نوجوانوں کے امور اور کھیل کود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر مملکت رکشا کھڈسے نے بھارتی کھیلوں میں خواتین کے لیے بہتر مواقع فراہم کرنے پر زور دیا


نئی دلّی میں اے آئی ٹی اے   اے سی ای2032 کے تحت خواتین کوچز کے تربیتی کورس کے دوران رکشا کھڈسے نے کہا کہ کھیلوں میں خواتین کی شرکت کو نچلی سطح سے بڑھانے، خواتین کوچز کی حوصلہ افزائی کرنے، نئے ٹیلنٹ کو آگے لانے اور کھیلوں کے شعبے میں خواتین کے لیے روزگار اور پیشہ ورانہ ترقی کے مزید مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 24 OCT 2026 5:54PM by PIB Delhi

نوجوانوں کے امور اور کھیلوں کی مرکزی وزیر مملکت رکشا کھڈسے نے ہفتے کے روز نئی دلّی میں دلّی لان ٹینس ایسوسی ایشن (ڈی ایل ٹی اے) کے ٹینس اسٹیڈیم میں آل انڈیا ٹینس ایسوسی ایشن (اے آئی ٹی اے) کی جانب سے اے سی ای 2032 پہل کے تحت منعقدہ صرف خواتین کے لیے کوچز کے تربیتی کورس سے خطاب کیا۔

انہوں نے کھیلوں کے ہر شعبے میں خواتین کے لیے مواقع بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان میں ابتدائی سطح پر کھیلوں میں شرکت، کوچنگ، اعلیٰ سطح کے مقابلوں میں حصہ لینا اور قیادت کے عہدوں تک پہنچنے کے مواقع شامل ہیں۔

اس موقع پر ڈی ایل ٹی اےکے صدر شری روہت راجپال، اے آئی ٹی اے کے ڈائریکٹر آف کوچنگ شری کولجیت سنگھ، ڈیوس کپ کوچ شری آشوتوش سنگھ، اے آئی ٹی اے کے اعزازی سکریٹری شری سندر آئیر، خزانچی شری دنیش اروڑہ اور بی کے جے سی کپ سے وابستہ کوچ رادھیکا کنیٹکر بھی موجود تھے۔

کوچز اور کھیلوں کے شعبے سے وابستہ ماہرین نے بھی تبادلۂ خیال کیا اور اس بات پر اپنے خیالات پیش کیے کہ کوچز کی تربیت کو بہتر بنانے، نچلی سطح پر ٹینس کو فروغ دینے اور کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے مزید اقدامات کیسے کیے جا سکتے ہیں۔

نوجوانوں کے امور اور کھیلوں کی وزارت (ایم وائی اے ایس)اور اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا (ایس اے آئی)کے تعاون سے اس پہل کا مقصد کوچز کی تربیت، باصلاحیت کھلاڑیوں کی شناخت اور اعلیٰ سطح کی تربیت کے درمیان بہتر تال میل پیدا کرنا ہے۔

 خواتین کی شرکت کو ابتدائی سطح سے اعلیٰ مقابلوں تک بڑھانا

مرکزی وزیر مملکت رکشا کھڈسے نے زور دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کو کھیلوں کے  شعبے میں ایک نمایاں ملک بنانے کے لیے ضروری ہے کہ کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو ابتدائی مرحلے ہی میں پہچانا جائے اور خواتین و لڑکیوں کو تربیت یافتہ کوچز، مناسب کھیلوں کی سہولیات، باقاعدہ مقابلوں اور مسلسل تعاون کے مواقع فراہم کیے جائیں۔

 

انہوں نے کہا کہ کھیلوں کی صلاحیتیں دیہی، قبائلی، نیم شہری اور شہری علاقوں میں ہر جگہ موجود ہیں۔ ان کے مطابق، کھیلوں میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کی شرکت کو یقینی بنانا ضروری ہے، تاکہ ملک میں باصلاحیت کھلاڑیوں کی تعداد بڑھے اور قومی و بین الاقوامی مقابلوں میں بھارت کی کارکردگی بہتر ہو۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خواتین کے لیے مواقع صرف کھیل کے میدان تک محدود نہیں ہونے چاہئیں، بلکہ انہیں کوچنگ، اسپورٹس سائنس، کھیلوں کے انتظامی امور، ایونٹ مینجمنٹ اور دیگر پیشہ ورانہ شعبوں میں بھی آگے بڑھنے کے مواقع ملنے چاہئیں۔

گفتگو کے دوران کھیلو انڈیا پروگرام کے تحت اسمیتاخواتین کی اسپورٹس لیگز کے کردار کو بھی اجاگر کیا گیا۔ ان لیگز کا مقصد خواتین کو منظم کھیلوں میں حصہ لینے کے زیادہ مواقع فراہم کرنا ہے۔ سال 2021 میں شروع کی گئی ان لیگز کے ذریعے اب تک تین لاکھ سے زیادہ خواتین تک رسائی حاصل کی جا چکی ہے، جس سے مختلف علاقوں اور برادریوں کی خواتین کو کھیلوں میں حصہ لینے اور مقابلوں میں اپنی صلاحیتیں دکھانے کے مواقع ملے ہیں۔

اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ابتدائی سطح پر شروع کیے گئے کھیلوں کے پروگراموں کو کھیلو انڈیا مراکز، منظور شدہ اسپورٹس اکیڈمیوں اور سینٹرز آف ایکسیلنس سے جوڑا جائے، تاکہ باصلاحیت کھلاڑیوں کو آگے بڑھنے اور اعلیٰ سطح کے مقابلوں کے لیے اپنی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد مل سکے۔

 خواتین کوچز کی تعداد اور صلاحیتوں میں اضافہ

اس تربیتی کورس کا ایک اہم مقصد اہل خواتین کوچز کی تعداد بڑھانا اور ملک کی مختلف ریاستوں میں کوچنگ کی تعلیم اور سرٹیفیکیشن کے مواقع کو وسیع کرنا تھا۔کوچنگ کے شعبے میں خواتین کی زیادہ نمائندگی سے لڑکیوں کو کھیلوں میں حصہ لینے کی ترغیب مل سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی کھلاڑیوں کی تربیت اور صلاحیتوں کو نکھارنے کے عمل کے معیار کو بہتر بنانے اور اس کے دائرے کو وسیع کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

اے آئی ٹی اے اے سی ای 2032 پروگرام کا مقصد کوچز کی تربیت کو باصلاحیت کھلاڑیوں کی شناخت اور اعلیٰ سطح کے کھلاڑیوں کی تیاری سے جوڑنا ہے۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ کوچز کو مسابقتی کھیلوں کی ضروریات کے لیے تیار کرنے کی غرض سے عملی تربیت، تجربہ کار افراد کی رہنمائی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مسلسل بہتر بنانے پر توجہ دینا ضروری ہے۔

گفتگو میں اعلیٰ سطح کی تربیت اور خصوصی کوچنگ کی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے موضوعات پر بھی بات ہوئی۔ اعلیٰ سطح کی تربیت سے وابستہ شیریکا برمن نے اس شعبے میں مہارت پیدا کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔پروگرام کے دوران بنگلورو میں 10 دسمبر سے ایک تربیتی کورس شروع کرنے کے امکان پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس کورس کے لیے 16 کھلاڑیوں کا انتخاب کیا جائے گا، جو سی ایچ پی کورس میں حصہ لیں گے۔

 کوچنگ اور کھلاڑیوں کی ترقی کے حوالے سے علاقائی تجربات

شرکاء نے اپنے اپنے علاقوں کے تجربات اور خیالات پیش کیے، جن میں ابتدائی سطح پر ٹینس کو فروغ دینے اور کوچنگ کے طریقوں کو بہتر بنانے پر زور دیا گیا۔تمل ناڈو کی پریتی سرینواسن نے کوچنگ کے دوران کھلاڑیوں پر خصوصی توجہ دینے اور ابتدائی سطح پر ٹینس کی ترقی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

اروناچل پردیش کی مارنو ریبا نے کھلاڑیوں کی ہمہ جہت ترقی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ کھیل سے لطف اندوز ہوں۔جموں و کشمیر کی ہر جوت کور نے لیول ون فٹنس پروگراموں کو مزید جامع بنانے کی ضرورت پر زور دیا، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو کھیلوں میں نئے ہیں اور ابتدائی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔

گفتگو میں اس بات پر زور دیا گیا کہ کوچنگ اور فٹنس کے پروگرام ایسے ہونے چاہئیں جو کھلاڑیوں کی ترقی کے مختلف مراحل اور مختلف علاقوں کی ضروریات کے مطابق ہوں۔

 کھیلوں میں محفوظ اور پائیدار پیشہ ورانہ مواقع پیدا کرنا

اس تربیتی کورس میں کھیلوں کے شعبے میں بڑھتے ہوئے پیشہ ورانہ مواقع کو بھی اجاگر کیا گیا۔ ان میں کوچنگ، فٹنس ٹریننگ، اسپورٹس سائنس، ایونٹ مینجمنٹ اور انتظامی امور شامل ہیں۔شرکاء نے زور دیا کہ زیادہ سے زیادہ خواتین کو ان شعبوں میں داخل ہونے اور آگے بڑھ کر قیادت کے عہدوں تک پہنچنے کے لیے ضروری مہارتیں اور تعلیمی و پیشہ ورانہ اسناد فراہم کی جائیں۔

اس کے علاوہ، کھیلوں کے محفوظ ماحول، کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کو خواتین کی مسلسل شرکت کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیا گیا۔کوچز، کھیلوں کی انجمنوں اور متعلقہ اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ حفاظتی اصولوں، مناسب طرزِ عمل اور کھلاڑیوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں، تاکہ خواتین بلا خوف و خطر کھیلوں میں حصہ لے سکیں اور اس شعبے میں اپنے کیریئر کو آگے بڑھا سکیں۔

 اے آئی ٹی اے  اے سی ای 2032 کے تحت خواتین کے لیے منعقد کیا گیا کوچز کا تربیتی کورس، بھارتی کھیلوں میں خواتین کی شرکت اور قیادت کو فروغ دینے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔کوچنگ کے مواقع بڑھانے، ابتدائی سطح پر موجود باصلاحیت کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرنے اور اعلیٰ سطح کے کھیلوں تک پہنچنے کے راستوں کو بہتر بنانے کے ذریعے اس پہل کا مقصد 2036 کے لیے بھارت کے کھیلوں سے متعلق عزائم اور وکست بھارت @2047 کے وژن کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔

*********

ش ح-ا ع خ    ۔ر  ا

U-No- 6644


(ریلیز آئی ڈی: 2328053) وزیٹر کاؤنٹر : 6
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Marathi , Tamil