پوسٹ کرنے کی تاریخ:
26 AUG 2026 11:54AM by PIB Delhi
|
ہندوستان کے بھرپور ثقافتی ورثے کو ایک اور عالمی اعزاز حاصل ہوا ہے، جب جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں عالمی ورثے کی کمیٹی کے 48ویں اجلاس میں سارناتھ کے قدیم بدھ مت کے مقام کو یونیسکو کی عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا۔ سارناتھ وہ مقام ہے جہاں بھگوان بدھ نے اپنا پہلا خطبہ دیا تھا، اور یہ ان کی زندگی سے وابستہ بدھ مت کے چار اہم ترین زیارتی مقامات میں سے ایک ہے۔ اس شمولیت کے ساتھ ہندوستان میں یونیسکو کے عالمی ورثے کے مقامات کی تعداد 45 ہو گئی ہے، جس سے ملک عالمی سطح پر چھٹے اور ایشیا پیسیفک خطے میں دوسرے نمبر پر آ گیا ہے۔ یہ پیش رفت بدھ مت کی جائے پیدائش کے طور پر ہندوستان کی شناخت کو مزید مستحکم کرتی ہے اور غیر معمولی عالمی قدر کے حامل ورثے کے تحفظ کے لیے اس کے عزم کو بھی تقویت دیتی ہے۔
|
بھارت کے ورثے کے لئے ایک سنگ میل

ورثہ محض ماضی کی یادگار نہیں، بلکہ حال کی تشکیل اور مستقبل کی رہنمائی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔یہ ان کہانیوں، روایات اور اقدار کی عکاسی کرتا ہے جنہیں مختلف معاشرے محفوظ رکھتے ہیں اور نسل در نسل منتقل کرتے ہیں۔ ثقافتی اور قدرتی ورثہ کی شناخت، علم اور تحریک کے ایسے انمول ذرائع ہیں جن کا کوئی متبادل نہیں۔
مورخہ 25 جولائی 2026 کی شام، جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں منعقدہ عالمی ورثہ کمیٹی کے 48ویں اجلاس کے دوران سارناتھ کے قدیم بدھ مت کے آثار کو یونیسکو کی عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کر لیا گیا۔ اس اندراج کے ساتھ ہندوستان میں یونیسکو کے تسلیم شدہ عالمی ورثے کے مقامات کی تعداد 45 ہو گئی ہے۔
یہ اعزاز عالمی ورثے کی فہرست میں محض ایک نئے مقام کے اضافے تک محدود نہیں، بلکہ ہندوستان کے اس گراں قدر ثقافتی ورثے کا اعتراف بھی ہے جس کی تشکیل متنوع روایات، غیر معمولی طرزتعمیر اور ایک طویل تاریخی پس منظر کے امتزاج سے ہوئی ہے۔ یہ پیش رفت عالمی ورثہ کنونشن کی روح کو بھی مزید تقویت دیتی ہے، جس کا مقصد 196 رکن ممالک کے اشتراک سے ایسے مقامات کا تحفظ یقینی بنانا ہے جو غیر معمولی عالمی اہمیت کے حامل ہیں، تاکہ موجودہ اور آنے والی نسلیں بھی ان سے مستفید ہو سکیں۔
اقوام متحدہ کا تعلیمی، سائنسی و ثقافتی ادارہ (یونیسکو) ثقافتی اور قدرتی ورثے کی شناخت، تحفظ اور نگہداشت کو فروغ دیتا ہے، خصوصاً ایسے ورثے کو جو پوری انسانیت کے لیے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہو۔ اس عزم کی بنیاد عالمی ثقافتی اور قدرتی ورثے کے تحفظ سے متعلق کنونشن ہے، جسے یونیسکو نے 1972 میں منظور کیا تھا۔
|
جولائی2026 تک یونیسکو کی عالمی ورثے کی فہرست میں173 ممالک کے مجموعی طور پر 1,273 مقامات شامل تھے، جن میں991 ثقافتی،240 قدرتی اور 42 مخلوط نوعیت کے مقامات شامل ہیں۔اکتوبر2024 تک، عالمی ورثہ کنونشن کی توثیق کرنے والے رکن ممالک کی تعداد 196 ہو چکی تھی، جس کے باعث یہ کنونشن اقوامِ متحدہ کے اداروں کے تحت تسلیم شدہ اور نمایاں ترین بین الاقوامی معاہدوں میں شمار ہوتا ہے۔
|
عالمی ورثے کا تصور اپنی نوعیت میں منفرد ہے، کیونکہ اس کی اہمیت قومی سرحدوں سے ماورا ہے۔ اگرچہ یہ مقامات مختلف ممالک کی جغرافیائی حدود کے اندر واقع ہیں، تاہم ان کی اہمیت پوری انسانیت کے لیے ہے۔ انہیں ایک مشترکہ انسانی ورثے کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے، جس کا تحفظ اور نگہداشت اجتماعی ذمہ داری ہے، تاکہ اسے آنے والی نسلوں کے لیے بھی محفوظ رکھا جا سکے۔
سارناتھ کی کہانی

سارناتھ کو بدھ مت کی روایت میں ایک خصوصی مقام حاصل ہے۔ اتر پردیش کے شہر وارانسی میں واقع یہ مقام بدھ مت کے چار اہم ترین زیارتی مراکز میں سے ایک ہے۔ یونیسکو کی عالمی ورثے کی فہرست میں اس کا اندراج دو باہم مربوط حصوں پر مشتمل ہے: چوکھنڈی اسٹوپا اور سارناتھ کے آثار قدیمہ۔ اس آثارقدیمہ کے مجموعے میں دھمیک اسٹوپا، دھرم راجیکا اسٹوپا، مولاگندھاکٹی وہار، اشوک کا ستون اور متعدد دیگر قدیم آثار شامل ہیں۔ یہ تمام یادگاریں مل کر اس تاریخی مقام کے قدیم منظرنامے اور تہذیبی ورثے کو محفوظ رکھتی ہیں۔
بدھ مت کی روایات میں رِشی پَتَن، اِشی پَتَن اور مِرگَدَوا کے ناموں سے معروف سارناتھ وہ مقام ہے جہاں گوتم بدھ نے چھٹی صدی قبل مسیح میں اپنا پہلا وعظ دیا۔ یہ وعظ، جسے ‘دھرم چکر پرورتن’ یا ‘دھرم کے پہیے کا گردش میں آنا’ کہا جاتا ہے، بدھ سنگھ کے قیام اور آٹھ گنا راستے کے اصولوں کے فروغ کا نقطۂ آغاز ثابت ہوا۔
صدیوں کے دوران شاہی سرپرستی، خانقاہی روایات اور عوامی عطیات کے نتیجے میں سارناتھ نے بتدریج ترقی کی۔ بدھ کے پہلے وعظ اور ان کے ابتدائی پانچ شاگردوں سے ملاقات سے وابستہ اس مقام کے گرد متعدد اسٹوپا، مندر اور وہار تعمیر کیے گئے۔ یہ تاریخی مقام تقریباً سولہ صدیوں پر محیط مسلسل ارتقا کی عکاسی کرتا ہے۔ یہاں کی یادگاریں موریہ سلطنت سے قبل کے دور یعنی چوتھی تا تیسری صدی قبل مسیح، سے لے کر بارہویں صدی عیسوی تک کے مختلف ادوار سے تعلق رکھتی ہیں، جب سارناتھ زوال پذیر ہوا اور بالآخر تباہی سے دوچار ہوا۔ اس کے بعد یہ مقام طویل عرصے تک گمنامی میں رہا، یہاں تک کہ اٹھارہویں صدی میں اسے دوبارہ دریافت کیا گیا۔
عالمی ورثے میں شمولیت کا سفر
سارناتھ کو عالمی ورثے کے طور پر تسلیم کیے جانے کا سفر ایک طویل اور محتاط عمل کا نتیجہ ہے۔ اس قدیم تاریخی مقام کو 1998 میں ہندوستان کی عالمی ورثے کی عارضی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔

اس کی عالمی ورثے کی فہرست میں شمولیت کی تجویز جنوری2025 میں عالمی ورثہ کمیٹی کے غور و خوض کے لیے پیش کی گئی۔ اس کے بعد تقریباً اٹھارہ ماہ پر مشتمل ایک جامع عمل جاری رہا، جس میں یونیسکو کے مشاورتی اداروں کے ساتھ تکنیکی اجلاس اور مجوزہ مقام کی اہمیت و معیار کا جائزہ لینے کے لیے انٹرنیشنل کونسل آن مونومنٹس اینڈ سائٹس(آئی سی او ایم او ایس) کا جائزہ مشن شامل تھا۔ یونیسکو کے مشاورتی اداروں میں سے ایک کی حیثیت سے آئی سی او ایم او ایس عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کیے جانے کے لیے پیش کردہ ثقافتی اور مخلوط نوعیت کے مقامات کا جائزہ لیتا ہے۔ اس طویل عمل کا اختتام جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں عالمی ورثہ کمیٹی کے 48ویں اجلاس میں کیے گئے تاریخی فیصلے پر ہوا۔
سارناتھ کے قدیم بدھ مت کے آثار کو عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کرنے کے لیے عالمی ورثہ کنونشن کے تحت مقرر کردہ معیار (iii) اور (vi) کی بنیاد پر نامزد کیا گیا تھا۔
معیار (iii)یہ معیار سارناتھ کی دیرپا روحانی اہمیت کو تسلیم کرتا ہے، کیونکہ یہ بدھ مت کے چار اہم ترین زیارتی مراکز میں سے ایک ہے۔ اس اہمیت کا اظہار یہاں صدیوں کے دوران تعمیر اور ازسرنو تعمیر کی جانے والی متعدد مذہبی عمارتوں اور یادگاروں سے ہوتا ہے۔
معیار (vi) یہ معیار سارناتھ کے ان واقعات سے براہ راست اور ٹھوس تعلق کو تسلیم کرتا ہے جو گوتم بدھ کی زندگی سے وابستہ ہیں اور بدھ مت کے پیروکاروں کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان واقعات میں بدھ کا پہلا وعظ اور بودھ گیا میں سمبودھی (روشن ضمیری یا عرفان کامل) حاصل کرنے کے بعد اپنے ابتدائی شاگردوں سے ملاقات شامل ہیں۔ سارناتھ میں صدیوں کے دوران تعمیر ہونے والی متعدد یادگاریں ان واقعات، بدھ کی تعلیمات اور تری رتن (تین جواہر)کے تصور کی مسلسل اہمیت کی عکاسی کرتی ہیں۔
سارناتھ کا عالمی ورثے کی فہرست میں اندراج عالمی ورثہ کنونشن کے وسیع تر مقاصد کی بھی ترجمانی کرتا ہے۔ یونیسکو کا مقصد ایسے ورثے کا تحفظ اور فروغ یقینی بنانا ہے جو غیر معمولی عالمی اہمیت کا حامل ہو، تاکہ موجودہ اور آنے والی نسلیں بھی اس سے مستفید ہو سکیں۔
سارناتھ: امن کا عالمی ورثہ
سارناتھ محض ایک آثار قدیمہ کا مقام نہیں، بلکہ دنیا بھر کے بدھ مت کے پیروکاروں کے لیے ایک اہم عالمی زیارتی مرکز بھی ہے۔ جاپان، تھائی لینڈ، سری لنکا، میانمار، ویتنام، جنوبی کوریا، کمبوڈیا، منگولیا اور دیگر متعدد ممالک سے بدھ مت کے پیروکار یہاں زیارت کے لیے آتے ہیں۔ دنیا کے مقدس ترین بدھ مت زیارتی مراکز میں شمار ہونے کے باعث سارناتھ بدھ مت کی جائے پیدائش کے طور پر ہندوستان کی شناخت کو مزید تقویت دیتا ہے اور بدھ مت کے پیروکار ممالک کے ساتھ ثقافتی روابط اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے میں ایک اہم پل کا کردار ادا کرتا ہے۔
سارناتھ کی عالمی ورثے کی فہرست میں شمولیت کے ساتھ گوتم بدھ کی زندگی سے وابستہ چار اہم ترین بدھ مت زیارتی مقامات میں سے تین اب یونیسکو کی عالمی ورثے کی فہرست میں شامل ہو چکے ہیں۔ ان میں نیپال کا لومبینی، بہار میں بودھ گیا کا مہابودھی مندر اور اتر پردیش کا سارناتھ شامل ہیں۔ یہ مقامات بھارت میں سانچی، نالندہ اور اجنتا، سری لنکا میں انورادھا پور، بنگلہ دیش میں پہاڑپور اور موجودہ پاکستان میں ٹکسلا اور تختِ بھائی جیسے دیگر اہم بدھ مت عالمی ورثے کے مقامات کے ساتھ ایک وسیع تاریخی و تہذیبی ورثے کا حصہ ہیں۔
یہ عالمی اعتراف سارناتھ کی غیر معمولی عالمی اہمیت کے حامل ورثے کے تحفظ کے لیے ہندوستان کے عزم کی بھی توثیق کرتا ہے۔ حکومت کی جانب سے سیاحت کا پائیدار انتظام یقینی بنایا جائے گا اور حفاظتی حدود (بفر زون) میں غیر منصوبہ بند تعمیر و ترقی کی روک تھام کی جائے گی تاکہ اس تاریخی مقام کی اصلیت اور سالمیت کو آنے والی نسلوں کے لیے برقرار رکھا جا سکے۔
ہندوستان کے عالمی ورثے کی کامیابی میں معاون اداروں کا کردار
ہر کامیاب نامزدگی کے پس پشت کئی برسوں پر محیط ادارہ جاتی تیاری اور مربوط کوششیں کارفرما ہوتی ہیں۔ عالمی ورثے کے مقامات کے حوالے سے ہندوستان کی حکمت عملی مرکزی اداروں، ریاستی حکومتوں اور بین الاقوامی تنظیموں کے درمیان قریبی رابطے اور تعاون پر مبنی ہے۔
وزارت ثقافت
وزارت ثقافت ثقافتی امور کے سلسلے میں یونیسکو کے ساتھ ہندوستان کے روابط کی قیادت کرتی ہے۔ یہ یونیسکو کے ثقافتی کنونشنز کے تحت ہندوستان کی ذمہ داریوں پر عمل درآمد اور عالمی ورثے کے مقامات اور غیر مادی ثقافتی ورثے کے عناصر کی نامزدگیوں میں رابطہ کاری کا فریضہ انجام دیتی ہے۔ اس کے علاوہ، وزارت بین الاقوامی سطح پر ورثے کے تحفظ کے معیارات کے فروغ اور یونیسکو کے ذریعے ثقافتی سفارت کاری اور بین الاقوامی ثقافتی تعاون کو مستحکم بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
محکمۂ آثار قدیمہ: ہندوستان
محکمۂ آثارِ قدیمہ(آرکالوجیکل سروے آف انڈیا-اے ایس آئی)، حکومت ہندوستان کی جانب سے عالمی ورثے سے متعلق امور کا مرکزی ذمہ دار ادارہ ہے۔ یہ ملک بھر میں مرکزی حکومت کے زیرتحفظ 3,688 تاریخی یادگاروں کی دیکھ بھال اور تحفظ کا فریضہ انجام دیتا ہے، جن میں عالمی ورثے کے 28 مقامات بھی شامل ہیں۔
محکمہ دو اہم قوانین، یعنی قدیم یادگاروں اور آثارقدیمہ کے مقامات و باقیات کا قانون، 1958 اور نوادرات و فنون لطیفہ کے خزانوں کا قانون 1972 کے نفاذ کی ذمہ داری بھی ادا کرتا ہے۔ مزید برآں، یہ سیاحوں اور زائرین کی سہولت کے لیے پینے کے پانی، بیت الخلا، آمدورفت کے راستوں اور سبزہ کاری جیسی بنیادی سہولیات فراہم کرتا ہے۔
ہر یادگار کی مخصوص ضروریات اور دستیاب وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے تحفظ اور دیکھ بھال کا کام باقاعدگی سے انجام دیا جاتا ہے۔ ان اقدامات کا بنیادی مقصد تاریخی یادگاروں کی حفاظت، ان کی پائیدار نگہداشت اور ان کی تاریخی و ثقافتی اہمیت کو آئندہ نسلوں کے لیےمحفوظ بنانا ہے۔
ہندوستان کی عالمی ورثے کی فہرست میں توسیع
ہمارا ورثہ محض پتھروں، تحریروں یا کھنڈرات تک محدود نہیں، بلکہ اس کی روح مندروں کی دیواروں سے سرگوشی کرتی تاریخ، قدیم قلعوں پر کندہ نقش و نگار اور نسل در نسل منتقل ہونے والے لوک گیتوں میں بھی جلوہ گر ہے۔ یہ ورثہ ہندوستانی تہذیب کی داستان بیان کرتا ہے اور ملک کے وسیع، متنوع اور گراں قدر ثقافتی و قدرتی ورثے کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔
|
ملک
|
عالمی ثقافتی ورثہ کے مقامات (جولائی 2026 تک)
|
|
اٹلی
|
62
|
|
چین
|
61
|
|
فرانس
|
56
|
|
جرمنی
|
55
|
|
سپین
|
50
|
|
انڈیا
|
45
|
|
میکسیکو
|
36
|
|
برطانیہ
|
35
|
|
روس
|
33
|

آج ہندوستان میں یونیسکو کے عالمی ورثے کے 45 مقامات موجود ہیں، جن میں37ثقافتی،7 قدرتی اور ایک مخلوط نوعیت کا مقام شامل ہے۔ اس تعداد کے ساتھ ہندوستان عالمی سطح پر چھٹے اور ایشیا بحرالکاہل کے خطے میں دوسرے نمبر پر ہے۔
ہندوستان کے عالمی ورثے میں ابتدائی اندراجات ایک ہی سال میں عمل میں آئے۔ آگرہ کا قلعہ، تاج محل، ایلورا کی غاریں اور اجنتا کی غاریں1983 میں یونیسکو کی عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کی گئیں۔ یہ اس فہرست کا نقطۂ آغاز تھا، جس میں وقت کے ساتھ قلعے، مندر، غاریں، ریلوے لائنیں، باؤلیاں، منصوبہ بند شہر اور قومی پارک شامل ہوتے گئے۔
گزشتہ سال پیرس میں یونیسکو کے صدر دفتر میں منعقدہ عالمی ورثہ کمیٹی کے 47ویں اجلاس کے دوران ‘ ہندوستان کے مراٹھا فوجی مناظر’ کو عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا۔ رواں سال بوسان میں کمیٹی کے 48ویں اجلاس میں سارناتھ کی شمولیت کے ساتھ ہندوستان کے عالمی ورثے کے مقامات کی تعداد 45 ہو گئی ہے۔ اس طرح ہندوستان عالمی درجہ بندی میں چھٹے اور ایشیا بحرالکاہل کے خطے میں دوسرے مقام پر برقرار ہے۔
ہندوستان کی عالمی ورثے کی عارضی فہرست میں بھی توسیع ہوئی ہے، جس میں اب 69 مقامات شامل ہیں۔ کسی بھی مقام کو عالمی ورثے کی حتمی فہرست میں شامل کرنے کے لیے نامزدگی کے عمل میں عارضی فہرست میں اندراج پہلا لازمی مرحلہ ہے۔
بھارت میں یونیسکو کے عالمی ورثے کے مقامات کی فہرست:
|
سال
|
مقام
|
ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے
|
زمرہ
|
|
1983
|
آگرہ کا قلعہ
|
اتر پردیش
|
ثقافتی
|
|
1983
|
اجنتا غار
|
مہاراشٹر
|
ثقافتی
|
|
1983
|
ایلورا غاروں
|
مہاراشٹر
|
ثقافتی
|
|
1983
|
تاج محل
|
اتر پردیش
|
ثقافتی
|
|
1984
|
سورج مندر، کونارک
|
اوڈیشہ
|
ثقافتی
|
|
1984
|
مہابلی پورم میں یادگاروں کا گروپ
|
تمل ناڈو
|
ثقافتی
|
|
1985
|
قاضی رنگا نیشنل پارک
|
آسام
|
قدرتی
|
|
1985
|
کیولادیو نیشنل پارک
|
راجستھان
|
قدرتی
|
|
1985
|
مانس وائلڈ لائف سینکچری
|
آسام
|
قدرتی
|
|
1986
|
کھجوراہو گروپ آف مونومنٹس
|
مدھیہ پردیش
|
ثقافتی
|
|
1986
|
فتح پور سیکری
|
اتر پردیش
|
ثقافتی
|
|
1986
|
گوا کے گرجا گھر اور کانونٹس
|
گوا
|
ثقافتی
|
|
1986
|
ہمپی میں یادگاروں کا گروپ
|
کرناٹک
|
ثقافتی
|
|
1987
|
سندربن نیشنل پارک
|
مغربی بنگال
|
قدرتی
|
|
1987
|
ایلیفینٹ کیو
|
مہاراشٹر
|
ثقافتی
|
|
1987
|
پٹاڈکل میں یادگاروں کا گروپ
|
کرناٹک
|
ثقافتی
|
|
1987، 2004
|
گریٹ لیونگ چولا مندر
|
تمل ناڈو
|
ثقافتی
|
|
1988، 2005
|
نندا دیوی اور وادی آف فلاورز نیشنل پارکس
|
اتراکھنڈ
|
قدرتی
|
|
1989
|
سانچی میں بدھ مت کی یادگاریں
|
مدھیہ پردیش
|
ثقافتی
|
|
1993
|
ہمایوں کا مقبرہ، دہلی
|
دہلی
|
ثقافتی
|
|
1993
|
قطب مینار اور اس کی یادگاریں، دہلی
|
دہلی
|
ثقافتی
|
|
1999، 2005، 2008
|
ماؤنٹین ریلوے آف انڈیا
|
ڈبلیو بی، تمل ناڈو، ایچ پی
|
ثقافتی
|
|
2002
|
بودھ گیا میں مہابودھی مندر کمپلیکس
|
بہار
|
ثقافتی
|
|
2003
|
بھیم بیٹکا کے راک شیلٹرز
|
مدھیہ پردیش
|
ثقافتی
|
|
2004
|
چمپانیر-پاوا گڑھ آثار قدیمہ کا پارک
|
گجرات
|
ثقافتی
|
|
2004
|
چھترپتی شیواجی ٹرمینس
|
مہاراشٹر
|
ثقافتی
|
|
2007
|
لال قلعہ کمپلیکس
|
دہلی
|
ثقافتی
|
|
2010
|
جنتر منتر، جے پور
|
راجستھان
|
ثقافتی
|
|
2012
|
مغربی گھاٹ
|
کرناٹک، کیرالہ، مہاراشٹر، تمل ناڈو
|
قدرتی
|
|
2013
|
راجستھان کے پہاڑی قلعے
|
راجستھان
|
ثقافتی
|
|
2014
|
گریٹ ہمالیائی نیشنل پارک کنزرویشن ایریا
|
ہماچل پردیش
|
قدرتی
|
|
2014
|
پٹن میں رانی کی واو (ملکہ کا سٹیپ ویل)
|
گجرات
|
ثقافتی
|
|
2016
|
نالندہ مہاویہار کے آثار قدیمہ کی جگہ
|
بہار
|
ثقافتی
|
|
2016
|
کھنگچنڈزونگا نیشنل پارک
|
سکم
|
ملا ہوا
|
|
2016
|
لی کوربسیئر کا تعمیراتی کام
|
چندی گڑھ
|
ثقافتی
|
|
2017
|
احمد آباد کا تاریخی شہر
|
گجرات
|
ثقافتی
|
|
2018
|
ممبئی کے وکٹورین گوتھک اور آرٹ ڈیکو کے جوڑ
|
مہاراشٹر
|
ثقافتی
|
|
2019
|
جے پور سٹی
|
راجستھان
|
ثقافتی
|
|
2021
|
دھولاویرا: ہڑپہ کا ایک شہر
|
گجرات
|
ثقافتی
|
|
2021
|
کاکتیہ رودریشورا (رامپا) مندر
|
تلنگانہ
|
ثقافتی
|
|
2023
|
ہوئیسالا کے مقدس جوڑ
|
کرناٹک
|
ثقافتی
|
|
2023
|
شانتی نکیتن
|
مغربی بنگال
|
ثقافتی
|
|
2024
|
موئڈیمس - آہوم خاندان کا ٹیلے کو دفن کرنے کا نظام
|
آسام
|
ثقافتی
|
|
2025
|
ہندوستان کے مراٹھا فوجی مناظر
|
مہاراشٹر، تمل ناڈو
|
ثقافتی
|
|
2026
|
سارناتھ کا قدیم بدھ مت کا مقام
|
اتر پردیش
|
ثقافتی
|
ہندوستان کے گراں قدر ثقافتی ورثے کے فروغ کے لیے حکومتی اقدامات
ہندوستان نے اپنے وسیع ثقافتی اور قدرتی ورثے کے تحفظ، بحالی اور فروغ کے لیے متعدد اہم اقدامات کیے ہیں۔ یہ اقدامات ملک کی لازوال روایات اور تاریخی خزانوں کو محفوظ رکھنے کے حکومتی عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔ تحفظ و بحالی، ڈجیٹلائزیشن، بین الاقوامی تعاون اور عوامی شمولیت کے ذریعے ہندوستان کے گراں قدر ورثے کی حفاظت کے لیے منظم کوششیں جاری ہیں۔
نوادرات کی وطن واپسی
ہندوستان اب تک 669 نوادرات وطن واپس لا چکا ہے، جن میں سے 656 نوادرات 2014 کے بعد واپس لائے گئے۔ اس عمل میں وزارت ثقافت، محکمۂ آثار قدیمہ، بیرون ملک ہندوستانی سفارتی مشنز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
حال ہی میں امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والے 657 ہندوستانی نوادرات ہندوستانی سفارت خانہ کے حوالے کیے۔ وطن واپس لائے جانے والے اہم نوادرات میں چولا عہد کا شیو نٹ راج، سنت سندرار کا پرویائی کے ساتھ مجسمہ اور سوماسکند شامل ہیں۔
اپنائیں ایک ورثہ
ستمبر2017 میں شروع کیے گئے اس پروگرام کو ستمبر 2023 میں ازسرنو تشکیل دے کر‘اپنائیں ایک ورثہ 2.0’ کے نام سے متعارف کرایا گیا۔ اس پروگرام کے تحت نجی کمپنیوں، سرکاری شعبے کے اداروں، غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز)، ٹرسٹس اور انجمنوں کے ساتھ اشتراک عمل کے لیے ایک منظم فریم ورک فراہم کیا گیا ہے۔
اس پروگرام کا بنیادی مقصد قومی اہمیت کی حامل محفوظ تاریخی یادگاروں میں زائرین کے لیے موزوں سہولیات کی ترقی اور دیکھ بھال کو یقینی بنانا ہے۔ اس مقصد کے لیے کارپوریٹ سماجی ذمہ داری(سی ایس آر) کے تحت مالی معاونت اور دیگر ذرائع سے تعاون حاصل کیا جاتا ہے، تاکہ تاریخی مقامات پر آنے والے سیاحوں اور زائرین کے تجربے کو بہتر بنایا جا سکے۔
|
مارچ 2026 تک‘‘اپنائیں ایک ورثہ 2.0’’ پروگرام کے تحت مجموعی طور پر 30 مفاہمتی یادداشتوں(ایم او یوز) پر دستخط کیے جا چکے ہیں۔
|

یہ پروگرام تاریخی مقامات کے بہتر انتظام اور عوامی شمولیت میں اضافے کے حوالے سے نمایاں نتائج پیش کر رہا ہے۔ اس کا اظہار ان تاریخی یادگاروں پر آنے والے زائرین کی بڑی تعداد سے ہوتا ہے جنہیں اس پروگرام کے تحت اپنایا گیا ہے۔ مالی سال 2024–25 کے دوران ان مقامات پر مجموعی طور پر ایک کروڑ 35 لاکھ 90 ہزار زائرین کی آمد ریکارڈ کی گئی۔
یہ اعداد و شمار تاریخی ورثے کے مقامات میں عوام کی گہری دلچسپی کی عکاسی کرتے ہیں۔ ساتھ ہی،یہ اس امر کی نشاندہی بھی کرتے ہیں کہ پروگرام کے تحت بہتر سہولیات، خدمات اور موقع پر فراہم کی جانے والی معاونت، زائرین کے تجربے کو بہتر بنانے اور ان کی شمولیت بڑھانے میں معاون ثابت ہو رہی ہیں۔
گیان بھارتَم مشن
سن 2025 میں شروع کیا گیا گیان بھارتَم مشن حکومت ہندوستان کا ایک اہم اور مرکزی پروگرام ہے، جس کا مقصد ملک کے وسیع قلمی نسخوں کے ورثے کو محفوظ بنانا، ڈجیٹل شکل میں منتقل کرنا اور عام لوگوں تک پہنچانا ہے۔ یہ مشن قلمی نسخوں میں محفوظ قدیم علمی روایات اور نظام ہائے علم کے تحفظ پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ اس کے تحت ڈجیٹل ذخائر اور تحفظ کے نیٹ ورکس کے ذریعے ان نسخوں کو تحقیقی مقاصد اور عوامی استفادے کے لیے قابل رسائی بنایا جا رہا ہے۔
یہ اقدام ان نازک اور قدیم قلمی نسخوں کے تحفظ کے لیے جدید ٹیکنالوجی کو بھی بروئے کار لاتا ہے، تاکہ انہیں محفوظ رکھتے ہوئے دنیا بھر کے محققین اور عام قارئین کے لیے دستیاب بنایا جا سکے۔
مزید برآں، قلمی نسخوں کی شناخت، دستاویز بندی اور ان کا جامع قومی ڈیٹا بیس تیار کرنے کے لیے مارچ 2026 میں قومی سروے برائے قلمی نسخہ جات(این ایم ایس) بھی شروع کیا گیا۔ اس سروے کے دوران اب تک 1.19 کروڑ سے زائد قلمی نسخوں کی اطلاع موصول ہو چکی ہے۔
ملک بھر میں ڈجیٹل شکل میں محفوظ کیے گئے قلمی نسخوں کی مجموعی تعداد 8 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ ان میں سے 4 لاکھ 40 ہزار سے زائد نسخے اس وقت گیان بھارتَم پورٹل پر عوامی رسائی کے لیے دستیاب ہیں، جہاں انہیں مطالعے کے موڈ میں دیکھا جا سکتا ہے اور ریاست کے لحاظ سے بھی تلاش کیا جا سکتا ہے۔
قومی آرکائیوز آف انڈیا بھی ‘ابھیلیکھ پٹَل’ پورٹل کے ذریعے تاریخی دستاویزات کو ڈجیٹل شکل میں محفوظ کر رہا ہے۔ فروری 2026 تک اس پورٹل پر تقریباً 18.23 کروڑ صفحات، 0.73 کروڑ حوالہ جاتی مواد اور 0.38 کروڑ ڈجیٹل ریکارڈ دستیاب تھے۔
قومی مشن برائے یادگار اور نوادرات
قومی مشن برائے یادگاروں اور نوادرات(این ایم ایم اے) ، محکمۂ آثار قدیمہ، ہندوستان ( اے ایس آئی) کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے۔ یہ مشن ہندوستان کے تعمیر شدہ تاریخی ورثے اور نوادرات کا ایک مستند قومی ڈیٹا بیس تیار کرکے ان کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
اس مشن کا بنیادی مقصد ملک بھر کی تاریخی یادگاروں اور نوادرات کی دستاویز بندی کرنا اور ان کی جامع فہرست مرتب کرنا ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں حاصل ہونے والی معلومات تحفظ سے متعلق منصوبہ بندی، ترجیحات کے تعین اور جاری اقدامات کی نگرانی میں براہ راست معاون ثابت ہوتی ہیں، جس سے تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے زیادہ منظم اور مؤثر حکمت عملی اختیار کرنے میں مدد ملتی ہے۔
|
مارچ - 2026 تک، قومی مشن برائے یادگاروں اور نوادرات(ایم ایم ایم اے) کے تحت تعمیر شدہ ورثے اور تاریخی مقامات سمیت مجموعی طور پر 1.84 لاکھ یادگاروں کی دستاویز بندی کی جا چکی ہے۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں17.20 لاکھ نوادرات کا بھی ریکارڈ مرتب کیا گیا ہے۔
|
ماضی کا تحفظ، مستقبل کی تشکیل
ہندوستان کا ثقافتی ورثہ ایک زندہ میراث ہے، جو نسل در نسل لوگوں کو تحریک دینے، علم و آگہی فراہم کرنے اور باہمی روابط کو مستحکم بنانے کا ذریعہ بنتا رہا ہے۔ سارناتھ کا عالمی ورثے کی فہرست میں اندراج اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ غیر معمولی اہمیت کے حامل مقامات کو محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ تعلیم، ثقافتی تبادلے اور پائیدار ترقی کے فروغ میں ان کے کردار کو بھی مزید مستحکم کیا جائے۔
مستقبل کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے، ہندوستان کے لیے اپنے ثقافتی ورثے کا تحفظ بدستور کلیدی اہمیت کا حامل رہے گا، تاکہ ملک کی تہذیبی میراث کو محفوظ رکھتے ہوئے اسے عالمی برادری کے ساتھ بھی مشترک کیا جا سکے۔
حوالہ جات
Ministry of Culture
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2260755®=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2243788®=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2289399®=48&lang=1
https://culture.gov.in/ministry/about-us
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2293807®=48&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=158940&ModuleId=3®=48&lang=2
https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/187/AU2704_e4BQSu.pdf?source=pqals
UNESCO
https://www.unesco.org/en/world-heritage
https://whc.unesco.org/en/statesparties/in
https://whc.unesco.org/en/list/stat#s2
https://whc.unesco.org/en/list/
Department of Culture, Uttar Pradesh
https://www.facebook.com/photo?fbid=1356550013329538&set=pcb.1356550116662861
https://www.facebook.com/photo/?fbid=1356550016662871&set=pcb.1356550116662861
https://www.facebook.com/photo/?fbid=1356550023329537&set=pcb.1356550116662861
Click here for pdf file
*****
ش ح-ظ الف-ش ب ن
UR No. 6675