کابینہ
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی کابینہ نے مالی سال 2026-27 سے 2030-31 کی مدت کیلئے مرکزی شعبے کی اسکیم ’وکست بھارت انیشی ایٹو فار اسٹیٹسٹیکل ٹرانسفارمیشن، اینالیٹکس اینڈ ریسرچ (وی آئی ایس ٹی اے آر)‘ کو منظوری  دی ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 04 NOV 2026 3:31PM by PIB Delhi

وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے آج مالی سال 2026-27 سے 2030-31 تک کی مدت کیلئے 4,371.10 کروڑ روپے کے بجٹ کے ساتھ ’وکست بھارت انیشی ایٹو فار اسٹیٹسٹیکل ٹرانسفارمیشن، اینالیٹکس اینڈ ریسرچ (وی آئی ایس ٹی اے آر) ‘ اسکیم کو منظوری دے دی۔

وکست بھارت 2047کے بنیادی مقصد کے مطابق، وی آئی ایس ٹی اے آر اسکیم کو ایک متحرک، حقیقی وقت میں معلومات فراہم کرنے والا اور مستقبل کی ضروریات کے لیے تیار سرکاری شماریاتی ڈھانچہ قائم کرنے کے لیے وضع کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد ڈیٹا کی بروقت دستیابی اور باریک بینی کو بہتر بنانا اور مختلف ڈیٹا سیٹس کے درمیان باہمی مطابقت کو فروغ دینا ہے تاکہ ڈیٹا مربوط اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال کے لیے تیار ہو سکے۔

وی آئی ایس ٹی اے آر اسکیم فوری پالیسی ضروریات کی بنیاد پر وسائل کی متحرک تقسیم کے لیے اسٹریٹجک لچک فراہم کرے گی۔ یہ بڑے پیمانے پر سروے کے انعقاد، طریقۂ کار سے متعلق تحقیق، ڈیجیٹل تبدیلی اور قومی ڈیٹا گورننس کے حوالے سے ایک جامع نقطۂ نظر کو فروغ دے گی۔ وی آئی ایس ٹی اے آر اسکیم میں وزارتِ شماریات و پروگرام نفاذ (ایم او ایس پی آئی)کی تمام شماریاتی اور ڈیٹا مینجمنٹ سرگرمیاں شامل ہوں گی اور یہ ملک کے سرکاری شماریاتی نظام کو جدید بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ وی آئی ایس ٹی اے آر اسکیم کے تین اجزا درج ذیل ہیں:

کمپوننٹ 1:   جامع شماریاتی سرگرمیوں اور نظام (ایکو سسٹم) کو مضبوط بنانا

کمپوننٹ 2: شماریاتی استحکام کے لیے معاونت (ایس ایس ایس)

کمپوننٹ 3: اقتصادی مردم شماری (ای سی)

جامع شماریاتی سرگرمیوں اور نظام (ایکو سسٹم) کو مضبوط بنانے کے جزو کے تحت، وزارتِ شماریات و پروگرام نفاذ (ایم او ایس پی آئی)نے 16ویں مالیاتی کمیشن (ایف سی) کے دورانیے میں 59 سروے کرانے کی تجویز پیش کی ہے، جبکہ اس سے قبل 43 بڑے سروے کرائے گئے تھے۔

’جامع شماریاتی سرگرمیوں اور نظام(ایکو سسٹم)کو مضبوط بنانےکے جزو کے تحت، وزارتِ شماریات و پروگرام نفاذ (ایم او ایس پی آئی)نے 16ویں مالیاتی کمیشن (ایف سی) کے دورانیے میں 59 سروے کرانے کی تجویز پیش کی ہے، جبکہ اس سے قبل 43 بڑے سروے کرائے گئے تھے۔ ان نئے سروے کے ذریعے مختلف شعبوں میں ڈیٹا کی اہم کمیوں کو دور کرنے میں مدد ملے گی، جس سے فیصلہ سازی کے عمل میں بہتری آئے گی اور بروقت ہدف پر مبنی پالیسی اقدامات ممکن ہو سکیں گے۔ اس کے علاوہ، ٹیکنالوجی کے ذریعے ڈیٹا جمع کرنے اور صارفین کی ضروریات کے مطابق معلومات کی فراہمی میں حالیہ ڈیجیٹل تبدیلیوں کو آگے بڑھاتے ہوئے، ایم او ایس پی آئی شماریاتی عمل کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن پر توجہ مرکوز کرے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈیٹا کی پروسیسنگ، تصدیق اور تجزیے کے لیے معمول کے طریقۂ کار میں مصنوعی ذہانت (AI) اور مشین لرننگ (ایم ایل) کو بھی شامل کیا جائے گا۔

وزارتِ شماریات و پروگرام نفاذ (ایم او ایس پی آئی)نئے اشاریے جاری کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے، جن میں ’ہیڈ لائن انڈیکس آف سروسز پروڈکشن‘ اور ’انڈیکس آف اَن اِن کارپوریٹڈ سیکٹر انٹرپرائزز‘ شامل ہیں۔ وزارت ڈیٹا میں ہم آہنگی کے بنیادی ستونوں، مثلاً ڈیٹا کی فہرست سازی، مشین کے ذریعے پڑھے جانے کے قابل ڈیٹا، باہمی مطابقت، ڈیٹا کے تبادلے کے ضابطوں اور ابتدا ہی سے رازداری کے تحفظ جیسے امور پر کام کرے گی۔ اس کا مقصد معلومات کے الگ الگ نظام کے درمیان حائل رکاوٹوں کو دور کرنا، پروگراموں کو ہدف کے مطابق بنانے کے عمل میں بہتری لانا، کام کی تکرار کو کم کرنا اور حکومتی سطح پر مصنوعی ذہانت پر مبنی فیصلہ سازی کی راہ ہموار کرنا ہے۔ موبائل فون، اسکینر اور ای کامرس کے ڈیٹا جیسے متبادل ذرائع کو مرکزی دھارے میں شامل کرکے، وزارت روایتی سروے کو مزید بہتر بنانے، جواب دہندگان پر بوجھ کم کرنے، ڈیٹا کی کمی کو دور کرنے اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کو مضبوط بنانے کا ہدف رکھے گی۔ اس کے علاوہ، وزارت طلبہ کے لئے انٹرن شپ اسکیم اور تعلیمی و تحقیقی اداروں سے موصول ہونے والی تحقیقی تجاویز کے ذریعے نوجوانوں اور محققین کی صلاحیتوں کو فروغ دینے اور ان کے لیے بہتر مواقع پیدا کرنے کو یقینی بنائے گی۔

’شماریاتی استحکام کے لیے معاونت (ایس ایس ایس) کے جزو کے تحت، ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی شماریاتی صلاحیتوں کو تبدیل کرنے کے لیے ایک نئے ڈیزائن کردہ اور نتائج پر مبنی فریم ورک (ایس ایس ایس 2.0) کے ذریعے ریاستی اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقائی حکومتوں کو مالی امداد فراہم کی جائے گی۔ اس کا بنیادی مقصد ریاستی سطح پر ایسی صلاحیتیں پیدا کرنا ہے، جن کے ذریعے ضلع اور دیگر سطحوں پر اعلیٰ معیار کا تفصیلی ڈیٹا تیار کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ، اس میں ڈیٹا پروسیسنگ کی اپنی صلاحیتیں فروغ دینا اور مقامی سطح پر پالیسی سازی میں ڈیٹا کے استعمال کو شامل کرنا بھی شامل ہے۔ وزارتِ شماریات و پروگرام نفاذ (ایم او ایس پی آئی) اہم قومی سروے، مثلاً پی ایل ایف ایس، ایچ سی ای ایس اور اے ایس یو ایس ای میں ضلعی سطح اور دس لاکھ سے زیادہ آبادی والے شہروں کے تخمینوں کو بہتر بنانے کے لیے تکنیکی معاونت فراہم کرے گی۔ اس کے علاوہ، یہ ریاستی اور ضلعی سطح پر مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی)  اور ریاستی سطح پر صنعتی پیداوار کے اشاریے (آئی آئی پی) تیار کرنے میں بھی مدد کرے گی۔

اقتصادی مردم شماری(ای سی)کے جزو کے تحت،ایم او ایس پی آئی ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے تعاون سے آٹھویں اقتصادی مردم شماری کرائے گی۔ اس کے ذریعے گرام پنچایت اور وارڈ کی سطح تک زرعی شعبے کے علاوہ تمام اداروں، ان میں کام کرنے والے ملازمین اور ان کی سرگرمیوں سے متعلق تفصیلی معلومات اور ڈیٹا حاصل کیا جائے گا۔ اس سے معیشت کے غیر منظم شعبے کا جائزہ لینے میں مدد ملے گی۔ اس کے ساتھ ہی یہ ’نیشنل اسٹیٹسٹیکل بزنس رجسٹر(ایس بی آر) تیار کرنے کے لیے بنیادی ڈیٹا فراہم کرے گی، جس سے ہدف پر مبنی کاروباری سروے اور حکمتِ عملی کے تحت اقدامات کرنا آسان ہوگا۔ اقتصادی مردم شماری سے حاصل ہونے والا ڈیٹا قومی اور ذیلی قومی سطح کے منصوبہ سازوں اور پالیسی سازوں کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگا۔ اس سے مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) میں غیر منظم شعبے کے تعاون کا تخمینہ لگانے کی راہ بھی ہموار ہوگی۔

***

ش ح۔ ک ا۔ ن ع

U.NO.7213


(ریلیز آئی ڈی: 2332586) وزیٹر کاؤنٹر : 11