریس انفارمیشن بیورو
کمرہ نمبر 213، نیشنل میڈیا سنٹر
رائے سینا روڈ، نئی دہلی – 110001
ای میل: Factcheck[at]pib[dot]gov[dot]in, socialmedia[at]pib[dot]gov[dot]in
ہمارے سوشل میڈیا ہینڈلز پر بھی ہم سے رابطہ کیا جا سکتا ہے:
Twitter - @PIBFactCheck
Instagram - /PIBFactCheck
Koo - @PIBFactCheck
Telegram - t.me/PIB_FactCheck
Facebook - /PIBFactCheck