پوسٹ کرنے کی تاریخ:
03 NOV 2026 4:54PM by PIB Delhi
حکومتِ ہند کی سماجی انصاف و تفویضِ اختیارات کی وزارت اٹل ویو ابھیودے یوجنا (اے وی وائی اے وائی) کے تحت کل یہاں قومی راجدھانی میں ’وایو سمان راشٹریہ ابھیان‘ – بین نسلی روابط کو فروغ دینے سے متعلق قومی مہم کا آغاز کرے گی۔
سماجی انصاف و تفویض اختیارات کے مرکزی وزیر ڈاکٹر وریندر کمار باضابطہ طور پر اس مہم کا آغاز کریں گے۔ یہ بین نسلی یکجہتی کو مستحکم کرنے اور ایک ایسے معاشرے کو فروغ دینے کی سمت ایک اہم قدم ہوگا ،جو بزرگ شہریوں کے تجربات، دانش مندی اور خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
وزارت کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ اس قومی مہم کا مقصد بزرگ شہریوں اور نوجوان نسلوں کے درمیان بامعنی اور مستقل روابط کو ادارہ جاتی شکل دینا ہے، تاکہ باہمی احترام، افہام و تفہیم، رفاقت اور مشترکہ ذمہ داری کے جذبے کو فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ’وایو سمان راشٹریہ ابھیان ‘محض فلاح و بہبود کی مہم نہیں ہے، بلکہ یہ بین نسلی یکجہتی کو ادارہ جاتی شکل دینے، بزرگ شہریوں کو معاشرے کے فعال شراکت داروں کے طور پر تسلیم کرنے اور باوقار بڑھاپے کے مقصد کے لیے نوجوانوں کی شمولیت کو متحرک کرنے کی ایک ملک گیر سماجی تحریک ہے۔
عہدیدار نے مزید کہا کہ اس مہم میں بین نسلی روابط کو کمیونٹی کی قیادت میں چلنے والی ایک تحریک کے طور پر فروغ دینے کا تصور پیش کیا گیا ہے، جس کے تحت خاندانوں، تعلیمی اداروں، نوجوانوں کی تنظیموں، رضاکارانہ تنظیموں اور مقامی اداروں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی کہ وہ مختلف نسلوں کے درمیان بامعنی میل جول اور اشتراک کے مواقع پیدا کریں۔
وزارت کے عہدیدار نے کہا کہ وایو سمان راشٹریہ ابھیان کا مقصد ایسا سازگار ماحول پیدا کرکے ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنا ہے، جہاں نوجوان نسل بزرگ شہریوں کے زندگی کے تجربات، علم، ہنر اور ثقافتی ورثے سے استفادہ کرسکے، جبکہ بزرگ افراد نوجوانوں کی توانائی، ٹیکنالوجی سے واقفیت اور عصری نقطۂ نظر سے فائدہ اٹھا سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام میں بزرگ شہریوں کو محض فلاحی پروگراموں کے مستفیدین کے طور پر نہیں، بلکہ معاشرے کے فعال شراکت داروں، رہنماؤں اور علم، ثقافت اور سماجی تجربات کے بیش قیمت ذخیرے کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔
عہدیدار نے نشاندہی کی کہ ہندوستان اس وقت آبادی کے ڈھانچے میں ایک اہم تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے، جہاں بزرگ شہریوں کی آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 60 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد کی آبادی 2011 میں تقریباً 10 کروڑ سے بڑھ کر 2036 تک 23 کروڑ ہونے کا امکان ہے، جبکہ کل آبادی میں ان کا تناسب 8.4 فیصد سے بڑھ کر 14.9 فیصد ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ آبادی میں اس تبدیلی کے ساتھ ساتھ شہری کاری، نقل مکانی، خاندانی ڈھانچے میں تبدیلی اور بدلتے ہوئے سماجی رجحانات کے باعث کئی معاملات میں مختلف نسلوں کے درمیان باقاعدہ میل جول کے مواقع کم ہوئے ہیں۔
عہدیدار نے کہا کہ یہ تبدیلیاں سماجی تنہائی سے نمٹنے، کمیونٹی کے امدادی نظام کو مضبوط بنانے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ایک منظم اور مسلسل حکمت عملی کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہیں کہ بزرگ شہری فعال رہیں، انہیں عزت و احترام حاصل ہو اور وہ معاشرے سے بامعنی طور پر جڑے رہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس ابھیان کو ایک اختراعی ’5سی‘ ماڈل – رابطہ قائم کرنا (Connect)، بات چیت کرنا (Converse)، مل کر تخلیق کرنا (Co-create)، تعاون کرنا (Contribute) اور اس سلسلے کو جاری رکھنا (Continue) کے گرد ترتیب دیا گیا ہے، جو مختلف نسلوں کے درمیان بامعنی تعلقات قائم کرنے اور کمیونٹی کی باقاعدہ شمولیت کے ذریعے انہیں برقرار رکھنے کے لیے ایک عملی لائحۂ عمل فراہم کرتا ہے۔
اس کے پانچ اجزا کا مقصد رابطہ قائم کرنا ہے، جس کے تحت کمیونٹی پلیٹ فارمز، تعلیمی اداروں اور سماجی اقدامات کے ذریعے بزرگ شہریوں اور نوجوان نسل کو باہمی میل جول کے مواقع فراہم کیے جائیں گے؛ بات چیت کرنا-، تاکہ نسلوں کے درمیان مکالمے، واقعات و تجربات کے تبادلے اور باہمی افہام و تفہیم کی حوصلہ افزائی کی جا سکے؛ مل کر تخلیق کرنا - تاکہ بزرگ شہریوں اور نوجوانوں کی ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والی صلاحیتوں سے استفادہ کرتے ہوئے مشترکہ سرگرمیوں، تخلیقی اقدامات اور اشتراکی منصوبوں کو فروغ دیا جا سکے؛ تعاون کرنا - تاکہ دونوں نسلیں اپنی معلومات، ہنر، وقت اور صلاحیتوں کے ذریعے کمیونٹی کی فلاح و بہبود اور سماجی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں؛ اور اس سلسلے کو جاری رکھنا - تاکہ بین نسلی روابط محض ایک وقتی سرگرمی تک محدود رہنے کے بجائے ایک باقاعدہ، مستقل اور کمیونٹی کی قیادت میں جاری رہنے والا عمل بن سکیں۔
عہدیدار نے بتایا کہ اس مہم کو بارہ موضوعاتی شعبوں کے تحت نافذ کیا جائے گا، جن میں شرکت اور اشتراک کے متنوع مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ ان میں ’30 منٹ ساتھ‘، ’مجھے سکھائیں – میں آپ کو سکھاؤں گا‘، ’میری کہانی، میرا ہندوستان‘، ’ڈیجیٹل دادا-دادی / ڈیجیٹل ساتھی‘، ’نسلوں کی صحت اور تندرستی‘ اور ’سلور اسکلز – بزرگ بطور رہنما‘ سمیت دیگر سرگرمیاں شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان موضوعات کے ذریعے مہم میں رفاقت، زبانی تاریخ اور ثقافتی تبادلے، ڈیجیٹل خواندگی، صحت سے متعلق بیداری، تندرستی، ہنر کے تبادلے اور رہنمائی کو فروغ دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس مہم کے تحت نوجوانوں کو بزرگ شہریوں کی ڈیجیٹل خدمات سے استفادہ کرنے اور ممکنہ سائبر دھوکہ دہی کی شناخت کرنے میں مدد کے لیے بھی حوصلہ افزائی کی جائے گی، تاکہ ٹیکنالوجی پر بڑھتے ہوئے انحصار کے ماحول میں ان کے اعتماد اور تحفظ کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔
عہدیدار نے وضاحت کی کہ اس مہم کے آغاز کا ایک اہم جزو ’وایو ساتھی – سپورٹ، اویئرنیس، اسسٹنس، ٹریننگ، ہیلتھ اینڈ انکلوژن‘ (معاونت، بیداری، مدد، تربیت، صحت اور شمولیت) کا تعارف ہوگا۔ یہ ڈیجیٹل سہولت سے آراستہ ایک رضاکارانہ اقدام ہے، جس کا مقصد بزرگ شہریوں کی فلاح و بہبود، وقار اور سماجی شمولیت کے لیے شہریوں اور اداروں کو متحرک کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد رضاکاروں کا ایک ملک گیر نیٹ ورک تیار کرنا ہے، جو زمینی سطح پر بزرگ افراد کی معاونت کے لیے اپنا وقت، ہنر اور وسائل فراہم کر سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام میں 18 سال اور اس سے زائد عمر کے تمام شہری حصہ لے سکتے ہیں، جن میں طلبہ، نوجوان پیشہ ور افراد، کمیونٹی رضاکار، سول سوسائٹی تنظیمیں اور ادارہ جاتی شراکت دار شامل ہیں۔
عہدیدار نے کہا کہ اس اقدام کے تحت رضاکاروں کو بزرگ شہریوں کے دوست، سہولت کار، رابطہ کار اور معاون کے طور پر خدمات انجام دینے کی ترغیب دی جائے گی، تاکہ وہ متعلقہ معلومات، فلاحی خدمات، کمیونٹی سرگرمیوں، ڈیجیٹل معاونت اور دیگر اقسام کی مدد تک رسائی حاصل کر سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ لائحۂ عمل موجودہ ادارہ جاتی اور کمیونٹی پر مبنی امدادی نظاموں کی تکمیل کرنے کے ساتھ انہیں مزید مضبوط بھی بنائے گا۔
وزارت کے عہدیدار نے کہا کہ دلچسپی رکھنے والے شہری سینئر سٹیزنز ویلفیئر (ایس سی ڈبلیو) سماویش پورٹل یا جیون ایپ کے ذریعے وایو ساتھی رضاکاروں کی حیثیت سے اپنا اندراج کرا سکتے ہیں۔ رجسٹرڈ رضاکاروں کو ان کی شرکت اور خدمات کے اعتراف میں وایو ساتھی سرٹیفکیٹ بھی دیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام کے ذریعے وزارت رضاکارانہ خدمات کو بزرگ شہریوں کی فلاح و بہبود میں کمیونٹی کی شمولیت کے لیے ایک منظم، قابلِ رسائی اور وسیع پیمانے پر قابلِ توسیع طریقۂ کار میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔
مرکزی وزیر اس موقع پر وایو سمان راشٹریہ ابھیان سے متعلق ایک ہینڈ بک بھی جاری کریں گے۔ یہ ہینڈ بک اس مہم کے لیے رہنما دستاویز کے طور پر کام کرے گی، جس میں اس کے مقاصد، نفاذ کا لائحۂ عمل، موضوعاتی سرگرمیوں اور کمیونٹی کی شمولیت کے طریقۂ کار کی تفصیلات درج ہوں گی۔
اس میں ریاستوں، اضلاع اور کمیونٹی اداروں کے کردار اور ذمہ داریوں کی بھی وضاحت کی جائے گی، تاکہ ملک بھر میں مربوط انداز میں مہم کے نفاذ اور اس کی وسیع تر رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس ہینڈ بک کا مقصد مختلف انتظامی اور کمیونٹی سطحوں پر اس مہم کو اپنانے میں معاونت فراہم کرنا اور تعلیمی اداروں، نوجوانوں کے گروپوں، رضاکارانہ تنظیموں اور دیگر متعلقہ فریقوں کی فعال شرکت کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
افتتاحی پروگرام کے ایک حصے کے طور پر محکمۂ سماجی انصاف و تفویض اختیارات شری رام چندر مشن (ایس آر سی ایم) اور ادھیاتم وگیان ست سنگ کیندر (اے وی ایس کے)، جودھ پور کے ساتھ دو مفاہمت ناموں (ایم او یوز) پر دستخط کرے گا۔
ان شراکت داریوں کا مقصد مراقبہ، یوگا اور صحت و تندرستی سے متعلق دیگر پروگراموں کے ذریعے بزرگ شہریوں کی ہمہ جہت فلاح و بہبود کو فروغ دینا ہے۔ یہ کمیونٹی پر مبنی سرگرمیوں اور بیداری پیدا کرنے کے اقدامات، بشمول عہد لینے کی مہمات اور واکاتھون کے ذریعے بین نسلی روابط کو بھی فروغ دیں گی، تاکہ بزرگ افراد کی فلاح و بہبود کے تئیں عوامی بیداری اور اجتماعی ذمہ داری کے جذبے کو مزید تقویت مل سکے۔
یہ اشتراک بزرگ شہریوں کی فلاح و بہبود سے متعلق اقدامات کی رسائی کو وسعت دینے اور صحت مند، فعال اور باوقار بڑھاپے کو فروغ دینے کے لیے سول سوسائٹی کی تنظیموں اور دیگر ادارہ جاتی شراکت داروں کو ساتھ لے کر چلنے کے وزارت کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔
وایو سمان راشٹریہ ابھیان بین نسلی ہم آہنگی اور اجتماعی شمولیت کو فروغ دے کر معاشرتی رشتوں اور سماجی یکجہتی کو مزید مستحکم کرنے کی ایک وسیع تر کوشش ہے۔بزرگ شہریوں اور نوجوانوں کو مشترکہ پلیٹ فارمز پر یکجا کرکے، اس مہم کا مقصد ایک ایسی ثقافت کو فروغ دینا ہے جس میں تجربات اور جدت ایک دوسرے کی تکمیل کریں، روایتی دانش مندی کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے اور بزرگ افراد کمیونٹی کی زندگی کا لازمی حصہ بنے رہیں۔
محکمۂ سماجی انصاف و تفویض اختیارات شہریوں، تعلیمی اداروں، یونیورسٹیوں، نوجوانوں کی تنظیموں، غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز)، رہائشی فلاحی انجمنوں، کمیونٹی اداروں اور کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) کے شراکت داروں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اس مہم میں سرگرمی سے حصہ لیں اور وایو ساتھی رضاکاروں کی حیثیت سے اپنا اندراج کرائیں۔
عوام کی مسلسل شرکت، ادارہ جاتی شراکت داریوں اور کمیونٹی کی قیادت میں چلنے والے اقدامات کے ذریعے اس ابھیان کا مقصد ایک ایسے معاشرے کی تشکیل ہے، جہاں بزرگ شہری عزت، احترام، تحفظ، فعال شرکت اور شمولیت سے بھرپور زندگی گزار سکیں، جبکہ نوجوان نسل بزرگ افراد کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کا گہرا احساس پیدا کرے۔
اس مہم کا مقصد اس اصول کو مزید مستحکم کرنا ہے جس کے تحت بزرگ شہریوں کی فلاح و بہبود محض حکومت کی ذمہ داری نہیں، بلکہ ایک مشترکہ سماجی عہد ہے، جس کے لیے ہر نسل کی فعال شرکت ضروری ہے۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اٹل ویو ابھیودے یوجنا (اے وی وائی اے وائی) وزارتِ سماجی انصاف و تفویضِ اختیارات کی ایک اہم اور کلیدی پہل ہے، جس کا مقصد بزرگ شہریوں کی فلاح و بہبود، دیکھ بھال، تحفظ اور انہیں بااختیار بنانے کے اقدامات کو فروغ دینا ہے۔اس اسکیم کے مختلف اقدامات کے ذریعے بزرگ افراد کے لیے ایسا سازگار ماحول فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جہاں وہ مناسب امدادی خدمات اور سماجی شرکت کے مواقع تک رسائی کے ساتھ صحت مند، فعال، باوقار اور نتیجہ خیز زندگی گزار سکیں۔
********
ش ح۔ م ع ن۔ ن ع
U-NO-7162