پوسٹ کرنے کی تاریخ:
27 OCT 2026 4:34PM by PIB Delhi
لوک سبھا کے اسپیکر جناب اوم برلا نے کل 12ویں برکس پارلیمانی فورم کا افتتاح کیا تھا، جس کا آج مشترکہ اعلامیے کی منظوری کے ساتھ اختتام ہوا۔ اس اعلامیے میں رکن ممالک نے اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں، خودمختار مساوات، باہمی احترام، داخلی معاملات میں عدم مداخلت اور بین الاقوامی تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنی وابستگی کا باضابطہ اعادہ کیا۔ اپنی جاری صدارت کے دوران عالمی سفارتی میدان میں بھارت کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتے ہوئے، مشترکہ اعلامیے میں نئی دہلی کی بنیادی تزویراتی ترجیحات کو مؤثر انداز میں شامل کیا گیا۔ نئی دہلی اعلامیے (این ڈی ڈی) پر اتفاقِ رائے کی توثیق کرتے ہوئے رکن پارلیمانوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کی واضح حمایت کی۔ اس سلسلے میں نئی دہلی اعلامیے کے پیراگراف 13 کا حوالہ دیتے ہوئے عالمی حکمرانی کے نظام کو گلوبل ساؤتھ کی زیادہ نمائندگی کا حامل بنانے پر زور دیا گیا۔
قومی سلامتی کے معاملے میں بھارت کے مضبوط مؤقف کو دہشت گردی کے خلاف سخت اور غیر مبہم زبان کے استعمال کے ذریعے بڑی کامیابی حاصل ہوئی۔ نئی دہلی اعلامیے کے پیراگراف 40 کی بنیاد پر مشترکہ اعلامیے میں سرحد پار دہشت گردی، دہشت گردی کی مالی معاونت اور دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کی مذمت کی گئی، جبکہ دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرینس کی پالیسی اپنانے اور دوہرے معیار ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ حتمی اعلامیے میں بھارت کی قیادت میں آگے بڑھائے جانے والے ترقیاتی اور ماحولیاتی ایجنڈوں کو بھی نمایاں طور پر شامل کیا گیا، جن میں ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے (ڈی پی آئی) کے ذخائر کو وسعت دینا، مصنوعی ذہانت کی اخلاقی حکمرانی، مشترکہ لیکن مختلف النوع ذمہ داریوں اور متعلقہ صلاحیتوں (سی بی ڈی آر-آر سی) کے اصول کی پابندی اور بھارت کی برکس صدارت کے لیے متفقہ حمایت شامل ہیں۔
اختتامی خطاب کرتے ہوئے لوک سبھا کے اسپیکر نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی چیلنجوں کا حل تنازعات کے بجائے مسلسل بات چیت، باہمی امن اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
برکس کے رکن اور شراکت دار ممالک کے صدورِ اجلاس، معزز مندوبین اور بین الاقوامی پارلیمانوں کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے جناب برلا نے دو روزہ تفصیلی مباحثوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ شریک ممالک کے پس منظر، حالات اور چیلنجز مختلف ہیں، لیکن انسانیت کی فلاح و بہبود، امن اور خوشحالی کے لیے ان کا مشترکہ عزم برکس اتحاد کی اصل طاقت ہے۔
عالمی سطح پر عدم استحکام، معاشی غیر یقینی صورتِ حال اور علاقائی تنازعات کے موجودہ ماحول کو اجاگر کرتے ہوئے جناب برلا نے بھارت کے بنیادی فلسفے کا اعادہ کیا کہ مستقل حل جنگ کے بجائے بات چیت، تنازعات کے بجائے امن اور مسابقت کے بجائے باہمی تعاون سے ہی تلاش کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے ایک ایسے عالمی نظام کی تشکیل پر زور دیا جو قومی خودمختاری کے مکمل احترام، بین الاقوامی تنازعات کے پُرامن حل اور سب کے لیے منصفانہ ترقی کے مواقع پر مبنی ہو۔ انہوں نے کہا، ’’عالمی امن کا حقیقی مطلب سلامتی، احترام، انصاف اور ہر شخص، خصوصاً نوجوان نسل، کے لیے بہتر مستقبل کی ضمانت ہے۔‘‘ انہوں نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ آنے والی نسلیں موجودہ رہنماؤں کا فیصلہ اس بنیاد پر کریں گی کہ وہ اپنے پیچھے کیسی محفوظ اور خوشحال دنیا چھوڑ کر جاتے ہیں۔
جمہوری اداروں کی بدلتی ہوئی ذمہ داریوں کو اجاگر کرتے ہوئے لوک سبھا کے اسپیکر نے کہا کہ پارلیمانیں محض قانون سازی کے ادارے نہیں ہیں، بلکہ بات چیت، اتفاقِ رائے، جواب دہی اور عوامی اعتماد کے اہم مراکز بھی ہیں۔ انہوں نے دنیا بھر کی پارلیمانوں پر زور دیا کہ وہ بدلتے وقت کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالتے ہوئے زیادہ مؤثر، شفاف اور شہریوں پر مرکوز بنیں۔ جدید ذرائع کے استعمال کا ذکر کرتے ہوئے جناب برلا نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو اپنانے سے پارلیمانی امور کی انجام دہی کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکتا ہے اور عوام کی شرکت کو مزید فروغ دیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ ان ٹیکنالوجیز کی ترقی میں انسانی اقدار، اخلاقیات، شفافیت اور جواب دہی کے اصولوں کی سختی سے پابندی کی جائے۔
جناب برلا نے اس بات پر زور دیا کہ برکس کی کامیابی کا دائرہ اس کے رکن ممالک کی انفرادی ترقی سے کہیں زیادہ وسیع ہونا چاہیے، تاکہ پوری عالمی برادری کو فائدہ پہنچے اور عالمی سطح پر فیصلہ سازی کے عمل میں گلوبل ساؤتھ کی امنگوں کو مناسب نمائندگی حاصل ہو۔
بارہویں برکس پارلیمانی فورم کے کامیابی کے ساتھ اختتام پر جناب برلا نے چین کو دلی مبارک باد اور نیک خواہشات پیش کیں، جو 2027 کے لیے برکس کی صدارت سنبھالے گا۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ چین کی قیادت میں تعاون کا سلسلہ مزید فروغ پائے گا۔ فورم کا اختتام اس پُر زور اپیل کے ساتھ ہوا کہ دنیا بھر کی پارلیمانیں امن، تعاون اور مشترکہ خوشحالی کے لیے مؤثر آواز بنیں۔
مشترکہ اعلامیے کی نقل یہاں ملاحظہ کریں
*****
(ش ح ۔رک)
U. No.6768