پوسٹ کرنے کی تاریخ:
21 OCT 2026 6:13PM by PIB Delhi
نیشنل فلم ڈیولپمنٹ کارپوریشن–نیشنل فلم آرکائیو آف انڈیا(این ایف ڈی سی–این ایف اے آئی)کے زیرِ اہتمام 22 سے 25 اکتوبر 2026 تک پونے کے لا کالج روڈ پر واقع اس کے آڈیٹوریم میں‘‘گھٹک:ایک جامع جائزہ’’کے عنوان سے چار روزہ فلمی میلے کا انعقاد کیا جائے گا۔ اس میلے میں معروف فلم ساز رتوک گھٹک کی فورکے ریزولوشن میں بحال کی گئی فیچر فلمیں،35 ملی میٹر کی نایاب فلمی پرنٹس، غیر افسانوی دستاویزی فلمیں، تعلیمی مختصر فلمیں اور ان کے نامکمل کاموں کے ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کیے گئے ٹکڑے پیش کیے جائیں گے۔ یہ میلہ فلمی محققین، طلبہ اور شائقینِ سنیما کو رتوک گھٹک کی فلمی خدمات کے وسیع دائرے کو جاننے اور سمجھنے کا موقع فراہم کرے گا، جس میں ان کی ہدایت کاری میں بننے والی فلموں کے ساتھ ساتھ تخلیقی شعبے کی مختلف ذمہ داریوں میں انجام دیے گئے ان کے کم معروف کام بھی شامل ہیں۔
میلے کا آغاز 22 اکتوبر کو نِمائی گھوش کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم‘چِنّمول’(1950)سے ہوگا، جس میں رتوک گھٹک نے بطور اداکار کام کیا تھا۔ یہ فلم تقسیمِ ہند کے بعد دیہی آبادیوں کی بے دخلی اور نقل مکانی کی عکاسی کرتی ہے اور رتوک گھٹک کے ابتدائی فلمی سفر کے ایک اہم دور کی جھلک پیش کرتی ہے، اس سے پہلے کہ وہ ایک نمایاں فلم ساز اور ہدایت کار کے طور پر ابھرے۔
اس پروگرام میں رتوک گھٹک کی معروف فیچر فلموں کے فور کے ریزولوشن میں بحال کیے گئے پرنٹس پیش کیے جائیں گے، جن میں ناگرِک (1952)، اجانترِک(1958)، باری ٹھیکے پالیے(1959)، میگھے ڈھاکا تارا (1960)، کومل گندھار (1961)، سُوبرنا ریکھا (1962)، تیتاش ایکتی نادر نام (1973)اور جکتی تکو آر گپو (1974)شامل ہیں۔ اس پروگرام میں ہری کیش مکھرجی کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم مسافر (1957)بھی شامل ہے، جس کے اسکرین پلے میں رتوک گھٹک نے تعاون کیا تھا۔ اس کے علاوہ بمل رائے کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم مدھومتی(1958)بھی پیش کی جائے گی، جس کی کہانی اور اسکرین پلے میں انہوں نے حصہ لیا تھا۔ یہ ہندی فلمیں ان کی تخلیقی خدمات کے وسیع دائرے کو اجاگر کرتی ہیں اور ان کے کام کو ہندوستانی سنیما کے وسیع تر منظرنامے میں نمایاں مقام دیتی ہیں۔
اس جامع جائزے میں دستاویزی فلمیں اور مختصر دورانیے کی تخلیقات بھی شامل ہیں، جن میں بہار کے درشنیہ استھان (1955)، فیئر(1965)، رینڈیجوئس(1965)، ناگرِک سنرکشن/سِول ڈیفنس(1965)، مائی لینن(1970)، سائنٹسٹس آف ٹومارو (1967)، پُرولیئر چھاؤ (1970)، آدیواسیوں کا جیون،یہ کیوں(1970)اور دربار گتی پدم (1971)شامل ہیں۔ یہ تخلیقات فیچر فلموں سے آگے دستاویزی فلم سازی، ثقافتی روایات، عوامی زندگی اور فنکارانہ اظہار کے حوالے سے رتوک گھٹک کی دلچسپی اور وابستگی کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔
اس پروگرام میں شامل نامکمل تخلیقات کو آرکائیو کے نقطۂ نظر سے خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ ان میں رونگیر گولام، باگالاڑ بانگا درشن، کاٹو اجانا رے (1959)اور معروف مجسمہ ساز رام کنکر بائج کی زندگی پر رتوک گھٹک کی نامکمل سوانحی فلم شامل ہیں۔ اس جامع جائزے میں ان نامکمل اور عملی شکل اختیار نہ کر پانے والی تخلیقات کے محفوظ شدہ حصے پیش کیے جائیں گے، جنہیں قومی فلم ورثہ مشن (این ایف ایچ ایم)کے تحت ٹوکے اورفورکے ریزولوشن میں بحال کرکے ڈیجیٹل شکل دی گئی ہے۔ ان حصوں کی عوامی نمائش شائقین کو ایسے نادر فلمی مواد سے روشناس ہونے کا موقع فراہم کرے گی جو مکمل فلموں کی صورت میں موجود نہیں ہے۔ یہ محفوظ شدہ حصے فلمی آرکائیوز کے اس کردار کو بھی اجاگر کرتے ہیں کہ وہ نہ صرف مکمل فلموں بلکہ نامکمل اور کم معروف تخلیقات کو بھی محفوظ رکھتے ہیں، جو کسی فلم ساز کے تخلیقی سفر کو زیادہ جامع انداز میں سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔
ان فلموں کی بحالی قومی فلم ورثہ مشن (این ایف ایچ ایم)کے تحت کی گئی، جو حکومتِ ہند کی وزارتِ اطلاعات و نشریات کا ایک اہم منصوبہ ہے اور ملک کے سمعی و بصری ورثے کو محفوظ رکھنے کے لیے وقف ہے۔ ان فلموں کی باریک بینی سے کی گئی فور کے ریزولوشن میں بحالی کے لیے ان اصل فلمی مواد سے استفادہ کیا گیا، جنہیں این ایف ڈی سی–این ایف اے آئی نے کئی دہائیوں سے محفوظ رکھا ہے، جبکہ مغربی بنگال کے ریاستی فلم آرکائیو سے حاصل ہونے والے قیمتی مواد نے بھی اس عمل میں اہم کردار ادا کیا۔ فلموں کی بصری صداقت اور رتوک گھٹک کے اصل سنیمائی وژن سے مطابقت برقرار رکھنے کے لیے رنگوں کی درجہ بندی کے عمل کی نگرانی قومی فلم ایوارڈیافتہ سنیماٹوگرافر جناب اویک مکھوپادھیائے نے کی، جنہوں نے اس بحالی کے اقدام کو سراہا۔
پروگرام کےتفصیلی شیڈول کے لیے دلچسپی رکھنے والے افراد nfaifilmcircle@nfdcindia.com پر ای میل بھیج سکتے ہیں یا این ایف ڈی سی–این ایف اے آئی کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ملاحظہ کر سکتے ہیں۔
*******
) ش ح – رک )
U.NO- 6469