کامرس اور صنعت کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

تجارت و صنعت کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل نے بھارت کی صنعتی ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے معیار، پیداواری صلاحیت میں وسعت اور عالمی منڈیوں تک رسائی پر زور دیا


قومی مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے جامع تجارتی معاہدوں سے بھارت کا عالمی معیشت کے ساتھ انضمام مضبوط ہوگا: جناب گوئل

بھارت کے ہنرمند افراد کی عالمی سطح پر مانگ بڑھ رہی ہے، بھارت کے صاف توانائی کے اہداف بھی واضح کیے: جناب گوئل

اختراع کو فروغ دینے اور ملکی مینوفیکچرنگ کو مضبوط بنانے کے لیے صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون پر زور: جناب گوئل

اسٹارٹ اَپ، سیمی کنڈکٹر اور خلائی شعبے بھارت کی صنعتی ترقی کے اہم محرک ہوں گے: جناب گوئل

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 29 OCT 2026 3:55PM by PIB Delhi

مرکزی وزیرِ تجارت و صنعت جناب پیوش گوئل نے کہا ہے کہ بھارت کی صنعتی ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے معیاری پیداوار، بڑے پیمانے پر پیداوار، عالمی منڈیوں تک رسائی اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کے اصولوں کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت، نجی شعبے اور تعلیمی اداروں کے باہمی تعاون سے اختراعات کو فروغ ملنا چاہیے۔ انسٹی ٹیوٹ فار اسٹڈیز اِن انڈسٹریل ڈیولپمنٹ (آئی ایس آئی ڈی)اور آئی ڈی آر اے کے زیرِ اہتمام بھارت کی صنعتی ترقی سے متعلق چوتھی قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ بھارت کو عالمی سطح پر تسلیم شدہ صنعتی اور پیداواری ملک بننے کا ہدف حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

جناب گوئل نے معیار، عالمی منڈیوں تک رسائی، بڑے پیمانے پر پیداوار اور شمولیت کو چار اہم عوامل قرار دیا، جو بھارت کے صنعتی منظرنامے میں تیز رفتار تبدیلی لانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معیار سب سے اہم ترجیح ہے اور وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کے اس اصول پر زور دیا کہ مصنوعات میں کوئی نقص نہ ہو اور ان کی تیاری سے ماحول کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔انہوں نے کہا کہ آزاد تجارتی معاہدوں کے ذریعے دنیا بھر کی منڈیاں کھل رہی ہیں، اس لیے بھارت کو عالمی منڈی میں اپنا حصہ بڑھانے، عالمی سطح پر اپنی موجودگی کو وسعت دینے اور ترجیحی شرائط پر منڈیوں تک رسائی سے فائدہ اٹھانے کے لیے مسابقت کرنی چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ 1.4 ارب افراد پر مشتمل بھارت کی وسیع گھریلو منڈی اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی مل کر صنعت کاروں کو مناسب قیمتوں پر مصنوعات تیار کرنے اور پیداواری لاگت کو مسابقتی سطح پر رکھنے کے مواقع فراہم کر سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پائیدار اور شمولیتی ترقی کو یقینی بنایا جائے، تاکہ تمام بھارتی شہریوں کی خوشحالی میں اضافہ ہو اور ترقی کے فوائد وسیع پیمانے پر لوگوں تک پہنچ سکیں۔

جناب گوئل نے کہا کہ 2047 تک وکست بھارت کا خواب 1.4 ارب بھارتی شہریوں کا مشترکہ عزم ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے حکومت، صنعت، تعلیمی اداروں اور تحقیقی مراکز کو باہمی تال میل کے ساتھ کوششیں کرنی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو اپنی معاشی تاریخ سے سبق سیکھنا، موجودہ صورتِ حال کا حقیقت پسندانہ جائزہ لینا اور مستقبل کے لیے ایک واضح لائحۂ عمل تیار کرنا چاہیے۔ مختلف نسلوں کے درمیان تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے تجربہ کار پیشہ ور افراد کے تجربے اور نوجوانوں کی توانائی کو یکجا کرنا ضروری ہے، نہ کہ ہر شعبے میں الگ تھلگ رہ کر کام کیا جائے۔

بھارت کی تجارتی پالیسی کے بارے میں جناب گوئل نے کہا کہ ملک کے تجارتی معاہدے محض محصولات میں کمی، اشیا کی اصلِ پیدائش کے تعین کے قواعد وضع کرنے یا منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے تک محدود نہیں ہیں، بلکہ یہ جامع شراکت داریاں ہیں۔ ان معاہدوں میں بھارت کی مسابقتی صلاحیتوں کو مدنظر رکھا جاتا ہے، برآمدات کے مواقع کی نشاندہی کی جاتی ہے، حساس شعبوں کے مفادات کا تحفظ کیا جاتا ہے اور جدید ٹیکنالوجی کی مصنوعات، گرافکس پروسیسنگ یونٹس (جی پی یوز)، میموری ٹیکنالوجی، طبی ٹیکنالوجی اور دیگر ایسی اشیا تک رسائی آسان بنائی جاتی ہے جو بھارت کی ترقی کے لیے ضروری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے تجارتی مذاکرات میں خدمات، سرمایہ کاری، تعلیم، ہنر مندی کی ترقی، ٹیکنالوجی کے شعبے میں شراکت داری، ماحولیات سے متعلق اہداف کے حصول اور متعلقہ ممالک کے قومی سطح پر طے شدہ ماحولیاتی وعدوں کے سلسلے میں تعاون جیسے امور بھی شامل ہیں۔ یہ جامع معاہدے عالمی معیشت کے ساتھ بھارت کے انضمام کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ ان معاہدوں کو حتمی شکل دینے سے پہلے متعلقہ فریقوں کے ساتھ وسیع پیمانے پر مشاورت کی جاتی ہے، تاکہ بھارت کے حساس مفادات اور تحفظاتی ضروریات کا خیال رکھتے ہوئے عالمی معیشت کے ساتھ اس کے روابط مضبوط کیے جا سکیں۔

بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے کے لیے جاری مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے جناب گوئل نے اعتماد ظاہر کیا کہ جب اس معاہدے کی تفصیلات سامنے آئیں گی تو بھارتی عوام کو یقین ہو جائے گا کہ کسانوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے حساس مفادات سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا ہے اور اس معاہدے سے بھارت کو دوسرے ممالک کے مقابلے میں مضبوط مسابقتی برتری حاصل ہوگی۔

جناب گوئل نے وضاحت کی کہ تجارت کا بنیادی تعلق صرف اعداد و شمار سے نہیں، بلکہ تقابلی برتری اور مسابقتی صلاحیت سے بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے ترقی یافتہ ممالک نے اپنے درآمدی محصولات کی شرحیں اس طرح مقرر کی ہیں کہ محنت پر زیادہ انحصار کرنے والی اشیا پر بھاری محصولات عائد ہوں، اور ان محصولات کو تجارتی مذاکرات میں دباؤ ڈالنے کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے تجارتی معاہدوں میں 38 ترقی یافتہ اور نسبتاً خوشحال ممالک شامل ہیں، جن کے ذریعے دونوں فریقوں کے لیے ایک دوسرے کی ضروریات کو پورا کرنے کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ بھارت ان ممالک کو ان کی ضرورت کی مصنوعات برآمد کرتا ہے اور ان سے وہ اشیا درآمد کرتا ہے جو اس کی ترقی کے لیے ضروری ہیں۔ انہوں نے ان معاہدوں کو دونوں فریقوں کے لیے یکساں طور پر فائدہ مند شراکت داری قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مؤثر تجارتی معاہدے منصفانہ، مساوی اور متوازن ہونے چاہئیں۔

جناب گوئل نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے طے پانے والے نو آزاد تجارتی اور دوطرفہ تجارتی معاہدوں کے نتیجے میں بھارت کو ایسی معیشتوں کی منڈیوں تک ترجیحی شرائط پر رسائی حاصل ہوئی ہے، جن کی مجموعی قومی پیداوار 60 ٹریلین امریکی ڈالر ہے۔ اس کے برعکس، 2014 سے پہلے طے پانے والے معاہدوں کے تحت جن معیشتوں تک رسائی حاصل تھی، ان کی مجموعی قومی پیداوار 10 ٹریلین امریکی ڈالر تھی۔ انہوں نے کہا کہ پہلے کے معاہدے زیادہ تر ایسے ممالک کے ساتھ کیے گئے تھے جو بھارت کے حریف تھے، جب کہ موجودہ حکمتِ عملی کا مقصد ایسی معاشی شراکت داریوں کو فروغ دینا ہے، جن میں متعلقہ ممالک کی معیشتیں ایک دوسرے کی تکمیل کریں۔

انہوں نے بھارت کی صلاحیتوں اور ہنر کو عالمی سطح پر ملنے والی بڑھتی ہوئی پذیرائی کو بھی اجاگر کیا۔ جناب گوئل نے بھارت اور جرمنی کے درمیان نقل مکانی کے معاہدے اور ہر سال 90,000 بھارتیوں کی ضرورت کے حوالے سے جرمنی کے وزیرِ خارجہ کے ساتھ ہونے والی گفتگو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بتایا گیا کہ جرمنی کو بھارتی ہنرمند افراد کی کہیں زیادہ تعداد درکار ہے۔ انہوں نے فارچون 500 کمپنیوں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز بھارتی پیشہ ور افراد اور جدید ترین ٹیکنالوجیز تیار کرنے والوں میں بھارتی ماہرین کی موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے اسے بھارت کی افرادی قوت کی صلاحیتوں کا ثبوت قرار دیا۔

وزیر موصوف نے اعتماد ظاہر کیا کہ بھارت آئندہ 20 سے 25 برس تک دنیا کی بڑی معیشتوں میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت بنا رہے گا۔ انہوں نے اس امکان کا سبب بھارتی عوام کی صلاحیتوں، ہنر اور توانائی کو قرار دیا۔

جناب گوئل نے زور دیا کہ ماحولیاتی تحفظ کے لیے ایسے اصولوں پر عمل کیا جانا چاہیے جن کے تحت آلودگی پھیلانے والا اس کی قیمت ادا کرے اور تمام ممالک اپنی ذمہ داری نبھائیں، البتہ ترقی پذیر ممالک کی ضروریات کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو اس سلسلے میں مناسب مالی اور تکنیکی مدد فراہم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بھارت میں بجلی پیدا کرنے کی مجموعی صلاحیت کا 60 فیصد حصہ صاف اور قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع پر مشتمل ہے، تاہم توانائی کی ضرورت پوری کرنے اور سستی بجلی فراہم کرنے کے لیے کوئلہ اب بھی ضروری ہے۔

جناب گوئل نے اس بات کو اجاگر کیا کہ بھارت نے اس حیثیت سے آگے بڑھ کر، جس میں وہ زیادہ تر دوسرے ممالک میں تیار کردہ مصنوعات خریدتا تھا، اب ایک ایسے ملک کی شناخت حاصل کر لی ہے جسے صنعتی پیداوار کے لیے تیزی سے تسلیم کیا جا رہا ہے۔ وزیر موصوف نے مزید کہا کہ ’میک اِن انڈیا‘ پہل اور مختلف شعبوں میں مرحلہ وار مینوفیکچرنگ پروگراموں نے کارخانوں کو بھارت میں قائم کرنے اور ملکی پیداوار میں اضافہ کرنے میں مدد دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اپنی ضروریات کا بڑھتا ہوا حصہ آئندہ بھی ملک کے اندر ہی تیار کرتا رہے گا۔

جناب گوئل نے اس بات پر زور دیا کہ صنعتی تبدیلی کے عمل میں اختراع کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگی۔ اس مقصد کے لیے سرکاری اداروں، نجی کاروباری اداروں اور تعلیمی شعبے کو مل کر کام کرنا ہوگا، جب کہ حکومت کا بنیادی کردار سہولت فراہم کرنے اور نجی شعبے کی قیادت میں اختراع کے عمل کو فروغ دینے کا ہونا چاہیے۔ انہوں نے آئی آئی ٹی، انجینئرنگ کالجوں اور اعلیٰ تعلیم و سائنسی تحقیق کے دیگر اداروں میں دستیاب سائنسی علم، دریافتوں اور تحقیقی صلاحیتوں کو بھی اجاگر کیا۔

اسٹارٹ اَپ فنڈ آف فنڈز کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے فنڈ کی پوری رقم استعمال کی جا چکی ہے اور اب دوسرا فنڈ بھی قائم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بھارت میں تحقیق، ترقی اور اختراع فنڈ (آر ڈی آئی ایف) کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ان اقدامات نے بھارت میں نئے کاروباری اداروں کے نظام کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس کے نتیجے میں بھارت اس شعبے میں دنیا کا تیسرا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔

جناب گوئل نے خلائی شعبے کو نجی شعبے کی شراکت داری کے لیے کھولے جانے کو بھی اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خطاب کے وقت بھارت کی خلائی معیشت کی مالیت 8.4 ارب امریکی ڈالر تھی، جس کے 2033 تک بڑھ کر 44 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے کی صلاحیت ہے۔ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ خلائی شعبے، مصنوعی ذہانت، کمپیوٹنگ اور نئے کاروباری اداروں کے میدان میں بھارت کے ساتھ تعاون کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں کی دلچسپی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

جرمنی کے اپنے حالیہ دورے کا حوالہ دیتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ وہاں کے تحقیقی ادارے، جن میں سے بعض میں بارہ ہزار سے تیس ہزار تک افراد کام کرتے ہیں، نجی شعبے کے ساتھ قریبی تعاون کر رہے ہیں اور انہوں نے بھارت کے ساتھ مل کر کام کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے اس بڑھتی ہوئی دلچسپی کی وجہ بھارت اور جرمنی کے درمیان شراکت داری پر اعتماد اور اس یقین کو قرار دیا کہ بھارت ہنر، صلاحیتوں، منصفانہ طرزِ عمل اور یکساں مواقع کی فراہمی کے اعتبار سے قابلِ اعتماد شراکت دار ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں طے پانے والے نئے تجارتی معاہدوں اور استوار ہونے والے بین الاقوامی تعلقات سے مشترکہ تحقیق، ٹیکنالوجی کی ترقی اور صنعتی تعاون کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان شراکت داریوں کے ذریعے ملکی صلاحیتوں کو بین الاقوامی مہارت اور سرمایہ کاری کے ساتھ یکجا کرکے بھارت کی ترقی کی سمت اور رفتار میں نمایاں تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔

جناب گوئل نے اپنے خطاب کے اختتام پر بھارت کے صنعتی مستقبل پر تین روزہ سنجیدہ غور و خوض کا اہتمام کرنے پر آئی ایس آئی ڈی کی ستائش کی۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بھارت کی صنعتی ترقی کا انحصار معیار پر مسلسل توجہ دینے، عالمی منڈیوں تک رسائی، بڑے پیمانے پر پیداوار کے فوائد حاصل کرنے اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کے اصول کو فروغ دینے پر ہوگا۔ اس مقصد کے حصول کے لیے صنعتی پیداوار، اختراع اور تحقیق کے شعبوں میں باہمی تعاون ضروری ہے۔ انہوں نے کانفرنس اور اس کے شرکا کو ’وکست بھارت 2047‘ یعنی ترقی یافتہ بھارت کے ہدف کے حصول میں ان کی خدمات کے لیے نیک خواہشات پیش کیں۔

***

) ش ح –ع و-  ف ر )

U.No. 6906


(ریلیز آئی ڈی: 2330093) وزیٹر کاؤنٹر : 11