نیتی آیوگ
azadi ka amrit mahotsav

’’ہم ریاستی دارالحکومتوں سے شہروں کا انتظام نہیں چلا سکتے: ’’نیتی آیوگ کے رکن جناب راجیو گوبا کا دوسرے قومی شہری کانکلیو سے خطاب، ہندوستان کی ترقی کی صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے بااختیار شہری حکومتوں پر زور

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 25 OCT 2026 2:15PM by PIB Delhi

نیتی آیوگ کے رکن جناب راجیو گوبا نے دوسرے قومی شہری کانکلیو کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ترقی یافتہ ہندوستان 2047 کے تصور کو حقیقت میں بدلنے کے لیے شہری نظم و نسق، منصوبہ بندی اور مالیات کے شعبوں میں جامع اصلاحات کی فوری ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔

ہندوستان میں آبادی اور شہری آبادی کی بڑھتی ہوئی منتقلی کے پیمانے پر زور دیتے ہوئے جناب گوبا نے کہا کہ ہندوستان کی آبادی میں آئندہ کئی دہائیوں تک اضافہ جاری رہے گا اور 2060 کے آس پاس یہ تقریباً 165 کروڑ پر مستحکم ہو جائے گی۔ 2050 تک ہندوستان کی تقریباً نصف آبادی کے شہری علاقوں میں رہنے کی توقع ہے، جس کے نتیجے میں شہری آبادی موجودہ تقریباً 50 کروڑ سے بڑھ کر 85 کروڑ ہو جائے گی۔ شہری آبادی کی بنیادی ڈھانچے، رہائش اور بنیادی خدمات سے متعلق ضروریات پوری کرنے کے لیے شہروں کی منصوبہ بندی، نظم و نسق اور مالی وسائل کی فراہمی کے طریقوں میں بنیادی تبدیلی درکار ہوگی۔

شہروں کو اقتصادی ترقی کے مراکز قرار دیتے ہوئے، جہاں صلاحیتیں، سرمایہ اور خیالات یکجا ہوتے ہیں، انہوں نے کہا کہ منصوبہ بند شہری بستیوں کی شاندار تاریخ کے باوجود آزادی کے بعد شہروں کو نسبتاً نظر انداز کیا گیا۔ 2014 کے بعد اسمارٹ سٹیز، امرت، پردھان منتری آواس یوجنا، سوچھ بھارت اور شہری روزگار مشن جیسی متعدد بڑی اسکیموں کے ذریعے مربوط کوششیں کی گئی ہیں۔ شہری شعبے کے لیے بجٹ میں مختص رقم 10 گنا بڑھ گئی ہے۔ میٹرو ریل اور بس نظاموں میں تقریباً 3.7 لاکھ کروڑ روپے کی خطیر سرمایہ کاری کی گئی ہے۔

انہوں نے نیتی آیوگ کے گروتھ ہب اقدام کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ شہروں کو ترقی کے مراکز کے طور پر فروغ دینے کے لیے 2025-26 کے بجٹ میں ایک لاکھ کروڑ روپے کے شہری چیلنج فنڈ کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس سال کے بجٹ میں 7 شہری اقتصادی خطوں میں سے ہر ایک کے لیے 5,000 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جو پانچ سال کے دوران فراہم کیے جائیں گے۔

جناب گوبا نے اس بات پر زور دیا کہ خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے اور شہریوں کی مؤثر شرکت یقینی بنانے کے لیے حقیقی معنوں میں بااختیار شہری حکومتوں کا قیام ضروری ہے۔ نیتی آیوگ اور وزارتِ ہاؤسنگ و شہری امور کی مشترکہ طور پر تیار کردہ رپورٹ ’’مؤثر شہری نظم و نسق کی جانب پیش رفت‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے مطالبہ کیا کہ شہروں میں 5 سالہ مدت کے لیے براہِ راست منتخب میئر مقرر کیے جائیں، میئر اِن کونسل کا نظام متعارف کرایا جائے اور بلدیاتی انتخابات بروقت یقینی بنائے جائیں۔ انہوں نے اس ضرورت پر زور دیا کہ ریاستیں 74ویں آئینی ترمیم کے مطابق شہری بلدیاتی اداروں کو تمام 18 تفویض کردہ امور منتقل کریں، جن میں ماسٹر پلان کی تیاری، پانی کی فراہمی، آتش زدگی سے تحفظ کی خدمات اور ٹریفک کا انتظام شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی دارالحکومتوں سے شہروں کا مؤثر نظم و نسق نہیں چلایا جا سکتا۔ شہری حکومتوں کو مقامی ضروریات کے مطابق اقدامات کرنے کے لیے اختیارات اور ادارہ جاتی صلاحیت حاصل ہونی چاہیے۔ اسی سے شہریوں کی بامعنی شرکت یقینی بنائی جا سکتی ہے۔

جناب گوبا نے اس بات کی نشان دہی کرتے ہوئے کہ بلدیاتی اداروں کی آمدنی اب بھی کم ہے، جائیداد ٹیکس اور صارفین سے وصول کیے جانے والے چارجز کی وصولی بہتر بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ شہری بلدیاتی اداروں کے لیے مرکزی مالیاتی کمیشن کی گرانٹس سابقہ مختص رقم کے مقابلے میں دو گنا سے زیادہ ہو گئی ہیں اور ان کا حصہ 36 فیصد سے بڑھ کر 45 فیصد ہو گیا ہے، لیکن ریاستوں کی جانب سے شہروں کو فنڈز کی منتقلی اب بھی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی مالیاتی کمیشن باقاعدگی سے تشکیل دیے جانے چاہئیں اور شہری بلدیاتی اداروں کو مناسب مالی وسائل کی منتقلی یقینی بنائی جانی چاہیے۔

شہری منصوبہ بندی اور رہائش کے موضوع پر جناب گوبا نے موجودہ منصوبہ بندی کے طریقۂ کار میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے محدود کرنے والے فلور ایریا ریشو (ایف اے آر) اور عمارتوں سے متعلق ضوابط میں اصلاحات پر زور دیا، جو زمین کی دستیابی محدود کرتے ہیں اور رہائشی و تجارتی صارفین کے لیے اخراجات بڑھاتے ہیں۔ انہوں نے زمین کی دستیابی بڑھانے اور رہائش کے ساتھ ساتھ اقتصادی سرگرمیوں کی لاگت کم کرنے کے لیے مخلوط استعمال پر مبنی زوننگ، نقل و حمل کے مراکز کے آس پاس ترقی اور زمین کی مشترکہ تجمیع کو اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے نقل مکانی کرکے آنے والے مزدوروں، صنعتی کارکنوں، طلبہ اور نوجوان پیشہ ور افراد کے لیے سستے کرایے کے مکانات کی اہمیت کو اجاگر کیا اور ریاستوں پر زور دیا کہ وہ کرایے کے مکانات کی دستیابی بڑھانے کے لیے نمونہ قانون برائے کرایہ داری (ماڈل ٹیننسی ایکٹ) اپنائیں۔

اپنے خطاب کے اختتام پر جناب گوبا نے کہا کہ ریاستیں نئے بلدیاتی قوانین نافذ کرکے ان تمام اصلاحات کو عملی جامہ پہنا سکتی ہیں۔ انہوں نے وزارتِ ہاؤسنگ و شہری امور پر زور دیا کہ شہری مشنوں کے تحت فراہم کی جانے والی معاونت کو ان اصلاحات سے منسلک کرکے ان پر عمل درآمد یقینی بنائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کے شہری ترقیاتی امکانات کو بروئے کار لانے اور ترقی یافتہ ریاستوں اور ترقی یافتہ ہندوستان کے تصور کو حقیقت میں بدلنے کے لیے بااختیار شہری حکومتیں ناگزیر ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image001_20261025134833_ea04d2.jpg

***

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-6659


(ریلیز آئی ڈی: 2328205) وزیٹر کاؤنٹر : 8