جدید اور قابل تجدید توانائی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

 وزیراعظم 2 نومبر کو بھارت قابلِ تجدید توانائی سمٹ اور ایکسپو 2026 کا افتتاح کریں گے


نئی اور قابل تجدید توانائی کی وزارت 2 سے 5 نومبر تک نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں سمٹ کا انعقاد کرے گی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 28 OCT 2026 6:41PM by PIB Delhi
  • 130 سے زیادہ ممالک کی شرکت متوقع؛ سمٹ میں عالمی رہنماؤں، سرمایہ کاروں، صنعت اور جدت طرازوں کو ایک پلیٹ فارم پر لایا جائے گا۔
  • آسٹریلیا، ڈنمارک، یورپی یونین، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز، ناروے، سویڈن اور برطانیہ شریک ممالک کے طور پر شرکت کریں گے۔
  • آندھرا پردیش، آسام، بہار، چھتیس گڑھ، دہلی، گجرات، کرناٹک، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، اڑیسہ، راجستھان، اترپردیش اور مغربی بنگال سمیت 13 ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے سمٹ میں شرکت کریں گے اور قابل تجدید توانائی کی اپنی صلاحیت، سرمایہ کاری کے مواقع اور مینوفیکچرنگ کی صلاحیتوں کو اجاگر کریں گے۔
  • قومی اور عالمی نمائش کنندگان قابل تجدید توانائی کی ٹیکنالوجیاں پیش کریں گے؛ قومی ہیکاتھون، قابلِ تجدید توانائی کوئز اور ری جین پویلین اہم کشش کا مرکز ہوں گے

 

 حکومت ہند کی نئی اور قابل تجدید توانائی کی وزارت (ایم این آر ای) 2 سے 5 نومبر 2026 تک نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں بھارت رینیوایبل انرجی سمٹ اینڈ ایکسپو (بی آر ای ایس ای) 2026 کا انعقاد کرے گی۔ وزیراعظم جناب نریندر مودی 2 نومبر 2026 کو سمٹ کا افتتاح کریں گے۔

حکومت ہند کی نئی اور قابل تجدید توانائی کی وزارت کے سکریٹری سنتوش سارنگی نے آج یہاں میڈیا نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "ہندوستان کی صاف توانائی کی جانب منتقلی فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ 308 گیگاواٹ کی نصب شدہ غیر فوسل ایندھن توانائی کی صلاحیت کے ساتھ ہم 2030 تک 500 گیگاواٹ کے ہدف کی جانب مضبوطی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے 2027 سے 2030 کے درمیان تقریباً 220 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کے ساتھ توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں تیزی سے اضافہ، مضبوط تر ٹرانسمیشن نیٹ ورک اور گھریلو مینوفیکچرنگ کی صلاحیتوں میں توسیع درکار ہوگی۔ بھارت رینیوایبل انرجی سمٹ اینڈ ایکسپو 2026 عالمی سرمایہ، ٹیکنالوجی اور صنعتی مہارت کو ہندوستان میں صاف توانائی کے بڑھتے مواقع سے جوڑنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرے گا، جس سے سرمایہ کاری کے امکانات کو منصوبوں، شراکت داری اور پیش رفت میں تبدیل کیا جا سکے گا۔"

چار روزہ پروگرام کا موضوع ’سرمایہ کاری کریں، جدت لائیں، ترغیب دیں‘ ہے۔ اس میں 130 سے زیادہ ممالک کے شرکاء کی شرکت متوقع ہے، جن میں وزرا، پالیسی ساز، صنعتی رہنما، سرمایہ کار، مالیاتی ادارے، مینوفیکچررز، جدت طراز، محققین اور کثیر ملکی تنظیموں کے نمائندے شامل ہوں گے۔ سمٹ کے ساتھ انٹرنیشنل سولر الائنس (آئی ایس اے) کی 9ویں اسمبلی اور گرین ہائیڈروجن پر چوتھی بین الاقوامی کانفرنس (آئی سی جی ایچ) بھی منعقد ہوگی۔ یہ تینوں پروگرام قابل تجدید توانائی میں سرمایہ کاری، بین الاقوامی تعاون، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور صاف توانائی کے نفاذ سے متعلق تبادلے کے لیے مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کریں گے۔

آسٹریلیا، ڈنمارک، یورپی یونین، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز، ناروے، سویڈن اور برطانیہ شریک ممالک کے طور پر شرکت کریں گے۔ کئی دیگر ممالک کے وفود کی بھی سمٹ میں شرکت متوقع ہے، جو قابل تجدید توانائی کی مالی اعانت، گرین ہائیڈروجن، توانائی ذخیرہ کرنے، صاف توانائی کی مینوفیکچرنگ اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کے امکانات تلاش کریں گے۔

تیرہ ہندوستانی ریاستیں شراکت دار ریاستوں کے طور پر شرکت کریں گی اور قابل تجدید توانائی کی اپنی صلاحیت، سرمایہ کاری کے مواقع، پالیسی اقدامات اور مینوفیکچرنگ کی صلاحیتوں کو اجاگر کریں گی۔ دیگر شریک ریاستیں بھی قابل تجدید توانائی کی ترقی اور سرمایہ کاری کے مواقع کو نمایاں کریں گی۔

ہندوستان قابل تجدید توانائی اور شمسی توانائی کی نصب شدہ صلاحیت کے لحاظ سے عالمی سطح پر تیسرے اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کے لحاظ سے چوتھے مقام پر ہے اور 2030 تک 500 گیگاواٹ کے ہدف کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے۔ بلومبرگ این ای ایف کے مطابق، ہندوستان نے جولائی 2024 سے جون 2026 کے دوران قابل تجدید توانائی کے شعبے میں 63.7 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ اسی رفتار کو آگے بڑھاتے ہوئے سمٹ میں عالمی پالیسی سازوں، سرمایہ کاروں، صنعتی رہنماؤں اور جدت طرازوں کو ایک پلیٹ فارم پر لایا جائے گا تاکہ بین الاقوامی تعاون مضبوط ہو، سرمایہ کاری متحرک کی جائے اور خاص طور پر ابھرتی ہوئی معیشتوں اور گلوبل ساؤتھ میں قابل تجدید توانائی کے نفاذ کو تیز کیا جا سکے۔ چار روزہ کانفرنس میں اعلیٰ سطحی مکمل اجلاس، وزارتی تبادلہ خیال، سی ای او راؤنڈ ٹیبل اور مالی اعانت، پالیسی، ٹیکنالوجی اور ہنرمندی کی ترقی پر توجہ مرکوز کرنے والے ملکی و ریاستی اجلاس ہوں گے۔ ان میں صاف توانائی میں سرمایہ کاری، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، مینوفیکچرنگ، توانائی ذخیرہ کرنے اور افرادی قوت کی ترقی پر تبادلہ خیال ہوگا، جبکہ ٹیکنالوجی کے تبادلے، بڑے پیمانے پر قابل عمل حل اور عالمی توانائی کی منتقلی میں خواتین کی زیادہ شرکت اور قیادت پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

ساتھ ہی منعقد ہونے والی آئی ایس اے کی 9ویں اسمبلی شمسی توانائی کے فروغ میں ہندوستان کی عالمی قیادت کو مزید مضبوط کرے گی اور عالمِ جنوب کے ممالک تک اس کی کامیاب پالیسیوں، ٹیکنالوجیوں اور نفاذ کے ماڈلز کو پہنچانے میں مدد دے گی۔ آئی ایس اے کے اعلیٰ ترین فیصلہ ساز ادارے کے طور پر اسمبلی میں دستخط کنندہ اور رکن ممالک کے وزرا اور نمائندے شرکت کریں گے، جو شمسی توانائی کے نفاذ، مالی اعانت اور صلاحیت سازی سے متعلق ترجیحات طے کریں گے اور اجتماعی اقدامات کی رہنمائی کریں گے۔ پی ایم-کسم اور پی ایم سوریہ گھر جیسی ہندوستان کی اہم پہلوں کے تجربے کی بنیاد پر آئی ایس اے ممالک کو ملک کی قیادت میں چلنے والے پروگراموں، سرمایہ کاری متحرک کرنے اور ادارہ جاتی شراکت داری کے ذریعے آزمودہ حل اختیار کرنے اور بڑے پیمانے پر نافذ کرنے میں مدد کر رہا ہے، جس سے ہندوستان کی قابل تجدید توانائی کی کامیابیوں کو دنیا بھر میں ٹھوس فوائد میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔

سمٹ کے ساتھ منعقد ہونے والی نمائش میں ہندوستان اور بیرون ملک سے 400 سے زیادہ معروف مینوفیکچررز، ڈیولپرز، ٹیکنالوجی فراہم کنندگان، سرکاری و نجی شعبے کی کمپنیاں، اسٹارٹ اپس اور تحقیقی ادارے شرکت کریں گے۔ نمائش میں قابل تجدید توانائی کے شعبے میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیاں اور حل پیش کیے جائیں گے اور کاروباری نیٹ ورکنگ، سرمایہ کاری میں سہولت اور ٹیکنالوجی شراکت داری کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

سمٹ میں بھارت رینیوایبل انرجی ہیکاتھون 2026 کے فاتحین کو بھی اعزاز اور انعامات دیے جائیں گے۔ یہ سمٹ سے قبل منعقد کیا گیا پروگرام تھا، جس میں طلبا، اسٹارٹ اپس، محققین اور جدت طرازوں نے ابتدائی مرحلے اور ترقی کے مرحلے کی دو زمروں کے تحت قابل تجدید توانائی کے 10 حقیقی چیلنجوں کے حل تیار کرنے کے لیے حصہ لیا۔

ری نیشنل رینیوایبل انرجی کوئز 2026، جس کے علاقائی مراحل ملک بھر میں منعقد کیے گئے، کا گرینڈ فائنل بھارت منڈپم میں ہوگا۔ ری جین پویلین طلبا، نوجوان جدت طرازوں، کاروباری افراد اور محققین کو اپنے خیالات پیش کرنے اور صنعتی رہنماؤں کے ساتھ تبادلے کے لیے ایک خصوصی پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔

سمٹ میں بی ٹو بی، بی ٹو جی اور جی ٹو جی سطح کے مذاکرات بھی ہوں گے، جن کے ذریعے سرمایہ کاروں، مینوفیکچررز، ٹیکنالوجی فراہم کنندگان اور سرکاری نمائندوں کو سرمایہ کاری کے مواقع، شراکت داری اور منصوبوں کی ترقی کے امکانات تلاش کرنے کے لیے ایک دوسرے سے جوڑا جائے گا۔

مزید تفصیلات کے لیے www.bresummit.in  پر ملاحظہ کریں۔

 

 *****

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U : 6859 )


(ریلیز آئی ڈی: 2329738) وزیٹر کاؤنٹر : 13