پوسٹ کرنے کی تاریخ:
03 NOV 2026 1:08PM by PIB Delhi
وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے 3 نومبر 2026 کو راجستھان کے جیسلمیر میں ’بھارتی مسلح افواج کی جدید کاری‘ کے موضوع پر وزارتِ دفاع کی مشاورتی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں ابھرتے ہوئے سلامتی چیلنجز، جنگ کے بدلتے ہوئے طور طریقوں، تکنیکی پیش رفت اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ، جدید ٹیکنالوجی سے لیس اور عملی طور پر مستعد فوج کی تعمیر کی ناگزیر ضرورت پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں سامنے آنے والے اہم ترجیحی شعبے درج ذیل ہیں:
- صلاحیتوں کی ترقی اور افواج کی جدید کاری: جنگی صلاحیت اور عملی تیاری کو بہتر بنانے کے لیے اگلی نسل کے پلیٹ فارموں، ہتھیاروں کے نظاموں اور ٹیکنالوجیز کو تیزی سے مسلح افواج میں شامل کرنا۔
- مشترکہ عمل اور انضمام: تینوں افواج کے درمیان باہمی تال میل، مشترکہ آپریشنل منصوبہ بندی اور مختلف شعبوں میں صلاحیتوں کے مربوط استعمال کو مزید مضبوط بنانا۔
- دفاعی سازوسامان کی دیسی تیاری: دیسی تحقیق، ڈیزائن، ترقی اور تیاری کے ذریعے ’میک اِن انڈیا‘ اور ’آتم نربھر بھارت‘ کو مزید تقویت دینا، نیز ملکی صنعت، نئی کمپنیوں اور تعلیمی اداروں کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کو یقینی بنانا۔
- ابھرتی ہوئی اور خلل انگیز ٹیکنالوجیز: مستقبل کی جنگوں کی نوعیت سے نمٹنے کی تیاری کے لیے مصنوعی ذہانت، خودکار نظاموں، بغیر پائلٹ کے پلیٹ فارموں، سائبر، خلائی ٹیکنالوجی، الیکٹرانک جنگ اور جدید مواصلاتی نظاموں سے استفادہ کرنا۔
- دفاعی تحقیق اور اختراع: اختراعات کو عملی صلاحیتوں میں تیزی سے تبدیل کرنے کے لیے مسلح افواج، ڈی آر ڈی او، دفاعی شعبے کے سرکاری اداروں، نجی صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانا۔
- وسائل کا بہتر استعمال اور نفاذ: واضح ترجیحات، ادارہ جاتی طریقۂ کار اور قابلِ پیمائش سنگِ میل مقرر کرنا، تاکہ جدید کاری کے اقدامات کے نتیجے میں عملی طور پر ٹھوس کامیابیاں حاصل ہوں۔
مسلح افواج کے لیے موجودہ اور مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے کی تیاری برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے، وزیر دفاع نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں حکومت کی جانب سے تین اہم شعبوں، یعنی ’بجٹ، سرمایہ جاتی حصولی اور خود انحصاری‘، ’ٹیکنالوجی‘ اور ’انسانی وسائل‘ کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کا ذکر کیا، جن کا مقصد ٹیکنالوجی پر مبنی جدید جنگ کے بدلتے ہوئے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے فوج کو لیس کرنا ہے۔ انہوں نے جدید کاری کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بجٹ کی مسلسل فراہمی اور سرمایہ جاتی حصولی پر حکومت کی توجہ کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مناسب مالی وسائل کی دستیابی کے ساتھ ساتھ ان کا مؤثر استعمال اور مسلح افواج کی اہم ضروریات کو ترجیح دینا، فوجی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے نہایت ضروری ہے۔
_20261103130957_016ae5.jpeg)
جناب راج ناتھ سنگھ نے بتایا کہ مالی سال 2026-27 کے لیے دفاعی بجٹ بڑھا کر ریکارڈ 7.85 لاکھ کروڑ روپے کر دیا گیا ہے، جس میں جدید کاری اور سرمایہ جاتی حصولی کے لیے مختص 2.19 لاکھ کروڑ روپے بھی شامل ہیں۔ یہ بجٹ مسلح افواج کی آپریشنل ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ ملکی دفاعی صنعتوں اور پیداواری صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے حکومت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
دفاعی شعبے میں بڑھتی ہوئی خود انحصاری کا ذکر کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ دفاعی پیداوار مالی سال 2014-15 کے 46,429 کروڑ روپے سے بڑھ کر مالی سال 2025-26 میں ریکارڈ 1.78 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے، جبکہ دفاعی برآمدات، جو 2014 میں 2,000 کروڑ روپے سے بھی کم تھیں، بڑھ کر تقریباً 40,000 کروڑ روپے ہو گئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا، ’’ہمارا ہدف 2029 تک 3 لاکھ کروڑ روپے کی دفاعی پیداوار اور 50,000 کروڑ روپے کی دفاعی برآمدات حاصل کرنا ہے۔‘‘
_20261103131006_4066da.jpeg)
جناب راج ناتھ سنگھ نے جدید جنگ میں ٹیکنالوجی کے انقلابی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ تکنیکی پیش رفت تنازعات کی بدلتی ہوئی نوعیت کا ایک لازمی حصہ ہے۔ انہوں نے جدید ہتھیاروں، میزائلوں اور نظاموں کی تیاری کے لیے ڈی آر ڈی او کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کا ذکر کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نجی شعبے کو یکساں مواقع فراہم کر رہی ہے، جس سے دفاعی شعبے میں خرد، چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں سے لے کر بڑی کمپنیوں تک کے اداروں کی زیادہ سے زیادہ شمولیت ممکن ہو رہی ہے۔ اسے ’پوری قوم کی مشترکہ کوشش‘ قرار دیتے ہوئے انہوں نے ملک کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں نجی صنعت کے بڑھتے ہوئے تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔
انسانی وسائل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ کسی فوج کی طاقت کا تعین محض ٹیکنالوجی اور مالی وسائل سے نہیں ہوتا، بلکہ اس کا انحصار اہلکاروں کی صلاحیتوں اور تیاری پر بھی ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’جنگ کی تیزی سے بدلتی ہوئی نوعیت اس بات کی متقاضی ہے کہ ہماری مسلح افواج جدید جنگ کے بدلتے ہوئے تقاضوں سے ہم آہنگ رہیں۔ اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے تینوں افواج نے اپنے ڈھانچوں اور تشکیلات میں مسلسل بہتری لائی ہے۔ بھارتی فوج کی نئی تشکیل کردہ یونٹیں، جن میں ’آسانی‘، ’بھیرَو‘ اور ’شکتی بان‘ پلاٹون شامل ہیں، موجودہ آپریشنل ضروریات کو پورا کرنے اور میدانِ جنگ کی بدلتی ہوئی صورتِ حال سے ہم آہنگ ہونے میں انتہائی مؤثر ثابت ہو رہی ہیں۔‘‘
_20261103131018_bcaa28.jpeg)
جناب راج ناتھ سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ جدید کاری کا مطلب صرف نئے ہتھیاروں اور سازوسامان کی خریداری نہیں ہے، بلکہ اس میں مسلح افواج کی آپریشنل تیاری کو بہتر بنانا، انہیں جدید ٹیکنالوجیز سے لیس کرنا اور طویل مدت کے لیے دیسی صلاحیتوں کو فروغ دینا بھی شامل ہے۔ قومی سلامتی کے تناظر میں ’آتم نربھر بھارت‘ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ توجہ ایک مضبوط ملکی دفاعی نظام کی تعمیر پر مرکوز ہے، جو تکنیکی ترقی کو فوجی ضروریات سے ہم آہنگ کرے، بھارتی صنعت کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کی حوصلہ افزائی کرے اور بیرونی ذرائع پر ملک کے تزویراتی انحصار کو کم کرے۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے تزویراتی خودمختاری اور دیسی تکنیکی صلاحیتیں ناگزیر ہیں۔
_20261103131027_ebe239.jpeg)
وزیر دفاع نے اس بات پر زور دیا کہ جدید کاری ایک مسلسل عمل ہے، جس کے لیے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجیز، سلامتی کے نئے چیلنجوں اور تبدیل ہوتے تقاضوں کے پیش نظر آپریشنل تیاری کو بہتر بنانے کے لیے مستقل کوششیں ضروری ہیں۔ انہوں نے طویل مدتی صلاحیتیں فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ مسلح افواج میدان عمل میں موثر ہونے کے ساتھ خود کفیل بھی بن سکیں۔ انہوں نے ملک کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے تحقیق و ترقی، دیسی ٹیکنالوجیز، صنعتی شعبے کی وسیع تر شمولیت اور اختراع کے فروغ پر مسلسل توجہ دینے کی اپیل کی۔
_20261103131039_057222.jpeg)
اجلاس میں راجیہ سبھا اور لوک سبھا، دونوں ایوانوں کے اراکینِ پارلیمنٹ نے نہایت اہم تجاویز پیش کیں۔ ان کے متنوع نقطۂ نظر اور بصیرت افروز خیالات نے مشاورتی عمل کو مزید بامعنی بنایا اور اس میں اہم قانون ساز، تزویراتی اور قومی پہلوؤں کو شامل کیا۔ تبادلۂ خیال کے نتیجے میں عملی اقدامات کے لیے ایک واضح لائحۂ عمل سامنے آیا، جس میں اہم صلاحیتوں کو ترجیح دینے، متعلقہ فریقوں کے درمیان تال میل مضبوط بنانے، حصولی اور ترقی کے عمل کو آسان بنانے اور متعین مقاصد کے حصول میں پیش رفت کا وقتاً فوقتاً جائزہ لینے پر زور دیا گیا۔
ارادوں کو عملی جامہ پہنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے، اجلاس میں جدید کاری کے لیے ایک منظم اور مرحلہ وار طریقۂ کار کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ اس کا مقصد ایسی فوج تیار کرنا ہے جو روایتی، ذیلی روایتی اور کثیر شعبہ جاتی سلامتی کے چیلنجوں کا مؤثر طور پر مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
اجلاس میں وزیر مملکت برائے دفاع جناب سنجے سیٹھ، سکریٹری دفاع جناب راجیش کمار سنگھ، سکریٹری (دفاعی پیداوار) جناب سنجیو کمار، سکریٹری (سابق فوجیوں کی بہبود) محترمہ سکرتی لیکھی، سکریٹری (دفاعی مالیات) جناب وشواجیت سہائے اور دیگر سینئر سول و فوجی افسران نے شرکت کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ش ح ۔رک)
U. No.7141