وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

مورخہ 25 اکتوبر 2026 کو ’من کی بات‘ کی 139ویں  قسط میں وزیرِ اعظم کے خطاب کا اردو ترجمہ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 25 OCT 2026 11:45AM by PIB Delhi

میرے پیارے ہم وطنو،

’من کی بات‘ میں ایک بار پھر آپ کا خیرمقدم ہے۔ بارہ سال قبل، وجے دشمی کے پُر مسرت موقع پر، ہم نے ’من کی بات‘ کا افتتاح کیا تھا۔ تب سے، ہمارا یہ سفر بلا تعطل جاری ہے۔ آپ اس راستے پر میرے ہم سفر بھی ہیں اور میرے رہ نما بھی۔ ساتھیو، میرے لیے، ’من کی بات‘ ہمارے ملک کے عام لوگوں کی محنت، بہادری، عزم، لگن اور خدمت کے جذبے کو فخر کے ساتھ سراہنے کا ایک مبارک موقع رہا ہے۔ ہمارے ملک میں تیرتھ یاترا کی ایک دیرینہ روایت رہی ہے۔ ’من کی بات‘ میرے لیے کسی تیرتھ یاترا سے کم نہیں ہے - یہ ہمارے لوگوں کی کوششوں کو قریب سے سمجھنے اور ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا ایک سفر ہے۔ ساتھیو، جو لوگ سماج اور قوم کے لیے جیتے ہیں، وہ بذاتِ خود ایک ’تیرتھ‘ کے مانند ہیں۔ ان 12 برسوں میں، ملک کے ہر کونے سے بہت سے ایسے افراد سامنے آئے ہیں جن کے غیر معمولی کام پر اکثر بڑے پیمانے پر سماج کی نظر نہیں پڑتی۔ ’من کی بات‘ نے ایسی بے شمار، متاثر کن کہانیوں کو آپ سب تک پہنچانے کا فریضہ انجام دیا ہے۔

ساتھیو،

اس پروگرام کے توسط سے، میں ایک طرح سے ’عوام کی اجتماعی طاقت‘ یعنی ہمارے ملک کی لوک شکتی کو خراجِ عقیدت پیش کر رہا ہوں۔ یہ مجھے ملک بھر کے ہر خاندان سے جڑنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ مجھے سینکڑوں پیغامات موصول ہوتے ہیں جن میں لوگ یہ بتاتے ہیں کہ ’من کی بات‘ سننے سے انھیں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے میں ان کے درمیان ہوں - ان کے اپنے اہلِ خانہ کے ایک فرد کی طرح - گفت و شنید کر رہا ہوں۔ میرے لیے، یہ گہرا تعلق اور آپ سب - میرے سامعین - کے ذریعے دکھایا گیا پیار ایک انمول خزانہ ہے۔

میرے پیارے ہم وطنو،

ہمارے ملک میں متعدد روایتی ہنر موجود ہیں جو نسل در نسل ہماری شناخت کا حصہ رہے ہیں۔ یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ اب ان روایات کو متنوع اور اختراعی طریقوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے، جس سے وہ ارتقا پذیر ہو کر عصرِ حاضر سے متعلقہ رہ سکیں۔ پنجاب میں ایک ایسی ہی پہل کچھ عرصے سے جاری ہے؛ ’کھیتی وراثت مشن‘ نامی ایک تنظیم نے نامیاتی کاشتکاری اور روایتی زرعی طریقوں میں نئی روح پھونکنا شروع کر دیا ہے۔ اس ٹیم کا مقصد پنجاب کے مالوا علاقے میں قدرتی کپاس کی کاشت کو فروغ دینا تھا۔ اس پہل کو ’نو-ترنجن‘ کا نام دیا گیا۔

اس منصوبے کے تحت، وہاں نامیاتی کپاس کی کاشت بغیر کسی کیمیائی مادے کے استعمال کے کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، وہ ایسی کپاس بھی اگاتے ہیں جس میں قدرتی رنگ موجود ہوتے ہیں، جس سے تیار شدہ سوت یا کپڑے کو رنگنے کے لیے اضافی کیمیکلز کی ضرورت نہیں رہتی۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ ماحولیات کے تحفظ کی جانب ایک کتنی اہم پیش رفت ہے۔

ساتھیو،

چند سال قبل، ’نو-ترنجن‘ نے بُنائی کے فن کو آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے کے مقصد سے ایک بُنائی اسکول بھی قائم کیا تھا۔ اس اسکول نے متعدد خواتین کی زندگیوں میں نمایاں تبدیلی لائی ہے۔ رمن دیپ کور جی اس کی ایک روشن مثال ہیں؛ وہ پہلے ایک مزدور کے طور پر کام کرتی تھیں، لیکن اس اسکول سے تربیت حاصل کرنے کے بعد اب وہ ایک ہنر مند بُنکر کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ ریکھا رانی جی نے تربیت سے قبل کبھی ہتھ کرگھا دیکھا بھی نہیں تھا؛ ان کے بُنے ہوئے ایک شال کو صدرِ جمہوریہ بھارت کو پیش کیا گیا ہے۔ اسی طرح، سنیہا دیوی جی، جو کبھی گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرتی تھیں، اب ہتھ کرگھے پر نفیس کپڑے تیار کر رہی ہیں۔ رجنی کور جی، جو کھیتوں میں دستی مزدوری پر انحصار کرتی تھیں، نے اپنی نئی مہارتوں کی بدولت اپنے گھرانے کی کفالت میں خاطر خواہ مدد حاصل کی ہے۔

اس اسکول سے تربیت حاصل کرنے کے بعد، اب بہت سی خواتین دیسی نامیاتی کپاس سے بنے سوت کا استعمال کرتے ہوئے شالیں، تولیے اور دیگر ٹیکسٹائل تیار کر رہی ہیں۔ ان کوششوں سے ان کی زندگیوں میں خوشحالی آ رہی ہے۔ چند ماہ قبل، قومی ہتھ کرگھا دن کے موقع پر، مجھے بھی اس ٹیم سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا تھا۔ اس دوران، میں نے ان کے کام کے تئیں ان کے جذبے اور لگن کا مشاہدہ کیا۔ میں پوری ٹیم کو ایک روشن مستقبل کے لیے دلی نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔

میرے پیارے ہم وطنو،

فطرت کا احترام کرنا ہماری دیرینہ روایت رہی ہے۔ ہمارے آباؤ اجداد نے ہمیں سکھایا کہ اپنے ارد گرد صفائی برقرار رکھنا اور آبی وسائل کی دیکھ بھال کرنا ہماری اپنی ذمہ داری ہے۔ یہ دیکھ کر مجھے بے حد خوشی ہوتی ہے کہ ملک بھر میں بہت سے لوگ اس جذبے کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں۔ یہی جذبہ اتراکھنڈ کے ٹہری گڑھوال علاقے میں بھی نمایاں طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ وہاں کے لوگوں نے ایک دریا، ’ہیوال‘ دریا، میں نئی روح پھونکنے کی کوشش میں اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے۔ کچھ عرصہ قبل ہیوال دریا میں پانی کی سطح کم ہونا شروع ہو گئی تھی اور آس پاس کے قدرتی آبی وسائل بھی خشک ہو رہے تھے۔ اس صورت حال میں، مقامی انتظامیہ اور گاؤں والوں نے ہیوال دریا کو بچانے کے لیے ایک مشترکہ مہم کا افتتاح کیا۔

بارش کے پانی کو جمع کرنے، زیرِ زمین پانی کی سطح کو بہتر بنانے اور کثیر تعداد میں درخت لگانے کے اقدامات کیے گئے۔ آج انھی کوششوں کی بدولت ہیوال ندی کو از سرِ نو زندگی ملی ہے اور اس کے ساتھ ہی درجنوں قدرتی آبی ذخائر کی بحالی میں بھی مدد حاصل ہوئی ہے۔

ساتھیو،

جب کوئی معاشرہ ایسے جذبے کے ساتھ متحد ہوتا ہے تو تبدیلی یقینی طور پر رونما ہوتی ہے۔ اس کی جھلک ہمیں اپنے تہواروں میں بھی نظر آتی ہے۔ چند ہی دنوں میں دیوالی اور چھٹھ کے مبارک تہوار آنے والے ہیں، جن کے پیشِ نظر کئی مقامات پر صفائی مہم چلائی جا رہی ہے۔ یہ نہایت ضروری ہے کہ ہم اپنے رہنے کی جگہوں کو صاف ستھرا رکھیں۔ ہمارے چھوٹے چھوٹے انفرادی اقدامات ہی اپنے ماحول میں نمایاں تبدیلی لا سکتے ہیں۔

میرے پیارے ہم وطنو،

اِس تہوار کے موسم میں، آپ نے اپنے اِرد گِرد ایک نمایاں تبدیلی محسوس کی ہوگی۔ اب لوگ خریداری کرتے وقت سوادیشی مصنوعات کو غیر معمولی اہمیت دے رہے ہیں۔ ’ووکل فار لوکل‘ کا یہ جذبہ ہماری مصنوعات کو عالمی منڈیوں تک پہنچا رہا ہے۔

مثال کے طور پر، بہار کے پورنیہ سے مکھانا اب یونان تک پہنچ رہا ہے، اور کرناٹک کے کالبُرگی سے ارہر دال مالدیپ کو برآمد کی جا رہی ہے - اس کا مطلب ہے کہ بھارت کے کسانوں کے لیے نئی عالمی منڈیاں کُھل رہی ہیں۔ ساتھیو، مقامی مصنوعات پر گفتگو کرتے ہوئے، میں آپ کی توجہ ایک اور اہم پہلو کی جانب مبذول کرانا چاہوں گا: کسی بھی مصنوعات کی پیکیجنگ اس کے معیار کی طرح ہی اہمیت رکھتی ہے۔ اکثر اوقات، جب ہم بازار میں کوئی شے دیکھتے ہیں، تو اس کی پُرکشش پیکیجنگ ہی ہمیں اسے اٹھانے پر مائل کرتی ہے۔ ہم صرف اس کی پیکیجنگ دیکھ کر ہی کسی مصنوعات کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ اسی حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے، اب پیکیجنگ پر بڑھتا ہوا زور دیا جا رہا ہے۔

ساتھیو،

مہاراشٹر میں، قبائلی برادریوں نے اپنی تیار کردہ مصنوعات کی پیکیجنگ پر خصوصی توجہ دی ہے۔ وہاں، ’شبری نیچرلس‘ نامی ایک پہل کے تحت، شہد، مہوا، چرونجی اور بانس سے بنی اشیا کو بازار میں پیش کیا جا رہا ہے، جن کی پیکیجنگ قبائلی فن کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ جان کر آپ کو خوشی ہوگی کہ اس پیکیجنگ کو جاپان کا باوقار ’گڈ ڈیزائن ایوارڈ‘ حاصل ہوا ہے۔ ہمارے نوجوان بھی اس میدان میں نئے تجربات کر رہے ہیں؛ کرناٹک میں ایک ’بانس‘ اسٹارٹ اپ بانس اور زرعی باقیات سے پیکیجنگ کا سامان تیار کر رہا ہے۔

ساتھیو،

جب ہم مقامی مصنوعات کا تذکرہ کرتے ہیں تو کھادی کا ذکر لازمی ہو جاتا ہے۔ اس سال گاندھی جینتی کے موقع پر، کھادی گرام ادیوگ کی مصنوعات کی فروخت ایک ہی دن میں 28 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی۔ یہ گذشتہ سال کے مقابلے میں 1.5 کروڑ روپے کا اضافہ ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کھادی کی مقبولیت مسلسل بڑھ رہی ہے اور اس کے فوائد ان کاریگروں تک پہنچ رہے ہیں جن کی مہارت اور محنت کھادی اور دیگر دستکاریوں جیسی اشیا کو نئی زندگی بخشتی ہے۔

ساتھیو،

تہواروں کے اِس موسم میں ہم اپنے اہلِ خانہ اور عزیزوں کے لیے اکثر کئی اشیا خریدتے ہیں۔ اِس بار بھی خریداری کرتے وقت مقامی کاریگروں کی تیار کردہ مصنوعات کو ترجیح دیں؛ آپ کی یہ خریداری اُن کے حوصلے کو بلند کرے گی۔ محبت کا یہ احساس ’ووکل فار لوکل‘ تحریک کو مزید تقویت بخشے گا۔ جیسے جیسے یہ تحریک زور پکڑے گی، ’آتمِ نربھر بھارت‘ کا خواب اتنی ہی تیزی سے شرمندۂ تعبیر ہوگا۔ اِس مقصد کے لیے، میں ذاتی طور پر آپ سے مقامی کاریگروں کی دستکاریوں کو ترجیح دینے اور انھیں نمایاں کرنے کی اپیل کرتا ہوں۔

میرے پیارے ہم وطنو،

ہمارے عوام میں ایک قابلِ ذکر خصوصیت ہے کہ وہ نئی ٹیکنالوجی کو تیزی سے اپناتے ہیں۔ ہم قدرتی طور پر ٹیکنالوجی کو اپنی روزمرہ کی زندگی کا حصہ بنا لیتے ہیں، اور ’ای-سنجیوانی‘ یوجنا اس کی ایک بہترین مثال ہے۔ یہ اس بات کا مظہر ہے کہ کس طرح ٹیکنالوجی کو لوگوں کی زندگیوں کو آسان بنانے کے لیے مؤثر طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مجھے یہ دیکھ کر بے حد اطمینان ہوتا ہے کہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے اب تک تقریبا 50 کروڑ ٹیلی-کنسلٹیشنز کی جا چکی ہیں - یہ ایک بہت بڑی تعداد ہے۔ یہ ٹیکنالوجی کی طاقت، ہمارے ڈاکٹروں کے والہانہ جذبے، اور ہمارے ہم وطنوں کے نظام پر اعتماد کا ایک بہترین ثبوت ہے۔

ساتھیو،

آج، اپنے وسیع نیٹ ورک کے توسط سے، ’ای-سنجیوانی‘ سروس ملک کے دور دراز علاقوں تک رسائی حاصل کر چکی ہے۔ اس سے مستفید ہونے والے افراد کی کہانیاں آپ کو جذباتی کر دیں گی۔ انڈمان اور نکوبار جزائر میں، باراتانگ جزیرے سے تعلق رکھنے والے جاروا قبیلے کے اوہو-تاہانے کو شدید بخار تھا اور سانس لینے میں بھی دشواری پیش آ رہی تھی۔ اس صورت حال میں، مقامی صحت کارکنان نے ای-سنجیوانی کے ذریعے ایک ماہر ڈاکٹر سے مشورہ کیا۔ بچے کو نمونیا کی تشخیص ہوئی؛ ماہر ڈاکٹر کی دیکھ بھال میں آنے کے بعد اس کی حالت میں تیزی سے بہتری آنا شروع ہو گئی۔

ساتھیو،

لکشدیپ کے کالپینی میں، تقریبا 60 سالہ کنہی کویا نامی شخص اچانک بیمار پڑ گیا۔ ای-سنجیوانی کے ذریعے، کاوارتی میں سمندر پار موجود ایک تجربہ کار ڈاکٹر سے رابطہ قائم کیا گیا، جس نے مقامی طبی ٹیم کو رہ نمائی فراہم کی اور کنہی کویا کو راحت ملی۔ لداخ کے زنسکار میں، کنجنگ ڈولما کو حمل کے دوران کچھ پیچیدگیاں پیش آئیں؛ اس نازک صورت حال میں ای-سنجیوانی نے ان کی مدد کی، جس سے ایک ماہر ڈاکٹر فوری طور پر طبی امداد فراہم کر سکا۔ ناگالینڈ کے پیرن میں، 12 سالہ مشیم کان کے انفیکشن اور بخار میں مبتلا تھا؛ اسے بھی ای-سنجیوانی سے فائدہ پہنچا، جہاں ماہر ڈاکٹر نے اس کی حالت کی فوری تشخیص کی اور مناسب دوا تجویز کی۔

ساتھیو،

ایک وقت تھا جب معمولی طبی معائنہ یا ڈاکٹر سے ملاقات میں بھی کافی وقت لگتا تھا اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ آج، ملک بھر میں تقریبا 1,90,000 ’آیوشمان آروگیہ مندروں‘ نے عوام کی زندگیوں میں نئی سہولیات فراہم کی ہیں۔ یہ آروگیہ مندر ایک طرح سے گاؤں کی پنچایتوں کے لیے بہبود کے مراکز میں تبدیل ہو رہے ہیں۔

یہ جان کر انتہائی اطمینان ہوتا ہے کہ دیہی علاقوں کے افراد اب صحت مند رہنے کے لیے باقاعدگی سے طبی معائنہ کروا رہے ہیں، اور اس ضمن میں ’ای-سنجیوانی‘ ایک کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔

میرے پیارے ہم وطنو،

اِس ماہ کے اوائل میں، میں نے چنئی کا دورہ کیا، جہاں مجھے ملک کے متعدد سائنس دانوں، محققین اور نوجوان باصلاحیت افراد سے ملاقات کا موقع ملا۔ ہمارے نوجوان اِس وقت ایسے موضوعات پر تحقیق کر رہے ہیں جن میں پوری انسانیت کا مستقبل بدلنے کی صلاحیت موجود ہے؛ اِنہی میں سے ایک شعبہ ’دماغی تحقیق‘ ہے۔ اِسی سلسلے میں، میں نے آئی آئی ٹی مدراس میں ’سدھا گوپال کرشنن برین سینٹر‘ کا اِفتتاح کیا۔ اِس مرکز نے ایک ایسا دماغی امیجنگ ٹیکنالوجی پلیٹ فارم تیار کیا ہے جو عالمی معیار کا حامل ہے۔ اِس پلیٹ فارم کے ذریعے انسانی دماغ کی اعلیٰ ریزولوشن والی ڈیجیٹل تھری ڈی تصاویر بنائی جا رہی ہیں، جس کا مقصد 100 انسانی دماغوں کی باریک بینی سے نقشہ کشی اور اُن کا مطالعہ کرنا ہے۔ یہ دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا مشن ہے، اور اِس میں ’پرم شکتی‘ سپر کمپیوٹر کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

ساتھیو،

ملک کی صنعت نے، بھارت سرکار کے تعاون سے، اس دماغی مرکز کے قیام میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ آئی آئی ٹی کے متعدد سابق طلبہ اور تعلیمی اداروں نے بھی اس تحقیقی مرکز کی حمایت کے لیے اشتراک کیا ہے۔ یہ منصوبہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے، کیوں کہ سائنسی ترقی کے باوجود، انسانی دماغ اب بھی ایک بڑا سائنسی معمہ ہے۔ آج بھی، الزائمر اور ڈیمنشیا جیسی بیماریوں کا کوئی حتمی علاج موجود نہیں ہے۔ لہٰذا، انسانی دماغ کے افعال کے بارے میں ہماری سائنسی سمجھ جتنی گہری ہوگی، مستقبل میں تحقیق کے اتنے ہی نئے امکانات پیدا ہوں گے۔ یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ 100 انسانی دماغوں کا یہ ڈیٹا مختلف شعبوں میں تحقیق کے لیے ایک اوپن سورس وسیلے کے طور پر دستیاب کرایا جائے گا۔

ساتھیو،

اعضا کا عطیہ اس طرح کی جدید تحقیق میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ جو افراد اپنی حیات کے بعد اپنے اعضا عطیہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں، وہ نہ صرف کئی دیگر افراد کی جانیں بچاتے ہیں بلکہ تحقیق کے نئے امکانات بھی روشن کرتے ہیں۔ مدھیہ پردیش کے نرمداپورم سے تعلق رکھنے والی شیوانی جی اس کی ایک نمایاں مثال ہیں۔

شیوانی جی ایک سڑک حادثے کا شکار ہو گئی تھیں؛ اگرچہ اس حادثے نے ان کے اہلِ خانہ پر ایک عظیم سانحہ ڈھایا، لیکن اس مشکل گھڑی میں بھی انھوں نے ایک ایسا فیصلہ کیا جو ہم سب کے لیے باعثِ تحریک ہے - یہ فیصلہ شیوانی جی کے اعضا عطیہ کرنے کا تھا۔ شیوانی جی کے اہلِ خانہ کا یہ انتخاب معاشرے اور قوم کو ایک طاقتور پیغام دیتا ہے۔ انسانیت کا ایسا قدم ایک خاندان کی زندگی میں خوشیاں لوٹا سکتا ہے، جب کہ تحقیقی کوششوں کو بھی نمایاں مدد فراہم کرتا ہے۔

میرے پیارے ہم وطنو،

میں چنئی کے اپنے دورے کے کچھ دیگر تجربات بھی آپ سے بانٹنا چاہوں گا۔ پہلا تجربہ میٹرو میں نوجوانوں کے ساتھ میری گفتگو تھی، جب کہ دوسرا آئی آئی ٹی مدراس کا میرا دورہ تھا۔ یہ دیکھ کر واقعی دلی مسرت ہوئی کہ ہمارے نوجوان کس طرح مسائل کے اختراعی حل پر کام کر رہے ہیں۔ جن اسٹارٹ اَپس سے میری ملاقات ہوئی، ان میں سے ایک سونے کے معیار کی تصدیق پر توجہ مرکوز کرتا ہے، جو سونے کی خریداری میں ہونے والے فراڈ کو روکنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ نوجوانوں کی ایک اور ٹیم ایک ایسا پلیٹ فارم تیار کر رہی ہے جو بینک فراڈ میں ضائع ہونے والے فنڈز کی فوری بازیابی کو ممکن بنا سکتا ہے۔ اسی دوران، ایک اور ٹیم اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) سروائیکل کینسر کی اسکریننگ میں کس طرح مدد کر سکتی ہے۔

ساتھیو،

آئی آئی ٹی میں ہونے والی گفت و شنید مکمل طور پر ’ڈیپ ٹیک‘ پر مرکوز تھی۔ ان اسٹارٹ اپس کو آئی آئی ٹی مدراس کے ان کیوبیشن ایکو سسٹم کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ ان میں ایک اسٹارٹ اپ سمندر کے اوپر پرواز کرنے کی صلاحیت رکھنے والی الیکٹرک گاڑی تیار کر رہا ہے۔ ایک اور اسٹارٹ اپ ڈرونز اور الیکٹرک گاڑیوں کے لیے تیز رفتار چارجنگ بیٹریاں تیار کرنے میں مصروف ہے۔ اس کے علاوہ، ایک ٹیم دفاعی ٹیکنالوجی میں اے آئی کے اطلاق پر تحقیق کر رہی ہے۔

ساتھیو، آج ہمارے نوجوان غیر معمولی کام یابیاں حاصل کر رہے ہیں کیوں کہ انھیں مناسب ماحول اور بھرپور حمایت میسر ہے۔ ایسا ہرگز نہیں کہ ہمارے ملک میں باصلاحیت افراد کی کبھی کمی رہی ہو۔ محض چند دنوں بعد، 31 اکتوبر کو، ہم ایک عظیم بھارتی سائنس دان، نریندر سنگھ کپانی کی 100ویں یومِ پیدائش منائیں گے۔ دنیا انھیں ’فائبر آپٹکس کا باپ‘ کے طور پر جانتی ہے۔ وہ پنجاب کے ضلع موگا میں پیدا ہوئے تھے۔ پتلے ریشوں کے ذریعے روشنی منتقل کرنے کی ٹیکنالوجی پر ان کی جدید تحقیق نے مواصلات کی دنیا کو ایک نئی سمت دی۔ آج ہم جس انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل مواصلات کے دور میں جی رہے ہیں، فائبر آپٹکس کے بغیر اس کا تصور کرنا بھی محال ہے۔

اس موقع پر ہم نریندر سنگھ کپانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ ہمارے نوجوان ان جیسے سائنس دانوں کے بارے میں پڑھیں اور ان سے تحریک حاصل کریں۔

ساتھیو،

صرف چند روز بعد، 31 اکتوبر کو سردار ولبھ بھائی پٹیل کا یومِ پیدائش ہے، جسے قوم ’ایکتا دیوس‘ کے طور پر مناتی ہے۔ اس موقع پر، پورے ملک میں ’رن فار یونٹی‘ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ’رن فار یونٹی‘ ہماری یکجہتی کو مستحکم کرنے اور قوم سے ہماری وابستگی کی تجدید کا ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔ میں آپ سب سے گزارش کرتا ہوں کہ اس سال کی ’رن فار یونٹی‘ میں جوش و خروش سے شرکت کریں اور اپنے اہلِ خانہ، ساتھیوں اور اپنے ارد گرد کے افراد کو بھی ساتھ لائیں۔

ساتھیو،

آپ کو یاد ہوگا کہ بھارت کی اپیل پر، سال 2023 کو ’باجرے کا بین الاقوامی سال‘ کے طور پر منایا گیا تھا۔ اسے عالمی سطح پر نہایت مثبت ردعمل حاصل ہوا۔ اس پہل کے ذریعے، لوگوں نے یہ دریافت کیا کہ سپر فوڈ ’شری انا‘ یعنی باجرہ ہماری اپنی ثقافت میں کس قدر گہرائی سے پیوست ہے۔ شمال مشرقی خطے میں بھی باجرے کی کاشت کی ایک طویل اور بھرپور روایت رہی ہے؛ تاہم، وقت کے ساتھ لوگ اس سے دور ہوتے چلے گئے تھے۔ اب یہ صورتِ حال تبدیل ہو رہی ہے۔

ساتھیو،

میگھالیہ کے مغربی جینتیا ہلز ضلع میں کھنڈولی نامی ایک گاؤں واقع ہے۔ کئی نسلوں سے باجرہ وہاں کی مقامی غذائی ثقافت کا ایک لازمی جزو رہا ہے۔ تاہم، کچھ عرصے سے اسے کاشت کرنے والے کسانوں کی تعداد میں کمی آ رہی تھی۔ اسی دوران، گاؤں کی دو خواتین ساتھیوں نے ایک نئی پہل کی: انھوں نے باجرے سے نئی مصنوعات تیار کرنے پر توجہ مرکوز کی۔ ان اناج میں قدر کا اضافہ کرتے ہوئے، انھوں نے کوکیز، کیک، مفنز اور بچوں کی خوراک جیسی اشیا بنائیں۔ اس کے نتیجے میں باجرے پر مبنی مصنوعات کی فروخت میں اضافہ ہوا اور باجرے کی مانگ بھی بڑھ گئی۔ اس کے بعد، وہاں کے کسانوں نے بھی ایک بار پھر باجرے کی کاشت شروع کر دی ہے۔ ساتھیو، میگھالیہ کے مغربی گارو ہلز ضلع میں واقع سادولپارا گاؤں میں بھی کچھ نئی پہل جاری ہیں۔ وہاں کے ایک مقامی کسان، چیکجنگ سنگما نے باجرے کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے، جدید طریقوں سے اس کی کاشت شروع کی ہے۔ اس سے نہ صرف ان کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے بلکہ گاؤں میں زیادہ بیداری بھی پیدا ہوئی ہے۔ اسی طرح، ناگالینڈ کے کوہیما میں کیزوما نامی ایک گاؤں ہے، جہاں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے باجرے کی کاشت بند ہو چکی تھی۔

نتیجے کے طور پر، ایک پوری نسل اس روایتی فصل سے ناواقف رہی - تصور کیجیے کہ ایک ایسی فصل جسے کبھی ان کے اپنے دادا دادی کاشت کرتے تھے، اسے گاؤں والے خود فراموش کر رہے تھے۔ 2024 میں، مقامی برادری نے باجرے کی کاشت دوبارہ شروع کی، اور 2025 میں، کیزوما نے اپنا پہلا باجرہ فیسٹیول منایا۔ اب، اس خطے میں بھی باجرے سے تیار کردہ مصنوعات کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

ساتھیو،

باجرے کی کاشت سے متعلق مثالیں ایک گہرا پیغام دیتی ہیں۔ یہ مثالیں واضح کرتی ہیں کہ کس طرح ہمارے نوجوان روایتی فصلوں کو جدید مواقع سے ہم آہنگ کر رہے ہیں، اور کس طرح ہمارے دیہات اپنی وراثت کو برقرار رکھتے ہوئے خوشحالی کی راہ پر گامزن ہیں۔

میرے پیارے ہم وطنو،

کل، 26 اکتوبر کو، مہارشی والمیکی کی یومِ پیدائش منائی جائے گی۔ اگرچہ ہزاروں سال بیت چکے ہیں، مہارشی والمیکی جی کی تخلیق کردہ رامائن آج بھی ہمیں نئی بصیرتیں عطا کرتی ہے۔

مہارشی والمیکی نے رامائن کے ذریعے ہمیں زندگی کے گہرے اسباق سکھائے ہیں۔ ایک طرف وہ مسلسل کوشش کی قدر پر زور دیتے ہیں تو دوسری طرف خدمت، ہمدردی اور سماجی ہم آہنگی کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔ والمیکی رامائن میں، بھگوان رام کا کردار ان اقدار کا ایک خوب صورت مجسمہ ہے۔ بھگوان رام نے ماتا شبری کی محبت اور عقیدت کو قبول کیا اور نیشادراج کے ساتھ اپنی دوستی کا احترام کیا۔ سب کو ساتھ لے کر چلنے کا یہ جذبہ اور یہ نظریات آج بھی ہماری رہ نمائی کرتے ہیں۔ یہ جذبہ ایودھیا میں رام مندر میں بھی جھلکتا ہے، جہاں مہارشی والمیکی، نیشادراج اور ماتا شبری کے لیے بھی تیرتھ تعمیر کیے گئے ہیں۔ مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ ایودھیا کے ہوائی اڈے کا نام بھی مہارشی والمیکی کے نام پر رکھا گیا ہے۔ یہ تمام اقدامات ہماری اس عظیم روایت کو تقویت بخشتے ہیں جو خدمت، سماجی ہم آہنگی اور ہمدردی کو سب سے زیادہ اہمیت دیتی ہے۔

میرے پیارے ہم وطنو،

بھارت کی سرزمین نے ایسی کئی عظیم شخصیات کو جنم دیا ہے جنھوں نے اپنی گہری چھاپ چھوڑی ہے۔ انھی عظیم ہستیوں میں سے ایک بھائی پرمانند جی ہیں۔ چند روز بعد، 4 نومبر کو، ہم ان کی 150ویں یومِ پیدائش منائیں گے۔

بھائی پرمانند جی کے لیے تحریک اور نظریات کا ایک بڑا ماخذ آریہ سماج کے ساتھ ان کی گہری وابستگی تھی۔ بیسویں صدی کے بالکل ابتدائی دور میں، وہ آریہ سماج کے کام کے سلسلے میں جنوبی افریقہ تشریف لے گئے، جہاں ان کی ملاقات محترم باپو سے بھی ہوئی۔ انھوں نے گیانا میں ’گرمیٹیا‘ برادری کے درمیان بھی خدمات انجام دیں، جو اس وقت آریہ سماج کا ایک اہم مرکز تھا۔ گیانا کے اپنے دورے کے دوران، مجھے آریہ سماج کی یادگار دیکھنے کا شرف حاصل ہوا تھا۔

ساتھیو،

بھائی پرمانند جی نے تحریکِ آزادی میں ایک نمایاں کردار ادا کیا۔ کہا جاتا ہے کہ لالہ ہردیال جی کو امریکہ جانے پر آمادہ کرنے والے بھائی پرمانند جی ہی تھے۔ وہ غدر پارٹی کے بانی اراکین میں بھی شامل تھے۔ جدوجہدِ آزادی پر ان کا اثر اتنا گہرا تھا کہ برطانوی حکام نے انھیں ’کالا پانی‘ کی سزا سنائی۔ انھوں نے ’آپ بیتی: کالے پانی کی کاراواس کہانی‘ کے عنوان سے ایک کتاب تصنیف کی۔ آزادی کے پروانوں کی قربانیوں کو صحیح معنوں میں سمجھنے کے لیے یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔ اپنی سزا مکمل کرنے کے بعد، بھائی پرمانند جی نے اپنی توجہ تعلیم کے شعبے کی جانب مبذول کر لی۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ انھوں نے ویر بھگت سنگھ کو بھی تعلیم دی تھی۔

بعد کے برسوں میں وہ کئی سال تک ہندو مہاسبھا سے بھی وابستہ رہے۔ یعنی گاندھی جی سے ان کے تعلق سے لے کر گیانا میں ان کے قیام تک، اور غدر تحریک سے لے کر انڈمان تک، ان کی شخصیت ایک عظیم ماخذِ تحریک ہے۔ میں بھائی پرمانند جی کو اپنا پُرخلوص خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں۔ میں نوجوانوں سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ ان کی زندگی سے واقفیت حاصل کریں اور دوسروں کو بھی ترغیب دیں۔

میرے پیارے ہم وطنو،

آنے والے ایام دیوالی، چھٹھ کے عظیم تہوار، اور دیگر کئی تقریباًًت کے جشن سے معمور ہوں گے۔ یہ تہوار اپنے پورے اہلِ خانہ کے ساتھ صحت مند اور محفوظ رہتے ہوئے منائیں اور دوسروں کو بھی اپنی خوشیوں میں شریک کریں۔ میں آپ سب کو آئندہ تہواروں کے لیے نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔

ہمیشہ کی طرح، میں آپ کے پیغامات اور تجاویز کا منتظر رہوں گا۔ آپ کی تجاویز ’من کی بات‘ کو نئے موضوعات اور نئی سمت عطا کرتی ہیں۔ ہم اگلے مہینے اپنے ہم وطنوں کی نئی کاوشوں اور متاثر کن کہانیوں کے ساتھ دوبارہ ملاقات کریں گے۔

انتہائی ممنون ہوں۔

نمستکار۔

***

(ش ح - ع ا)

U.No. 6649


(ریلیز آئی ڈی: 2328157) وزیٹر کاؤنٹر : 8