قومی انسانی حقوق کمیشن
گجرات کے ضلع سریندر نگر میں دوسرے مرد کے ساتھ رہنے پر شوہر اور اہلِ خانہ کی جانب سے خاتون پر حملے اور غیر انسانی سلوک کی اطلاعات پر این ایچ آر سی، بھارت کا ازخود نوٹس
ضلع مجسٹریٹ اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، سریندر نگر کو نوٹس جاری، دو ہفتوں کے اندر تفصیلی رپورٹ طلب
رپورٹ میں متاثرہ خاتون کی صحت کی صورتِ حال اور اسے معاوضہ ادا کیے جانے، اگر کوئی معاوضہ دیا گیا ہے، تو اس کی تفصیلات شامل کرنے کی ہدایت
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
16 OCT 2026 5:50PM by PIB Delhi
قومی انسانی حقوق کمیشن )این ایچ آر سی(، بھارت نے میڈیا میں شائع ہونے والی اس خبر کا ازخود نوٹس لیا ہے، جس کے مطابق گجرات کے ضلع سریندر نگر میں ایک شادی شدہ خاتون، جو کسی دوسرے مرد کے ساتھ رہ رہی تھی، کو اس کے شوہر اور اہلِ خانہ نے ظالمانہ اور غیر انسانی سلوک کا نشانہ بنایا۔ اطلاعات کے مطابق، خاتون اور اس کے ساتھ رہنے والے مرد کا سراغ لگا کر انہیں ایک نام نہاد ’شدھی کرن رسم‘ ادا کرنے کے بہانے واپس لایا گیا۔ خاتون کو لاٹھیوں سے پیٹا گیا، لاتیں ماری گئیں اور ایک درخت سے باندھ دیا گیا۔ ملزمان نے مبینہ طور پر اس کے ساتھ موجود مرد کو خاتون کے ساتھ عصمت دری کرنے پر بھی مجبور کیا۔
کمیشن نے مشاہدہ کیا ہے کہ اگر خبر میں بیان کردہ واقعات درست ہیں تو یہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کے معاملات ہیں۔ چنانچہ اس نے ضلع سریندر نگر کے ضلع مجسٹریٹ اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں کے اندر اس معاملے پر تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔ توقع ہے کہ رپورٹ میں متاثرہ خاتون کی صحت کی صورتِ حال اور اسے معاوضہ ادا کیے جانے، اگر کوئی معاوضہ دیا گیا ہے، تو اس کی تفصیلات بھی شامل ہوں گی۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق، جو 8 اکتوبر 2026 کو شائع ہوئی تھی، یہ واقعہ اس وقت منظرِ عام پر آیا جب اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی۔
***
ش ح۔ ا ک۔ ر ب
U.NO.6226
(ریلیز آئی ڈی: 2324500)
وزیٹر کاؤنٹر : 13