پوسٹ کرنے کی تاریخ:
29 OCT 2026 2:04PM by PIB Delhi
ہندوستان میں تیزی سے جاری ڈیجیٹل تبدیلی کے نتیجے میں محفوظ، توسیع پذیر اور قابل اعتماد کلاؤڈ بنیادی ڈھانچے کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ کلاؤڈ کمپیوٹنگ ڈیجیٹل حکمرانی اور عوامی خدمات کی فراہمی کے لیے ایک اہم بنیاد بنتی جا رہی ہے۔ ہندوستان میگھ راج جیسے اقدامات اور مقامی ڈیٹا سینٹرز کی صلاحیت میں توسیع کے ذریعے اپنی کلاؤڈ صلاحیتوں کو فروغ دے رہا ہے۔ پالیسی اقدامات، ادارہ جاتی طریقۂ کار اور سرکاری و نجی شعبوں کے درمیان اشتراک بھی ہندوستان کے مختلف شعبوں میں کلاؤڈ ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دے رہے ہیں۔
ڈیٹا پر خود مختاری کے لیے کلاؤڈ کی بنیاد رکھنا
ہندوستان میں ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل کے نتیجے میں حکمرانی، تجارت، مواصلات اور عوامی خدمات کے شعبوں میں بے مثال مقدار میں ڈیٹا پیدا ہو رہا ہے۔ مارچ 2026 میں ملک میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد 1,092.79 ملین تک پہنچ گئی۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث ڈیٹا کی کھپت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، اور وائرلیس انٹرنیٹ کے فی صارف اوسط ماہانہ استعمال کی مقدار 25.51 جی بی تک پہنچ گئی ہے۔ مالی سال 2025-26 میں وائرلیس ڈیٹا کا مجموعی استعمال بڑھ کر 285,376 پیٹا بائٹس ہو گیا۔ ڈیجیٹل ادائیگیوں سے لین دین کا ریکارڈ تیار ہوتا ہے، آن لائن عوامی خدمات کے ذریعے ڈیجیٹل ریکارڈ بنتے ہیں، جبکہ مصنوعی ذہانت کی ایپلی کیشنز بڑی مقدار میں معلومات پیدا کرنے اور ان پر کارروائی کرنے کا کام کرتی ہیں۔ ڈیٹا کی اس بڑھتی ہوئی مقدار کو مؤثر طریقے سے محفوظ کرنے، اس پر کارروائی کرنے اور اس کا انتظام کرنے کے لیے محفوظ، توسیع پذیر اور مستحکم بنیادی ڈھانچے کی ضرورت ہے۔
ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے صرف ذخیرہ کرنے کی جگہ کافی نہیں ہے۔ اداروں کو معلومات پر کارروائی کرنے، ایپلی کیشنز چلانے اور ڈیجیٹل خدمات کی مؤثر اور مسلسل انداز میں فراہمی کے لیے کمپیوٹنگ کی صلاحیت بھی درکار ہوتی ہے۔ اپنے طور پر طبعی سرورز اور دیگر آلات کو برقرار رکھنا مہنگا بھی ہو سکتا ہے اور ان کی صلاحیت میں توسیع کرنا بھی مشکل ہو سکتا ہے۔ کلاؤڈ کمپیوٹنگ ضرورت کے مطابق انٹرنیٹ کے ذریعے کمپیوٹنگ کے وسائل فراہم کرکے اس مسئلے کا حل پیش کرتی ہے۔ تاہم، کلاؤڈ خدمات پر انحصار بڑھنے کے ساتھ حساس معلومات کا تحفظ اور ان کے ذخیرے و پروسیسنگ پر اپنا اختیار برقرار رکھنا بھی زیادہ اہم ہوتا جا رہا ہے۔ ملک میں ہی کلاؤڈ نظام تیار کرنے سے اہم ڈیجیٹل وسائل پر ملکی سطح پر مضبوط ہوگا اور ڈیٹا کی خود مختاری کو فروغ ملے گا۔
کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے ذریعے صارفین انٹرنیٹ پر ڈیٹا محفوظ کرنے، سرورز، سافٹ ویئر اور معلومات پر کارروائی کرنے کی صلاحیت سمیت کمپیوٹنگ کے مختلف وسائل تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ اپنے سرورز خریدنے اور ان کی دیکھ بھال کرنے کے بجائے ادارے اپنی ضرورت کے مطابق ان وسائل سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، گوگل ڈرائیو صارفین کو دستاویزات آن لائن محفوظ کرنے اور مختلف آلات پر ان تک رسائی حاصل کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح، کوئی سرکاری محکمہ تمام ضروری آلات کا خود انتظام کرنے کے بجائے اپنی ایپلی کیشنز اور ڈیٹا بیس کو کلاؤڈ پلیٹ فارم پر رکھ سکتا ہے۔ مناسب حفاظتی انتظامات اور نگرانی کے مؤثر نظام کے ساتھ، ملک میں تیار کردہ کلاؤڈانفراسٹرکچرحساس معلومات پر اختیار کو مضبوط بنا سکتا ہے۔ اس سے عوامی خدمات کی بلا تعطل فراہمی، مصنوعی ذہانت کی ترقی اور ہندوستان کی تکنیکی خود کفالت کو بھی فروغ مل سکتا ہے۔
ہندوستان میں کلاؤڈ خدمات فراہم کرنے والے اداروں کا نظام
ستمبر 2026 تک، ہندوستان میں کلاؤڈ خدمات فراہم کرنے والے 30 اداروں کو منظور شدہ فہرست میں شامل کیا جا چکا ہے۔ ان اداروں کا بنیادی ڈھانچہ ممبئی، نوی ممبئی، چنئی، حیدرآباد، بنگلورو، دہلی اور قومی راجدھانی خطے سمیت متعدد مقامات پر پھیلا ہوا ہے، تاہم یہ مقامات صرف انہی تک محدود نہیں ہیں۔ منظور شدہ اداروں میں جیو پلیٹ فارمز لمیٹڈ، ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز لمیٹڈ، بھارت سنچار نگم لمیٹڈ (بی ایس این ایل)، آئی ٹی آئی لمیٹڈ، ریل ٹیل کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ، اڈانی کونیکس پرائیویٹ لمیٹڈ اور یوٹا ڈیٹا سروسز پرائیویٹ لمیٹڈ جیسی ہندوستانی کمپنیاں شامل ہیں۔ بین الاقوامی اداروں میں گوگل کلاؤڈ انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ، اوریکل انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ، مائیکروسافٹ کارپوریشن انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ اور ایمیزون ویب سروسز انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ سمیت دیگر کمپنیاں بھی شامل ہیں۔
کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے اہم فوائد

کلاؤڈ کمپیوٹنگ ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے تک رسائی کو آسان بنا کر، اسے زیادہ لچک دار اور مؤثر بناتی ہے اور اس طرح کئی فوائد فراہم کرتی ہے۔ یہ طبعی سرورز خریدنے اور ان کی دیکھ بھال کی ضرورت کم کرکے اخراجات میں کمی لاتی ہے۔
سرور روم ایک مخصوص جگہ ہوتی ہے جہاں ڈیٹا محفوظ کرنے اور ڈیجیٹل خدمات چلانے والے کمپیوٹر رکھے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر، کوئی اسکول اپنا کمپیوٹنگ بنیادی ڈھانچہ قائم کرنے پر سرمایہ خرچ کرنے کے بجائے طلبہ کا ریکارڈ کلاؤڈ پلیٹ فارم پر محفوظ کر سکتا ہے۔
کلاؤڈ کمپیوٹنگ اداروں کو بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے کے طویل عمل سے گزرے بغیر خدمات شروع کرنے کی سہولت دے کر ڈیجیٹل خدمات اور ایپلی کیشنز کو تیزی سے شروع کرنے میں مدد دیتی ہے۔ مثال کے طور پر، کوئی اسپتال اپنے سرورز قائم کیے بغیر آن لائن وقت لینے کا نظام شروع کر سکتا ہے۔
کلاؤڈ پلیٹ فارم ضرورت کے مطابق وسائل میں آسانی سے اضافہ یا کمی کرنے کی سہولت بھی فراہم کرتے ہیں، جس سے ادارے اپنی ضرورت کے مطابق کمپیوٹنگ وسائل کو کم یا زیادہ کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، آن لائن امتحانات کا کوئی پورٹل رجسٹریشن کے دوران اپنے وسائل بڑھا سکتا ہے اور اس کے بعد انہیں کم کر سکتا ہے۔
کلاؤڈ کمپیوٹنگ مختلف مقامات پر موجود صارفین کو معلومات تک رسائی حاصل کرنے اور انہیں ایک دوسرے کے ساتھ بانٹنے کی سہولت دے کر باہمی تعاون کو بہتر بناتی ہے۔ مثال کے طور پر، یونیورسٹی کے طلبہ تحقیقی پروجیکٹوں پر مل کر کام کر سکتے ہیں، مطالعے کا مواد ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرسکتے ہیں اور آن لائن دستاویزات میں ترمیم کر سکتے ہیں۔

کلاؤڈ پلیٹ فارم ڈیٹا کا بیک اَپ لینے اور اسے بحال کرنے کے عمل کو مضبوط بناتے ہیں، جس سے صارفین غلطی سے معلومات حذف ہونے، آلات میں خرابی پیدا ہونے یا دیگر رکاوٹوں کی صورت میں اپنا ڈیٹا دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، کسی اسپتال میں نظام کی خرابی کے بعد مریضوں کا محفوظ شدہ ریکارڈ دوبارہ بحال کیا جا سکتا ہے۔
یہ سہولیات غیر متوقع رکاوٹ کے بعد اداروں کو اپنا کام تیزی سے دوبارہ شروع کرنے میں مدد دے کر خدمات کا تسلسل برقرار رکھنے میں بھی معاون ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر، بنیادی نظام میں تکنیکی خرابی پیدا ہونے پر آن لائن بینکاری کی کوئی خدمت متبادل نظام پر منتقل ہو سکتی ہے۔
کلاؤڈ کمپیوٹنگ ڈیجیٹل ریکارڈ کو محفوظ کرنے، منظم کرنے اور ضرورت کے وقت تلاش کرکے حاصل کرنے کے عمل کو آسان بنا کر ڈیٹا کے مؤثر انتظام میں بھی مدد دیتی ہے۔ مثال کے طور پر، کوئی برقی تجارت کا ادارہ مصنوعات کی معلومات، صارفین کے آرڈرز اور ذخیرۂ سامان کے ریکارڈ کو ایک ہی کلاؤڈ نظام کے ذریعے منظم کر سکتا ہے۔
ڈیجیٹل انڈیا بھاشنی پلیٹ فارم کی کلاؤڈ پر منتقلی
ڈیجیٹل انڈیا بھاشنی پلیٹ فارم اس بات کی مثال پیش کرتا ہے کہ ملک میں تیار کردہ کلاؤڈ بنیادی ڈھانچہ ڈیٹا پر ملکی خود مختاری کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل خدمات کو بہتر بنانے میں کس طرح معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ فروری 2026 میں، الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت نے بھاشنی کو یوٹا ڈیٹا سروسز کے زیرانتظام ہندوستانی کلاؤڈ پر منتقل کیے جانے کی اطلاع دی۔ اس منتقلی کے نتیجے میں اس کے لسانی ڈیٹا سیٹ، مصنوعی ذہانت کے ماڈل اور شہریوں کے ساتھ ہونے والے تبادلے ہندوستان کے دائرۂ اختیار میں رہتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، اس نظام کے نفاذ سے کارکردگی میں 40 فیصد تک بہتری، اخراجات میں 20 سے 30 فیصد تک بچت اور 99.99 فیصد وقت تک بلا تعطل دستیابی حاصل ہوئی۔
2025 کے مہا کمبھ کے دوران، بھاشنی نے ہندوستان کی 11 سے زیادہ زبانوں میں فوری ترجمے اور آواز کے ذریعے مدد فراہم کی۔ اس کی کثیر لسانی خدمات نے زبان کی رکاوٹوں کے باوجود عقیدت مندوں کو معلومات تک رسائی حاصل کرنے میں مدد دی۔
تخلیقی ذہن، سائنس کو مہمیز، ٹیکنالوجی کو بااختیار بنانا

ہندوستان کے ابھرتے ہوئے سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع کے اجلاس ایسٹک (ای ایس ٹی آئی سی)2026کا دوسرا ایڈیشن 27 سے 29 اکتوبر 2026 تک نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں منعقد ہو رہا ہے۔ اس اجلاس کا موضوع تخلیقی ذہن، سائنس کو مہمیز، ٹیکنالوجی کو بااختیار بنانا ہے۔ سائنسی و صنعتی تحقیق کی کونسل (سی ایس آئی آر) کے زیراہتمام، ایسٹک-2026 ابھرتے ہوئے سائنسی اور تکنیکی میدانوں، بشمول کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز، کو آگے بڑھانے کے لیے کوشاں ہے۔ یہ اجلاس اسٹریٹجک اشتراک کو فروغ دیتا ہے اور 2047 تک وکست بھارت کے ہندوستان کے وژن کو عملی جامہ پہنانے میں معاون ہے۔ بارہ موضوعاتی شعبوں پر مشتمل اس اجلاس میں عمومی نشستیں، تکنیکی مباحث اور نمائشیں شامل ہیں۔ایجنڈے کی مزید تفصیلات پڑھنے کے لیے کلک کریں: ایسٹک 2026
کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے بنیادی اصولوں کو سمجھنا
کلاؤڈ ماڈلز کی اقسام

کلاؤڈ ماڈلز اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ کلاؤڈ کا بنیادی ڈھانچہ کہاں کام کرتا ہے، اسے کون استعمال کر سکتا ہے اور کسی ادارے کا اس پر کتنا اختیار برقرار رہتا ہے۔ عام طور پر کلاؤڈ کے تین ماڈلز زیرِ بحث آتے ہیں: عوامی کلاؤڈ، نجی کلاؤڈ اور مخلوط کلاؤڈ۔
عوامی کلاؤڈ میں کسی تیسرے فریق کی فراہم کردہ سہولت استعمال کی جاتی ہے، جس کا بنیادی ڈھانچہ متعدد صارفین کے درمیان مشترک ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، کوئی کاروباری ادارہ یا ویڈیو نشر کرنے والی کمپنی مشترکہ سرورز کے ذریعے لاکھوں ناظرین کو خدمات فراہم کرتی ہے۔
نجی کلاؤڈ میں بنیادی ڈھانچہ صرف ایک ادارے کے لیے مختص ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، کسی ریاست کا محکمۂ خزانہ ادائیگیوں اور حسابات سے متعلق حساس انتظامی ریکارڈ کی حفاظت پر زیادہ اختیار برقرار رکھنے کے لیے اسے نجی کلاؤڈ میں محفوظ رکھتا ہے۔
ہائبرڈ کلاؤڈ میں عوامی اور نجی کلاؤڈ دونوں کے ماحول کو یکجا کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، کوئی میونسپل کارپوریشن پراپرٹی ٹیکس کی ادائیگی کا پورٹل عوامی کلاؤڈ پر چلاتی ہے، جبکہ شہریوں کا ریکارڈ نجی کلاؤڈ میں محفوظ رکھتی ہے۔ کلاؤڈ ماڈل کا انتخاب کسی ادارے کی سلامتی، اخراجات اور عملی ضروریات کے مطابق کیا جاتا ہے۔
کلاؤڈ کی مختلف خدمات
کلاؤڈ خدمات کمپیوٹنگ کی مختلف سطحوں پر سہولیات فراہم کرتی ہیں، جن میں ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کو کرائے پر لینے سے لے کر پہلے سے تیار ایپلی کیشنز استعمال کرنے تک کی سہولیات شامل ہیں۔ کلاؤڈ خدمات کی چار عام اقسام ہیں: بطور خدمت بنیادی ڈھانچہ (آئی اے اے ایس)، بطور خدمت پلیٹ فارم (پی اے اے ایس)، بطور خدمت سافٹ ویئر (ایس اے اے ایس) اور سرور لیس کمپیوٹنگ۔ ان اقسام کو بعض اوقات کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی ‘‘اسٹیک ’’ بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ ہر قسم کی بنیاد اس سے نچلی سطح کی خدمات پر ہوتی ہے۔
انفراسٹرکچر ایز اے سروس (آئی اے اے ایس) صارفین کو طبعی آلات خریدنے کے بجائے ورچوئل سرورز، ڈیٹا ذخیرہ کرنے کی سہولت اور نیٹ ورکس جیسے کمپیوٹنگ وسائل کرائے پر لینے کی اجازت دیتا ہے۔ مثال کے طور پر، کوئی آن لائن فروخت کنندہ اپنی ویب سائٹ چلانے کے لیے کلاؤڈ سرورز کرائے پر لے سکتا ہے اور تہواروں کی فروخت کے دوران ویب سائٹ پر صارفین کی بڑھتی ہوئی آمد کے مطابق کمپیوٹنگ کی صلاحیت میں اضافہ کر سکتا ہے۔
پلیٹ فارم ایز اے سروس (پی اے اے ایس) ڈیولپرز کو ایسے آلات اور سہولیات فراہم کرتا ہے جن کی مدد سے وہ بنیادی ڈھانچے کا انتظام کیے بغیر ایپلی کیشنز تیار، جانچ اور شروع کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، موبائل بینکاری کی ایپلی کیشن تیار کرنے والی کوئی ٹیم اپنے سافٹ ویئر کی تیاری اور جانچ کے لیے کلاؤڈ پلیٹ فارم استعمال کر سکتی ہے۔
سافٹ ویئر ایز اے سروس (ایس اے اے ایس) انٹرنیٹ کے ذریعے پہلے سے تیار سافٹ ویئر استعمال کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے، جبکہ اس سافٹ ویئر کو تازہ رکھنے اور اس کی دیکھ بھال کی ذمہ داری فراہم کنندہ کی ہوتی ہے۔ اس کی مثالوں میں ویڈیو کانفرنسنگ کے لیے زوم، صارفین کے ساتھ تعلقات کے انتظام کے لیے سیلز فورس اور آن لائن فائلیں محفوظ کرنے اور بانٹنے کے لیے ڈراپ باکس شامل ہیں۔
سرور لیس کمپیوٹنگ ڈیولپرز کو سرورز کا براہ راست انتظام کیے بغیر مخصوص کام انجام دینے کی سہولت دیتی ہے۔ کلاؤڈ خدمات فراہم کرنے والا ادارہ بنیادی ڈھانچے کا انتظام کرتا ہے اور ضرورت کے مطابق وسائل فراہم کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، کوئی آن لائن خریداری کا پلیٹ فارم صارف کی خریداری مکمل ہوتے ہی اس کے آرڈر پر خودکار طور پر کارروائی کر سکتا ہے۔ نام سے ایسا تاثر ملنے کے باوجود، سرور لیس کمپیوٹنگ میں سرورز استعمال ہوتے ہیں؛ فرق صرف یہ ہے کہ ان کا انتظام ڈیولپر کے بجائے خدمات فراہم کرنے والا ادارہ کرتا ہے۔

مقامی کلاؤڈایکو سسٹم کے قیام میں ہندوستان کی پیش رفت
ہندوستان ڈیجیٹل حکمرانی، ڈیٹا کے انتظام اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی مدد کے لیے اپنے مقامی کلاؤڈ ایکو سسٹم کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔ حکومت مشترکہ بنیادی ڈھانچے کو وسعت دے رہی ہے، بھروسےمند کلاؤڈ خدمات نافذ کر رہی ہے اور مقامی کمپیوٹنگ صلاحیتوں کو فروغ دے رہی ہے۔
میگھ راج اور میگھ راج 2.0: حکومت ہند کا کلاؤڈ ایکو سسٹم
میگھ راج، حکومت ہند کے کلاؤڈ ایکو سسٹم کا آغاز 2014 میں الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت نے ای-گورننس کو تیز رفتار بنانے اور سرکاری اطلاعاتی و مواصلاتی ٹیکنالوجی کے اخراجات کو بہتر انداز میں استعمال کرنے کے مقصد سے کیا تھا۔ میگھ راج 2.0 اس قومی کلاؤڈ کمپیوٹنگ اقدام کی دوسری نسل ہے، جو ملک کے ڈیجیٹل انڈیا مشن کے لیے ایک محفوظ ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کے طور پر کام کرتی ہے۔ تقسیم شدہ کلاؤڈ ڈھانچے کے ذریعے بنیادی ڈھانچے، پلیٹ فارم اور سافٹ ویئر کی خدمات کے لچک دار ماڈل فراہم کرکے، یہ سرکاری محکموں کو ضرورت کے مطابق ڈیجیٹل ایپلی کیشنز تیزی سے تیار کرنے اور نافذ کرنے کی سہولت دیتا ہے۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران اس نظام میں نمایاں توسیع ہوئی ہے۔ ستمبر 2026 تک اس سے استفادہ کرنے والے سرکاری محکموں کی تعداد بڑھ کر 2,330 ہو گئی۔ آج میگھ راج 2.0 محفوظ اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کے لیے تیار میزبانی کی سہولت فراہم کرتا ہے، جو ہندوستان کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، بشمول ڈیجی لاکر، مائی گوو اور قومی اسکالرشپ پورٹل، کے ساتھ ساتھ محکمۂ ڈاک کی جدید ڈاک ٹیکنالوجی (اے پی ٹی) کو چلانے کے لیے درکار ہے۔ مزید پڑھنے کے لیے کلک کریں: ہندوستان کا ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچہ
ہندوستان کے کلاؤڈ سسٹم کے ستون کے طور پر ڈیٹا سینٹرز
ڈیٹا سینٹرز وہ مقامات ہیں جہاں سرورز اور ڈیٹا محفوظ کرنے کے نظام نصب ہوتے ہیں، جو کلاؤڈ کمپیوٹنگ کو ممکن بناتے ہیں۔ ڈیجیٹل خدمات اور مصنوعی ذہانت کے لیے کمپیوٹنگ کی بڑھتی ہوئی ضرورت کے باعث ہندوستان میں ڈیٹا سینٹرز کا شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ اگست 2026 تک ہندوستان میں ڈیٹا سینٹرز کی گنجائش بڑھ کر 1.57 گیگاواٹ ہو گئی تھی اور 2030 تک اس کے بڑھ کر تقریباً 8 گیگاواٹ ہونے کا امکان ہے۔ اس شعبے کے اہم مراکز ممبئی، نوی ممبئی، چنئی، حیدرآباد، بنگلورو، دہلی اور قومی راجدھانی خطہ (این سی آر) نیز جام نگر میں واقع ہیں۔ آندھرا پردیش، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور مغربی بنگال میں بھی ڈیٹا سینٹرز کے نئے مراکز تیزی سے ابھر رہے ہیں۔
اس بڑھتی ہوئی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ درکار ہے۔ اس شعبے میں تقریباً 70 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کے منصوبوں پر کام جاری ہے، جبکہ مزید 90 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کے منصوبوں کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ توقع ہے کہ ان سرمایہ کاریوں سے کمپیوٹنگ کی گنجائش میں اضافہ ہوگا اور ہندوستان کی مقامی کلاؤڈ صلاحیتوں کو وسعت ملے گی۔ مزید پڑھنے کے لیے کلک کریں: ہندوستان میں ڈیٹا سینٹرز
ڈیٹا سینٹرز کے نیٹ ورک کو مضبوط بنانا
نیشنل انفارمیٹکس سینٹر (این آئی سی) ہندوستان کے ڈیٹا سینٹرز کے بنیادی ڈھانچے کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ ملک بھر میں 4 قومی ڈیٹا سینٹرز اور 24 چھوٹے ڈیٹا سینٹرز چلاتا ہے۔ یہ مراکز سرکاری محکموں کو مشترکہ میزبانی، سرورز اور دیگر آلات نصب کرنے کے لیے جگہ اور کلاؤڈ خدمات فراہم کرتے ہیں۔ این آئی سی کے ریاستی مراکز میں قائم چھوٹے ڈیٹا سینٹرز بھی غیر مرکزی، لیکن یکساں معیارات پر مبنی بنیادی ڈھانچے کے ذریعے ریاستی سطح پر ای-گورننس کی ضروریات پوری کرتے ہیں۔
انڈیا اے آئی مشن-مصنوعی ذہانت کی کمپیوٹنگ تک رسائی کو جمہوری بنانا
کلاؤڈ کا بنیادی ڈھانچہ محققین اور نئے کاروباری اداروں کو مصنوعی ذہانت پر مبنی ایپلی کیشنز تیار کرنے اور استعمال میں لانے کے لیے درکار کمپیوٹنگ وسائل فراہم کرتا ہے۔ انڈیا اے آئی مشن کو 10,371.92 کروڑ روپے کے بجٹ کے ساتھ منظوری دی گئی ہے، جس کا مقصد کمپیوٹنگ وسائل تک رسائی کو وسیع کرنا ہے۔ مشترکہ مصنوعی ذہانت کمپیوٹنگ سہولت کے لیے 45,000 سے زیادہ گرافکس پروسیسنگ یونٹس (جی پی یوز) شامل کیے جا چکے ہیں۔ یہ وسائل ہندوستانی نئے کاروباری اداروں اور تعلیمی اداروں کو مصنوعی ذہانت کی تیاری کے لیے کم خرچ پر کمپیوٹنگ کی سہولت فراہم کرتے ہیں، جس سے مخصوص آلات کی خریداری پر سرمایہ لگانے کی ضرورت کم ہو جاتی ہے۔ مزید پڑھنے کے لیے کلک کریں: مصنوعی ذہانت کے ذریعے ہندوستان میں تبدیلی
کلاؤڈ کمپیوٹنگ میں مہارتوں کو فروغ دینے اور صلاحیت سازی کے اقدامات
ہندوستان کے وسعت پذیر ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کو چلانے کے لیے ہنرمند افرادی قوت تیار کرنا ضروری ہے۔ الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت اور نیسکام(این اے ایس ایس سی او ایم ) کی جانب سے 2021 میں شروع کیا گیا فیوچر اسکلز پرائم پروگرام، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سے متعلق مہارتوں کو فروغ دیتا ہے۔ اگست 2026 تک اس پروگرام میں 34 لاکھ امیدواروں نے اندراج کرایا تھا، جن میں سے 23 لاکھ سے زیادہ امیدوار تربیت کے لیے داخلہ لے چکے تھے یا تربیت حاصل کر چکے تھے۔ یورپی کمیشن کی ہنرمندی کے معاہدے سے متعلق 2024 کی رپورٹ میں مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور ڈیٹا کے تجزیے کے شعبوں میں صنعت کی ضروریات کے مطابق تربیت فراہم کرنے کے حوالے سے اس پروگرام کو عالمی سطح پر تیسرا مقام حاصل ہوا۔ اس اقدام کی تکمیل کرتے ہوئے، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹرانکس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی (نیلیٹ) کے 56 مراکز، 750 ملحقہ ادارے اور 9,000 سے زیادہ سہولت مراکز کام کر رہے ہیں، جہاں پیشہ ور افراد کو کلاؤڈ کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت، سائبر تحفظ، بلاک چین اور انٹرنیٹ آف تھنگز کے شعبوں میں تربیت دی جاتی ہے۔
اس ہنرمند افرادی قوت کی صلاحیت کا مزید اندازہ کلاؤڈ نیٹیو کمپیوٹنگ فاؤنڈیشن کی 2026 کی ایک رپورٹ سے ہوتا ہے، جس کے مطابق ہندوستان میں کلاؤڈ نیٹیو ٹیکنالوجیز کے شعبے میں کام کرنے والے ڈیولپرز کی تعداد 22.5 لاکھ ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہندوستان کے 44 فیصد ڈیولپرز مخلوط کلاؤڈ استعمال کرتے ہیں، جس میں عوامی اور نجی کلاؤڈ کے ماحول کو یکجا کیا جاتا ہے۔ یہ ہنرمند افرادی قوت ہندوستان کے بدلتے ہوئے کلاؤڈ نظام کے انتظام اور اسے مزید ترقی دینے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
ہندوستان میں کلاؤڈ کے استعمال کو فروغ دینے والی پالیسی اقدامات
ہندوستان کی کلاؤڈ حکمت عملی کا محور مربوط پالیسی اقدامات اور مخصوص شعبوں میں سرمایہ کاری کے ذریعے عالمی سطح پر مسابقت کے قابل ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ تیار کرنا ہے۔ کلاؤڈ اور ڈیٹا سینٹرز کو ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور ڈیٹا پر مبنی خدمات کے لیے اہم تسلیم کرتے ہوئے، مرکزی بجٹ 2026-27 میں ہندوستان کی ڈیجیٹل صلاحیتوں کو آگے بڑھانے میں ان کے کردار کو اجاگر کیا گیا۔ ان اقدامات کا مقصد کلاؤڈ کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت اور بڑے پیمانے پر ڈیٹا سینٹرز میں سرمایہ کاری کو راغب کرنا اور ساتھ ہی ہندوستان کی طویل مدتی ڈیجیٹل صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں؟
مارچ 2026 میں الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت نے کلاؤڈ کے انتخاب کا فریم ورک جاری کیا، جس میں وزارتوں اور محکموں کو ڈیٹا کی حساسیت اور اہمیت کی بنیاد پر کلاؤڈ کا بنیادی ڈھانچہ منتخب کرنے کے لیے منظم رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔ اس فریم ورک میں قومی سلامتی کے تقاضوں کے مطابق ڈیٹا کی درجہ بندی کا طریقۂ کار متعارف کرایا گیا ہے۔ اس کے تحت حکومت کے زیرانتظام کلاؤڈ سہولتوں، مثلاً این آئی سی اور ریاستی ڈیٹا سینٹرز کے استعمال کو ترجیح دی گئی ہے، جبکہ فہرست میں شامل کلاؤڈ خدمات فراہم کرنے والے اداروں کے ساتھ ہائبرڈ کلاؤڈ نظام اپنانے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ، ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن (ڈی پی ڈی پی) ایکٹ ، 2023، ذاتی ڈیٹا کی پروسیسنگ کے لیے حفاظتی انتظامات وضع کرتا ہے اور سرحد پار ڈیٹا کی منتقلی کے لیے شرائط مقرر کرتا ہے۔ یہ مقامی ڈیٹا سینٹرز اور کلاؤڈ خدمات کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، جس کی عکاسی ڈیٹا کو ملک کے اندر محفوظ رکھنے اور سرحد پار ڈیٹا کی منتقلی پر پابندیوں سے متعلق دفعات میں ہوتی ہے۔ اس قانون میں صارف کی واضح رضامندی، ڈیٹا کے ذمہ دار اداروں کی جواب دہی اور ڈیٹا کی پروسیسنگ سے متعلق سخت ذمہ داریوں کے بارے میں دفعات کے ذریعے ڈیٹا پر بہتر اختیار اور ضابطوں کی پابندی کو بھی یقینی بنایا گیا ہے۔
محفوظ اور معیاری ڈیجیٹل حکمرانی کے لیے رہنمائی
نیشنل ای-گورننس ڈویژن (این ای جی ڈی) مرکزی اور ریاستی سطح پر ای-گورننس کے منصوبوں کے لیے تکنیکی معاونت اور مشاورتی خدمات فراہم کرتا ہے۔ اس کی ذمہ داریوں میں پروجیکٹوں کا تکنیکی جائزہ لینا بھی شامل ہے، جس کے تحت ان کے تکنیکی ڈھانچے، تحفظ، معیارات اور مشترکہ بنیادی ڈھانچے کے استعمال کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ یہ اشتراکی نظام ہندوستان کے سرکاری شعبے میں کلاؤڈ خدمات کو آگے بڑھا رہا ہے اور ڈیجیٹل انڈیا اور ای-گورننس کی ترجیحات کو تقویت دے رہا ہے۔
ہندوستان کے کلاؤڈ ایکوسسٹم کے لیے آگے کا راستہ
ہندوستان کے کلاؤڈ ایکو سسٹم میں تیزی سے توسیع ہو رہی ہے اور اندازہ ہے کہ 2030 تک ملک میں کلاؤڈ ڈیٹا کی گنجائش موجودہ سطح کے مقابلے میں تقریباً 4 سے 5 گنا بڑھ جائے گی۔ ڈیجیٹل حکمرانی، عوامی خدمات کی فراہمی اور ٹیکنالوجی پر مبنی پلیٹ فارمز میں کلاؤڈ کے بنیادی ڈھانچے پر بڑھتے ہوئے انحصار کے باعث کمپیوٹنگ وسائل کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ڈیٹا سینٹرز میں سرمایہ کاری سے ملک کی مقامی صلاحیت میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ مہارتوں کی ترقی کے لیے مخصوص اقدامات کے ذریعے کلاؤڈ ٹیکنالوجیز میں کام کرنے کی صلاحیت رکھنے والی افرادی قوت تیار کی جا رہی ہے۔ یہ تمام اقدامات مل کر اختراع کو فروغ دے رہے ہیں اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کو ہندوستان کی طویل مدتی ڈیجیٹل تبدیلی کا ایک بنیادی ستون بنا رہے ہیں۔
حوالہ جات
راجیہ سبھا
الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت
مواصلات کی وزارت
ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت
نیتی آیوگ
پی آئی بی ہیڈ کوارٹر
نیٹ ورک ریڈینیس انڈیکس رپورٹ 2025
این اے ایس ایس سی او ایم
پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے کلک کریں
***
ش ح۔ ش آ ۔ ت ع
UN.6899