سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پی ایم دکش سے متعلق حقائق پر مبنی رپورٹ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 22 OCT 2026 11:49AM by PIB Delhi
  • پردھان منتری دکشتا اور کوشلتا سمپن ہت گراہِی(پی ایم-دکش)ایک مرکزی شعبے کی اسکیم ہے، جس کا آغاز 2020-21 کے دوران کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد درج فہرست ذاتوں (ایس سی)، دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی)، معاشی طور پر کمزور طبقات (ای ڈبلیو ایس)، غیر مطلع شدہ قبائل (ڈی این ٹیز)اور صفائی ملازمین، بشمول کچرا چننے والوں، کو منظور شدہ تربیتی اداروں کے ذریعے ہنر مندی کی تربیت فراہم کرنا ہے، تاکہ ان کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے خود روزگار اور اجرت پر مبنی روزگار کی حوصلہ افزائی کی جاسکے۔
  • اس اسکیم پر سماجی انصاف و تفویضِ اختیارات کے محکمے (ڈی او ایس جے ای)کے تحت کام کرنے والے تین کارپوریشنوں کے ذریعے عمل درآمد کیا گیا، یعنی نیشنل شیڈیولڈ کاسٹس فائننس اینڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این ایس ایف ڈی سی)، نیشنل بیک ورڈ کلاسز فائننس اینڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این بی سی ایف ڈی سی)اور نیشنل صفائی کرمچاریز فائننس اینڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این ایس کے ایف ڈی سی)۔
  • سماجی انصاف و تفویضِ اختیارات کا محکمہ ان کارپوریشنوں کو فنڈز جاری کرتا ہے، جو اسکیم کے رہنما خطوط اور ورک آرڈر کے مطابق ان تربیتی اداروں کو تربیت کے اخراجات کی ادائیگی کرتے ہیں جو ہنر مندی کی ترقی اور کاروبار کی وزارت (ایم ایس ڈی ای)کی پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا(پی ایم کے وی وائی)اسکیم کے تحت منظور شدہ ہیں۔ تربیت مکمل ہونے کے بعد، تربیتی اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ تربیت یافتہ امیدواروں میں سے کم از کم 70 فیصد کو روزگار فراہم کریں، خواہ وہ اجرت پر مبنی ہو یا خود روزگار کی صورت میں۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں تیسری قسط، یعنی تربیتی اخراجات کے 30 فیصد کی ادائیگی ضبط کرلی جاتی ہے۔ مزید برآں، تربیتی اداروں کے لیے متعلقہ صنعتوں کے ساتھ تعاون برقرار رکھنا لازمی ہے، تاکہ تربیت یافتہ امیدواروں کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کیے جاسکیں۔ یہ تینوں کارپوریشنیں ہدفی گروپ کے اہل نوجوانوں کو ان کے منصوبے قائم کرنے میں رہنمائی اور معاونت فراہم کرنے کے ساتھ  ساتھ قرض کی سہولیات بھی مہیا کرتی ہیں۔
  • سال 2020-21 سے 2023-24 تک پی ایم-دکش اسکیم کے لیے مختص کی گئی مجموعی 276.47 کروڑ روپے کی رقم کے مقابلے میں اب تک 309.5 کروڑ روپے کے اخراجات کیے جاچکے ہیں۔
  • سال 2020-21سے 2023-24 کے دوران تربیت حاصل کرنے والے امیدواروں کی تعداد 1,87,305رہی، جبکہ ان میں سے 96,162 امیدواروں کو روزگار فراہم کیا گیا۔
  • پی ایم-دکش اسکیم کے جائزہ مطالعے سے اس کی افادیت اور تربیت کے مؤثر ہونے کا پتہ چلتا ہے۔ 90 فیصد سے زائد مستفیدین نے بتایا کہ یہ تربیت ان کے پیشہ ورانہ اہداف، مقامی محنت کی منڈی کی ضروریات اور مطلوبہ تعلیمی نتائج کے حصول سے ہم آہنگ تھی۔ اثرات کے جائزے سے غیر مادی فوائد میں نمایاں بہتری سامنے آئی، جن میں خود اعتمادی، عزتِ نفس اور سماجی شناخت میں اضافہ شامل ہے، خصوصاً خواتین اور محروم طبقات میں۔ اسکیم کے نتائج کے پائیدار ہونے کے حوالے سے بھی مجموعی طور پر مثبت صورتِ حال سامنے آئی۔ بیشتر مستفیدین حاصل کردہ ہنر کو مسلسل استعمال کر رہے ہیں، طویل مدت میں آمدنی میں اضافے کی توقع رکھتے ہیں، اپنی ترقی کے لیے دوبارہ سرمایہ کاری کر رہے ہیں اور خود سے بہتری کو برقرار رکھنے کی صلاحیت محسوس کرتے ہیں۔
  • مالی سال 2024-25 سے پی ایم-دکش اسکیم کو ہنر مندی کی ترقی اور کاروبار کی وزارت کی پی ایم کے وی وائی اسکیم میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ پی ایم-دکش اسکیم، پی ایم کے وی وائی کے اضافی اقدام کے طور پر کام کر رہی تھی اور ہنر مندی کی تربیت فراہم کرنے کے لیے تمام پیشہ ورانہ شعبوں کا انتخاب اسکل انڈیا ڈیجیٹل ہب (ایس آئی ڈی ایچ)پورٹل سے کیا جاتا تھا، جہاں یہ شعبے پی ایم کے وی وائی کے تحت بھی شامل تھے۔ لہٰذا، کسی بھی قسم کی تکرار سے بچنے کے لیے پی ایم-دکش اسکیم کو پی ایم کے وی وائی میں ضم کردیا گیا۔

 

 

************

 

 

 

 

 ش ح۔ م م ع۔ت ا

UR. No.6472

 


(ریلیز آئی ڈی: 2326461) وزیٹر کاؤنٹر : 12