پوسٹ کرنے کی تاریخ:
24 OCT 2026 8:11PM by PIB Delhi
مدھیہ پردیش کے وندھیا خطے میں ریل کنیکٹیوٹی کی توسیع میں آج ایک تاریخی سنگ میل حاصل کیا گیا۔ جناب مرکزی وزیر برائے ریلوے جناب اشونی ویشنو اور مدھیہ پردیش کے وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی موجودگی میں، ستنا-دیویندر نگر اور ریوا-چرہٹ ریل سیکشنز کا اِفتتاح کیا گیا۔ اس موقع پر، نئی دیویندر نگر-چرہٹ مسافر ٹرین سروس کو بھی جھنڈی دکھاکر روانہ کیا گیا۔ ریلوے وزیر جناب اشونی ویشنو نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے نئی دہلی سے اس پروگرام میں شرکت کی۔

چرہٹ ریلوے اسٹیشن پر منعقدہ پروگرام میں مدھیہ پردیش کے نائب وزیرِ اعلیٰ جناب راجندر شکلا، ریوا سے رکن پارلیمنٹ جناب جناردن مشرا، سدھی سے رکن پارلیمنٹ جناب راجیش مشرا، دیگر عوامی نمائندوں اور معززین کے ساتھ شریک ہوئے۔ ناگود ریلوے اسٹیشن پر منعقدہ پروگرام میں مدھیہ پردیش سرکار میں وزیرِ مملکت محترمہ پرتیما باگری، ستنا سے رکن پارلیمنٹ جناب گنیش سنگھ، کھجوراہو سے رکن پارلیمنٹ جناب وشنو دت شرما، دیگر عوامی نمائندوں اور معززین کے ساتھ شریک ہوئے۔
ریلوے وزیر جناب اشونی ویشنو نے کہا کہ بہتر ریل کنیکٹیوٹی وندھیا اور بندیل کھنڈ کے علاقوں کے لیے ایک نئی لائف لائن قائم کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ منصوبہ ایک دیرینہ مطالبہ کو پورا کرے گا اور خطے کے لوگوں کے لیے تعلیم، روزگار اور صحت کی خدمات تک رسائی کو بہتر بنائے گا۔
جناب ویشنو نے ملک بھر میں ریلوے کنیکٹیوٹی کی توسیع کا حوالہ دیا اور سری نگر، میزورم اور پامبن پل پر کیے گئے کام کو اجاگر کیا۔ انھوں نے چھتیس گڑھ میں راؤگھاٹ اور مدھیہ پردیش میں ٹانڈا روڈ کو ریلوے نیٹ ورک سے جوڑنے کی حالیہ کام یابی کا بھی ذکر کیا۔
للت پور-سنگرولی ریلوے پروجیکٹ کے تحت دیویندر نگر-ستنا اور ریوا-چرہٹ ریل سیکشنز پر ریل آپریشنز کا آغاز وندھیا اور بندیل کھنڈ کے علاقوں میں کنیکٹیوٹی کو مزید مضبوط کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ بہتر ریل کنیکٹیوٹی مدھیہ پردیش میں صنعتی ترقی کو تیز کرے گی اور اقتصادی سرگرمیوں کو وسعت دے گی۔
ریلوے وزیر موصوف نے بیان کیا کہ مدھیہ پردیش میں تقریباًً 1 لاکھ کروڑ روپے کے ریلوے منصوبے زیرِ تکمیل ہیں۔ ان میں نئی ریلوے لائنیں، ڈبلنگ، تیسری اور چوتھی ریلوے لائنوں کی تعمیر، اور گیج کی تبدیلی کے منصوبے شامل ہیں۔ للت پور-سنگرولی، ستنا-ریوا، کٹنی-سنگرولی، جبل پور-گونڈیا، بینا-بھوپال-اِٹارسی، اِٹارسی-ناگپور، رتلام-کھنڈوا، اندور-بدنی، اندور-داہود اور اندور-منماد جیسے ریلوے سیکشنز پر کام کیا جا رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ان منصوبوں کی تکمیل ریاست میں نئی ٹرین خدمات کے آغاز کی راہ ہم وار کرے گی۔ آنے والے برسوں میں، 100 سے زیادہ لمبی دوری کی ٹرینیں اور 50 سے 60 مختصر دوری کی ٹرین خدمات، جیسے میمو اور انٹرسٹی ٹرینیں، شروع کی جا سکتی ہیں۔
اسٹیشن کی دوبارہ ترقی کے حوالے سے، جناب ویشنو نے بیان کیا کہ کھجوراہو اسٹیشن کو مدھیہ پردیش کی ثقافت اور ورثے کی عکاسی کرنے والے فنِ تعمیر کے ساتھ تیار کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، اشوک نگر، بالاگھاٹ، بیوہاری، نین پور، نرمدا پورم، چھتر پور، اورچھا، شیو پوری، ہرپال پور، چھندواڑا اور سیونی سمیت کئی اسٹیشنوں پر دوبارہ ترقی کا کام کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ ریاست میں تقریباًً 80 ریلوے اسٹیشنوں کو دوبارہ ترقی کے پروگرام میں شامل کیا گیا ہے۔
ریلوے پروجیکٹ سے وابستہ ماحولیاتی وعدوں پر زور دیتے ہوئے، ریلوے وزیر موصوف نے انا خطے میں درختوں کی کٹائی کا حوالہ دیا۔ انھوں نے بیان کیا کہ کاٹے گئے درختوں کی تعداد سے زیادہ پودے لگانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ انھوں نے جنرل منیجر، ڈوژنل ریلوے منیجر اور ضلع مجسٹریٹ کو ہدایت دی کہ وہ موقع پر جا کر پودے لگانے کا معائنہ کریں، لگائے گئے پودوں کی بقا کو یقینی بنائیں اور جہاں ضرورت ہو نئے پودے لگائیں۔
مدھیہ پردیش کے وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے پروگرام کے دوران کہا کہ نئی ریل کنیکٹیوٹی بندیل کھنڈ اور وندھیا کے علاقوں کے لیے ایک نئی شروعات کی علامت ہے، جو ان علاقوں تک ریلوے خدمات لا رہی ہے جو ریل سے منسلک نہیں تھے۔ انھوں نے اس موقع کو خطے کے لوگوں کے لیے دیوالی کا تحفہ قرار دیا۔
ڈاکٹر یادو نے کہا کہ 541 کلومیٹر طویل للت پور-سنگرولی ریلوے پروجیکٹ اتر پردیش اور مدھیہ پردیش کے درمیان کنیکٹیوٹی کو مضبوط کرے گا، جس سے للت پور، چھتر پور، پنا، ستنا، ریوا، سدھی اور سنگرولی کے علاقوں کو فائدہ پہنچے گا۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ بہتر ریل کنیکٹیوٹی کسانوں کو بڑی منڈیوں تک رسائی فراہم کرے گی، صنعتوں کے لیے مال برداری کو آسان بنائے گی، نوجوانوں اور طلبہ کے لیے مواقع پیدا کرے گی، صحت کی خدمات تک رسائی کو بہتر بنائے گی اور سیاحت کو فروغ دے گی۔ انھوں نے کہا کہ کنیکٹیوٹی معدنیات سے ثروت مند بندیل کھنڈ کے علاقے میں اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دے گی، خاص طور پر پنا میں ہیرے کی تجارت کو فائدہ پہنچائے گی۔ انھوں نے مدھیہ پردیش میں جاری ریلوے منصوبوں کی بھی ستائش کی، جن میں اومکاریشور جیوترلنگا-کھنڈوا ریلوے لائن شامل ہے۔
ریوا-چرہٹ ریلوے لائن سے سدھی ضلع کو فائدہ پہنچے گا
ریوا سے چرہٹ تک تقریباًً 65 کلومیٹر طویل نئی ریلوے لائن تقریباًً 1,070 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کی گئی ہے۔ یہ منصوبہ رام پور نائکن اور چرہٹ کے درمیان آخری تقریباًً 22.5 کلومیٹر ریلوے لائن سیکشن کی تکمیل کے ساتھ مکمل ہوا۔ چرہٹ تک ریل کنیکٹیوٹی کی توسیع کے ساتھ، سدھی ضلع کے باشندوں کو قومی ریلوے نیٹ ورک سے منسلک ہونے کا موقع ملا ہے۔
یہ ریلوے لائن خطے کے لیے محض نقل و حمل کا ایک نیا ذریعہ نہیں بلکہ ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنے کا بھی ایک ذریعہ ہے۔ یہ طلبہ کو تعلیمی اداروں تک، مریضوں کو بہتر طبی سہولیات تک، اور نوجوانوں اور کام کرنے والے پیشہ ور افراد کو روزگار اور کاروباری مواقع تک رسائی فراہم کرے گی۔ خطے میں چونا پتھر اور دیگر معدنیات کی دستیابی کے ساتھ ساتھ سیمنٹ کی صنعت کی صلاحیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، ریل کنیکٹیوٹی سے صنعتی سرگرمیوں اور مال برداری کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔
ستنا-دیویندر نگر ریلوے لائن صنعتی اور دیہی معیشت کو فروغ دے گی
ستنا سے دیویندر نگر تک تقریباًً 53 کلومیٹر طویل نئی ریلوے لائن تقریباًً 873 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کی گئی ہے۔ یہ پروجیکٹ پھلواری اور دیویندر نگر کے درمیان آخری 8 کلومیٹر ریلوے لائن سیکشن کی تکمیل کے ساتھ مکمل ہوا۔
ستنا اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں چونا پتھر، سیمنٹ اور دیگر معدنیات پر مبنی صنعتوں کی نمایاں موجودگی ہے۔ بہتر ریل کنیکٹیویٹی سیمنٹ، کلینکر اور دیگر سامان کی نقل و حمل میں سہولت فراہم کرنے میں مدد کرے گی۔ اس سے صنعتوں کے لاجسٹکس انتظامات میں بہتری آئے گی، سڑک پر مبنی مال برداری پر انحصار کم ہوگا اور مستقبل میں صنعتی سرگرمیوں کی توسیع کے امکانات بڑھیں گے۔
ریل کنیکٹیویٹی دیویندر نگر، ناگود اور پنا خطوں کے کسانوں اور دیہی تاجروں کو بڑی منڈیوں تک رسائی کے بہتر اختیارات بھی فراہم کرے گی۔ ریلوے کنیکٹیویٹی زرعی پیداوار، مقامی مصنوعات اور دستکاری کو وسیع تر منڈیوں تک پہنچانے میں مدد کرے گی۔ اس کے علاوہ، گودام، نقل و حمل، تجارت اور دیگر متعلقہ سرگرمیوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کا امکان ہے۔
نئی مسافر ٹرین سروس طلبہ، مریضوں اور روزانہ سفر کرنے والوں کے لیے سہولت فراہم کرے گی
نئی دیویندر نگر-چرہٹ-دیویندر نگر مسافر ٹرین سروس کے آغاز کے ساتھ، متعلقہ علاقوں کے مسافروں کو ستنا اور ریوا کے ذریعے بہتر ریل کنیکٹیویٹی حاصل ہوگی۔ یہ طلبہ، کام کرنے والے پیشہ ور افراد، تاجروں، مریضوں، کسانوں اور دیگر روزانہ سفر کرنے والوں کے لیے سفر کا ایک آسان اختیار فراہم کرے گا۔
نئی ریل کنیکٹیویٹی مقامی زرعی پیداوار، پتھر کے دستکاری، دستکاری اور دیگر مصنوعات کو بڑی منڈیوں تک پہنچانے کے امکانات کو بھی بڑھائے گی۔ اس سے مقامی تجارت، نقل و حمل، خوراک کی خدمات اور دیگر چھوٹے کاروباروں کو فروغ مل سکتا ہے۔
سیاحت کو فروغ ملے گا، مقامی روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا
وندھیا اور بندیل کھنڈ کے علاقے اپنی قدرتی خوب صورتی، تاریخی ورثے اور ثقافتی اہمیت کے متعدد مقامات کے لیے جانے جاتے ہیں۔ بہتر ریل کنیکٹیویٹی پنا، کھجوراہو، ریوا اور آس پاس کے علاقوں میں سیاحتی مقامات تک رسائی میں سہولت فراہم کرنے میں مدد کرے گی۔
خطے کے اہم سیاحتی مقامات میں وائٹ ٹائیگر سفاری، مکند پور، چاچائی اور بہوتی آبشار، ریوا قلعہ اور گوبند گڑھ شامل ہیں۔ بہتر ریل کنیکٹیویٹی سے ان مقامات تک سفر زیادہ آسان ہونے اور علاقائی سیاحت کو فروغ ملنے کی امید ہے۔ سیاحوں کی آمدورفت میں اضافے سے ہوٹلوں، مقامی نقل و حمل کی خدمات، گائیڈز، دستکاری اور چھوٹے کاروباروں کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
***
(ش ح - ع ا)
U.No. 6654