وزارت دفاع
azadi ka amrit mahotsav

طویل مدتی حکمت عملی کے ویژن کے ساتھ کام کرنے اور فوری و ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے بھی یکساں طور پر تیار رہنے کی ضرورت ہے :  وزیر  دفاع کا آرمی کمانڈروں سے خطاب


’’ آپریشن سندور نے جدید ہتھیاروں کے ساتھ اختراعی سوچ، بہتر تال میل اور اعلیٰ درجے کی ہم آہنگی کا مظاہرہ کیا‘‘

’’ جدید جنگ کے لیے مربوط حکمت عملی ناگزیر ہے؛ کامیابی کا انحصار متعدد محاذوں پر کارروائی کی صلاحیتوں اور مشترکہ آپریشنز میں بلا تعطل تال میل پر ہے ‘‘

جناب راج ناتھ سنگھ نے فوج کی مستقبل کی تیاریوں کو مستحکم بنانے کے لیے بری جنگ کا نظریہ  (  لینڈ وارفیئر ڈاکٹرائن )  جاری کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 23 OCT 2026 5:43PM by PIB Delhi

وزیرِ دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے فوجی کمانڈروں پر زور دیا ہے کہ وہ جغرافیائی سیاسی اور علاقائی پیش رفت پر گہری نظر رکھیں اور مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے تیار رہیں۔ 23  اکتوبر ، 2026 ء کو نئی دلّی میں فوجی کمانڈروں کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، انہوں نے اگلے 20 سے 30 برسوں کا احاطہ کرنے والے طویل مدتی تزویراتی  ( اسٹریٹیجک ) ویژن کی ضرورت پر زور دیا اور بھارتی فوج کی اعلیٰ قیادت سے اپیل کی کہ وہ فوری نوعیت کے اور ابھرتے ہوئے چیلنجوں کا جواب دینے کے لیے بھی یکساں طور پر تیار رہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکمتِ عملی متحرک اور لچک دار ہونی چاہیے، تاکہ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق بروقت ضروری تبدیلیاں کی جا سکیں۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image001_20261023174425_7605a7.jpg

 

بدلتے ہوئے عملی  ( آپریشنل ) حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے پر دفاعی افواج کی ستائش کرتے ہوئے، جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ جدید ہتھیاروں کے ساتھ اختراعی سوچ، بہتر تال میل اور اعلیٰ درجے کی ہم آہنگی نے آپریشن سندور کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس آپریشن نے واضح پیغام دیا کہ بھارت اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔

وزیرِ دفاع نے ڈرونز اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے فوج کی تنظیمِ نو کے لیے کی جانے والی کوششوں کی ستائش کی ۔ انہوں نے صلاحیتوں کو مضبوط بنانے، کارکردگی کا مسلسل جائزہ لینے اور بدلتے ہوئے حالات کے مطابق ضروری بہتری لانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت، خودکار نظاموں، اعداد و شمار کے تجزیے، سائبر سکیورٹی  اور محفوظ مواصلاتی نیٹ ورکس جیسے شعبوں میں کوششوں کو تیز کرنے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ فضائی، بحری، خلائی اور سائبر شعبوں میں چیلنجوں کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے باوجود، بری جنگ اور زمینی افواج ناگزیر رہیں گی۔ انہوں نے جدید جنگ کے لیے ایک مربوط طریقۂ کار اپنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کامیابی کا انحصار متعدد محاذوں پر کارروائی کی صلاحیتوں اور مشترکہ فوجی کارروائیوں میں بلاتعطل تال میل پر ہوگا۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image002_20261023174432_32ce88.jpg

 

وزیرِ دفاع نے دفاعی افواج کی جانب سے خود انحصاری کے لیے کی جانے والی کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی دفاعی پیداوار کی بڑھتی ہوئی صلاحیتیں تمام متعلقہ فریقوں کی مشترکہ اور مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ   ’’ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے کے درمیان، وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں  ،حکومت دفاعی شعبے میں خود انحصاری کو ترجیح دے رہی ہے۔ مالی سال 2025-26 ء  میں دفاعی پیداوار بڑھ کر ریکارڈ 1.78 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جب کہ دفاعی برآمدات بھی تقریباً 38,000 کروڑ روپے کی اب تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔‘‘

جناب راج ناتھ سنگھ نے ’’ اصلاحات کا سال—2025 ‘‘  کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اصلاحات ایک مسلسل  عمل ہے اور اس کی کامیابی کا انحصار مؤثر نفاذ پر ہوتا ہے۔ انہوں نے فوجی کمانڈروں پر زور دیا کہ وہ اپنی اپنی کمانوں اور مختلف سطحوں پر ان اصلاحات کو آگے بڑھائیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے نتیجے میں عملی (  آپریشنل )  صلاحیتوں میں ٹھوس بہتری آئے۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image003_20261023174438_0a9f01.jpg

 

وزیرِ دفاع نے  ، بھارت کا عالمی مقام مستحکم کرنے کا سہرا دفاعی افواج کی بہادری، نظم و ضبط، مستعدی اور ضبط و تحمل کے ساتھ ساتھ  ، وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی متحرک قیادت اور سفارتی کوششوں کو دیا۔ انہوں نے دفاعی افواج پر زور دیا کہ وہ خود انحصاری، اصلاحات کے مؤثر نفاذ، افرادی قوت کے بہتر انتظام، خواتین کی زیادہ سے زیادہ شمولیت اور قومی سلامتی کے لیے ایک مربوط طریقۂ کار اپنانے پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image004_20261023174443_1cc469.jpg

 

اس موقع پر وزیرِ دفاع نے بری جنگ کا نظریہ  ( لینڈ وار فیئر ڈاکٹرائن ) جاری کیا، جو جنگ کی بدلتی ہوئی نوعیت اور مستقبل کے تنازعات سے پیدا ہونے والے چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لیے بھارتی فوج کو تیار کرنے کی غرض سے ایک جامع لائحۂ عمل فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کا سالانہ جریدہ بھی جاری کیا اور اقوامِ متحدہ کے امن دستوں میں خدمات انجام دیتے ہوئے نمایاں کردار ادا کرنے والے بھارتی فوج کے اہلکاروں کو اعزاز سے نوازا۔ اس موقع پر ان کی مثالی خدمات، پیشہ ورانہ مہارت اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے فروغ میں ان کے تعاون کا اعتراف کیا گیا۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image005_20261023174449_d2255f.jpg

 

اس موقع پر وزیرِ مملکت برائے دفاع جناب سنجے سیٹھ، چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل این ایس راجا سبرامنی، بری فوج کے سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ، دفاعی سکریٹری جناب راجیش کمار سنگھ اور دیگر سینئر عہدیداران موجود تھے۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image006_20261023174454_eff774.jpg

 

اپنے جامع ایجنڈے کے ساتھ  ، اس کانفرنس کا انعقاد بھارتی فوج کی اعلیٰ قیادت کو ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرنے کے لیے کیا گیا ہے، جہاں وہ جاری اقدامات کا جائزہ لے سکے، مستقبل میں ترجیحی توجہ کے شعبوں کی نشاندہی کر سکے اور ایک ترقی پسند، حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے والی، ٹیکنالوجی سے لیس اور مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے تیار بھارتی فوج کی تشکیل کے لیے مناسب پالیسی رہنما خطوط وضع کر سکے۔

 

..................................................... ...................................................

) ش ح –    م م       -  ع ا )

U.No. 6587


(ریلیز آئی ڈی: 2327536) وزیٹر کاؤنٹر : 13
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी