خلا ء کا محکمہ
azadi ka amrit mahotsav

بھارت  کی خلائی معیشت 7 سے 8 سال  میں 40-45 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ جائے گی؛ ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے  وزیر اعظم مودی کی جانب سے خلائی شعبے کو کھولنے کے بعد  بڑھتی ہوئی نجی سرمایہ کاری کو اجاگر کیا


بھارت  خلائی صلاحیتوں کے مظاہرے سے آگے بڑھ کر عالمی سطح پر مسابقتی خلائی کمپنیاں بنانے کی طرف گامزن ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

ڈاکٹر جتیندر سنگھ  نے کہا،  قابلِ پیش گوئی طلب، تیز رفتار منظوریاں اور پائیدار کاروباری ماڈلز نجی خلائی صنعت کو وسعت دینے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں

انفراسٹرکچر مانیٹرنگ سے لے کر زراعت اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ تک، خلائی ٹیکنالوجی زمین پر ترقی کا محرک  ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 17 OCT 2026 3:50PM by PIB Delhi

نئی  دہلی، 17 اکتوبر: سائنس و ٹیکنالوجی اور  ارضیاتی  سائنس کے مرکزی وزیر مملکت ( آزادانہ چارج) اور وزیراعظم دفتر،   عملہ، عوامی شکایات، پنشن، ایٹمی توانائی اور خلا  کے  وزیر مملکت  ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے’’  خلا ، خودمختاری اور نئی معیشت‘‘  کے موضوع پر منعقدہ ایک میڈیا راؤنڈ ٹیبل کے دوران بتایا کہ ہندوستان کی خلائی معیشت، جس کی موجودہ مالیت تقریباً 9 ارب امریکی ڈالر ہے، اگلے سات سے آٹھ سال  میں 40 سے 45 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے کی امید ہے

وزیر موصوف نے کہا کہ ہندوستان کو اب اپنی تکنیکی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے سے آگے بڑھ کر عالمی سطح پر مسابقتی تجارتی خلائی کمپنیاں بنانے کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستانی کاروباری اداروں کو وسعت دینے اور عالمی منڈیوں میں ان کی موجودگی کو بڑھانے کے لیے زیادہ سے زیادہ ملکی و بین الاقوامی سرمایہ کاری، قابلِ پیش گوئی طلب، تیز رفتار ریگولیٹری منظوریاں اور پائیدار کاروباری ماڈلز ناگزیر ہوں گے۔

وزیر موصوف نے نئی دہلی میں  'بلومبرگ نیو اکانومی فورم' کے زیر اہتمام  منعقدہ اس راؤنڈ ٹیبل میں شرکت کی۔ اس بحث میں جائزہ لیا گیا کہ کس طرح ممالک اپنی خودمختار خلائی صلاحیتوں کو تجارتی  لحاظ سے  مسابقتی صنعتوں میں تبدیل کر سکتے ہیں، نجی سرمایہ کاری کو راغب کر سکتے ہیں اور قومی مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے مضبوط سپلائی چین تیار کر سکتے ہیں۔ شرکاء نے ابھرتی ہوئی عالمی خلائی معیشت، بین الاقوامی شراکت داری کے کردار اور نجی خلائی اداروں کو وسعت دینے کے چیلنجوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

دیگر ممتاز شرکاء میں انڈین نیشنل اسپیس پروموشن اینڈ آتھرائزیشن سینٹر( اِن- اسپیس)  کے ڈائریکٹر (پرموشن) ونود کمار؛ اور  اسٹیم بورڈ  اور لنگو کی بانی اور سی ای او، ناسا کی سابق انجینئر اور بلیو اوریجن کی خلاباز عائشہ بوے  شامل تھیں۔ اس سیشن میں خلائی صنعت، کاروباری ادارے ، تعلیمی ادارے  اور بین الاقوامی خلائی برادری کے نمائندے  ایک جگہ جمع  ہوئے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں 2019-2020 میں ہندوستان کے خلائی شعبے کو نجی شمولیت کے لیے کھولنے کے محض پانچ سے چھ سال کے اندر نمایاں نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ ہندوستان کا تجربہ ایک ایسے شعبے میں، جس کے لیے کافی تکنیکی مہارت، سرمایہ کاری اور طویل مدتی عزم کی ضرورت ہوتی ہے، سرکاری اداروں اور نجی صنعت کو ایک ساتھ لانے کی صلاحیت کو ثابت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ترجیح یہ ہے کہ ان صلاحیتوں کو تجارتی طور پر قابلِ عمل کاروباروں میں تبدیل کیا جائے تاکہ وہ بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ نجی خلائی کمپنیوں کی ترقی کے لیے طلب  پیدا کرنا انتہائی ضروری ہے۔ حکومت کے  یوز کیس بیسڈ  طریقہ کار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ   پروف آف کانسیپٹ پروجیکٹوں کے لیے مدد، کمپنیوں کو اپنی ٹیکنالوجی کا مظاہرہ کرنے اور تجارتی نفاذ کی طرف بڑھنے میں  معاون ثابت ہو  سکتی ہے۔ گاہکوں کی ایک قابلِ پیش گوئی بنیاد کمپنیوں کو پیداوار میں سرمایہ کاری کرنے، مارکیٹ کے لیے تیار مصنوعات تیار کرنے اور پائیدار آمدنی کے ذرائع بنانے کا اعتماد دے سکتی ہے۔

انہوں نے ریگولیٹری منظوریوں کو بروقت یقینی بنانے، کاروباری اخراجات کو کم کرنے اور سپلائی چین کے مضبوط انضمام  کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ جو کمپنیاں انسٹالیشن یا ایکسپورٹ لائسنس حاصل کرنا چاہتی ہیں، انہیں متعینہ وقت کے اندر ضروری منظوریاں ملنے کی سہولت ہونی چاہیے۔ خلائی مصنوعات  کے لیے جی ایس  ٹی سے متعلق اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے، وزیر موصوف نے کہا کہ اصلاحات کے اثرات انڈسٹری کے لیے عملی فوائد کی شکل میں سامنے آنے چاہئیں۔ سرمایہ کاری اس وقت پائیدار بنتی ہے جب کاروبار کے پاس قابلِ پیش گوئی طلب، کارآمد طریقہ کار اور تجارتی ترقی کا واضح راستہ موجود ہو۔

سرمایہ کاری اور بین الاقوامی تعاون کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ ہندوستان ملکی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ سرمائے اور شراکت داری کے مواقع بھی کھول رہا ہے۔ زیادہ سرمایہ کاری ٹیکنالوجی کی ترقی، مینوفیکچرنگ اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی میں معاون ثابت ہو سکتی ہے، جبکہ قومی سلامتی اور اسٹریٹجک خودمختاری کے لیے ملکی صلاحیتیں بدستور اہم ہیں۔

انہوں نے ہندوستانی سرکاری اداروں اور نجی اداروں کے درمیان مضبوط تعاون پر زور دیا، جسے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ اتحاد کے ذریعے مزید وسعت دی جا سکے۔ یہ طریقہ کار ہندوستانی کمپنیوں کو عالمی سپلائی چین کا حصہ بننے، اپنے گاہکوں کی تعداد بڑھانے اور قومی مفادات  سے سمجھوتہ کیے بغیر وسیع تر خلائی معیشت میں اپنا حصہ ڈالنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اس کا مقصد ہندوستان میں سرکاری اور نجی اداروں کی طاقت کو بیرونِ ملک مقیم شراکت داروں کی صلاحیتوں کے ساتھ یکجا کرنا ہے۔

مرکزی وزیر  نے کہا کہ ہندوستان کا خلائی پروگرام نہ صرف خلا میں اپنی حصولیابیوں  کی وجہ سے ممتاز  ہے بلکہ زمین پر خلائی ٹیکنالوجی کے وسیع استعمال کی وجہ سے بھی ممتاز ہے۔ سیٹلائٹ کمیونیکیشنز، جیو اسپیشیل  ایپلی کیشنز اور زمین کا مشاہدہ  بنیادی ڈھانچے کی ترقی، منصوبوں کی نگرانی، زراعت، آفات کے بندوبست  اور دفاع میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے پروجیکٹ  کی منظوریوں ، عمل درآمد کے ٹائم لائنز کی نگرانی اور ترقیاتی کاموں کی جیو ٹیگنگ کے لیے خلائی ٹیکنالوجی کے استعمال کا ذکر کیا۔ ہندوستان ہمسایہ  ممالک بشمول میانمار، بنگلہ دیش اور سری لنکا کو آفات کے بندوبست کے لیے خلائی بنیاد پر معلومات اور مدد بھی فراہم کر رہا ہے۔ یہ ایپلی کیشنز ظاہر کرتی ہیں کہ کس طرح خلائی صلاحیتوں میں کی جانے والی سرمایہ کاری عوامی خدمات کو بہتر بنا سکتی ہے، ترقی میں مدد دے سکتی ہے اور تجارتی استعمال کے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ خلائی شعبے کی وسیع تر  اقتصادی  اہمیت اس بات میں پنہاں ہے کہ تکنیکی حصولیابیوں  کو عملی اطلاق اور شہریوں کی ضروریات سے جوڑا جائے۔ لانچ وہیکلز  اور سیٹلائٹ کے ساتھ ساتھ، ڈاؤن اسٹریم سروسز، ڈیٹا پر مبنی سلوشنز اور صنعتی ایپلی کیشنز ہندوستانی خلائی کمپنیوں کی مارکیٹ کو وسعت دینے میں اہم کردار ادا کریں گی۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ  ہندوستان کو اپنی صنعت کے لیے مواقع بڑھانے کی خاطر عالمی شراکت داروں کے ساتھ کام کرتے ہوئے اپنی تکنیکی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا جاری رکھنا چاہیے۔ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر مضبوط پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی ترقی، سپلائی چین کے انضمام اور نئی مارکیٹوں تک رسائی میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

وزیر  موصوف نے ترقی پسند خیالات کے لیے کھلے رہنے اور ٹیکنالوجی اور صنعت کی ضروریات کے ارتقا کے ساتھ ساتھ پالیسیوں کو اپنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔  خلائی شعبے کو نجی شمولیت کے لیے کھولنا اس بات کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے کہ قائم شدہ سرکاری اداروں کے ساتھ ساتھ نئے اداروں کو بھی اپنا کردار ادا کرنے کا موقع دیا جائے۔

خلائی شعبے میں ہندوستان کی ترقی کے اگلے مرحلے کا انحصار تکنیکی صلاحیتوں کو تجارتی طور پر کامیاب اداروں میں تبدیل کرنے پر ہوگا۔ اس تبدیلی میں زیادہ سرمایہ کاری، قابلِ پیش گوئی طلب، موثر ریگولیٹری طریقہ کار، ملکی صلاحیتیں اور بین الاقوامی شراکت داریاں مرکزی  حیثیت رکھیں گی، جو ملک کو عالمی خلائی معیشت میں ایک بڑا کردار ادا کرنے کے لیے تیار کریں گی۔

تصویر - مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ  نئی دہلی میں بلومبرگ نیو اکانومی فورم کے زیر اہتمام منعقدہ راؤنڈ ٹیبل سے خطاب کر رہے ہیں۔

(ش ح- ن  ا)

U.N:6254

 


(ریلیز آئی ڈی: 2324771) وزیٹر کاؤنٹر : 7