ارضیاتی سائنس کی وزارت
ارضیاتی سائنسز کی وزارت اور سائنس و اختراعی تحقیق کی اکیڈمی کے درمیان ارضیاتی نظام کے علوم میں ڈاکٹریٹ کی تحقیق کو فروغ دینے کے لیے شراکت داری کا اعلان
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
19 OCT 2026 10:45AM by PIB Delhi
ارضیاتی سائنسز کی وزارت اور سائنس و اختراعی تحقیق نے 13 اکتوبر 2026 کو نئی دہلی میں پرتھوی بھون کے صدر دفتر میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران مفاہمت کی ایک اسٹریٹجک مفاہمت نامے(ایم او یو) پر دستخط کیے۔
اس اہم معاہدے کے تحت، وزارتِ ارضیاتی علوم کے تحت کام کرنے والے تمام دس ممتاز تحقیقی اداروں کو سائنس و اختراعی تحقیق کی اکیڈمی کے شریک تحقیقی اداروں کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اس ادارہ جاتی اشتراک کے ذریعے وزارتِ ارضیاتی علوم کی جدید ترین تحقیقی سہولیات اور سائنسی مہارت کو اکیڈمی کے مستحکم تعلیمی نظام کے ساتھ مربوط کیا جائے گا، تاکہ ارضیاتی نظام کے مختلف شعبوں، بشمول ماحولیات سے متعلق علوم، سمندری علوم اور قطبی علوم، میں ڈاکٹریٹ (پی ایچ ڈی) پروگرام پیش کیے جا سکیں۔
اس مفاہمت نامے پر 21 اگست 2026 کو دستخط کیے گئے تھے۔ ارضیاتی سائسنز کی وزارت کی جانب سے سائنس دان-جی اور مشن ڈائریکٹر (مشن موسم) ڈاکٹر پروین کمار ڈی اور سائنس و اختراعی تحقیق کی اکیڈمی کے ڈائریکٹر پروفیسر منوج کمار دھر نے اس پر دستخط کیے۔ اس مفاہمت نامے کا باضابطہ اعلان اور دستاویزات کا تبادلہ ارضیاتی سائنسز کی وزارت کے سکریٹری سمیت دونوں اداروں کے سینئر عہدیداران اور ڈائریکٹروں کی موجودگی میں عمل میں آیا۔
ارضیاتی سائنسز کی وزارت کے سکریٹری ڈاکٹر سرینیواسا کمار تمّالا نے وزارتِ ارضیاتی علوم اور سائنس و اختراعی تحقیق کی اکیڈمی کے درمیان ایک اہم قومی پہل کے سلسلے میں خطاب کرتے ہوئے مشترکہ تحقیق اور تعلیمی شراکت داری کے کلیدی کردار کو اجاگر کیا۔
اس مشترکہ کوشش کے ذریعے وزارتِ ارضیاتی علوم اور اس کے تحت کام کرنے والے دس اداروں کو سائنس و اختراعی تحقیق کی اکیڈمی کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے، جس سے سمندری علوم، فضائی علوم، آبیات اور سیاروی نظاموں کے شعبوں میں جدید سائنسی تحقیق اور تعلیمی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے ایک متحدہ نظام قائم ہوگا۔
ارضیاتی سائنسز کی وزارت کے سکریٹری نے کہاکہ ’’مجھے یقین ہے کہ ارضیاتی سائنسز کی وزارت کو اس سے بہت فائدہ ہوگا۔ اس سے ہمارے اداروں، سائنس دانوں اور ان طلبہ کو فائدہ پہنچے گا جو درحقیقت ارضیاتی علوم کے شعبے میں سرگرمِ عمل ہیں۔ ہم تمام اداروں اور ان کے صدر دفاتر کے ساتھ کام کرنے کے لیے پُرامید ہیں۔ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ مستقبل میں یہ اشتراک ارضیاتی سائنسز کے تمام اساتذہ، سائنس اور ٹیکنالوجی کے محققین کے لیے انتہائی مفید ثابت ہو۔‘‘
اس مشترکہ نظام کا مقصد بین علومی تحقیق کو فروغ دینا، قومی تجربہ گاہوں کے درمیان وسائل اور بنیادی ڈھانچے کے اشتراک کو آسان بنانا اور اپنے پیشہ ورانہ سفر کے ابتدائی مرحلے میں موجود سائنس دانوں اور طلبہ کے لیے بہتر تعلیمی مواقع فراہم کرنا ہے۔
شراکت داری کے اہم نکات
1. ملک گیر سطح پر تسلیم شدہ اداروں کا نیٹ ورک: وزارتِ ارضیاتی علوم کے تمام دس ادارے ا سائنس و اختراعی تحقیق کی اکیڈمی کے شریک تحقیقی اداروں (اے سی ایس آئی آر-اے آر آئیز) کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
2. تعلیمی نظام اور اسناد کی تقسیم: اکیڈمی کے پی ایچ ڈی پروگرام کے تحت منتخب طلبہ وزارتِ ارضیاتی علوم کے اداروں میں تحقیق کریں گے۔ ان کی نگرانی وزارت کے وہ سائنس دان کریں گے جنہیں اکیڈمی کے تدریسی و تحقیقی عملے کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ ڈاکٹریٹ کی ڈگری اکیڈمی جاری کرے گی اور ڈگری کے سرٹیفکیٹ پر متعلقہ میزبان ادارے کا نام بھی واضح طور پر درج ہوگا۔
3. عملی تیاری: وزارت کے تمام دس ادارے اکیڈمی کے تازہ ترین پی ایچ ڈی داخلہ مرحلے میں حصہ لے رہے ہیں۔ تعلیمی امور کو آسانی سے انجام دینے کے لیے ہر ادارے میں اکیڈمی کے رابطہ کار مقرر کیے گئے ہیں، جب کہ وزارتِ ارضیاتی علوم میں ایک مرکزی رابطہ کار بھی تعینات کیا گیا ہے۔
4. تحقیقی شعبوں کا وسیع دائرہ: اس اشتراک سے ارضیاتی نظام کے علوم کے متعدد مخصوص شعبوں میں ڈاکٹریٹ کی تحقیق کے مواقع پیدا ہوں گے۔ ان میں موسم کی پیش گوئی اور موسمیاتی خدمات، عددی موسمی پیش گوئی، قطبی علاقوں اور برفانی خطوں سے متعلق تحقیق، سمندری مشاہدات اور بحری روبوٹکس، گہرے سمندر میں کان کنی اور پانی کو نمک سے پاک کرنے کی ٹیکنالوجی، علمِ زلزلہ اور زلزلے کے خطرات کا جائزہ، ساحلی عمل، سمندری حیاتیاتی وسائل اور ارضیاتی علوم میں مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ کے استعمال جیسے شعبے شامل ہیں۔
5. دانشمندانہ املاک کے حقوق: تحقیق کے نتیجے میں حاصل ہونے والے دانشمندانہ املاک کے حقوق کے تحت طالب علم کو موجد کی حیثیت سے تسلیم کرتے ہوئے اس کا نام درج کیا جائے گا، جب کہ مشترکہ دانش کے تحت حاصل ہونے والی ملکیت باہمی اشتراک سے متعلقہ فریقوں کے درمیان تقسیم کی جائے گی۔
تصویر: نئی دہلی میں پرتھوی بھون کے صدر دفتر میں مفاہمت نامے پر دستخط کی تقریب کے دوران ارضیاتی سائنسز کی وزارت اور اکیڈمی آف سائنٹفک اینڈ انوویٹیو ریسرچ کے عہدیداران۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ش ح۔ش ب۔ن م۔
U-6293
(ریلیز آئی ڈی: 2325014)
وزیٹر کاؤنٹر : 9