پوسٹ کرنے کی تاریخ:
16 SEP 2026 1:02PM by PIB Delhi
|
پردھان منتری آواس یوجنا (شہری) ایک اہم شہری رہائشی منصوبہ ہے، جس کا مقصد شہری علاقوں میں سبھی کو رہائش فراہم کرنا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ملک بھر میں اہل شہری خاندانوں کو بنیادی شہری سہولتوں سے آراستہ پختہ مکانات فراہم کیے جاتے ہیں۔ اس منصوبے کا بنیادی ہدف شہروں اور قصبوں میں معاشی طور پر کمزور طبقے (ای ڈبلیو ایس)، کم آمدنی والے گروپ (ایل آئی جی)، متوسط آمدنی والے گروپ (ایم آئی جی) کے خاندانوں اور کچی بستیوں میں رہنے والوں کو رہائش فراہم کرنا ہے۔ پردھان منتری آواس یوجنا (شہری) کے نفاذ سے حاصل ہونے والے تجربات کی بنیاد پر 2024 میں اس کی نئی شکل، پردھان منتری آواس یوجنا (شہری) 2.0 شروع کی گئی۔ اس منصوبے میں شمولیت کو خاص اہمیت دی گئی ہے، جس کے تحت خواتین اور شہری علاقوں کے دیگر کمزور طبقات کو بھی فوائد فراہم کیے جاتے ہیں۔ جغرافیائی محلِ وقوع کے تعین اور حقیقی وقت میں معلومات فراہم کرنے والے ڈیش بورڈ کےذریعہ نگرانی کے نظام جیسے جدید ذرائع نے منصوبے کے کام کاج میں شفافیت لانے اور اس کی نگرانی کو مزید مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
|
ایک محفوظ اور پائیدار گھر باوقار زندگی کی بنیاد ہوتا ہے۔ یہ خاندانوں کو استحکام، تحفظ اور بہتر مواقع حاصل کرنے کے لیے اعتماد فراہم کرتا ہے۔ معیاری رہائش کی سہولت نہ صرف معیارِ زندگی کو بہتر بناتی ہے بلکہ صحت، تعلیم، مالی تحفظ اور مجموعی فلاح و بہبود میں بھی اضافہ کرتی ہے۔ شہری علاقوں میں رہنے والے لاکھوں خاندانوں کے لیے ایک مستقل گھر محض چھت فراہم کرنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ ایک روشن اور محفوظ مستقبل کی جانب پیش قدمی کا راستہ بھی ہے۔
جامع ترقی کو فروغ دینے میں رہائش کے اہم کردار کو تسلیم کرتے ہوئے، جون 2015 میں پردھان منتری آواس یوجنا (شہری) شروع کی گئی۔ اس منصوبے میں شہری ترقی کے مرکز میں سستے مکانات کی فراہمی کو رکھا گیا ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران، اس منصوبے نے بڑے پیمانے پر اقدامات، اختراعات اور سب سے زیادہ مدد کے ضرورت مند افراد پر خصوصی توجہ کے ذریعے رہائشی منظرنامے کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
|
پردھان منتری آواس یوجنا (شہری): شہری رہائش کی ضروریات پوری کرنے کے لیے قومی سطح کا اقدام
|
پردھان منتری آواس یوجنا (شہری) کے تحت ملک بھر میں اہل شہری خاندانوں کو ہر موسم میں رہنے کے لیے موزوں پختہ مکانات اور بنیادی شہری سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔ اس منصوبے میں کچی بستیوں میں رہنے والوں اور معاشی طور پر کمزور طبقے (ای ڈبلیو ایس)، کم آمدنی والے گروپ (ایل آئی جی) اور متوسط آمدنی والے گروپ (ایم آئی جی) سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کی رہائشی ضروریات پر توجہ دی جاتی ہے۔ اس منصوبے کے تحت سستے مکانات کی تعمیر اور فراہمی کے لیے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مرکزی حکومت کی جانب سے مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ اس منصوبے کی اصل مدت مارچ 2022 تک مقرر تھی۔ تاہم، ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی درخواست پر اور منظور شدہ منصوبوں کی تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے، اس کی مدت میں30 ستمبر 2026 تک توسیع کر دی گئی ہے۔مزید برآں، پردھان منتری آواس یوجنا (شہری) کے نفاذ سے حاصل ہونے والے تجربات اور اسباق کی روشنی میں، نیز رہائش کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیشِ نظر، اس منصوبے میں نئی تبدیلیاں کی گئیں اور ستمبر 2024 میں اسے پردھان منتری آواس یوجنا (شہری) 2.0 کے نام سے شروع کیا گیا۔ یہ منصوبہ زیادہ مؤثر اور جامع طریقۂ کار کے ساتھ شہری علاقوں میں ‘‘سب کے لیے رہائش’’ کے تصور کو آگے بڑھا رہا ہے۔
مستفید خاندان کون ہوتا ہے؟
پردھان منتری آواس یوجنا (شہری) کے تحت مستفید خاندان میں شوہر، بیوی اور غیر شادی شدہ بیٹے اور/یا غیر شادی شدہ بیٹیاں شامل ہوتی ہیں۔ خاندان کے کسی بھی فرد کے نام پر بھارت میں کہیں بھی پختہ مکان (ہر موسم میں رہائش کے لیے موزوں مکان) نہیں ہونا چاہیے۔ شادی شدہ یا غیر شادی شدہ ہونے سے قطع نظر، آمدنی کمانے والے ہر بالغ فرد کو ایک الگ خاندان تصور کیا جاتا ہے۔ تاہم، یہ اصول صرف درج ذیل شرائط پوری ہونے کی صورت میں لاگو ہوتا ہے:
- اس کے نام پر بھارت میں کہیں بھی کوئی پختہ مکان نہیں ہونا چاہیے۔
- شادی شدہ جوڑے میں شوہر یا بیوی میں سے کوئی ایک یا دونوں مشترکہ طور پر صرف ایک مکان کے لیے اس منصوبے کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ خاندان کی آمدنی منصوبے کے تحت مقررہ اہلیت کے معیار پر پوری اترتی ہو۔ اہل مستفید شخص اس مشن کے چار میں سے صرف ایک ذیلی زمرے کے تحت فوائد حاصل کر سکتا ہے۔
- جن افراد کے پاس 21 مربع میٹر سے کم رقبے کا پختہ مکان ہے، انہیں اس منصوبے کے تحت مکان کی توسیع اور بہتری کے ذریعے اس کا رقبہ 30 مربع میٹر تک بڑھانے کے لیے اہل قرار دیا جا سکتا ہے۔ اگر زمین یا دیگر رکاوٹوں کی وجہ سے ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو وہ پردھان منتری آواس یوجنا (شہری) کے تحت کسی دوسری جگہ مکان حاصل کر سکتے ہیں۔
|
پردھان منتری آواس یوجنا (شہری) 2.0: ایک نئے باب کی تعمیر
|
پردھان منتری آواس یوجنا (شہری) 2.0، سستے مکانات کی فراہمی کے قومی مشن کا اگلا مرحلہ ہے، جو پردھان منتری آواس یوجنا (شہری) کی مضبوط بنیاد پر استوار کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد مزید ایک کروڑ غریب اور متوسط طبقے کے شہری خاندانوں کو مالی امداد فراہم کرنا ہے۔ اس پر 2024 سے 2029 تک عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔اس منصوبے کے تحت اہل خاندانوں کو شہری علاقوں میں سستے مکانات کی تعمیر یا خریداری میں مدد دینے کے لیے فی مکان ڈھائی لاکھ روپے تک کی مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ پردھان منتری آواس یوجنا (شہری) 2.0 کے تحت اہل مستفیدین کے لیے سستے کرایے کے مکانات کی فراہمی میں بھی مدد دی جاتی ہے، تاکہ ملک کے شہری علاقوں میں رہائش کی مختلف ضروریات پوری کی جا سکیں۔
پردھان منتری آواس یوجنا (شہری) 2.0 سے معاشی طور پر کمزور طبقے (ای ڈبلیو ایس)، کم آمدنی والے گروپ (ایل آئی جی) اور متوسط آمدنی والے گروپ (ایم آئی جی) سے تعلق رکھنے والے خاندان فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ مستفیدین کے لیے آمدنی کے معیار درج ذیل ہیں:
- معاشی طور پر کمزور طبقے (ای ڈبلیو ایس) کے خاندان: سالانہ آمدنی 3 لاکھ روپے تک۔
- کم آمدنی والے طبقے (ایل آئی جی) کے خاندان: سالانہ آمدنی 3 لاکھ سے 6 لاکھ روپے تک۔
- متوسط آمدنی والے طبقے (ایم آئی جی) کے خاندان: سالانہ آمدنی 6 لاکھ سے 9 لاکھ روپے تک۔
پردھان منتری آواس یوجنا (شہری) 2.0 کے چار بنیادی شعبے
پردھان منتری آواس یوجنا (شہری) کے تجربات کی روشنی میں، اس کے نئے مرحلے پردھان منتری آواس یوجنا (شہری) 2.0 میں بھی چار جہتی نقطہ نظر اختیار کیا گیا ہے، تاکہ بھارت کے شہری علاقوں میں رہائش کی مختلف ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔

مستفیدین کی جانب سے مکان کی تعمیر (بی ایل سی)
اس ذیلی زمرے کے تحت اہل معاشی طور پر کمزور طبقے (ای ڈبلیو ایس) کے خاندانوں کو ڈھائی لاکھ روپے تک کی مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ اس امداد سے وہ اپنی دستیاب زمین پر نئے پختہ مکانات تعمیر کر سکتے ہیں، جن کا زیادہ سے زیادہ اندرونی قابلِ استعمال رقبہ 45 مربع میٹر ہو سکتا ہے۔
شراکت داری کے ذریعے سستے مکانات کی فراہمی (اے ایچ پی)
اس ذیلی زمرے کے تحت معاشی طور پر کمزور طبقے (ای ڈبلیو ایس) کے مستفیدین کو اپنا پختہ مکان حاصل کرنے کے لیے مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ اس مقصد کے لیے سرکاری یا نجی ادارے اہل مستفیدین کے لیے ایسے سستے مکانات تعمیر کرتے ہیں، جن کا اندرونی قابلِ استعمال رقبہ 30 سے 45 مربع میٹر تک ہوتا ہے۔مکان کی خریداری کی قیمت میں مدد دینے کے لیے مرکزی اور ریاستی حکومتیں مشترکہ طور پر فی مکان ڈھائی لاکھ روپے تک کی مالی امداد فراہم کرتی ہیں۔
سستے کرایے کے مکانات کی فراہمی (اے آر ایچ)
اس ذیلی زمرے کے تحت شہری باشندوں کو سستے، باعزت اور صاف ستھرے کرایے کے مکانات فراہم کیے جاتے ہیں، جنہیں عارضی رہائش کی ضرورت ہو یا جو مکان خریدنےیا تعمیر کرنے کی استطاعت نہ رکھتے ہوں۔ اس میں معاشی طور پر کمزور طبقے (ای ڈبلیو ایس) اور کم آمدنی والے طبقے (ایل آئی جی) کے مستفیدین شامل ہیں۔ ان میں نقل مکانی کرکے شہروں میں آنے والے افراد، بے گھر لوگ، صنعتی مزدور، ملازمت پیشہ خواتین، تعمیراتی مزدور، شہری غریب اور بے سہارا افراد شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سڑکوں پر سامان فروخت کرنے والے خوانچہ فروش، رکشہ چلانے والے، ٹھیکے پر کام کرنے والے ملازمین اور دیگر ضرورت مند افراد بھی اس زمرے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔مکانات کو رہائش کے قابل بنانے کے لیے ضروری بنیادی سہولتوں کی فراہمی پر بھی توجہ دی جاتی ہے، جن میں پانی، نکاسیٔ آب یا گندے پانی کی صفائی کا نظام، صفائی ستھرائی، اندرونی سڑکیں اور صحت مراکز وغیرہ شامل ہیں۔
سود میں رعایت کی اسکیم (آئی ایس ایس)
اس ذیلی زمرے کے تحت پردھان منتری آواس یوجنا (شہری) 2.0 کے تحت اہل افراد کو مکان کے قرض پر سود میں رعایت فراہم کی جاتی ہے۔ اس میں ایسے قرضے شامل ہیں جو یکم ستمبر 2024 کو یا اس کے بعد منظور کیے گئے ہوں اور جن کی رقم جاری کی گئی ہو۔ معاشی طور پر کمزور طبقے (ای ڈبلیو ایس)، کم آمدنی والے طبقے (ایل آئی جی) اور متوسط آمدنی والے طبقے (ایم آئی جی) سے تعلق رکھنے والے اہل مستفیدین مکان خریدنے، دوبارہ خریدنے یا تعمیر کرنے کے لیے اس رعایت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔پانچ سال سے زیادہ مدت کے قرضے لینے والے اہل مستفیدین کو سود میں زیادہ سے زیادہ1.80 لاکھ روپے تک کی رعایت فراہم کی جاتی ہے۔
|
پردھان منتری آواس یوجنا (شہری) اور پردھان منتری آواس یوجنا -شہری2.0 کی اہم کامیابیاں
|
پردھان منتری آواس یوجنا (شہری) کا سفر اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ بڑے پیمانے پر سستے مکانات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ 2005 سے 2014 کے درمیان، سابقہ اسکیموں کے تحت شہری علاقوں میں صرف تقریباً8 لاکھ مکانات ہی تعمیر کیے گئے تھے۔ 9 اگست 2026 تک، پردھان منتری آواس یوجنا (شہری) اور پردھان منتری شہری- 2.0 کے تحت مجموعی طور پر 1.25 کروڑ مکانات کی منظوری دی جا چکی ہے۔ ان میں سے ایک کروڑ سے زیادہ مکانات مکمل کرکے ملک بھر میں مستفیدین کے حوالے کیے جا چکے ہیں۔
شہری رہائش تک مساوی رسائی کو یقینی بنانا
شہری ترقی کی حقیقی کامیابی اسی بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ اس کے فوائد کتنے وسیع پیمانے پر لوگوں تک پہنچتے ہیں۔ اس مشن میں شمولیت کو مرکزی اہمیت دی گئی ہے اور شہروں و قصبوں میں رہنے والے کمزور طبقات کے خاندانوں کو رہائش کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔
اس تبدیلی کے عمل میں خواتین کو ہمیشہ مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے۔ پردھان منتری آواس یوجنا (شہری) کے تحت یہ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ مکانات کی ملکیت یا مشترکہ ملکیت خواتین مستفیدین کے نام پر ہو۔ اس انتظام سے ان کے مالی تحفظ کو تقویت ملی ہے اور گھریلو فیصلوں میں ان کا کردار بھی مضبوط ہوا ہے۔
اس مشن میں درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل، دیگر پسماندہ طبقات، اقلیتوں، بزرگ شہریوں، معذور افراد اور خواجہ سراؤں کے لیے رہائش کی سہولت کو بھی ترجیح دی جاتی ہے۔ مستفیدین کے مختلف طبقات کی ضروریات کو پورا کرتے ہوئے، پردھان منتری آواس یوجنا (شہری) نے شہری ترقی کو زیادہ منصفانہ اور سب کے لیے قابلِ رسائی بنانے میں مدد فراہم کی ہے۔
پردھان منتری آواس یوجنا (شہری) 2.0 بھی مختلف مستفید طبقات کو ہدف بنا کر امداد فراہم کرنے کے ذریعے اس عزم کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ 9 اگست 2026 تک، اس منصوبے کے تحت تقریباً 18.38 لاکھ مکانات منظور کیے جا چکے ہیں۔ اس کے تحت مکان کی ملکیت کے مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ کمزور طبقات کی ضروریات پوری کرنے کے لیے خصوصی اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔
- منظور کیے گئے 18.38 لاکھ مکانات میں سے 14.40 لاکھ مکانات مستفیدین کی جانب سے تعمیر کے زمرے (بی ایل سی) کے تحت آتے ہیں۔
- شراکت داری کے ذریعے سستے مکانات کی فراہمی کے زمرے (اے ایچ پی) کے تحت 2.48 لاکھ مکانات منظور کیے جا چکے ہیں۔
- سود میں رعایت کی اسکیم (آئی ایس ایس) کے تحت 1.36 لاکھ مکانات کو شامل کیا گیا ہے۔
- سستے کرایے کے مکانات کی فراہمی کے زمرے (اے آر ایچ) کے تحت 13,046 رہائشی مکانات منظور کیے جا چکے ہیں۔
- پردھان منتری آواس یوجنا (شہری) اور پردھان منتری آواس یوجنا شہری-2.0 کے تحت منظور کیے گئے 1.25 کروڑ مکانات میں سے ایک کروڑ مکانات خواتین کے نام مختص کیے گئے ہیں۔ ان میں وہ مکانات شامل ہیں جو خاندان کی خاتون سربراہ کے نام پر یا مشترکہ ملکیت کے طور پر مختص کیے گئے ہیں۔

یہ کامیابیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ یہ مشن رہائش کی سہولت ان لوگوں تک پہنچانے پر مسلسل توجہ دے رہا ہے جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ سستے مکانات کی فراہمی کو شمولیت کے اصول کے ساتھ جوڑ کر، پردھان منتری آواس یوجنا (شہری) زیادہ مساویانہ اور مضبوط شہری برادریوں کی تشکیل میں مدد دے رہی ہے۔
|
جدید ٹیکنالوجی کے ذریعہ عمل درآمد اور نگرانی
|
جدید ٹیکنالوجی نے شہری رہائش کی فراہمی کے عمل کو ایک نئی جہت دی ہے۔ ڈیجیٹل ڈیش بورڈوں، جغرافیائی محلِ وقوع کے اندراج اور مربوط نگرانی کے نظام نے پردھان منتری آواس یوجنا (شہری) کے تحت منصوبے پر عمل درآمد کو مزید مؤثر بنایا ہے۔ ان ذرائع سے شفافیت میں اضافہ ہوا ہے اور منصوبوں کی نگرانی کا عمل بھی بہتر ہوا ہے۔
- یونیفائڈ ویب پورٹل: پردھان منتری آواس یوجنا (شہری) 2.0 کا متحدہ ویب پورٹل شہری علاقوں میں اس منصوبے پر عمل درآمد اور اس کی نگرانی کے لیے ایک واحد ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس کے ذریعے اہل مستفیدین رہائشی امداد کے لیے درخواست دے سکتے ہیں، جبکہ درخواستوں کی کارروائی اور ان کی پیش رفت پر نظر رکھنا بھی آسان ہو جاتا ہے۔یہ پورٹل مستفیدین، شہری بلدیاتی اداروں، ریاستی حکومتوں، مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں اور دیگر عمل درآمد کرنے والے اداروں سمیت تمام اہم متعلقہ فریقوں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر یکجا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ تعمیر کے مختلف مراحل میں مکانات کے جغرافیائی محلِ وقوع کے اندراج اور مالی امداد کی رقم جاری کرنے کے عمل کو آسان بناتا ہے۔ اس طرح منصوبے میں شفافیت، جواب دہی اور مؤثر نگرانی کو یقینی بنانے میں مدد ملتی ہے۔
- پردھان منتری آواس یوجنا (شہری) ڈیش بورڈ: اس ڈیش بورڈ پر اہم کارکردگی کے اشاریوں سے متعلق تازہ ترین پیش رفت حقیقی وقت میں دستیاب ہوتی ہے۔ ریاستی حکومتیں، مرکز کے زیرِ انتظام علاقے، شہری بلدیاتی ادارے، عمل درآمد کرنے والی ایجنسیاں، معزز ارکانِ پارلیمان اور ارکانِ قانون ساز اسمبلی، مستفیدین اور دیگر تمام متعلقہ فریق اس معلومات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔اس سہولت سے مستند معلومات اور اعداد و شمار کی بنیاد پر باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملتی ہے اور منصوبے پر عمل درآمد کی مؤثر نگرانی بھی ممکن ہوتی ہے۔
- - جغرافیائی محلِ وقوع کا اندراج: منصوبوں کی نگرانی پانچ مراحل میں کی جاتی ہے، جن میں تعمیراتی کام کا آغاز، بنیاد کی تعمیر، عمارت کے ڈھانچے کی تکمیل، تکمیلی کام اور بیرونی ترقیاتی کام، نیز منصوبے کی مکمل تکمیل شامل ہیں۔ ان تمام مراحل میں نگرانی کے اس نظام سے بڑے پیمانے پر جاری منصوبوں کو مقررہ وقت پر مکمل کرنے اور معیار کے طے شدہ پیمانوں پر پورا اترنے کو یقینی بنایا جاتا ہے۔
- ٹیکنالوجی ذیلی مشن (ٹی ایس ایم): اس مشن کے تحت تیز رفتار تعمیر اور بہتر معیار کے مکانات کی فراہمی کے لیے جدید، ماحول دوست اور اختراعی تعمیراتی ٹیکنالوجیز کو اپنانے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ اس کے تحت عالمی رہائشی ٹیکنالوجی چیلنج، بھارت (جی ایچ ٹی سی۔ انڈیا) کو منظم کیا گیا۔ دنیا بھر سے آزمودہ 54 ٹیکنالوجیز کو منتخب کیا گیا، جو عالمی سطح پر مستند اور آفات سے محفوظ تعمیراتی ٹیکنالوجیز ہیں۔ جی ایچ ٹی سی۔ انڈیا کے تحت منتخب کردہ چھ مختلف ٹیکنالوجیز کا استعمال کرتے ہوئے ملک کے چھ مقامات پر چھ لائٹ ہاؤس منصوبے (ایل ایچ پیز) تعمیر کیے گئے ہیں۔
- ٹیکنالوجی اور اختراع ذیلی مشن (ٹی آئی ایس ایم): ٹیکنالوجی ذیلی مشن (ٹی ایس ایم) کے تحت حاصل ہونے والی پیش رفت کو آگے بڑھاتے ہوئے، پردھان منتری آواس یوجنا (شہری) 2.0 کے تحت ٹیکنالوجی اور اختراع ذیلی مشن (ٹی آئی ایس ایم)، مکانات کی تعمیر میں اختراع کو فروغ دیتا ہے۔ اس کا مقصد جدید طرزِ تعمیر، معیار کی یقین دہانی اور پائیدار رہائش کے لیے ماحول دوست عمارتوں کے مقررہ معیارات کو اپنانے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ یہ مشن مختلف جغرافیائی اور موسمی خطّوں کے مطابق آب و ہوا سے ہم آہنگ نقشہ سازی اور عمارتوں کے منصوبوں کی تیاری میں بھی معاونت کرتا ہے۔
- ٹیکنالوجی اختراعی امداد (ٹی آئی جی): پردھان منتری آواس یوجنا (شہری) 2.0 کے تحت سستے مکانات کی فراہمی کے منصوبوں (اے ایچ پی) کے لیے اضافی ٹیکنالوجی اختراعی امداد (ٹی آئی جی)فراہم کی جاتی ہے۔ اس امداد کا مقصد عالمی رہائشی ٹیکنالوجی چیلنج، بھارت (جی ایچ ٹی سی۔ انڈیا) کے تحت منظور شدہ جدید اور متبادل تعمیراتی ٹیکنالوجیز کے استعمال میں معاونت کرنا ہے۔
|
مستفیدین کی زندگیوں پر اثرات
|
پردھان منتری آواس یوجنا (شہری) کے حقیقی اثرات کو شہری بھارت میں ان لوگوں کی زندگیوں میں آنے والی تبدیلیوں کے ذریعے بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے، جنہیں اس منصوبے سے فائدہ پہنچا ہے۔ کامیابی کی یہ داستانیں ظاہر کرتی ہیں کہ محفوظ اور پائیدار رہائش نے مستفیدین کے وقار، زندگی میں استحکام اور خود انحصاری کو کس طرح مضبوط بنایا ہے۔
اپنی چھت، امکانات سے بھرپور مستقبل
آندھرا پردیش کے علاقے اڈانکی میں منڈھلاپو اننت لکشمی اپنے شوہر اور تین بچوں کے ساتھ ایک چھوٹے سے مکان میں رہتی تھیں، جس کی چھت عارضی نوعیت کی تھی۔ خاندان کی معمولی آمدنی کا ذریعہ بھینس پالنا تھا اور اپنے پختہ مکان کا خواب پورا کرنا ان کے لیے مالی طور پر ممکن نظر نہیں آتا تھا۔ پردھان منتری آواس یوجنا (شہری) کے تحت امداد ملنے کے بعد خاندان نے خود مکان تعمیر کرکے مالی مشکلات پر قابو پالیا۔ نئے پختہ مکان کی تعمیر سے انہیں محفوظ اور صحت بخش صفائی کی سہولتیں میسر آئیں، کھلے میں رفع حاجت کا سلسلہ ختم ہوا اور معیارِ زندگی بہتر ہوا۔ سب سے بڑھ کر، اس مکان نے خاندان میں خود اعتمادی پیدا کی اور انہیں اپنے بچوں کے روشن مستقبل کے لیے سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دی۔
بار بار مرمت کی پریشانی سے مستقل استحکام تک
میگھالیہ کے شہر نونگ پوہ میں لوسی بون سنگکلی اپنے خاندان کی واحد کفیل ہیں اور اپنے والد اور بہنوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔ وہ آشا کارکن کے طور پر خدمات انجام دینے کے ساتھ ساتھ انناس کی کاشت بھی کرتی ہیں۔ ان کا خاندان ایک کچے مکان میں رہتا تھا، جس کی خاص طور پر برسات کے موسم میں بار بار مرمت کرانا ضروری ہوتا تھا۔ مرمت پر ہونے والے اخراجات اکثر خاندان کی مالی حالت پر بوجھ بنتے تھے اور ان کے والد کے علاج معالجے پر بھی اثر انداز ہوتے تھے۔ پردھان منتری آواس یوجنا (شہری) کی مستفید بننے کے بعد لوسی بون کو ہر موسم میں محفوظ رہنے کے قابل پختہ مکان میسر آیا۔ اس سے مکان کی دیکھ بھال اور مرمت کے اخراجات کم ہوئے اور خاندان کی مالی حالت مستحکم ہوئی۔ اب بچائی جانے والی رقم ان کے والد کی طبی ضروریات پوری کرنے میں مدد دیتی ہے۔ خاندان نے بارش کے پانی کو جمع کرنے کا نظام بھی اپنایا ہے، پھل دار درخت لگائے ہیں، ایل پی جی گیس کا کنکشن حاصل کیا ہے اور روشنی کے لیے ایل ای ڈی بلب استعمال کرنا شروع کیے ہیں۔ نئے مکان نے پورے خاندان کو ذہنی سکون اور تحفظ کا احساس عطا کیا ہے۔

|
سب کے لیے رہائش کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کی جانب پیش رفت
|
کسی شہر کی کہانی دراصل اُن لوگوں کی کہانی ہوتی ہے جو اسے اپنا گھر کہتے ہیں۔ جیسے جیسے شہری مراکز ترقی کرتے ہیں اور وقت کے ساتھ ان کی صورت بدلتی ہے، رہائش کی سہولت شمولیت، مواقع اور معیارِ زندگی کی نمایاں ترین علامتوں میں سے ایک بن جاتی ہے۔ پردھان منتری آواس یوجنا (شہری) کا سفر بھی اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ اس منصوبے نے اُن لاکھوں لوگوں کے لیے اپنا گھر حاصل کرنے کی راہ ہموار کی ہے جو طویل عرصے سے شہری ترقی کے ثمرات سے محروم رہے تھے۔ اس طرح، اس نے ملک بھر کے بے شمار خاندانوں کے لیے اپنے گھر کا خواب محض ایک آرزو کے بجائے حقیقت میں بدلنے میں مدد دی ہے۔ منصوبہ بندی، نگرانی اور شفاف عمل درآمد کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی نظاموں کے استعمال سے بھی اس مشن کو مزید تقویت ملی ہے۔ پردھان منتری آواس یوجنا (شہری) 2.0 کے ذریعے یہ مشن اس بات کو یقینی بنانے کی اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے کہ ہر خاندان کو ایک محفوظ گھر میسر ہو، جسے وہ اپنا کہہ سکے۔
ہاؤسنگ اور شہری امور کی وزارت
https://pmay-urban.gov.in/about
https://pmaymis.gov.in/pmaymis2_2024/PMAY_SURVEY/EligiblityCheck.aspx
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2274164®=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2239027®=48&lang=2
https://dashboard.pmay-urban.gov.in/
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2231861®=3&lang=2
https://pmay-urban.gov.in/uploads/progress-pdfs/68ac528160e77-Achievement_under_PMAY-U_&_PMAY-U2.0_cropped.pdf
https://pmay-urban.gov.in/uploads/guidelines/AHP-SOP.pdf
https://pmaymis.gov.in/PMAYMIS2_2024/PmayUrban.aspx
https://pmay-urban.gov.in/uploads/pmayu-9-years/Booklet.pdf
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1953776®=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleaseDetail.aspx?PRID=2296797®=48&lang=1
https://pmay-urban.gov.in/uploads/success-stories/605c36ab8e06f-Meghalaya_Lucybon%20Syngkli.pdf
https://pmay-urban.gov.in/uploads/success-stories/605c2ccda9adb-Andhra%20Pradesh_Mandhalpu%20Ananthalakshmi.pdf
https://pmay-urban.gov.in/uploads/success-stories/605c347e9d8cd-Kerala%20A%20R%20Ragasree.pdf
https://pmay-urban.gov.in/uploads/guidelines/Operational-Guidelines-of-PMAY-U-2.pdf
پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں
********
) ش ح ۔ا ک۔ش ت)
U.No. 6312