قومی انسانی حقوق کمیشن
azadi ka amrit mahotsav

قومی انسانی حقوق کمیشن، بھارت کی جانب سے ’کام کی جگہوں اور عوامی مقامات پر خواتین کے تحفظ‘ سے متعلق  ایڈوائزری جاری


ان مشاورتی ہدایات میں مرکزی وزارتوں، ریلوے بورڈ کے چیئرمین اور تمام ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے چیف سکریٹریوں اور منتظمین کے لیے کارروائی کے آٹھ اہم شعبوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے

مشاورتی ہدایات میں دی گئی سفارشات پر عمل درآمد پر زور دیتے ہوئے قومی انسانی حقوق کمیشن نے ان پر عمل درآمد کی پیش رفت سے متعلق دو ماہ کے اندر رپورٹیں طلب کی ہیں۔

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 27 OCT 2026 2:18PM by PIB Delhi

قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی)، بھارت نے دس مرکزی وزارتوں کے سکریٹریوں، ریلوے بورڈ کے چیئرمین اور تمام ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے چیف سکریٹریوں اور منتظمین کو ’کام کی جگہوں اور عوامی مقامات پر خواتین کے تحفظ‘ سے متعلق ایڈوائزی جاری کی ہیں۔

 

قومی انسانی حقوق کمیشن نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے سخت قوانین موجود ہونے کے باوجود، کام کی جگہوں اور عوامی مقامات پر ان کا تحفظ بدستور تشویش کا موضوع ہے۔ بھارت میں افرادی قوت میں شرکت سے متعلق حالیہ متواتر سروے کے مطابق، ستمبر 2026 میں افرادی قوت میں خواتین کی شرکت کی شرح 34.6 فیصد رہی۔ تاہم، 2026 میں شائع ہونے والی قومی جرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، خواتین کے خلاف جرائم کے تقریباً 4.4 لاکھ معاملے بھی درج کیے گئے۔ یہ اعداد و شمار خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے میں درپیش مسلسل چیلنجوں کو اجاگر کرتے ہیں اور اس بات کی ضرورت کو نمایاں کرتے ہیں کہ اس سلسلے میں مسلسل اور مربوط کوششیں کی جائیں۔

 

قومی انسانی حقوق کمیشن نے اس بات پر زور دیا ہے کہ خواتین کا تحفظ اس امر کو یقینی بنانے کے لیے نہایت اہم ہے کہ انہیں انصاف اور مساوی مواقع سے متعلق اپنے آئینی حقوق حاصل ہوں۔ کمیشن نے مزید کہا ہے کہ کام کی جگہوں اور عوامی مقامات پر تحفظ خواتین کے لیے افرادی قوت میں بھرپور شرکت کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو پوری طرح بروئے کار لانے کی ایک بنیادی شرط ہے۔

ریلوے بورڈ کے علاوہ جن مرکزی وزارتوں کو یہ مشاورتی ہدایات بھیجی گئی ہیں، ان میں خواتین و اطفال کی ترقی، تعلیم، امورِ داخلہ، اطلاعات و نشریات، محنت و روزگار، کارپوریٹ امور، سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہیں، مکانات و شہری امور اور صحت و خاندانی بہبود کی وزارتیں شامل ہیں۔

 

قومی انسانی حقوق کمیشن کی ان ایڈوائزری میں کارروائی کے لیے آٹھ اہم شعبوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ ان میں خواتین کے تحفظ اور جنسی ہراسانی سے متعلق موضوعات پر بیداری پیدا کرنا، بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا، موقع پر موجود افراد کو مداخلت کے لیے ترغیب دینا، پولیس کا کردار، متاثرین کی مدد، خواتین کے خلاف سائبر جرائم، طویل مدتی اصلاحات اور دیگر اقدامات شامل ہیں۔ تفصیلی مشاورتی ہدایات یہاں ملاحظہ کی جا سکتی ہیں: ملاحظہ کریں

 

قومی انسانی حقوق کمیشن نے تمام متعلقہ حکام پر زور دیا ہے کہ وہ ان ایڈوائزری میں دی گئی سفارشات پر عمل درآمد کریں اور اس سلسلے میں ہونے والی پیش رفت سے کمیشن کو آگاہ رکھنے کے لیے دو ماہ کے اندر کارروائی کی رپورٹ پیش کریں۔

****

ش ح۔ ا ع خ۔ خ م

U.NO.6755


(ریلیز آئی ڈی: 2329033) وزیٹر کاؤنٹر : 11