پوسٹ کرنے کی تاریخ:
29 OCT 2026 11:06AM by PIB Delhi
کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی)کسانوں کو اپنی پیداوار کی مناسب قیمت ملنے کا یقین دلانے کے ساتھ ساتھ زرعی منصوبہ بندی اور سرمایہ کاری سے متعلق سوچ سمجھ کر فیصلے کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔30 ؍ستمبر 2026 کو حکومت نے ربیع مارکیٹنگ سیزن 2027-28 کے لیے تمام مقررہ ربیع فصلوں کی کم از کم امدادی قیمتوں میں اضافے کو منظوری دی، جس کے تحت 324 ؍لاکھ میٹرک ٹن پیداوار کے عوض کسانوں کو تقریباً 90,962 کروڑ روپے ادا کیے جانے کا اندازہ ہے۔ کم از کم امدادی قیمت کے تحت بڑھتی ہوئی معاونت کا اندازہ گزشتہ برسوں کے دوران خریداری کے رجحانات اور ادائیگیوں سے لگایا جا سکتا ہے۔ چھ ربیع فصلوں کی خریداری 2004-05 سے 2013-14 کے دوران 2,302 لاکھ میٹرک ٹن سے بڑھ کر 2014-15 سے 2025-26 کے دوران 3,921 لاکھ میٹرک ٹن ہو گئی۔ اسی مناسبت سے کم از کم امدادی قیمت کے تحت ادائیگیاں 2.65 ؍لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر 8.36 ؍لاکھ کروڑ روپے ہو گئیں۔ اس دوران ڈیجیٹل پلیٹ فارم خریداری اور ادائیگی کے عمل کو زیادہ قابلِ رسائی اور شفاف بنا رہے ہیں۔ مجموعی طور پر قیمتوں کا تحفظ، خریداری کے دائرے میں توسیع اور ٹیکنالوجی کے ذریعے خدمات کی فراہمی کسانوں کی منڈیوں تک رسائی کو مضبوط بنانے اور زرعی فیصلے کرنے میں ان کے اعتماد میں اضافہ کرنے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔
کم از کم امدادی قیمت: قیمتوں کے استحکام کے ذریعے کسانوں کی معاونت
کسان کی معاشی آمدنی کا انحصار نہ صرف زرعی پیداوار پر ہوتا ہے بلکہ اس قیمت پر بھی ہوتا ہے جو اسے اپنی تیار شدہ فصل کے عوض ملتی ہے۔ کاشت کاری میں کئی ماہ کی محنت، وسائل اور کاشت کاری کے لیے درکار اشیا پر سرمایہ لگانے کے بعد، بالآخر منڈی میں ملنے والی قیمت ہی کھیتی سے حاصل ہونے والی آمدنی اور زرعی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔ چھوٹے اور کم زمین رکھنے والے کسانوں کے لیے منڈی کی قیمتوں میں ناموافق اتار چڑھاؤ زرعی آمدنی میں خاصی غیر یقینی صورت حال پیدا کر سکتا ہے اور آئندہ فصلوں کی کاشت سے متعلق فیصلوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
اس تناظر میں، کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی)کسانوں کی معاونت کے لیے ایک اہم پالیسی وسیلہ ہے۔ یہ قیمت کے تحفظ کا ایک ایسا طریقۂ کار فراہم کرتی ہے جس کے تحت حکومت پہلے سے مقررہ قیمتوں پر اہل زرعی پیداوار کی خریداری کرتی ہے۔ کم از کم امدادی قیمت کسانوں کو ان کی پیداوار کا مناسب معاوضہ یقینی بناتی ہے، جبکہ زرعی سرمایہ کاری اور پیداوار کی حوصلہ افزائی بھی کرتی ہے۔
قیمتوں کے تحفظ کی ایک حد تک ضمانت فراہم کرکے، کم از کم امدادی قیمت کسانوں کو منڈی کی قیمتوں میں ناموافق اتار چڑھاؤ کے اثرات سے بچانے میں مدد دے سکتی ہے۔ جب منڈی میں قیمتیں کم ہوتی ہیں تو کم از کم امدادی قیمت پر خریداری اہل پیداوار کو اعلان کردہ قیمت پر فروخت کرنے کا ایک متبادل فراہم کرتی ہے۔ یہ طریقۂ کار قیمتوں سے متعلق غیر یقینی صورت حال کو کم کرنے، زرعی آمدنی میں استحکام برقرار رکھنے اور آئندہ زرعی سیزن کے لیے منصوبہ بندی میں سہولت فراہم کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ متوقع آمدنی کے بارے میں اعتماد کو مضبوط بنا کر کم از کم امدادی قیمت کسانوں کے بہتر بیجوں، زرعی ٹیکنالوجی اور پیداوار میں اضافہ کرنے والے دیگر وسائل پر سرمایہ کاری سے متعلق فیصلوں میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔
جب بہتر کاشت کاری کے ساتھ آمدنی کا تحفظ یقینی ہو
کرناٹک کے گاؤں بومبراہلی کے 72 سالہ باجرے کے کاشت کار جناب کے چکّنا کا تجربہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بہتر زرعی طریقوں، ادارہ جاتی معاونت اور قیمتوں کے تحفظ کے ذریعے زرعی پیداوار اور آمدنی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

کئی برسوں تک جناب چکّنا روایتی طریقۂ کاشت کے ذریعےراگی کی روایتی اقسام کی کاشت کرتے رہے۔ آب پاشی کی سہولت کے باوجود ان کی پیداوار تقریباً 9 سے 11 کوئنٹل فی ایکڑ تک محدود تھی۔
ایک اہم تبدیلی 2025 کے ربیع موسم میں آئی، جب انہوں نے راگی کی بہتر قسم ایچ آر-13 کو اپنایا۔آئی سی اے آر- آئی آئی ایم آر( انڈین کونسل ہف اگریکلچرل ریسرچ –انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ملٹس ریسرچ) نے یہ قسم کنڑوپی میں واقع کسانوں کی پیداواری تنظیم کُسُم گیری کے ذریعے فراہم کی۔
آئی سی اے آر-آئی آئی ایم آرکےسائنس دانوں کی تکنیکی رہنمائی سے انہوں نے کاشت کاری کے بہتر طریقے بھی اپنائے، جن میں روپائی، غذائی اجزا کا متوازن انتظام اور قدرتی طریقۂ کاشت شامل تھے۔ ان اقدامات سے ان کی پیداوار بڑھ کر 22 سے 23 کوئنٹل فی ایکڑ ہو گئی، جو ان کی سابقہ پیداوار سے دو گنا سے بھی زیادہ تھی۔
پیداوار میں اضافے کے ساتھ ساتھ کسانوں کی پیداواری تنظیم کے ذریعے کم از کم امدادی قیمت پر یقینی خریداری نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ 2025-26 کے سیشن میں یہ قیمت 4,886 روپے فی کوئنٹل مقرر تھی۔ اس سے انہیں اپنی پیداوار کی مناسب قیمت حاصل کرنے اور زیادہ آمدنی کمانے کا موقع ملا۔ نتیجتاً، چھ ایکڑ زمین سے ان کی آمدنی تقریباً 2.07 لاکھ روپے سے بڑھ کر 6.59 لاکھ روپے ہو گئی۔
جناب چکّنا کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ بہتر بیجوں کی اقسام، سائنسی طریقۂ کاشت، تکنیکی رہنمائی، کسانوں کی اجتماعی تنظیموں اور کم از کم امدادی قیمت پر مبنی خریداری کے باہمی امتزاج سے زرعی پیداوار اور معاشی آمدنی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
کم از کم امدادی قیمتوں کا تعین کیسے کیا جاتا ہے؟
حکومت ہر سال 22 مقررہ زرعی فصلوں کے لیے کم از کم امدادی قیمتوں کا اعلان کرتی ہے۔ ان قیمتوں کا تعین کمیشن فار اگریکچرل کاسٹ اینڈ پرائزز(سی اے سی پی) یعنی زرعی لاگت و قیمت سے متعلق کمیشن کی سفارشات کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ ان سفارشات کی تیاری میں متعلقہ ریاستی حکومتوں اور مرکزی وزارتوں و محکموں کی آرا کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، توریا اور بغیر چھلکے والے ناریل کی کم از کم امدادی قیمتوں کا تعین بالترتیب سرسوں اور رائی اور کھوپرے کے لیے اعلان کردہ کم از کم امدادی قیمتوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔

سی اے سی پی مختلف فصلوں کے لیے کم از کم امدادی قیمتوں(ایم ایس پی) کی سفارش کرتے وقت کئی عوامل کو مدنظر رکھتا ہے۔ ان میں شامل ہیں:
- پیداواری لاگت
- ملکی اور عالمی منڈیوں میں فصلوں کی طلب اور رسد
- ملکی اور بین الاقوامی قیمتیں
- مختلف فصلوں کی قیمتوں کے درمیان تناسب
- زرعی اور غیر زرعی شعبوں کے درمیان تجارت کے شرائط
- قیمتوں سے متعلق پالیسی کے مجموعی معیشت پر ممکنہ اثرات، اور
- پیداواری لاگت پر کم از کم 50 فیصد منافع
کم از کم امدادی قیمت(ایم ایس پی) کے تعین کے لیے استعمال ہونے والی پیداواری لاگت میں اجرت پر حاصل کی گئی انسانی محنت، بیلوں اور مشینوں کے استعمال، پٹے پر لی گئی زمین، بیجوں، کھادوں، نامیاتی کھاد اور آب پاشی پر ہونے والے اخراجات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پانی کے پمپ چلانے کے لیے استعمال ہونے والے ڈیزل اور بجلی کے اخراجات، زرعی آلات اور عمارتوں کی قدر میں کمی، گردشی سرمایہ پر سود اور دیگر متفرق اخراجات کو بھی شمار کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ زرعی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے خاندان کے افراد کی محنت کی تخمینہ قیمت بھی شامل کی جاتی ہے، تاکہ ان کی خدمات کا اعتراف کیا جا سکے۔ کم از کم امدادی قیمتوں کے حساب کے لیے لاگت کا یہی طریقۂ تخمینہ تمام 22 مقررہ فصلوں اور تمام ریاستوں میں یکساں طور پر نافذ کیا جاتا ہے۔
ربیع مارکیٹنگ سیزن 2027-28 کے لیے کم از کم امدادی قیمت: قیمتوں کا تحفظ اور فصلوں میں تنوع
حکومت نے 30 ستمبر 2026 کو مارکیٹنگ سیزن 2027-28 کے لیے تمام مقررہ ربیع فصلوں کی کم از کم امدادی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دی۔
|
ربیع مارکیٹنگ سیزن 2027-28
|
|
نمبر شمار
|
فصل
|
کم از کم امدادی قیمت 2027-28 (روپے فی کوئنٹل)
|
پیداواری لاگت 2027-28 (روپے فی کوئنٹل)
|
پیداواری لاگت پر منافع کا تناسب (فیصد)
|
کم از کم امدادی قیمت 2026-27 (روپے فی کوئنٹل)
|
کم از کم امدادی قیمت میں اضافہ (مطلق مقدار)
|
|
1
|
گندم
|
2,610
|
1,264
|
106
|
2,585
|
25
|
|
2
|
جو
|
2,286
|
1,447
|
58
|
2,150
|
136
|
|
3
|
چنا
|
5,958
|
3,751
|
59
|
5,875
|
83
|
|
4
|
مسور کی دال (مسور)
|
7,390
|
3,854
|
92
|
7,000
|
390
|
|
5
|
سرسوں اور رائی
|
6,613
|
3,367
|
96
|
6,200
|
413
|
|
6
|
کُسُم کا پھول
|
7,215
|
4,810
|
50
|
6,540
|
675
|
T
کم از کم امدادی قیمت میں سب سے زیادہ مطلق اضافہ کُسُم کے لیے 675 روپے فی کوئنٹل مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے بعد سرسوں اور رائی کے لیے 413 روپے فی کوئنٹل، مسور کی دال کے لیے 390 روپے فی کوئنٹل اور جو کے لیے 136 روپے فی کوئنٹل کا اضافہ کیا گیا ہے۔ گندم اور چنے کی کم از کم امدادی قیمتوں میں بھی گزشتہ سال کے مقابلے میں اضافہ کیا گیا ہے۔
پیداواری لاگت پر منافع کے لحاظ سے گندم میں سب سے زیادہ 106 فیصد منافع کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اس کے بعد سرسوں اور رائی میں 96 فیصد، مسور کی دال میں 92 فیصد اور چنے میں 59 فیصد منافع متوقع ہے۔ ربیع مارکیٹنگ سیزن 2027-28 کے دوران 324 لاکھ میٹرک ٹن پیداوار کے عوض کسانوں کو اندازاً 90,962 کروڑ روپے ادا کیے جانے کی توقع ہے۔ ربیع کی فصلوں کی کم از کم امدادی قیمتوں میں اضافے کا مقصد کسانوں کو ان کی پیداوار کا مناسب معاوضہ یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ فصلوں میں تنوع کو فروغ دینا بھی ہے۔
کم از کم امدادی قیمت پر خریداری کے عمل کو قابلِ رسائی اور شفاف بنانا
کم از کم امدادی قیمت کے فوائد کسانوں تک زیادہ براہ راست، شفاف اور آسانی سے پہنچانے کے لیے خریداری کے عمل میں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ حکومت اناج اور موٹے اناج کی خریداری فوڈ کارپوریشن آف انڈیا(ایف سی آئی) اور نامزد ریاستی ایجنسیوں کے ذریعے کرتی ہے۔ اس سے کسانوں کو اعلان کردہ کم از کم امدادی قیمت پر اپنی پیداوار کی قیمت کا تحفظ فراہم ہوتا ہے۔
دالوں، تلہن اور کھوپرے کی خریداری پردھان منتری انّ داتا آئے سن رکھشن ابھیان( پی ایم- اے اے ایس ایچ اے) کے تحت قیمتوں کے تحفظ سے متعلق اسکیم(پی ایس ایس) کے ذریعے کی جاتی ہے۔ اگر بازار میں رائج قیمتیں اعلان کردہ کم از کم امدادی قیمت سے کم ہو جائیں تو ریاستی حکومتیں خریداری کی درخواست کر سکتی ہیں۔ نیشنل ایگریکلچرل کوآپریٹو مارکیٹنگ فیڈریشن آف انڈیا لمیٹڈ اور نیشنل کوآپریٹو کنزیومرس فیڈریشن آف انڈیا لمیٹڈ اس اسکیم کے تحت خریداری کی ذمہ داری نبھانے والی اہم ایجنسیاں ہیں۔ دالوں کی مقامی پیداوار کو فروغ دینے اور خود کفالت کو مستحکم کرنے کے لیے، 2030-31 تک دالوں میں خود کفالت کے مشن کے تحت تور، اُڑد اور مسور کی خریداری مرکزی نوڈل ایجنسیوں کے ذریعے پہلے سے رجسٹرڈ کسانوں سے کی جاتی ہے۔
پردھان منتری انّ داتا آئےسن رکھشن ابھیان(پی اےاے اے ایس ایچ اے)
ستمبر 2018 میں شروع کی گئی اس اسکیم کا مقصد صارفین کے لیے قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ کسانوں کو ان کی پیداوار کا مناسب معاوضہ یقینی بنانا ہے۔ اس اسکیم کے اہم اجزا میں سے ایک قیمتوں کے تحفظ کی اسکیم ہے۔ فصلوں کی کٹائی کے عروج کے سیزن میں اگرنوٹیفائڈ دالوں، تلہن اور کھوپرے کی بازاری قیمتیں کم از کم امدادی قیمت سے نیچے آ جائیں تو اس اسکیم کو فعال کیا جاتا ہے۔ مناسب اوسط معیار کے مقررہ معیار پر پورا اترنے والی پیداوار کی خریداری درست زمینی ریکارڈ رکھنے والے پہلے سے رجسٹرڈ کسانوں سے براہ راست نیشنل ایگریکلچرل کوآپریٹو مارکیٹنگ فیڈریشن آف انڈیا لمیٹڈ(این اے ایف ای ڈی) اور نیشنل کوآپریٹو کنزیومرس فیڈریشن آف انڈیا لمیٹڈ (این سی سی ایف)کے ذریعے کی جاتی ہے۔ اس سے درمیانی افراد کا کردار ختم ہوتا ہے اور کسانوں کو مجبوری میں کم قیمت پر اپنی پیداوار فروخت کرنے سے تحفظ ملتا ہے۔
کسانوں کی خریداری کی سہولتوں تک رسائی بہتر بنانے کے لیے مناسب تعداد میں خریداری مراکز قائم کیے جاتے ہیں۔ ریاستی حکومتیں اور خریداری کرنے والی ایجنسیاں خریداری کے نظام الاوقات، مراکز کے مقامات اور اہل پیداوار کے لیے مناسب اوسط معیار کی تفصیلات عام کرتی ہیں۔
خریداری کے عمل کو ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کے ذریعے بھی مزید مستحکم بنایا گیا ہے۔ قیمتوں کے تحفظ کی اسکیم (پی ایس ایس)کے تحت، این اے ایف ای ڈی کے’ای-سمردھی‘ اور این سی سی ایف کے ’ای-سمیوکتی‘ پلیٹ فارم خریداری کے اہم مراحل، بشمول کسانوں کے اندراج، پیداوار کی خریداری اور ادائیگی میں سہولت فراہم کرتے ہیں۔ کسان آدھار، زمینی ریکارڈ، بینک کھاتے کی معلومات اور فصل کی تفصیلات فراہم کرکے اپنا اندراج کراتے ہیں۔ رجسٹرڈ کسان اپنے قریب ترین خریداری مرکز کا انتخاب کر سکتے ہیں، جس کے بعد پورٹل ان کے دورے کے لیے ایک مخصوص تاریخ مقرر کرتا ہے۔ کم از کم امدادی قیمت کی رقم براہ راست کسانوں کے بینک کھاتوں میں منتقل کرنے سے دستی مداخلت، درمیانی افراد پر انحصار اور ادائیگی میں تاخیر کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
مورخہ19 اکتوبر 2026 تک، ای-سمیوکتی پلیٹ فارم کے ذریعے 43 لاکھ سے زیادہ کسانوں کی پیداوار کی خریداری میں سہولت فراہم کی گئی ہے، جس کے تحت 37.45 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ پیداوار خریدی گئی اور کسانوں کے کھاتوں میں 13,000 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم منتقل کی گئی۔ اس دوران، ای-سمردھی پر 1.37 کروڑ سے زیادہ کسان رجسٹرڈ ہوئے، پیداوار کی 2.25 کروڑ سے زیادہ اکائیوں کی خریداری کی گئی اور کسانوں کو 81 لاکھ سے زیادہ ادائیگیاں کی گئیں۔
شفافیت اور مستفید ہونے والوں کی تصدیق کو مزید مستحکم بنانے کے لیے2025-26 کے سیزن سے قیمتوں کے تحفظ کی اسکیم کے تحت کسانوں کی بایومیٹرک تصدیق لازمی کر دی گئی۔ خریداری سے قبل آدھار سے منسلک فروخت کے مقام کی مشینوں یا چہرے کی شناخت کے ذریعے تصدیق کی جاتی ہے۔ اس اقدام سے کسانوں کی شناخت کی تصدیق کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے میں مدد ملتی ہے کہ خریداری کے فوائد حقیقی اور اہل مستفیدین تک پہنچیں۔
خریداری کے بڑھتے ہوئے دائرے اور کسانوں کو کم از کم امدادی قیمت کی ادائیگیوں میں اضافہ
زرعی پیداوار کی خریداری میں معاونت فراہم کرنے کے سلسلے میں کم از کم امدادی قیمت کا کردار، گزشتہ برسوں کے دوران خریداری کی مقدار اور کسانوں کو کی جانے والی ادائیگیوں میں نمایاں اضافے سے ظاہر ہوتا ہے۔ 2014-15 سے 2025-26 کے دوران گندم کی مجموعی خریداری 3,715 لاکھ میٹرک ٹن رہی، جبکہ 2004-05 سے 2013-14 کے دوران یہ مقدار 2,254 لاکھ میٹرک ٹن تھی۔ اسی طرح متعلقہ ادوار کے دوران ربیع کی چھ فصلوں کی مجموعی خریداری 2,302 لاکھ میٹرک ٹن سے بڑھ کر 3,921 لاکھ میٹرک ٹن ہو گئی۔
خریداری میں اس اضافے کے ساتھ کسانوں کو کم از کم امدادی قیمت کے تحت کی جانے والی ادائیگیوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ 2014-15 سے 2025-26 کے درمیان گندم کے کسانوں کو مجموعی طور پر 7.31 لاکھ کروڑ روپے ادا کیے گئے، جبکہ 2004-05 سے 2013-14 کے دوران یہ رقم 2.56 لاکھ کروڑ روپے تھی۔ ربیع کی چھ فصلوں کے لیے کم از کم امدادی قیمت کے تحت کی جانے والی مجموعی ادائیگیاں بھی پہلے کے دورانیے کے 2.65 لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر 8.36 لاکھ کروڑ روپے ہو گئیں۔

ربیع مارکیٹنگ سیزن 2026-27 کے دوران گندم کی خریداری 357.57 لاکھ میٹرک ٹن رہی، جس کی کم از کم امدادی قیمت کے مطابق مالیت 92,432.51 کروڑ روپے تھی۔ اس سے 34 لاکھ سے زیادہ کسان مستفید ہوئے۔ یہ اعداد و شمار سرکاری خریداری کے وسیع پیمانے اور کم از کم امدادی قیمت کے ذریعے کسانوں کو فراہم کی جانے والی مالی معاونت کی عکاسی کرتے ہیں۔
کسانوں کی معاونت اور زراعت کو مستحکم بنانا
کم از کم امدادی قیمت(ایم ایس پی) کسانوں کو بازار کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے تحفظ فراہم کرنے اور زرعی منصوبہ بندی و سرمایہ کاری کے سلسلے میں زیادہ اعتماد پیدا کرنے کا ایک اہم پالیسی ذریعہ ہے۔ ربیع مارکیٹنگ سیزن 2027-28 کے لیے کم از کم امدادی قیمت سے متعلق فیصلوں میں پیداواری لاگت پر کم از کم 50 فیصد منافع کی گنجائش برقرار رکھی گئی ہے۔
خریداری کی مقدار اور کم از کم امدادی قیمت(ایم ایس پی) کے تحت کی جانے والی ادائیگیوں میں مسلسل اضافہ، کسانوں کے لیے حکومتی معاونت کے بڑھتے ہوئے دائرے کی عکاسی کرتا ہے۔ اس دوران، ڈیجیٹل اندراج، بایومیٹرک تصدیق اور بینک کھاتوں میں براہ راست رقم کی منتقلی سے خریداری کے عمل کو مزید قابلِ رسائی اور شفاف بنایا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر، ان اقدامات سے قیمتوں کے تحفظ، منڈی تک رسائی اور پیداوار کا مناسب معاوضہ ملنے کے درمیان ربط مضبوط ہوتا ہے، جس سے کسانوں کی آمدنی کے امکانات بہتر ہوتے ہیں اور زرعی شعبے کو مزید مستحکم بنانے میں مدد ملتی ہے۔
حوالہ جات
اقتصادی امور سے متعلق کابینہ کمیٹی
https://www.pib.gov.in/PressReleasepage.aspx?PRID=2316941®=48&lang=1
وزار ت برائے زراعت اور کسانوں کی فلاح و بہبود
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1777683®=48&lang=2
https://www.icar.gov.in/hi/node/24721?utm_
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2317665®=48&lang=2
https://sansad.in/getFile/lsapps/loksabhaquestions/annex/187/AS450_OAibYg.pdf?source=lsapps
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2246181®=1&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2155528&lang=2®=48&utm_
https://icar.org.in/en/dr-ml-jat-honours-progressive-millet-farmer-shri-k-chikkana-icar-iimr-hyderabad
امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت
https://sansad.in/getFile/annex/271/AU2614_KTzacI.pdf?source=pqars
https://esamyukti.in/#about
امداد باہمی کی وزارت
https://esamridhi.in/#/
پی آئی بی بیک گراؤنڈر
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2177219®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=159674&ModuleId=3®=3&lang=1
پی ڈی ایف کے لئے کلک کریں
*****
ش ح ۔م ع ن۔ ع د
U. No.6888