الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹکنالوجی کی وزارت
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
06 NOV 2026 6:05PM by PIB Delhi

بھارت کے سیمی کنڈکٹر اور الیکٹرانکس کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کی سمت ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے، ریلوے، اطلاعات و نشریات اور الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر جناب اشونی ویشنو نے آج سیمی کون انڈیا پروگرام کے تحت ستون 2، 3 اور 4 کے لیے ’’سیمی کون 2.0 – ویب ایپلی کیشن پورٹل‘‘ کا آغاز کیا۔ اس موقع پر الیکٹرانک پرزہ جات کی مینوفیکچرنگ اسکیم (ای سی ایم ایس) کے تحت منظور شدہ 12 درخواست دہندگان کے ناموں کا بھی اعلان کیا گیا۔

حکومت ہند مختلف حکمت عملی پر مبنی اقدامات اور پالیسی سطح کی مداخلتوں کے ذریعے ملک میں ایک مضبوط اور مستحکم سیمی کنڈکٹر ماحولیاتی نظام کے قیام کے لیے مسلسل اور مربوط کوششیں کر رہی ہے۔

اپنے قیام کے چند ہی برسوں کے دوران، انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن (آئی ایس ایم) نے بھارت کے سیمی کنڈکٹر ماحولیاتی نظام کی ترقی کو فروغ دیا ہے۔ سیمی کون انڈیا پروگرام کے پہلے مرحلے (سیمی کون 1.0) کے کامیاب نفاذ کے تحت چھ ریاستوں میں 12 منصوبوں کو منظوری دی گئی، جن میں مجموعی طور پر 1.64 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری شامل ہے۔ ان 12 منصوبوں میں سے 5 نے اکتوبر 2026 تک تجارتی پیداوار بھی شروع کر دی ہے۔

اس کے علاوہ، 105 اسٹارٹ اپس کو الیکٹرانک ڈیزائن آٹومیشن (ای ڈی اے) ٹولز تک رسائی فراہم کی گئی ہے، جب کہ 24 اسٹارٹ اپس کو مالی معاونت دی جا رہی ہے اور 15 اسٹارٹ اپس وینچر کیپیٹل کے ذریعے سرمایہ کاری حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ’چپس ٹو اسٹارٹ اپ‘ (سی 2 ایس) پروگرام کے تحت 332 تعلیمی و تحقیقی اداروں کو ای ڈی اے ٹولز فراہم کیے گئے ہیں اور اب تک تقریباً 70,000 طلبہ کو تربیت دی جا چکی ہے۔
مرکزی کابینہ نے انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن (آئی ایس ایم) کے تحت 1,27,500 کروڑ روپے کے مالیاتی اخراجات کے ساتھ سیمی کون 2.0 کو منظوری دے دی ہے۔ بھارت کے سیمی کنڈکٹر سفر کے اگلے مرحلے کی نشان دہی کرنے والا یہ پروگرام چھ کلیدی تزویراتی ستونوں پر مرکوز ہے:
- ستون 1: چِپس کا ڈیزائن
- ستون 2: مشینیں اور خام مال
- ستون 3: مزید سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ یونٹس کا قیام
- ستون 4: اے ٹی ایم پی/او ایس اے ٹی صنعت کو مزید مستحکم بنانا
- ستون 5: تحقیق و ترقی
- ستون 6: افرادی قوت کی مہارتوں کو فروغ دینا
سیمی کون 2.0 کے ویب ایپلی کیشن پورٹل کے آغاز کے ساتھ ہی ستون 2، 3 اور 4 کے تحت درخواستیں جمع کرانے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی، ریلوے اور اطلاعات و نشریات کے مرکزی وزیر جناب اشونی ویشنو نے کہا کہ بھارت میں الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کا سفر اب محض جوڑنے کے عمل سے آگے بڑھ کر ایک مکمل گھریلو ویلیو چین کی تشکیل کی جانب گامزن ہے، جس میں ماڈیولز، پرزہ جات، خام مال اور جدید ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔ انہوں نے بیٹری سیلز، تانبے کی ورقوں، تانبے کی تہہ چڑھی ہوئی لیمینیٹس اور اعلیٰ معیار کے پرنٹڈ سرکٹ بورڈز کے شعبوں میں بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی اقدامات سے گھریلو سپلائی چین مضبوط ہو رہی ہے اور چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ایز) کے لیے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ اسکیم کے تحت منظور شدہ یونٹس میں سے تقریباً 50 فیصد کا تعلق اسی شعبے سے ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سیمی کون انڈیا 2.0 میں ایک مضبوط سیمی کنڈکٹر ماحولیاتی نظام کی تشکیل پر توجہ مرکوز کی جائے گی، بالخصوص آلات، خام مال، کیمیکلز اور گیسوں کے شعبوں میں۔ اس سلسلے میں کم از کم تین بڑے آلات ساز اداروں اور کیمیکلز و گیسوں کی پانچ کمپنیوں کو بھارت میں سرمایہ کاری کے لیے راغب کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ منصوبوں کے سخت اور باریک بینی سے انتخاب کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معیار، تکنیکی گہرائی، تحقیق و ترقی اور عالمی سطح پر مسابقت کی صلاحیت کو ملک کے سیمی کنڈکٹر سے متعلق عزائم کی بنیاد بننا چاہیے، جو آتم نربھر بھارت کے وژن سے ہم آہنگ ہو۔ انہوں نے صنعتی شعبے کے متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ باہمی تعاون کریں، اپنی مہارت اور تجربات کا تبادلہ کریں اور مسلسل بہتری کے لیے کوششیں جاری رکھیں، تاکہ بھارت کو الیکٹرانکس اور سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کے عالمی سطح پر مسابقتی مرکز کے طور پر قائم کیا جا سکے۔
اس سے قبل 69,548 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری پر مشتمل 106 درخواستوں کو منظوری دیے جانے کے بعد، الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت (مائٹی) نے الیکٹرانک پرزہ جات کی مینوفیکچرنگ اسکیم (ای سی ایم ایس) کے تحت مزید 12 درخواستوں کو منظوری دی ہے، جن میں 7,503 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔
ان تازہ منظوریوں کے تحت 39,045 کروڑ روپے کی پیداوار متوقع ہے اور ان سے براہِ راست روزگار کے 7,127 مواقع پیدا ہونے کی امید ہے۔
ان تازہ منظوریوں میں بنیادی پرزہ جات، سپلائی چین سے متعلق مصنوعات اور سرمایہ جاتی سازوسامان سمیت 10 ہدفی زمروں کی مصنوعات کی تیاری شامل ہے۔ ان میں درج ذیل شامل ہیں:
- 4 بنیادی پرزہ جات: ملٹی لیئر پرنٹڈ سرکٹ بورڈ (پی سی بی)، ریلے، حرارت خارج کرنے والے آلات اور خصوصی سرامکس؛
- سپلائی چین سے متعلق 5 مصنوعات: تانبے کی ورق، اینوڈ میٹریل، کیتھوڈ ایکٹو میٹریل، پولی پروپیلین فلم اور کیمرہ رم؛ اور
- سرمایہ جاتی سازوسامان اور ان کے پرزہ جات۔
منظور شدہ منصوبے 7 ریاستوں، یعنی گجرات، کرناٹک، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، پنجاب، تمل ناڈو اور اتر پردیش میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اس سے ملک میں الیکٹرانک پرزہ جات کی مینوفیکچرنگ کا جغرافیائی دائرہ مزید وسیع ہوگا۔
ان تازہ منظوریوں کے تحت تانبے کی ورق، کیتھوڈ ایکٹو میٹریل اور خصوصی سرامکس کی تیاری کے لیے ای سی ایم ایس کے تحت پہلی مرتبہ منظوری دی گئی ہے، جس سے ملک میں تیار کیے جانے والے الیکٹرانک پرزہ جات اور ابتدائی مرحلے کے خام مال کی اقسام میں مزید اضافہ ہوگا۔
بنیادی پرزہ جات کے زمرے میں درج ذیل کمپنیوں کو مصنوعات کی تیاری کے لیے منظوری دی گئی ہے:
- ملٹی لیئر پرنٹڈ سرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی تیاری کے لیے نی ایس ٹی آئی سی ای ایل آر پرائیویٹ لمیٹڈ؛
- ریلے کی تیاری کے لیے ٹی ڈی کنیکس (چنئی) پرائیویٹ لمیٹڈ؛
- حرارت خارج کرنے والے آلات کی تیاری کے لیے ماڈرن آٹوموٹیوز لمیٹڈ؛ اور
- خصوصی سرامکس کی تیاری کے لیے وولٹکس سیمی کون پرائیویٹ لمیٹڈ۔
اس کے علاوہ، الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کی سپلائی چین کو مضبوط بنانے کے لیے مختلف مصنوعات کی تیاری کے سلسلے میں بھی درج ذیل کمپنیوں کو منظوری دی گئی ہے:
- پی سی بی اور لیتھیم آئن سیلز کے لیے تانبے کی تہہ چڑھی ہوئی لیمینیٹ (سی سی ایل) کی تیاری میں استعمال ہونے والی اہم مصنوعات، تانبے کی ورق، کے لیے انڈو ایشیا کاپر لمیٹڈ؛
- لیتھیم آئن سیلز کے لیے اینوڈ میٹریل کی تیاری کے لیے ٹی اے سی سی لمیٹڈ؛
- کیتھوڈ ایکٹو میٹریل کی تیاری کے لیے ودیوت میٹریلز پرائیویٹ لمیٹڈ؛
- کیپیسٹر کے معیار کی ڈائی الیکٹرک فلم کے لیے پولی پروپیلین فلم کی تیاری کے لیے اینر فولئی ایل ایل پی؛ اور
- کیمرہ رم کی تیاری کے لیے سرفیس موڈیفکیشن ٹیکنالوجیز پرائیویٹ لمیٹڈ۔
مزید برآں، ان تازہ منظوریوں میں سرمایہ جاتی سازوسامان اور ان کے پرزہ جات کی گھریلو مینوفیکچرنگ کی صلاحیت کو فروغ دینے پر بھی توجہ برقرار رکھی گئی ہے۔ اس سلسلے میں ٹی ڈی کنیکس (چنئی) پرائیویٹ لمیٹڈ کو اعلیٰ درستگی والے سانچوں اور آلات سازی کے لیے، راک ویل آٹومیشن انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ کو سرمایہ جاتی سازوسامان کے لیے بجلی اور کنٹرول کے نظام کی تیاری کے لیے، اور وِپرو پاری روبوٹکس پرائیویٹ لمیٹڈ کو کارخانوں میں خودکاری اور نظام کے انضمام کے لیے سرمایہ جاتی سازوسامان کی تیاری کے سلسلے میں منظوری دی گئی ہے۔
ان منظوریوں کے ساتھ، ای سی ایم ایس کے تحت اب تک مجموعی طور پر 16 ریاستوں میں 34 مصنوعات سے متعلق 118 درخواستوں کو منظوری دی جا چکی ہے۔ ان منصوبوں میں 77,051 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے، جب کہ ان سے 5,73,146 کروڑ روپے کی پیداوار اور 81,755 افراد کے لیے براہِ راست روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی امید ہے۔
یہ منظوریاں گھریلو سپلائی چین کو مضبوط بنانے، مقامی سطح پر قدر افزائی میں اضافہ کرنے، درآمدات پر انحصار کم کرنے اور جدید مینوفیکچرنگ کی صلاحیتیں فروغ دینے میں معاون ثابت ہوں گی۔ اس طرح بھارت کو الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کے عالمی مرکز کے طور پر ابھرنے میں مزید تقویت ملے گی۔
میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر جناب اشونی ویشنو نے کہا کہ ’’گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت میں بنیادی نوعیت کی تبدیلی آئی ہے۔ تاہم، یہ محض آغاز ہے۔ مختلف پالیسی اقدامات اور سرکاری و نجی شعبوں کی مشترکہ کوششیں سیمی کنڈکٹر اور الیکٹرانکس کی صنعت کی ترقی اور آتم نربھر بھارت کے وژن کی تکمیل کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کر رہی ہیں۔‘‘بھارت اپنے گھریلو الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کے نظام کو مضبوط بنا رہا ہے۔ اس سلسلے میں ملک کے اندر کمپیوٹرز اور ان کے پرزہ جات کی تیاری پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، تاکہ درآمدات پر انحصار کم کیا جا سکے اور الیکٹرانکس کی ایک مضبوط، خود کفیل ویلیو چین تشکیل دی جا سکے۔
سیمی کون 2.0 ویب ایپلی کیشن پورٹل کا آغاز اور ای سی ایم ایس کے تحت منظور شدہ درخواست دہندگان کا اعلان، بھارت کی سیمی کنڈکٹر ڈیزائن اور مینوفیکچرنگ کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم پیش رفت ہے۔
***
ش ح۔ش ت ۔م الف
U. No- 7357