پوسٹ کرنے کی تاریخ:
22 OCT 2026 1:47PM by PIB Delhi
بھارت کے نائب صدر جمہوریہ جناب سی۔ پی۔ رادھا کرشنن نے آج نئی دہلی کے وگیان بھون میں منعقدہ ‘‘تعاون پر مبنی وفاقیت اور قانونی اصلاحات: قومی اور ریاستی نقطۂ نظر’’ کے موضوع پر کانفرنس کا افتتاح کیا۔ اس کانفرنس کا اہتمام لا کمیشن آف انڈیا نے کیا تھا۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ بھارت کی سب سے بڑی طاقت اس کا تنوع میں اتحاد ہے، جبکہ آئین ایسا ڈھانچہ فراہم کرتا ہے جو وفاق کی طاقت اور ریاستوں کی ذمہ داریوں اور ان کی جائز خودمختاری کے درمیان توازن قائم کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بھارتی وفاقیت کی حقیقی طاقت مشترکہ قومی مقاصد کے حصول کے لیے مل کر کام کرتے ہوئے تنوع کا احترام کرنے میں مضمر ہے۔
تعاون پر مبنی اور مسابقتی وفاقیت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں‘ٹیم انڈیا’ کا تصور مرکز اور ریاستوں کے درمیان مشاورت، تال میل اور مشترکہ ذمہ داری کا تقاضا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات کو کبھی بھی وسیع تر عوامی مفاد کے لیے مل کر کام کرنے کی راہ میں حائل نہیں ہونا چاہیے۔
وکست بھارت 2047 کے ہدف کے حصول میں قانونی اصلاحات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے جناب سی۔ پی۔ رادھا کرشنن نے کہا کہ ترقی کے لیے مستحکم قوانین، شفاف اداروں، مؤثر انتظامیہ اور سب کے لیے انصاف کی فراہمی ضروری ہے۔
نائب صدر جمہوریہ نے نوآبادیاتی دور کے تین فوجداری قوانین کی جگہ نئے قوانین متعارف کرانے اور گزشتہ بارہ برسوں کے دوران 1700 سے زائد فرسودہ قوانین منسوخ کرنے کو بھارت کے قانونی ڈھانچے کو جدید بنانے کی جانب اہم اقدامات قرار دیا۔ انہوں نے ریاستی قانون کمیشنوں پر زور دیا کہ وہ فرسودہ قوانین کی نشاندہی کریں اور انہیں موجودہ تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے ان میں ترمیم یا انہیں منسوخ کرنے کی سفارش کریں، تاکہ زندگی گزارنے میں آسانی اور مؤثر حکمرانی کو فروغ دیا جا سکے۔
قانونی اصلاحات میں تعاون پر مبنی وفاقیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ اس کا مطلب ہر معاملے میں یکسانیت اختیار کرنا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں مرکز اور ریاستوں کی آئینی ذمہ داریاں مشترک ہوں، وہاں دونوں کو مل کر کام کرنا چاہیے، جبکہ ریاستوں کی ان مخصوص ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ان کی جائز خودمختاری اور دائرۂ اختیار کو بھی برقرار رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے بین الریاستی مشاورت، بہترین طریقۂ کار کے تبادلے اور فرسودہ قوانین کے منظم جائزے کے ذریعے لا کمیشن آف انڈیا، ریاستی قانون کمیشنوں اور ریاستی قانون کے محکموں کے درمیان بہتر تال میل قائم کرنے پر زور دیا۔
پارلیمنٹ میں نصب‘سینگول’ کا حوالہ دیتے ہوئے، جو جائز اقتدار اور اخلاقی حکمرانی کی علامت ہے، جناب سی۔ پی۔ رادھا کرشنن نے تمل سنت شاعر تروولوور کی اچھی حکمرانی اور قانون کی حکمرانی پر مبنی لازوال دانشمندی کا ذکر کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ محض اقتدار کا استعمال نہیں، بلکہ اچھی حکمرانی ہی پائیدار کامیابی اور خوشحالی کی بنیاد ہے۔
نائب صدر جمہوریہ نے امید ظاہر کی کہ اس کانفرنس کے نتیجے میں ایک مربوط، عوامی ضروریات سے ہم آہنگ اور شہریوں کو اہمیت دینے والے قانونی ڈھانچے کی تشکیل کے لیے ٹھوس اور قابلِ عمل سفارشات سامنے آئیں گی۔
اس موقع پر مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج)برائے قانون و انصاف جناب ارجن رام میگھوال، لا کمیشن آف انڈیا کے چیئرمین جسٹس دنیش مہیشوری، لا کمیشن آف انڈیا کی رکن سکریٹری ڈاکٹر انجُو راٹھی رانا اور لا کمیشن آف انڈیا کے رکن پروفیسر ڈی۔ پی۔ ورما سمیت دیگر معزز شخصیات موجود تھیں۔
*******
) ش ح – رک )
U.NO- 6474