جدید اور قابل تجدید توانائی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پی ایم سوریہ گھر واقعی ایک عوامی تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہے: جناب پرہلاد جوشی


پانچ ممالک کے شراکت داروں نے ہائیڈروجن، سمندر میں ہوا سے توانائی کی پیداوار اور مالی معاونت کے شعبوں میں دوطرفہ صاف توانائی تعاون کو مزید مستحکم کیا

بی آر ای سمٹ اور ایکسپو 2026 نے ٹیکنالوجی پر مبنی ہندوستان کے صاف توانائی کے مستقبل کی راہ ہموار کی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 04 NOV 2026 8:54PM by PIB Delhi

’’پی ایم سوریہ گھر: مفت بجلی  اسکیم واقعی ایک عوامی تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہے، جو بالآخر عوام، ریاستوں اور پورے ملک کی فلاح و بہبود اور بچت کو یقینی بنا رہی ہے۔‘‘ یہ بات مرکزی وزیر برائے نئی اور قابل تجدید توانائی، تعلیم اور امورصارفین، خوراک و عوامی نظام تقسیم جناب پرہلاد جوشی نے آج یہاں ’بھارت رینیوایبل انرجی سمٹ اینڈ ایکسپو- 2026‘ کے تیسرے روز منعقدہ ایک خصوصی نشست کے دوران کہی۔

مرکزی وزیر جناب جوشی نے اس بات کو اجاگر کیا کہ چھتوں پر شمسی توانائی کے نظام نصب کرنے کے اقدام کی بدولت ہندوستان اب ہر چھ دن میں تقریباً ایک لاکھ روف ٹاپ سولر تنصیبات مکمل کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے نہ صرف کاربن کے اخراج میں کمی آ رہی ہے بلکہ زیادہ طلب کے اوقات میں ملک کی توانائی کی سلامتی بھی مستحکم ہو رہی ہے۔ اس کے ٹھوس فوائد پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لاکھوں گھرانوں کے بجلی کے بل صفر ہو رہے ہیں اور وہ اضافی بجلی گرڈ کو فروخت کرکے اجتماعی طور پر خاطر خواہ آمدنی بھی حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان نے شمسی توانائی کے شعبہ میں غیر معمولی ترقی کی ہے اور اس کی نصب شدہ صلاحیت 2014 میں محض 3 گیگاواٹ سے بڑھ کر آج 172 گیگاواٹ تک پہنچ گئی ہے۔

نئی اور قابل تجدید توانائی کے وزیر مملکت جناب شری پد یسو نائک نے ’نیکسٹ ٹیراواٹ ڈپلومیٹک ڈائیلاگ‘ سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ صاف توانائی کے اگلے ایک ٹیراواٹ کے ہدف کے حصول کے لیے مختلف ممالک، ٹیکنالوجیز اور اداروں کے درمیان اجتماعی تعاون ناگزیر ہوگا۔ وزیر موصوف نے سفارت کاروں سے مختلف ممالک کے ساتھ شراکت داری، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، نفاذ اور صلاحیت سازی کے موضوعات پر ان کے خیالات بھی طلب کیے۔

اسی دوران انٹرنیشنل سولر الائنس، سی ای ای ڈبلیو اور انرجیوا وینچرز کے زیراہتمام سی ای اوز کا ایک متوازی اجلاس منعقد ہوا، جس میں آئندہ کئی دہائیوں کے لیے بین الاقوامی سطح پر صاف توانائی کے منصوبوں کے نفاذ کے لائحۂ عمل کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر آئی ایس اے کی اعلیٰ سطحی اسمبلی اور چھوٹے جزیرہ نما ترقی پذیر ممالک (ایس ڈی ایس) کے وزارتی گول میز اجلاس نے سفارتی روابط کو مزید تقویت بخشی۔ ناروے، جاپان، آسٹریلیا، برطانیہ اور فرانس کے ساتھ منعقدہ ملکی اجلاسوں میں ہائیڈروجن، سمندر میں ہوا سے توانائی کی پیداوار اور مالی معاونت کے شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کیا گیا، جبکہ کرناٹک، دہلی، اتراکھنڈ، بہار، گجرات اور چھتیس گڑھ نے عالمی شرکاء کے سامنے قابل تجدید توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے اپنے منصوبوں کی تفصیلات پیش کیں۔

بی آر ای سمٹ اینڈ ایکسپو- 2026 کے ساتھ منعقدہ گرین ہائیڈروجن کی چوتھی بین الاقوامی کانفرنس میں قومی گرین ہائیڈروجن مشن کے تحت ہونے والی پیش رفت کو اجاگر کیا گیا، جس کا مقصد 2030 تک سالانہ 50 لاکھ ٹن گرین ہائیڈروجن کی پیداواری صلاحیت حاصل کرنا ہے۔ دن بھر منعقد ہونے والے مختلف اجلاسوں میں الیکٹرولائزر کی تیاری، نقل و حمل کے شعبہ میں ہائیڈروجن کے استعمال، فیول سیل ٹیکنالوجیز اور پائیدار ایوی ایشن ایندھن کا جائزہ لیا گیا۔ اس طرح توانائی کی وسیع تر منتقلی کے عمل میں ہندوستان کی ہائیڈروجن معیشت کو ایک اہم ستون کے طور پر مزید مستحکم کرنے پر زور دیا گیا۔

صنعتی شعبہ کے سرکردہ رہنما، محققین، صنعت کار اور علمی شراکت دار اس پلیٹ فارم کے ذریعے ٹیکنالوجی کے شعبے میں اشتراک، تحقیقی شراکت داری اور ملکی سپلائی چین کو مستحکم کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

ونڈ پلینری اجلاس میں ہندوستان میں زمینی اور سمندری ہوائی توانائی (آف شور ونڈ)کی پیداوار کے مستقبل کے امکانات کا جائزہ لیا گیا، جبکہ بیٹری اسٹوریج سے متعلق مکمل اجلاس میں ملک میں بڑے پیمانے پر بیٹریوں کی تیاری کی صلاحیت استوار کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ ’آر ای فار اے آئی‘ کے اجلاس میں اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ مشینی ذہانت کس طرح بجلی کی طلب و رسد کی پیش گوئی اور توانائی کے تحفظ کو مستحکم بنا سکتی ہے۔ قابل تجدید توانائی کے شعبے میں خواتین کی شمولیت سے متعلق ایک خصوصی پالیسی اجلاس میں اس امر پر غور کیا گیا کہ اس شعبے میں صنفی شمولیت کو بہتر بنانے کے لیے ہندوستان وسائل، عہدبستگی اور ارادے کو کس طرح بہتر طور پر بروئے کار لا سکتا ہے۔

آج آر ٹی ایس ای وینڈر بڈی ٹول کا بھی آغاز کیا گیا، جسے سی-اسٹیپ نے بلومبرگ فلینتھروپیز کے تعاون اور وزارت نئی و قابلِ تجدید توانائی کے اشتراک سے تیار کیا ہے۔ یہ پلیٹ فارم چھتوں پر شمسی توانائی کے نظام نصب کرنے والے وینڈرز کو چھتوں کے نقشوں کا جائزہ لینے، شمسی توانائی کے نظام کے سہ جہتی (تھری ڈی) ڈیزائن تیار کرنے اور ایک ہی طریق کار کے تحت تکنیکی خاکے اور درکار سامان کی فہرست تیار کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

ہندوستان کے شمسی توانائی کے آلات تیار کرنے والے شعبہ میں نمایاں توسیع ہوئی ہے، جہاں سولر ماڈیولز کی پیداواری صلاحیت 200 گیگاواٹ سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ شمسی سیل کی پیداواری صلاحیت تقریباً 45 گیگاواٹ تک پہنچ گئی ہے۔ ملک ہوا سے توانائی پیدا کرنے کے آلات کی تیاری کے شعبے میں بھی پیش رفت کر رہا ہے اور اب مقامی سطح پر ٹربائن کی تیاری کے سلسلے کی قدر افزائی میں ایک بڑا حصہ پورا کرنے کی صلاحیت حاصل ہو چکی ہے۔ بی آر ای سمٹ اینڈ ایکسپو- 2026 صنعت کاروں، ٹیکنالوجی کمپنیوں، سرمایہ کاروں اور پالیسی سازوں کو صاف توانائی کے آلات کی تیاری کے پورے نظام میں ملکی اور بین الاقوامی اشتراک کو مزید گہرا کرنے کے امکانات تلاش کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے۔

قابل تجدید توانائی کی پیداواری صلاحیت میں اضافے کے ساتھ توانائی کے ذخیرے اور ترسیلی بنیادی ڈھانچے کی اہمیت بھی بڑھ رہی ہے، تاکہ بجلی کے گرڈ کا استحکام برقرار رہے اور قابل تجدید توانائی کی غیر مستقل پیداوار کو قابل اعتماد طریقے سے گرڈ میں شامل کیا جا سکے۔ یہ سمٹ ٹیکنالوجی فراہم کرنے والوں، منصوبہ سازوں اور صنعتی شعبے کے متعلقہ فریقوں کو ایک ساتھ لا رہی ہے، تاکہ بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم، پمپڈ اسٹوریج اور بجلی کے گرڈ کو جدید بنانے سے متعلق تبادلۂ خیال کو آگے بڑھایا جا سکے۔ ان دونوں شعبوں میں ہندوستان کی کوششیں سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے اشتراک کے لیے مسلسل بڑھتے ہوئے مواقع پیدا کر رہی ہیں۔

 

 

*****

ش ح – ظ الف –ع د

UR No. 7253


(ریلیز آئی ڈی: 2332855) وزیٹر کاؤنٹر : 8