ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

قومی حیاتیاتی تنوع اتھارٹی کی جانب سے رسائی اور فوائد کی منصفانہ تقسیم کے طریقۂ کار کے تحت 29 ریاستی حیاتیاتی تنوع بورڈوں اور ایک مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کی حیاتیاتی تنوع کونسل کو 1.19 کروڑ روپے جاری

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 17 OCT 2026 7:32PM by PIB Delhi

قومی حیاتیاتی تنوع اتھارٹی نے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، حیاتیاتی وسائل کے پائیدار استعمال اور برادریوں کی فلاح و بہبود کے لیے رسائی اور فوائد کی منصفانہ تقسیم کے طریقۂ کار کے تحت 29 ریاستی حیاتیاتی تنوع بورڈوں اور ایک مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کی حیاتیاتی تنوع کونسل کو 1.19 کروڑ روپے جاری کیے ہیں۔ یہ رقم زرعی حیاتیاتی وسائل پر تحقیق اور ان کے تجارتی استعمال کے عوض کمپنیوں سے حاصل ہونے والی رسائی اور فوائد کی منصفانہ تقسیم کی مد میں موصول ہوئی ہے۔

چونکہ حیاتیاتی وسائل بازاروں یا تاجروں کے ذریعے حاصل کیے گئے تھے، اس لیے انفرادی مستفیدین کی فوری طور پر شناخت ممکن نہیں ہو سکی۔ چنانچہ قومی حیاتیاتی تنوع اتھارٹی نے ماہرین کی کمیٹی کی سفارش کردہ اور اتھارٹی سے منظور شدہ تقسیم کے طریقۂ کار کو اختیار کیا۔ رقوم کی تقسیم متعلقہ حیاتیاتی وسائل کے زیرِ کاشت تخمینی رقبے کے تناسب سے طے کی گئی۔ اس کے لیے وزارتِ زراعت و کسانوں کی بہبود کے متحدہ پورٹل برائے زرعی اعداد و شمار کے ذریعے شائع کردہ سرکاری زرعی اعداد و شمار کو بنیاد بنایا گیا۔

سب سے زیادہ رقم حاصل کرنے والی 10 ریاستوں کے لیے مختص رقوم کی تفصیلات، نیز دیگر ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں تقسیم کی گئی رقم کی تفصیل ذیل میں دی گئی ہے:

شمار

ریاست/زمرہ

رقم (روپے)

1

مہاراشٹر

19,46,149.00

2

راجستھان

13,97,525.00

3

مدھیہ پردیش

13,32,250.00

4

کرناٹک

10,49,957.00

5

تلنگانہ

9,55,754.00

6

گجرات

8,84,783.00

7

اتر پردیش

8,26,607.00

8

بہار

4,82,143.00

9

آندھرا پردیش

4,27,541.00

10

مغربی بنگال

3,72,103.00

11

دیگر

21,86,843.00

کل

 

1,18,61,655.00

اس رقم کی تقسیم میں زرعی حیاتیاتی وسائل شامل ہیں، جن میں مکئی، چاول، باجرہ اور کپاس شامل ہیں۔

مکئی اور میٹھی مکئی کی اقسام کے استعمال کے عوض میسرس کورٹوا کراپ انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ، میسرس پائنیئر اوورسیز کارپوریشن، میسرس پائنیئر ہائی بریڈ پرائیویٹ لمیٹڈ، میسرس لِماگرین انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ (سابقہ میسرس بسکو بایو سائنسز پرائیویٹ لمیٹڈ)، میسرس لِماگرین (تھائی لینڈ) کمپنی لمیٹڈ، میسرس لِماگرین برازیل ایس اے اور میسرس سنجینٹا انڈیا لمیٹڈ سے رسائی اور فوائد کی منصفانہ تقسیم (اے بی ایس) کے تحت رقوم موصول ہوئیں۔ میسرس لِماگرین انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ نے مکئی کی 5 ہائبرڈ اقسام، چاول کی 2 ہائبرڈ اقسام اور باجرے کی 3 ہائبرڈ اقسام کے لیے بھی تعاون کیا۔ کپاس کے معاملے میں 16 اقسام پر تحقیق کے لیے میسرس کورٹوا کراپ انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ اور 14 ہائبرڈ اقسام کے تجارتی استعمال کے لیے میسرس کرسٹل کراپ پروٹیکشن لمیٹڈ سے رقوم موصول ہوئیں۔

زرعی شعبہ بھارت کے رسائی اور فوائد کی منصفانہ تقسیم کے طریقۂ کار میں ایک ممکنہ معاون کے طور پر ابھر رہا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زرعی حیاتیاتی وسائل کا استعمال کس طرح حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور مقامی برادریوں کے لیے فوائد پیدا کر سکتا ہے۔ اس طرح کی رقوم روایتی اقسام اور جینیاتی تنوع سمیت بھارت کے زرعی حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور پائیدار استعمال میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔

اب تک قومی حیاتیاتی تنوع اتھارٹی نے زرعی شعبے سے حاصل ہونے والی 86 کروڑ روپے کی رقم مختلف مستفیدین میں تقسیم کی ہے۔ ریاستی حیاتیاتی تنوع بورڈوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کی حیاتیاتی تنوع کونسل کو مختص رقوم صرف حیاتیاتی تنوع قانون، 2002 کی دفعہ 32(2) کے تحت متعین سرگرمیوں پر خرچ کی جائیں گی۔ ان سرگرمیوں میں حیاتیاتی تنوع کی دستاویز بندی، اس کا تحفظ اور پائیدار استعمال، مقامی سطح پر حیاتیاتی تنوع کے انتظام کو مضبوط بنانا، تحقیق، صلاحیت سازی اور برادریوں کے ذرائع معاش میں بہتری شامل ہیں۔

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-6268


(ریلیز آئی ڈی: 2324776) وزیٹر کاؤنٹر : 8