کامرس اور صنعت کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

اے پی ای ڈی اے-‘اپیڈا’ کے توسط سے کلوکے1.3 میٹرک ٹن سندوری انار دبئی برآمد


برآمدات کی اس پہل کے ذریعہ بھونتر کسان پیداواری تنظیم سے وابستہ 600 کسانوں کو بین الاقوامی منڈیوں سے جوڑا گیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 03 NOV 2026 4:42PM by PIB Delhi

 حکومت ہندوستان کی وزارت تجارت و صنعت کے تحت زرعی اور پراسیس شدہ غذائی مصنوعات کی برآمدات کے فروغ سے متعلق ادارے (اے پی ای ڈی اے-‘اپیڈا’) نے ہماچل پردیش کے ضلع کلوسےسندوری قسم کے 1.3 میٹرک ٹن انار دبئی، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) برآمد کرنے میں سہولت فراہم کی۔

اس کھیپ میں دو دو کلوگرام کے 650 ڈبے شامل تھے، جنہیں اتر پردیش میں قائم کمپنی امامہ ایکسپورٹس نے برآمد کیا۔ اس پہل کے ذریعے مقامی کاشت کاروں اور کسان پیداواری تنظیم (ایف پی او) کو ایک برآمد کنندہ سے جوڑا گیا ہے، جس سے ہماچل پردیش کی باغبانی سے حاصل ہونے والی پیداوار کے لیے بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ انار براہ راست مقامی کسانوں اور بھونتر کسان پیداواری تنظیم سے حاصل کیے گئے، جس سے تقریباً 600 کسان وابستہ ہیں۔ ضلع کلوکی باغبانی انتظامیہ نے خریداری اور باہمی تال میل میں سہولت فراہم کرکے اس پہل میں تعاون کیا۔

‘سندوری’- ہماچل پردیش میں اگائی جانے والی انار کی اقسام میں سے ایک ہے، جہاں‘ بھگوا’ اور ‘کندھاری’ اقسام بھی کاشت کی جاتی ہیں۔ سرخ رنگ کے دلکش چھلکے، رسیلے دانوں اور میٹھے و ترش ذائقے کی وجہ سے پہچانے جانے والے سندوری انار تازہ کھانے کے لیے موزوں ہیں اور برآمداتی منڈیوں میں بھی ان کے لیے امکانات موجود ہیں۔

یہ پہل ظاہر کرتی ہے کہ براہ راست خریداری اور کسان پیداواری تنظیموں کے اجتماعی اشتراک سے کسانوں کے لیے منڈیوں کے ساتھ روابط کس طرح مضبوط کیے جا سکتے ہیں۔ اس برآمد کے نتیجے میں حصہ لینے والے کسانوں کو مقامی منڈی میں رائج قیمت کے مقابلے میں50 فیصد زیادہ قیمت حاصل ہوئی۔ برآمدات پر مبنی اس طرح کے روابط کاشت کاروں کو فروخت کے اضافی مواقع فراہم کر سکتے ہیں، معیاری پیداوار کی حوصلہ افزائی کر سکتے ہیں اور زرعی برآمدات میں کسان پیداواری تنظیموں کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو فروغ دے سکتے ہیں۔

مالی سال 2025-26 کے دوران  ہندوستان نے اے پی ای ڈی اے –‘اپیڈا’کے مقررہ دائرے میں آنے والی زرعی اور پراسیس شدہ غذائی مصنوعات کی تقریباً 2.59 ارب امریکی ڈالر مالیت کی مجموعی طور پر تقریباً38.1 لاکھ میٹرک ٹن پیداوار متحدہ عرب امارات کو برآمد کی۔ اس منڈی میں ہماچل پردیش کی باغبانی سے حاصل ہونے والی پیداوار کے لیے مواقع موجود ہیں، تاہم ان کا انحصار خریداروں کی طلب، معیار سے متعلق تقاضوں اور درآمد کے متعلق نافذ ضوابط پر ہوگا۔

اس کھیپ کو اے پی ای ڈی اے –‘اپیڈا’کے چیئرمین جناب ابھیشیک دیو نے باضابطہ طور پر روانہ کیا۔ اس تقریب میں اے پی ای ڈی اے-‘اپیڈا’ کے افسران، محکمۂ باغبانی کے نمائندوں، برآمد کنندگان، کسان پیداواری تنظیموں اور حصہ لینے والے کسانوں نے شرکت کی۔ پروگرام میں علاقائی باغبانی پیداوار کی برآمد کے مواقع پیدا کرنے کے لیے کسانوں، پیداواری تنظیموں، برآمد کنندگان اور سرکاری اداروں کے درمیان باہمی تال میل کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔

کلو کے اناروں کی دبئی برآمد سے ہماچل پردیش کی زرعی برآمدات میں اس کے روایتی سیب کے کاروبار سے آگے تنوع پیدا کرنے کی کوششوں کو تقویت ملی ہے۔ ریاست میں انار، املوک، گٹھلی دار پھلوں، جوس اور فوری استعمال کے لیے تیار مصنوعات سمیت دیگر اشیا کے لیے بھی بیرون ملک منڈیوں میں امکانات تلاش کیے جا سکتے ہیں۔ معیار کے انتظام، منڈیوں کے ساتھ روابط اور برآمداتی ضوابط کی پابندی پر مسلسل توجہ دینے سے مقامی کاشت کاروں کے لیے مواقع بڑھانے اور بین الاقوامی زرعی تجارت میں ریاست کی شرکت کو مضبوط بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اپنی برآمداتی سہولت کاری کی کوششوں کے ذریعے اے پی ای ڈی اے-‘اپیڈا’ بھارتی برآمد کنندگان، کسانوں اور کسان پیداواری تنظیموں کو بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے اور بھارت کی زرعی و پراسیس شدہ غذائی مصنوعات کی عالمی سطح پر رسائی بڑھانے میں مسلسل تعاون فراہم کر رہا ہے۔

 

*****

ش ح-ظ الف- ت ع

UR No. 7161


(ریلیز آئی ڈی: 2332137) وزیٹر کاؤنٹر : 8