کامرس اور صنعت کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

کامرس محکمہ نے برآمدی مواقع مضبوط بنانے کے لیے جے پور میں ایف ٹی اے آؤٹ ریچ پروگرام منعقد کیا


ایف ٹی اے آؤٹ ریچ پروگرام کا مقصد برآمد کنندگان میں بیداری میں اضافہ کرنا اور تجارتی معاہدوں کے مؤثر استعمال کو فروغ دینا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 17 OCT 2026 6:27PM by PIB Delhi

کامرس محکمہ نے راجستھان کے جے پور میں ’’لیوریجنگ ایف ٹی ایز – آؤٹ ریچ پروگرام‘‘ کا انعقاد کیا، جس کا مقصد ہندوستان کے آزاد تجارتی معاہدوں (ایف ٹی اے) کے تحت دستیاب فوائد کے بارے میں بیداری پیدا کرنا اور برآمد کنندگان کو ان سے مؤثر طریقے سے فائدہ اٹھانے میں سہولت فراہم کرنا تھا۔ پروگرام سے کامرس محکمہ کے جوائنٹ سکریٹری موہت یادو نے خطاب کیا۔ اس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے برآمد کنندگان، راجستھان حکومت، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فارن ٹریڈ (ڈی جی ایف ٹی)، جے پور اسپیشل اکنامک زون اور جیم اینڈ جیولری ایکسپورٹ پروموشن کونسل (جی جے ای پی سی) کے نمائندوں نے شرکت کی۔

پروگرام کا مقصد ہدفی معلومات، صلاحیت سازی، عملی رہنمائی اور کامرس محکمہ، ریاستی حکومتوں، صنعتی تنظیموں اور برآمد کنندگان کے درمیان تال میل کے ذریعے ہندوستانی کاروباری اداروں کو ایف ٹی اے کے تحت حاصل ترجیحی مارکیٹ تک رسائی کو برآمدی مواقع میں تبدیل کرنے میں مدد دینا تھا۔

یہ پروگرام عالمی معیشت کے ساتھ ہندوستان کی بڑھتی ہوئی شراکت داری کے تناظر میں اہمیت رکھتا ہے۔ نئی دہلی میں بلومبرگ نیو اکانومی فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا، ’’ہماری مسلسل کوشش ہے کہ ہندوستان کی صلاحیتیں دیگر ممالک کے لیے بھی مواقع کے نئے دروازے کھولیں۔‘‘ وزیر اعظم نے 15 اگست 2026 کو یوم آزادی کے خطاب اور دیگر مواقع پر ہندوستانی صنعت کاروں، کسانوں اور مائیکرو، چھوٹی و درمیانی صنعتوں (ایم ایس ایم ایز) کے لیے ایف ٹی اے سے پیدا ہونے والے مواقع کو اجاگر کیا ہے اور عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے بین الاقوامی معیار پر پورا اترنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے بھی ہندوستان کے ایف ٹی اے کے ذریعے دستیاب تجارتی مواقع کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترجیحی مارکیٹ تک رسائی کسانوں، خواتین کاروباریوں، نوجوانوں، ایم ایس ایم ایز، دستکاروں اور صنعتوں کے لیے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔ انہوں نے کاروباری اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ معیار اور مسابقتی صلاحیت پر توجہ دیتے ہوئے کم یا صفر ڈیوٹی کے تحت دستیاب مارکیٹ تک رسائی سے فائدہ اٹھائیں۔

ہندوستان کی اشیا اور خدمات کی برآمدات میں مسلسل اضافہ جاری ہے۔ اپریل تا ستمبر 2026-27 کے دوران مجموعی برآمدات کا تخمینہ 476.20 ارب امریکی ڈالر لگایا گیا ہے، جبکہ 2025-26 کی اسی مدت میں یہ 418.31 ارب امریکی ڈالر تھیں۔ اس طرح برآمدات میں اندازاً 13.84 فیصد اضافہ درج کیا گیا۔ ستمبر 2026 میں اشیا کی برآمدات میں اضافے کے اہم محرکات میں الیکٹرانک اشیا، پٹرولیم مصنوعات، نامیاتی اور غیر نامیاتی کیمیکلز، انجینئرنگ اشیا اور سوتی دھاگے، کپڑے، تیار ملبوسات اور ہینڈ لوم مصنوعات شامل رہیں۔

پروگرام نے راجستھان کے برآمد کنندگان کو ہندوستان کے ایف ٹی اے کے تحت دستیاب مواقع اور ترجیحی مارکیٹ تک رسائی حاصل کرنے میں درپیش عملی چیلنجوں پر تبادلہ خیال کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا۔ متحدہ عرب امارات، آسٹریلیا، یورپی فری ٹریڈ ایسوسی ایشن (ای ایف ٹی اے) کے ممالک اور برطانیہ سمیت مختلف شراکت داروں کے ساتھ ہندوستان کے تجارتی معاہدے اور انتظامات، متعلقہ معاہدوں کی دفعات اور ان پر عمل درآمد کی صورتحال کے مطابق ہندوستانی اشیا اور خدمات کو بیرون ملک صارفین، خریداروں، سرمایہ کاروں اور ویلیو چینز تک رسائی کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔

مذاکرات میں برآمد کے لیے تیار مصنوعات کی شناخت، ٹیرف میں ترجیحات اور قواعدِ منشأ کو سمجھنے، معیار اور سرٹیفیکیشن کی ضروریات پوری کرنے اور بیرون ملک خریداروں کے ساتھ روابط مضبوط کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ یہ شعبے ہندوستان کے تجارتی معاہدوں کے تحت دستیاب مارکیٹ تک رسائی سے کاروباری اداروں کو مؤثر طریقے سے فائدہ اٹھانے کے لیے اہم ہیں۔

جے پور کے جوائنٹ ڈائریکٹر جنرل آف فارن ٹریڈ محمد معین آفاق نے جواہرات اور زیورات کے شعبے کے لیے ہندوستان کے حال ہی میں مکمل کیے گئے ایف ٹی اے کے تحت برآمدی مواقع پر خصوصی پریزنٹیشن دی۔ پریزنٹیشن میں بتایا گیا کہ عالمی سطح پر جواہرات اور زیورات کے برآمد کنندگان میں ہندوستان آٹھویں مقام پر ہے اور ایک ٹریلین امریکی ڈالر کی عالمی منڈی میں اس کا حصہ 2.9 فیصد ہے۔ اس میں ہندوستان کے نئے ایف ٹی اے کے تحت دستیاب درآمدی منڈی کے مواقع بھی اجاگر کیے گئے، جن میں ہر معاہدے کے تحت تمام ٹیرف لائنز پر فوری طور پر ڈیوٹی فری رسائی شامل ہے۔

پریزنٹیشن میں بڑے سپلائر ممالک کے مقابلے میں ہندوستان کی مسابقتی پوزیشن کا جائزہ لیا گیا اور ان مصنوعات کے زمروں اور ایف ٹی اے کی منڈیوں کی نشاندہی کی گئی جہاں ہندوستانی برآمد کنندگان ٹیرف فوائد سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ لیب میں تیار کیے گئے ہیرے کے زیورات، رنگین قیمتی پتھر، کندن-میناکاری کے روایتی زیورات، اسمارٹ اور پہننے کے قابل زیورات، ری سائیکل اور اخلاقی طور پر حاصل کردہ سونے کے زیورات اور موتیوں و کلچرل موتیوں کے زیورات میں ابھرتے ہوئے مواقع کو نمایاں کیا گیا۔ راجستھان کے لیے یہ مواقع خاص طور پر اہم ہیں، کیونکہ ریاست کا جواہرات اور زیورات کے شعبے میں پہلے سے مضبوط مقام ہے۔

راجستھان کے پاس ٹیکسٹائل اور ملبوسات، دستکاری، جواہرات و زیورات، انجینئرنگ مصنوعات، پتھر و معدنیات اور زرعی و تیار شدہ غذائی مصنوعات کے ذریعے ہندوستان کی برآمدی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے کی بڑی صلاحیت ہے۔ راجستھان اکنامک ریویو 2024-25 میں 2029 تک ریاست کو 350 ارب امریکی ڈالر کی معیشت بنانے اور راجستھان ایکسپورٹ پروموشن پالیسی (آر ای پی پی) 2024 کے تحت 2029 تک 1.5 لاکھ کروڑ روپے کی برآمدات حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ راجستھان بجٹ 2026-27 میں ’وکست راجستھان @ 2047‘ کا وژن بھی پیش کیا گیا ہے، جس کے تحت 2047 تک 4.3 ٹریلین امریکی ڈالر کی معیشت بنانے کا ہدف ہے۔ یہ مقاصد 2047 تک ’وکست بھارت‘ کے قومی وژن سے ہم آہنگ ہیں۔

ایف ٹی اے راجستھان کے کسانوں اور کسان پیداوار تنظیموں (ایف پی اوز) کو اہل زرعی پیداوار، موٹے اناج، مصالحہ جات اور تیار شدہ غذائی مصنوعات کے لیے نئی منڈیوں تک رسائی کے مواقع فراہم کر سکتے ہیں، تاہم اس کے لیے غذائی تحفظ، مصنوعات کی ٹریس ایبلٹی اور درآمد سے متعلق ملک کی دیگر ضروریات پوری کرنا ہوں گی۔ ٹیکسٹائل، دستکاری، زیورات اور انجینئرنگ سے وابستہ ایم ایس ایم ایز اور دستکاروں کے لیے ٹیرف میں ترجیحات قیمت کے اعتبار سے مسابقتی صلاحیت بہتر بنا سکتی ہیں اور بین الاقوامی سپلائی چینز میں شرکت میں مدد دے سکتی ہیں۔ خواتین کی زیر قیادت کاروباری ادارے اور اپنی مدد آپ گروپ برآمدی تربیت، ای کامرس اور خریداروں سے روابط سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جبکہ بڑے کاروباری ادارے سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی شراکت داری اور مارکیٹ میں تنوع کے امکانات تلاش کر سکتے ہیں۔ دستیاب فوائد کا انحصار مصنوعات، شراکت دار ملک اور متعلقہ ایف ٹی اے کی دفعات پر ہوگا۔

جے پور، جودھ پور، ادے پور، بھیلواڑہ اور دیگر اضلاع کے کاروباری اداروں کو بین الاقوامی خریداروں اور سپلائی چینز سے جوڑ کر آؤٹ ریچ پروگرام کا مقصد عالمی تجارت میں راجستھان کی شرکت کو مضبوط بنانا ہے۔ تجارتی ترجیحات، برآمدی دستاویزات، مصنوعات کے معیار، لاجسٹکس اور منڈی سے متعلق معلومات کے بارے میں زیادہ بیداری پہلی بار برآمد کرنے والے کاروباری اداروں کو ملکی منڈی سے آگے بڑھنے میں مدد دے سکتی ہے۔

ریاستی حکومت کی مدد کے ساتھ صنعتی علاقوں اور پارکس کی ترقی، برآمدات پر توجہ مرکوز کرنے والی شعبہ جاتی ٹاسک فورسز اور قرض کی سہولت، مالی مراعات، مارکیٹ روابط، ہنرمندی کی ترقی، معیار کی تصدیق، ٹیکنالوجی کو اپ گریڈ کرنے اور ای کامرس کو فروغ دینے والی پالیسیاں اور اسکیمیں کاروباری سرگرمیوں، روزگار اور روزی روٹی کے مواقع کو مزید تقویت دے سکتی ہیں۔ یہ کوششیں ’وکست راجستھان 2047‘ اور ’وکست بھارت 2047‘ کے قومی وژن کے تحت راجستھان کی ترقی کے اہداف میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔

 

 

 

************

 

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U : 6263 )


(ریلیز آئی ڈی: 2324767) وزیٹر کاؤنٹر : 10