پوسٹ کرنے کی تاریخ:
02 NOV 2026 8:35PM by PIB Delhi
وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی نے آج نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں بھارت قابلِ تجدید توانائی سمٹ اور ایکسپو 2026 کا اِفتتاح کیا۔ بھارت اور بیرونِ ملک سے صنعت کے رہ نماؤں، سرمایہ کاروں، اسٹارٹ اپ نمائندوں اور سینئر اہلکاران کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے، وزیرِ اعظم نے زور دے کر کہا کہ اس سال کی سمٹ خصوصی حالات کے درمیان منعقد ہو رہی ہے جس پر عالمی توانائی کے جھٹکے حاوی ہیں جنھوں نے روزمرہ کی زندگی اور قومی ترقی میں قابلِ تجدید توانائی کی اہم اہمیت کو نمایاں کیا ہے۔ انھوں نے نشان دہی کی کہ اس سال کے ایونٹ کا دائرہ غیر معمولی طور پر وسیع ہے کیوں کہ یہ بین الاقوامی شمسی اتحاد کی نویں اسمبلی کے ساتھ ہم آہنگ ہے اور اس میں گرین ہائیڈروجن پر چوتھی کانفرنس کے مندوبین بھی شامل ہیں۔
یہ بیان کرتے ہوئے کہ حالیہ عالمی رکاوٹوں نے توانائی کی سلامتی اور اقتصادی سلامتی کے درمیان براہ راست تعلق کو ظاہر کیا ہے، وزیرِ اعظم نے خبردار کیا کہ فوسل ایندھن پر مسلسل زیادہ انحصار عالمی معیشت کو بار بار متاثر کرے گا کیوں کہ فوسل ذخائر محدود ہیں اور چند خطوں میں مرکوز ہیں۔ انھوں نے اس کم زوری کا موازنہ صاف توانائی کی بے پناہ، عالمی سطح پر قابلِ رسائی صلاحیت سے کیا۔ جناب مودی نے زور دے کر کہا، ”اور ہم سب جانتے ہیں، توانائی کی سلامتی کا مستقبل صاف توانائی میں ہے۔“
یہ بیان کرتے ہوئے کہ شمسی انقلاب کا نیا دور اپنانے کے ساتھ ساتھ جدت طرازی پر بھی انحصار کرتا ہے، وزیرِ اعظم نے اسٹارٹ اپس، آئی آئی ٹیز، جدت طرازوں اور کاروباریوں پر زور دیا کہ وہ چوبیس گھنٹے، ہر موسم میں کام کرنے والے شمسی ماڈل ڈیزائن کریں جو گھر کی زیادہ سے زیادہ ضروریات کو پورا کرنے کے قابل ہوں، بشمول درآمد شدہ گیس پر انحصار کم کرنے کے لیے چھت پر شمسی کھانا پکانا اور الیکٹرک دو پہیوں اور کاروں کے لیے گھر پر شمسی چارجنگ۔ جناب مودی نے زور دے کر کہا، ”اس کے ذریعے، ملک کے متوسط طبقے کے اہلِ خانہ ہر سال ہزاروں روپے بچا سکتے ہیں۔“
نئے اور قابلِ تجدید توانائی، تعلیم اور صارفین کے امور، خوراک اور عوامی تقسیم کے مرکزی وزیر، جناب پرہلاد جوشی نے اس مجمع سے خطاب کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں بھارت کی شاندار پیشرفت اور ملک کے توانائی کے منظر نامے کو تشکیل دینے میں وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت کے تبدیلی آفرین کردار کو اجاگر کیا۔
ابتدا میں، وزیر موصوف نے وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی بصیرت افروز قیادت کے لیے اپنی ستائش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے بھارت کے توانائی کے شعبے کو ایک نئی توانائی، سمت اور اعتماد دیا ہے۔
انھوں نے مزید اجاگر کیا کہ وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی نے 5,000 کروڑ روپے سے زیادہ کے اخراجات کے ساتھ پردھان منتری سوریا سروور یوجنا کو منظور کیا، جس کے تحت 5,000 میگاواٹ کی تیرتی شمسی صلاحیت تیار کی جائے گی۔ انھوں نے یہ بھی زور دے کر کہا کہ وزیرِ اعظم نے حال ہی میں 1.86 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے ساتھ گرین توانائی کوریڈور فیز-III کو منظور کیا ہے۔
وزیر موصوف نے بیان کیا کہ گجرات میں آزمائے گئے اور ثابت شدہ خیالات کو قومی سطح پر بڑھایا گیا جب جناب نریندر مودی وزیرِ اعظم بنے، جس نے بھارت کے قابلِ تجدید توانائی کے سفر کو ایک نئی سمت اور رفتار دی۔
بھارت کی اقتصادی ترقی اور بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات کو اجاگر کرتے ہوئے، جناب جوشی نے کہا کہ بھارت آج دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرتی ہوئی بڑی معیشتوں میں سے ایک ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے 2026-27 کے لیے بھارت کی ترقی کی پیش گوئی کو 7 فیصد تک نظر ثانی کی ہے۔ انھوں نے زور دیا کہ اس اقتصادی ترقی کے ساتھ توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب بھی ہے، جو ملک کی ضروریات کو پائیدار طریقے سے پورا کرنے کے لیے قابلِ تجدید توانائی کو ضروری بناتی ہے۔
جناب پرہلاد جوشی نے بیان کیا کہ ستمبر 2024 میں بھارت کی غیر فوسل ایندھن پر مبنی نصب شدہ صلاحیت 200 گیگاواٹ سے تجاوز کر گئی تھی۔ انھوں نے اجاگر کیا کہ اس کے بعد سے یہ صلاحیت 310 گیگاواٹ تک پہنچ گئی ہے، جو دو برسوں میں 110 گیگاواٹ سے زیادہ کا اضافہ ہے۔ انھوں نے مزید بیان کیا کہ وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی رہ نمائی میں، پی ایم سوریا گھر نے 65 لاکھ سے زیادہ تنصیبات کو عبور کر لیا ہے، جس میں ہر چھ دن میں ایک لاکھ سے زیادہ تنصیبات ہو رہی ہیں۔
قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کو اجاگر کرتے ہوئے، جناب جوشی نے کہا کہ گذشتہ دو برسوں میں کل سرمایہ کاری 67 بلین امریکی ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے، جو کسی بھی شعبے میں سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے۔ انھوں نے یہ بھی زور دے کر کہا کہ اس شعبے نے گذشتہ دو برسوں میں 6.2 بلین امریکی ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کو راغب کیا ہے۔ انھوں نے بیان کیا کہ یہ اس شعبے میں سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کا غماز ہے۔
گذشتہ 12 برسوں میں قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں بھارت کی پیشرفت کو نمایاں کرتے ہوئے، وزیر موصوف نے بیان کیا کہ ملک کی غیر فوسل ایندھن پر مبنی نصب شدہ صلاحیت 80.3 گیگاواٹ سے بڑھ کر 310 گیگاواٹ سے زیادہ ہو گئی ہے، جس میں 280 فیصد کی ترقی درج کی گئی ہے۔ شمسی صلاحیت 2.8 گیگاواٹ سے بڑھ کر 171 گیگاواٹ ہو گئی ہے، جو 5,800 فیصد کا اضافہ ہے، جب کہ ہوا کی صلاحیت 21 گیگاواٹ سے بڑھ کر 60 گیگاواٹ ہو گئی ہے، جس میں 176 فیصد کی ترقی درج کی گئی ہے۔
انھوں نے مزید اجاگر کیا کہ بھارت کی شمسی ماڈیول مینوفیکچرنگ کی صلاحیت 2 گیگاواٹ سے بڑھ کر 225 گیگاواٹ ہو گئی ہے، جس میں 11,150 فیصد کی ترقی درج کی گئی ہے، جب کہ شمسی سیل مینوفیکچرنگ کی صلاحیت صفر سے بڑھ کر 45 گیگاواٹ ہو گئی ہے۔ ونڈ ٹربائن مینوفیکچرنگ کی صلاحیت بھی 10 گیگاواٹ سے بڑھ کر 24 گیگاواٹ ہو گئی ہے۔
قابلِ تجدید توانائی کی لاگت میں کمی کو اجاگر کرتے ہوئے، جناب جوشی نے بیان کیا کہ شمسی ٹیرف 2011-12 میں 10-11 روپے فی یونٹ سے کم ہو کر 2024-25 میں 2.15 روپے فی یونٹ ہو گئے ہیں۔ انھوں نے مزید زور دے کر کہا کہ گرین ہائیڈروجن 279 روپے فی کلوگرام پر دستیاب ہے، جو عالمی سطح پر سب سے کم قیمت ہے، جب کہ گرین امونیا 49.75 روپے فی کلوگرام تک پہنچ گیا ہے، جو عالمی سطح پر بھی سب سے کم قیمت ہے۔ عالمی گرین ہائیڈروجن کے شعبے میں بھارت کی قیادت کو اجاگر کرتے ہوئے، جناب جوشی نے بیان کیا کہ گرین ہائیڈروجن آفٹیک وعدوں میں بھارت دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔
بھارت کی کام یابیوں کے پیمانے اور رفتار پر زور دیتے ہوئے، وزیر موصوف نے کہا، ”یہ پیمانہ ہے۔ یہ رفتار ہے۔ یہ آتمِ نربھرتا ہے۔ اور یہ وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی توانائی ہے۔“
جناب جوشی نے بیان کیا کہ بی آر ای سمٹ اور ایکسپو 2026 اس سرمایہ کاری کے ایکو سسٹم کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔ انھوں نے دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کو بھارت کے قابلِ تجدید توانائی کے سفر میں حصہ لینے کی دعوت دیتے ہوئے کہا، ”بھارت میں سرمایہ کاری کریں۔ بھارت میں جدت طرازی کریں۔ بھارت کے ساتھ ترقی کریں۔“




***
(ش ح - ع ا)
U.No. 7124