کامرس اور صنعت کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

تجارت و صنعت کے مرکزی وزیر پیوش گوئل نے بھارت کے بائیو فارما اسٹارٹ اَپ ایکو سسٹم کو مضبوط بنانے اور بائیو اکانومی کی ترقی کو تیز کرنے کے موضوع پرایک گول میز کانفرنس کی صدارت کی

گول میز کانفرنس میں بائیو فارما اسٹارٹ اَپس کے فروغ کے لیے ضابطہ جاتی اصلاحات اور مشترکہ بنیادی سہولیات کی فراہمی پر زور

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 03 NOV 2026 11:06AM by PIB Delhi

مرکزی وزیرِ تجارت و صنعت جناب پیوش گوئل نے نئی دہلی کے وانجیہ بھون میں ‘‘بھارت میں بایو اکانومی کے مواقع: جدت اور ترقی کے فروغ میں اسٹارٹ اَپس کا کردار’’ کے موضوع پر ایک اعلیٰ سطحی گول میز کانفرنس کی صدارت کی۔

صنعت و داخلی تجارت کے فروغ کے محکمہ (ڈی پی آئی آئی ٹی) نے نیتی آیوگ اور نیتی فرنٹیئر ٹیک ہب کے اشتراک سے اس کانفرنس کا انعقاد کیا۔ اس میں پالیسی سازوں، صنعتی شعبے کے سرکردہ نمائندوں اور بائیو فارما کے شعبے سے وابستہ اسٹارٹ اَپس نے شرکت کی۔ کانفرنس میں بھارت کی بایو اکانومی کی ترقی کو تیز کرنے کے لیے مختلف اقدامات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

اپنے خطاب میں جناب پیوش گوئل نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کی سائنسی صلاحیتوں اور کاروباری استعداد سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک کو بایو اکانومی کے شعبے میں عالمی رہنما کے طور پر ابھارا جائے۔انہوں نے منظوریوں کے عمل کو تیز کرنے، مالی وسائل تک بہتر رسائی فراہم کرنے، مشترکہ بنیادی سہولیات کو فروغ دینے اور صنعت، تعلیمی و تحقیقی اداروں اور حکومت کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں نے گول میز کانفرنس میں سامنے آنے والی سفارشات پر مقررہ مدت کے اندر عملی اقدامات کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

کانفرنس کے دوران ہونے والی بات چیت میں ضابطہ جاتی طریقۂ کار کو آسان بنانے، منظوریوں کے عمل کو تیز کرنے، مجوزہ ریگولیٹری سینڈ باکس، سنگل ونڈو کلیئرنس، عالمی ضابطہ جاتی معیارات سے ہم آہنگی اور پیٹنٹ کی درخواستوں کے طریقۂ کار کو سادہ بنانے کے ذریعے بائیو فارما اسٹارٹ اَپ کے نظام کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔

 

مرکزی بجٹ 2026-27 میں اعلان کردہ بائیو فارما شکتی کی اہمیت پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ مشترکہ بنیادی سہولیات، بشمول تجربہ گاہوں، جانچ کے مراکز اور کلینیکل ٹرائلز کی سہولیات کے قیام کی ضرورت پر زور دیا گیا، تاکہ اخراجات میں کمی لائی جا سکے اور اسٹارٹ اَپس اپنی اختراعات کو بڑے پیمانے پر عملی شکل دے سکیں۔

نیتی آیوگ کی ممتاز فیلو محترمہ دیبجانی گھوش نے عالمی سطح پر مسابقت کی صلاحیت رکھنے والی بائیو اکانومی کی تشکیل کے لیے اسٹارٹ اَپس، صنعتی شعبے، تعلیمی و تحقیقی اداروں اور حکومت کے درمیان باہمی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ نیتی آیوگ کے رکن پروفیسر گوبردھن داس نے تحقیقی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور سائنسی دریافت کو تجارتی طور پر قابلِ عمل مصنوعات میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

گول میز کانفرنس میں ملک کے اندر لائف سائنسز کی تیاری کے شعبے کو مضبوط بنانے، تجربہ گاہوں کے آلات اور سائنسی تحقیق میں استعمال ہونے والے کیمیائی مادّوں (ری ایجنٹس) کی کسٹمز سے کلیئرنس کے عمل کو تیز کرنے، نیز سرکاری اسکیموں اور ضابطہ جاتی معاونت تک رسائی کو آسان بنانے کے اقدامات پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ مربوط پالیسی اقدامات کو مؤثر بنانے اور شعبے سے متعلق مخصوص مسائل کے فوری حل کو یقینی بنانے کے لیے مختلف وزارتوں کے درمیان باہمی رابطہ اور ہم آہنگی کو مزید مستحکم کرنا ضروری ہے۔

 

 

                                                         *****

 

 

 

ش ح۔ م م ع۔ ف ر

U:7136                                                                                                         


(ریلیز آئی ڈی: 2331930) وزیٹر کاؤنٹر : 16