جل شکتی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

جل شکتی کے مرکزی وزیرجناب سی آر پاٹل نے نئی دہلی میں گنگا سیلاب کنٹرول بورڈ کی 19ویں میٹنگ کی صدارت کی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 29 OCT 2026 12:53PM by PIB Delhi

گنگا سیلاب کنٹرول بورڈ(جی ایف سی بی)کی 19ویں میٹنگ 27 اکتوبر 2026 کو نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں جل شکتی مرکزی وزیر جناب سی آر پاٹل کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ اس  میٹنگ میں مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ جناب سوویندو ادھیکاری، حکومت ہند کے زراعت و کسانوں کی بہبود کے وزیر مملکت جناب رام ناتھ ٹھاکر، نیتی آیوگ کے رکن پروفیسر کے وی راجو، بہار کے نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر برائے آبی وسائل جناب وجے کمار چودھری، اتر پردیش کے جل شکتی کے وزیر جناب سوتنتر دیو سنگھ، گنگا طاس کی ریاستوں کے نمائندوں، مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے سینئر افسران اور متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

گنگا سیلاب کنٹرول بورڈ (جی ایف سی بی)کا قیام حکومت ہند نے 18 اپریل 1972 کو گنگا طاس میں سیلاب، کٹاؤ اور نکاسیٔ آب سے متعلق مسائل کے حل کے لیے اقدامات کی مربوط منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد کو آسان بنانے کی غرض سے کیا تھا۔ اس بورڈ کی صدارت جل شکتی کے مرکزی وزیر کرتے ہیں اور اس میں متعلقہ مرکزی وزارتوں کے نمائندے اور گنگا طاس کی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ یا ان کے نمائندے شامل ہوتے ہیں، جبکہ گنگا سیلاب کنٹرول کمیشن(جی ایف سی سی) کے چیئرمین اس کے رکن سکریٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے ہیں۔ یہ بورڈ گنگا طاس میں سیلاب کے انتظام کو مربوط بنانے اور مرکز و ریاستوں کے درمیان تعاون کو مستحکم کرنے کے لیے اعلیٰ سطح کا ادارہ جاتی پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ اس اجلاس میں جاری اقدامات کا جائزہ لینے، بین الریاستی تال میل کو مضبوط بنانے اور سیلاب کے مؤثر انتظام کے لیے ابھرتے ہوئے طریقۂ کار پر غور و خوض کا موقع ملا۔

میٹنگ کے دوران جل شکتی کے مرکزی وزیر نے ’’پُنہ بھرن‘‘ موبائل ایپ کا اجرا کیا۔ اسے بھاسکر آچاریہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسپیس ایپلی کیشنز اینڈ جیو انفارمیشن نے قومی آبی مشن کے اشتراک سے تیار کیا ہے۔ اس ایپ کا مقصد زیرزمین پانی کی مصنوعی تغذیہ کاری کے اقدامات کے لیے موزوں مقامات کی سائنسی بنیادوں پر نشاندہی میں سہولت فراہم کرنا ہے۔

بورڈ نے گنگا سیلاب کنٹرول کمیشن(جی ایف سی سی) کے نظرثانی شدہ دائرۂ کار اور تنظیمِ نو پر غور کیا۔ اس میں طاس کی سطح پر سیلاب کے انتظام کی منصوبہ بندی کو مضبوط بنانا، سیلاب کے انتظام سے متعلق اسکیموں کا جائزہ لینا، دریاؤں کی ساخت اور رسوب کے جمع ہونے سے متعلق مطالعات کرنا، نیز سیلاب کے انتظام سے متعلق معلوماتی نظام (ایف ایم آئی ایس)تیار کرنا شامل ہے۔ توقع ہے کہ ادارہ جاتی انتظامات میں نظرثانی سے تال میل، تکنیکی جائزے اور بروقت فیصلہ سازی کے عمل میں بہتری آئے گی۔

بات چیت میں خطرات کی بنیاد پر طاس کے جامع ماسٹر پلان تیار کرنے، پلوں کے نیچے آبی گزرگاہوں اور پانی کی نکاسی کے راستوں کی گنجائش کا جائزہ لینے، تفصیلی منصوبہ جاتی رپورٹوں (ڈی پی آر) کے معیار کو بہتر بنانے، سیلاب کے انتظام سے متعلق منصوبوں پر بروقت عمل درآمد اور سیلاب کے انتظام میں جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال پر بھی توجہ مرکوز کی گئی۔

مرکزی وزارتوں، ریاستی حکومتوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے درمیان تال میل کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا، بالخصوص دریاؤں کی ساخت، پانی کی نکاسی میں رکاوٹ، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور سیلاب سے نمٹنے کی صلاحیت سے متعلق مسائل کے حل کے سلسلے میں جدید سروے کی تکنیکوں، ٹھوس تکنیکی تحقیقات، مناسب قانونی منظوریوں اور منصوبوں پر عمل درآمد کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو بروقت دور کرنے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔

اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ گنگا طاس میں سیلاب کے مؤثر انتظام کے لیے ایک مربوط حکمت عملی اپنائی جائے، جس میں خطرات کا پیشگی جائزہ لیا جائے اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جائے۔ اس حکمت عملی کو مرکز اور ریاستوں کے درمیان مؤثر تال میل، بہتر تکنیکی معیارات اور سیلاب سے بچاؤ و انتظام کے اقدامات پر مربوط انداز میں عمل درآمد کے ذریعے مزید مستحکم بنایا جائے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image001_20261029125501_d0df9f.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image002_20261029125513_9b24ec.jpg

*****

ش ح ۔م ع ن۔  ع د

U. No.6895


(ریلیز آئی ڈی: 2329959) وزیٹر کاؤنٹر : 8