نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

اختراعات اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سے پوری انسانیت کو فائدہ پہنچنا چاہیے، نہ کہ وہ کسی ایک ملک کی اجارہ داری بنیں: نائب صدر


’’بھارت کا فائدہ، انسانیت کا فائدہ ہے‘‘: نائب صدر نے کہا کہ   وکست   بھارت   ایک خواب بھی ہے اور ذمہ داری بھی، ملک کی تعمیر میں اجتماعی شرکت پر زور دیا

بھارت کا تہذیبی ورثہ، جمہوری روایات اور تکنیکی صلاحیتیں اس کی منفرد طاقتیں ہیں: نائب صدر

نائب صدر نے اُپ راشٹرپتی بھون میں انل انتھونی کی کتاب ’’ایڈوانٹیج انڈیا:ریشیپنگ دی فیوچر فار این ایکوائیٹیبل ‘‘ کا اجرا کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 23 OCT 2026 5:45PM by PIB Delhi

نائب صدر جمہوریہ ہند  جناب سی پی رادھا کرشنن نے آج نئی دہلی کے اُپ راشٹرپتی بھون میں جناب انل کے انتھونی کی تصنیف کردہ کتاب ’’ ’’ایڈوانٹیج انڈیا:ریشیپنگ دی فیوچر فار این ایکوائیٹیبل ‘‘ کا اجرا کیا۔

نائب صدر نے کتاب کی اشاعت پر مصنف اور روپا پبلی کیشنز کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب بھارت میں آنے والی غیرمعمولی تبدیلیوں کی عکاسی کرتی ہے اور تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں ملک کے سامنے موجود مواقع کا جائزہ لیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جناب انتھونی نے ٹیکنالوجی، کاروبار اور عوامی پالیسی کے شعبوں میں اپنے تجربے کی بنیاد پر بھارت کی ابھرتی ہوئی قوتوں اور عالمی نظام میں اس کے بڑھتے ہوئے رول کا تجزیہ کیا ہے۔

بھارت کی منفرد طاقتوں کو اجاگر کرتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ ملک کا تہذیبی ورثہ، جمہوری روایات، آبادیاتی منافع، بڑھتی ہوئی معیشت، مضبوط ادارے اور وسعت پذیر تکنیکی صلاحیتیں مل کر اسے ایک نمایاں برتری عطا کرتی ہیں۔

نائب صدر نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں بھارت کے تبدیلی کے سفر کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ 25 کروڑ سے زیادہ لوگوں کو انتہائی غربت سے باہر نکالا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم، رہائش، صفائی ستھرائی، صحت کی دیکھ بھال اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں شروع کیے گئے اقدامات نے لاکھوں شہریوں کے وقار اور سماجی تحفظ کو بہتر بنایا ہے۔

جامع ترقی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے جناب سی پی رادھا کرشنن نے کہا کہ خواتین، نوجوانوں، کسانوں اور محروم طبقات کو بااختیار بنانا بھارت کی ترقی کے لیے بدستور بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تین کروڑ سے زیادہ لکھ پتی دیدیوں کا وجود میں آنا خواتین کی قیادت میں ہونے والی ترقی کی کامیابی کا عکاس ہے۔ انہوں نے نئے آئی آئی ٹی، ایمس، میڈیکل کالجوں اور دیگر اعلیٰ تعلیمی اداروں کے قیام کے ذریعے تعلیمی اور صحت کے بنیادی ڈھانچے میں توسیع کو بھی اجاگر کیا۔ اس کے ساتھ ہی وندے بھارت ٹرینوں، ہوائی اڈوں، شاہراہوں اور ریلوے اسٹیشنوں کے ذریعے رابطے کے نظام میں ہونے والی نمایاں بہتری کا بھی ذکر کیا۔

بھارت میں ٹیکنالوجی کے ارتقا کا ذکر کرتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ کمپیوٹر کے آغاز پر ابتدا میں خدشات پیدا ہوئے تھے، لیکن بعد ازاں بھارت عالمی سطح پر انفارمیشن ٹیکنالوجی کا ایک بڑا مرکز بن کر ابھرا۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز آج ملک کے سامنے اسی طرح کے مواقع پیش کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سماجی ترقی کے لیے ٹیکنالوجی سے بھرپور فائدہ اٹھانے میں قیادت کا رول نہایت اہم ہے۔

آتم نربھر  بھارت کے وژن کا حوالہ دیتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ بھارت نے مختلف شعبوں میں مقامی سطح پر اشیا کی تیاری کے میدان میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ مقامی طور پر تیار کردہ کثیرالمقاصد بحری جہاز آئی این ایس سمرتھک کو حال ہی میں بحری بیڑے میں شامل کیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی ملک میں دفاعی سازوسامان کی تیاری کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کی عکاسی کرتی ہے۔

بھارت کے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی رول کا ذکر کرتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ بھارتی سفارت کاری میں نمایاں تبدیلی آئی ہے، جس کی خصوصیات مختلف ممالک کے ساتھ بڑھتا ہوا رابطہ، بڑھتا ہوا اثر و رسوخ اور نئے اعتماد کا اظہار ہیں۔ انہوں نے جی 20 کی صدارت کے دوران بھارت کی قیادت اور ’’وسودھیو کٹمبکم‘‘ یعنی ’’پوری دنیا ایک خاندان ہے‘‘ کے فلسفے کو آگے بڑھانے میں اس کے رول کا ذکر کیا۔ انہوں نے جی 20 میں افریقی یونین کی شمولیت کو یقینی بنانے میں بھارت کی کوششوں اور عالمی جنوب کی آواز کے طور پر اس کے ابھرنے کو بھی اجاگر کیا۔

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ’’وسودھیو کٹمبکم‘‘ محض ایک نعرہ نہیں، بلکہ بھارت کا رہنما فلسفہ ہے، نائب صدر نے کووڈ-19 عالمی وبا کے دوران بھارت کے ردعمل کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے نہ صرف ملک گیر ٹیکہ کاری مہم چلائی، بلکہ 100 سے زائد ممالک کو زندگی بچانے والی ویکسین بھی فراہم کیں۔ یہ اقدام عالمی یکجہتی اور انسانیت کی خدمت کے تئیں بھارت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

نائب صدر نے اس بات پر زور دیا کہ ’’بھارت کا فائدہ، انسانیت کا فائدہ ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ تمام خودمختار ممالک برابر ہیں اور ان کے ساتھ مساوی سلوک کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا، ’’کوئی بھی نئی اختراع یا تکنیکی پیش رفت پوری انسانیت کے لیے مفید ہونی چاہیے اور اسے کسی ایک ملک کی اجارہ داری تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔‘‘ انہوں نے تکنیکی ترقی کے لیے زیادہ منصفانہ طرزِ عمل اپنانے کی اپیل کی، تاکہ اس کے فوائد پوری انسانیت کی اجتماعی فلاح و بہبود کے لیے سب کے ساتھ مشترک کیے  جا سکیں۔

نائب صدر نے کہا کہ 2047 تک وکست   بھارت کا وژن ایک خواب بھی ہے اور ذمہ داری بھی، جس کے لیے ’’راشٹر پرتھم‘‘ یعنی ملک  سب سے پہلے‘‘ کے اصول کے تئیں اجتماعی عزم ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک  کی تعمیر کا کام صرف حکومت کے ذریعے مکمل نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کے لیے ہر شہری کی فعال شرکت درکار ہے۔

اس امید کا اظہار کرتے ہوئے کہ یہ کتاب نوجوان بھارتیوں کو ٹیکنالوجی، عوامی پالیسی، اقتصادیات، بین الاقوامی تعلقات اور ملک  کی تعمیر کے شعبوں میں مزید گہرائی کے ساتھ دلچسپی لینے کی ترغیب دے گی، جناب سی پی رادھا کرشنن نے جناب انل کے انتھونی کو مبارک باد دی اور مصنف، ناشر اور اس کتاب کی اشاعت سے وابستہ تمام افراد کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

اس موقع پر حکومتِ ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر پروفیسر اجے سود، وزیر اعظم کی اقتصادی مشاورتی کونسل کے رکن اور ماہرِ اقتصادیات ڈاکٹر شمیکا روی، کتاب کے مصنف جناب انل کے انتھونی، روپا پبلی کیشنز کے منیجنگ ایڈیٹر جناب کَپِش مہرا، سفارت کار اور دیگر معزز شخصیات موجود تھیں۔

*****

ش ح ۔ع ح۔   ر ب

U: 6588


(ریلیز آئی ڈی: 2327565) وزیٹر کاؤنٹر : 11