صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

صحت کی مرکزی وزارت کی جانب سے مخصوص اہم معیارات پر پورا نہ اترنے والی ادویات کے لیے مینوفیکچرنگ لائسنس کوفوری طور پر معطل کرنے کی تجویز


ادویات کے قواعد 1945 میں مجوزہ ترامیم کا مقصد ضابطہ جاتی نگرانی کو مضبوط بنانا اور غیر معیاری ادویات کے خلاف فوری کارروائی یقینی بنانا ہے

مقدار، تحلیل، متعلقہ اجزا، مضر آمیزشوں یا جراثیم سے پاک ہونے کے معیار پر ناکام ادویات کے لئے مینوفیکچرنگ لائسنس کوفوری طور پر معطل کرنے کی تجویز

معطل شدہ لائسنس صرف اسی صورت میں بحال کیے جا سکیں گے جب دوا ساز کمپنیاں اصلاحی اور انسدادی اقدامات کی تصدیق کرا لیں گی

ضابطہ جاتی اداروں کے درمیان بروقت تال میل اور جواب دہی کو مضبوط بنانے کے لیے رپورٹنگ کا بہتر نظام متعارف کرانے کی تجویز

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 04 NOV 2026 8:57PM by PIB Delhi

ملک میں ادویات کے معیار، تحفظ  اور حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ضابطہ جاتی نظام کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے، صحت اور خاندانی بہبود کی مرکزی وزارت نے ادویات کے قواعد 1945 میں ترامیم کی تجویز پیش کی ہے۔ ان مجوزہ ترامیم کے تحت مخصوص اہم معیارات پر پورا نہ اترنے والی اور غیر معیاری قرار دی جانے والی ادویات کے مینوفیکچرنگ لائسنس فوری طور پر معطل کرنے کی گنجائش فراہم کی گئی ہے۔

ان مجوزہ ترامیم کا مقصد غیر معیاری ادویات کا پتہ چلنے پر فوری ضابطہ جاتی کارروائی کو ممکن بنانا، ان کی تیاری اور تقسیم کا سلسلہ جاری رہنے سے روکنا اور مقررہ معیار کے تقاضوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کے نظام کو مزید مضبوط بنانا ہے، تاکہ مریضوں کی حفاظت اور صحتِ عامہ کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔

ادویات کے قواعد 1945 کی موجودہ دفعات کے تحت مینوفیکچرنگ لائسنس معطل یا منسوخ کرنے سے پہلے مقررہ ضابطہ جاتی کارروائی کی جاتی ہے، جس میں وجہ بتاؤ نوٹس جاری کرنا بھی شامل ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں کسی دوا کو غیر معیاری قرار دیے جانے اور اس کے خلاف ضابطہ جاتی کارروائی شروع ہونے کے درمیان کچھ وقت کا وقفہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اس دوران متعلقہ دوا بازار میں دستیاب رہ سکتی ہے، جس سے صحتِ عامہ کو ممکنہ خطرات لاحق ہو سکتے ہیں اور دوا کو مؤثر طریقے سے بازار سے واپس منگوانے کا عمل بھی مشکل ہو سکتا ہے۔

اس ضابطہ جاتی تشویش کو دور کرنے کے لیے وزارت نے تجویز پیش کی ہے کہ سرکاری تجزیہ کار کی ایسی رپورٹ موصول ہونے پر، جس میں کسی دوا کو مقدار، تحلیل، متعلقہ اجزا، مضر آمیزشوں یا جراثیم سے پاک ہونے کے معیار کے حوالے سے غیر معیاری قرار دیا گیا ہو، حسبِ معاملہ مرکزی لائسنسنگ منظوری اتھارٹی یا ریاستی لائسنسنگ اتھارٹی متعلقہ دوا کا مینوفیکچرنگ لائسنس فوری طور پر معطل کر دے۔

یہ معیارات ادویات کے معیار کا تعین کرنے میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ مجوزہ دفعہ کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ان مخصوص معیارات کی خلاف ورزی کے معاملات میں فوری ضابطہ جاتی کارروائی کی جائے، تاکہ مریضوں کو لاحق ممکنہ خطرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔

مجوزہ ترمیم میں معطلی منسوخ کرنے سے پہلے اصلاحی اقدامات کو لازمی قرار دینے کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے۔ لائسنس کی معطلی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک دوا ساز کمپنی معیار میں ناکامی کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے بنیادی وجہ کا مؤثر تجزیہ نہیں کرتی اور متعلقہ لائسنسنگ اتھارٹی کے اطمینان کے مطابق مناسب اصلاحی اور انسدادی اقدامات (سی اے پی اے) نافذ نہیں کرتی۔

معطلی اسی صورت میں منسوخ کرنے کی اجازت دی جائے گی جب ضروری اصلاحی اور انسدادی اقدامات نافذ کر دیے جائیں اور لائسنسنگ اتھارٹی ان کی باقاعدہ تصدیق بھی کر لے۔ اس طریقۂ کار کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ معیار میں پائی جانے والی خامیوں کو مناسب طریقے سے دور کیا جائے اور ان کے دوبارہ پیدا ہونے سے روکنے کے لیے ضروری حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔

ضابطہ جاتی تال میل کو مزید مضبوط بنانے اور بروقت کارروائی کو ممکن بنانے کے لیے سرکاری تجزیہ کار کی جانچ رپورٹ سے متعلق فارم 13 میں بھی ضروری ترامیم کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

مجوزہ طریقۂ کار کے تحت سرکاری تجزیہ کار کی رپورٹ ڈرگس کنٹرولر جنرل آف انڈیا (ڈی سی جی آئی)، متعلقہ ریاست یا مرکز کے زیر انتظام علاقے کی لائسنسنگ اتھارٹی (جس کے دائرۂ اختیار میں دوا سازی کا مرکز واقع ہے) کے ساتھ ساتھ متعلقہ دوا کے تیار کنندہ اور مارکیٹر کو بھی بھیجی جائے گی۔

اس مجوزہ انتظام کا مقصد غیر معیاری قرار دی گئی ادویات سے متعلق نتائج کی بروقت اطلاع متعلقہ حکام اور فریقین تک پہنچانا ہے، تاکہ باہمی تال میل کے ساتھ ضابطہ جاتی کارروائی ممکن ہو سکے اور ادویات کی تیاری سے لے کر ان کی مارکیٹنگ تک کے پورے سلسلے میں جواب دہی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

مجوزہ ترامیم 20 دسمبر 2024 کو منعقدہ ڈرگس کنسلٹیٹو کمیٹی-ادویات سے متعلق مشاورتی کمیٹی (ڈی سی سی) کے 65ویں اجلاس میں ہونے والی تفصیلی بات چیت اور 24 اپریل 2025 کو منعقدہ ڈرگس ٹیکنیکل ایڈوائزری بورڈ (ڈی ٹی اے بی) کے 92ویں اجلاس کی سفارشات کے بعد پیش کی گئی ہیں۔

 

توقع ہے کہ ان ترامیم سے بازار میں ادویات کی دستیابی کے بعد ان کی ضابطہ جاتی نگرانی کا نظام مزید مضبوط ہوگا، غیر معیاری ادویات کے خلاف بروقت کارروائی ممکن ہو سکے گی، دوا ساز کمپنیوں اور مارکیٹرز میں جواب دہی کا احساس بڑھے گا اور ملک میں دستیاب ادویات کے معیار پر عوام کا اعتماد مزید مستحکم ہوگا۔

یہ پہل عوام کو محفوظ، مؤثر اور معیاری ادویات کی فراہمی یقینی بنانے اور ادویات سے متعلق ضابطہ جاتی نظام کو مزید مستحکم کرنے کے حکومتِ ہند کے مسلسل عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

مجوزہ ترامیم کا مسودہ عوامی مشاورت کے لیے مشتہر کر دیا گیا ہے۔ اس کے تحت متعلقہ فریقوں اور عوام کے اراکین سے اعتراضات اور تجاویز طلب کی گئی ہیں۔ یہ اعتراضات اور تجاویز اس تاریخ سے 30 دن کے اندر پیش کی جا سکتی ہیں، جس روز مجوزہ قواعد پر مشتمل گزٹ آف انڈیا کی نقول عوام کے لیے دستیاب کرائی جائیں گی۔

اعتراضات اور تجاویز، اگر کوئی ہوں، تو حکومتِ ہند کی صحت اور خاندانی بہبود  کی وزارت کے انڈر سکریٹری (ڈرگس)، یو-6، ورک ہال-سی وِنگ، پہلی منزل، کرتویہ بھون-1، نئی دہلی – 110001 کے پتے پر بھیجی جا سکتی ہیں یا ای میل کے ذریعے drugsdiv-mohfw[at]gov[dot]in  پر ارسال کی جا سکتی ہیں۔

گزٹ نوٹیفکیشن کا مسودہ سرکاری ای-گزٹ پورٹل پر درج ذیل لنک کے ذریعے دیکھا جا سکتا ہے:

https://egazette.gov.in/(S(tqlgzgdze5s0ylovnh4l0ej1))/ViewPDF.aspx

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 (ش ح ۔  م م ع۔ع ن)

U. No. 7251


(ریلیز آئی ڈی: 2332888) وزیٹر کاؤنٹر : 7