وزیراعظم کا دفتر
ایشین گیمز 2026 کے شرکاء کے ساتھ بات چیت کے دوران وزیر اعظم کے خطاب کا متن
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
15 OCT 2026 7:04PM by PIB Delhi
کھیل کود کے مرکزی وزیر جناب منسکھ مانڈوِیا، کھیل کود کی وزیر مملکت بہن رکشا کھڈسے جی، آپ سبھی نوجوانوں ایتھلیٹس، کوچز، دیگر معززین، خواتین و حضرات۔
آپ سب کے درمیان آنا، یہ مجھے بھی توانائی سے بھر دیتا ہے۔ اتنے سارے میڈلز جیتنے والے ہیرو اور ان سب کا ایک ساتھ ملنا، یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ یہ بہت ہی خوشگوار احساس ہوتا ہے۔ آپ سب نوجوان ایتھلیٹس اس بات کی مثال ہیں کہ جنون جب جیت میں بدلتا ہے، تو وہ کس طرح میڈلز کے ساتھ ساتھ چہرے کی چمک بھی لے کر آتا ہے، اور ملک تو چمکتا ہی ہے۔
ساتھیو،
آپ نے 140 کروڑ ہم وطنوں کو فخر کا موقع دیا ہے۔ کیونکہ سب سے بڑی کامیابی، اور کامیابی اگر کچھ ہوتی ہے، تو وہ ہے ترنگے کی شان بڑھانا۔ آپ نے ترنگے کی شان بڑھائی ہے، ترنگے کا مان بڑھایا ہے، اور اسی لیے آپ کی کامیابی صرف آپ کی نہیں ہے، یہ ملک کے کروڑوں کروڑ شہریوں کی کامیابی ہے۔ میں تمام ہم وطنوں کی طرف سے آپ سب کو ایک بار پھر بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔ ساتھ ہی آپ کے کوچ، آپ کے سپورٹ اسٹاف اور آپ کے خاندان کا بھی، میں دل کی گہرائیوں سے بہت بہت شکریہ اور خیر مقدم کرتا ہوں۔
ساتھیو،
آج ہمارے سابق صدر اے پی جے عبدالکلام جی کا یومِ پیدائش بھی ہے۔ ان کی زندگی اور ان کا وژن، ہم سب کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ میں انہیں بھی سلام عقیدت پیش کرتا ہوں۔
ساتھیو،
اس بار ایشین گیمز کئی معنوں میں ہمارے لیے یادگار رہے ہیں۔ ہماری ہاکی کی خواتین اور مرد، دونوں ٹیمیں یہاں موجود ہیں۔ دونوں ٹیموں نے اس بار گولڈ میڈل جیتا ہے۔ اور خاص کر ہماری خواتین ہاکی ٹیم، آپ نے تو گولڈ لا کر 44 سال کے لمبے انتظار کو ختم کیا ہے۔ کرکٹ میں ہماری دونوں ٹیموں نے مسلسل دوسری بار میڈل جیتا ہے، اور اتنا ہی نہیں، اپنا ہی ریکارڈ دُہرا دیا ہے۔ کبڈی میں بھی ہماری مرد اور خواتین دونوں نے، دونوں ٹیموں نے گولڈ جیتا ہے۔ اسی طرح تیر اندازی میں پانچ گولڈ، اور جہاں پنچ وہاں پرمیشور، شوٹنگ میں شاندار کارکردگی، باکسنگ میں، کشتی میں بڑی بڑی کامیابی، ایتھلیٹکس میں نئے ریکارڈ، اٹھائیس (28) سال بعد ویٹ لفٹنگ میں میڈل، انیس سو بیاسی (1982) کے بعد پہلی مرتبہ میراتھن میں بھارت کو ملی کامیابی، یہ واقعی بہت ہی خوشگوار ہے۔
ساتھیو،
میں خاص طور پر ہماری بیٹیوں کی تعریف کرنا چاہتا ہوں۔ بھارت نے جو 85 میڈلز جیتے ہیں، ان میں سے 38 میڈلز ہماری خاتون ایتھلیٹس نے جیتے ہیں۔ اور ان میں 11 گولڈ میڈل بھی شامل ہیں۔ اور یہ میڈلز صرف ایک تعداد نہیں ہیں، یہ نئے بھارت کی ایک مضبوط اور بااختیار تصویر ہے۔ آج بھارت ایسے کھیلوں میں بھی میڈل جیت رہا ہے، جن میں ایشین گیمز کی تاریخ میں ہمیں پہلے کبھی میڈل نہیں ملا تھا۔ مکسڈ مارشل آرٹس، سافٹ ٹینس، اور سیلنگ کے کچھ مقابلوں میں ہمارے کھلاڑیوں نے پہلی بار میڈل جیت کر نئی تاریخ رقم کی ہے۔
ساتھیو،
اب ہمیں کھیلوں میں اور بھی بڑی بلندیوں تک جانا ہے۔ جانا ہے نا؟ اور زیادہ کرنا ہے نا؟ میں کچھ عزائم آپ کے سامنے رکھوں گا۔ اور آپ سب کو پورے جوش سے کہنا ہے، We will Do it! تو میرے ساتھ بولیے—
ہر میدان پر ترنگے کی شان، We will Do it !
ہر میدان پر ترنگے کی شان، We will Do it !
کھیلوں میں بھارت کی نئی پہچان، We will Do it !
ہر کھیل میں نئے چیمپئنس، We will Do it !
ہمارے نام اور نئے ریکارڈس، We will Do it !
ساتھیو،
ابھی ہم جس اسٹیڈیم میں ہیں، وہ میجر دھیان چند جی کے نام پر ہے۔ ہاکی کے تئیں ان کی لگن اتنی زیادہ تھی کہ وہ رات میں بھی گھنٹوں گھنٹوں ہاکی کی پریکٹس کرتے تھے۔ ان کی یہ محنت ہمیں بار بار یاد دلاتی ہے کہ عزائم اور خواب ایک دن میں پورے نہیں ہوتے۔ اس کے لیے برسوں کا صبر اور لگاتار محنت، یہ لازمی ہوتا ہے۔
ساتھیو،
بھارت نے بھی گزشتہ 12 برسوں میں بہت صبر اور محنت کے ساتھ، اپنے اسپورٹس پرسنز اور اسپورٹس ایکو سسٹم پر، بہت لگن سے کام کیا ہے۔ آپ دیکھیے، ایک وقت تھا جب بڑے ٹورنامنٹس میں بھارت صرف گنے چنے میڈلز ہی لا پاتا تھا۔ کتنے ہی کھیلوں کا تو ملک میں پتہ ہی نہیں ہوتا تھا کہ یہ بھی کھیلے جاتے ہیں، پہلے اولمپک جیسا اتنا بڑا ایونٹ ہوتا تھا، اور آدھے سے زیادہ کھیلوں میں ہمارے ملک کی کوئی نمائندگی ہی نہیں ہوتی تھی۔ آپ سوچیے، اگر ہم مقابلہ ہی نہیں کریں گے تو میڈل کہاں سے لائیں گے؟
ساتھیو،
ہم نے یہ عزم کیا، ہم اس مایوس کن ذہنیت کو ختم کریں گے! اور نتیجہ یہ ہے کہ آج، ہر عالمی پلیٹ فارم پر ہماری نمائندگی بڑھ رہی ہے۔
ساتھیو،
ملک میں یہ تبدیلی آئی کیسے؟ یہ تبدیلی آئی ہے، اسی جذبے سے جس کی بدولت آپ نے کامیابی حاصل کی ہے۔ گزشتہ 10-12 برسوں میں ملک نے لگن اور دیانتداری سے مسلسل کوششیں کیں، ایک دور اندیش وژن کے ساتھ کام کیا، اور کھیلوں کے لیے ایک شفاف اور جدید نظام بنایا۔ جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں، ہم نے 'ٹارگٹ اولمپک پوڈیم اسکیم' شروع کی۔ ہم نے 'کھیلو انڈیا اسکیم' شروع کی۔ وقت کے ساتھ، اس کا دائرہ مزید وسیع کیا گیا۔ کھیلو انڈیا کی توسیع اور اسپورٹس فیڈریشنز کو مضبوط کرنے کے لیے، جیسا کہ ابھی منسکھ بھائی نے بتایا، 36 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ مختص کیے ہیں۔
ساتھیو،
آج ملک میں ایک ہزار سے زیادہ 'کھیلو انڈیا سینٹرز' بنائے گئے ہیں۔ اسٹیڈیم اور منی اسٹیڈیم، ملٹی پرپز ہال اسپورٹس کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ ایتھلیٹکس ٹریک، فٹ بال گراؤنڈ، ہاکی گراؤنڈ، سوئمنگ پول، ہزاروں ایسے اسپورٹس انفراسٹرکچر چھوٹے بڑے شہروں میں بن رہے ہیں۔ اس اسکیم کے تحت کھلاڑیوں کو بھی براہِ راست مدد دی جا رہی ہے۔ انہیں 'آؤٹ آف پاکٹ الاؤنس' دیا جا رہا ہے۔ 'ٹاپس' اسکیم کے تحت کھلاڑیوں کو 50 ہزار روپے مہینہ مل رہے ہیں۔ اگر کسی کھیل میں کوچنگ کے لیے ملک سے باہر جانے کی ضرورت ہے، تو حکومت اسے بھی سہولت فراہم کر رہی ہے، اس کے لیے مالی امداد دے رہی ہے۔
ساتھیو،
نوجوانوں کو کھیلنے اور مقابلہ کرنے کے زیادہ سے زیادہ مواقع ملیں، اس کے لیے ونٹر گیمز جیسے ایونٹس شروع کیے گئے، اور سنسد کھیل مقابلے شروع کی گئیں۔ ملک نے نئی اسپورٹس پالیسی، یعنی 'کھیلو بھارت نئی نیتی' بنائی۔ ہمارے دیویانگ کھلاڑی بھی اپنی صلاحیت اور استطاعت سے ملک کا فخر بڑھا رہے ہیں۔ ان کے لیے بھی کھیلوں میں بہتر مواقع اور جدید سہولیات کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ اور اسی لیے، آج ہر کھلاڑی کو یہ یقین ہوتا ہے کہ اس کے پورے سفر میں ملک اس کے ساتھ کھڑا ہے۔ اور، جب کھلاڑی کو یہ احساس رہتا ہے، تو وہ ملک کے لیے کیا کر کے دکھاتا ہے، آپ سب خود اس کی بہترین مثال ہیں۔
ساتھیو،
اس بار ایشین گیمز میں ٹیم انڈیا کے کئی کھلاڑی ایسے بھی تھے، جن کی عمر محض 15 سے 17 سال ہی ہے۔ اتنی کم عمر میں ان کھلاڑیوں نے اپنی شاندار کارکردگی سے ملک کا فخر بڑھایا ہے اور ہم وطنوں کا دل جیتا ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ کامیابی کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں ہوتی، بلکہ کھیلوں میں تو کم عمر سے کی گئی شروعات ایک اضافی فائدہ ثابت ہوتی ہے۔ اسی لیے ہماری کوشش ہے کہ کھیلوں میں صلاحیتوں کی پہچان کم عمر سے ہی ہو جائے۔ پانچ سے پندرہ برس کے بچوں میں کھیلوں کی صلاحیتوں کی شناخت اور ان کی ٹریننگ پر ہماری خاص توجہ ہے۔ آنے والے سالوں میں ہزاروں نئے کھلاڑیوں کو 'کھیلو انڈیا' اور 'ایمرجنگ کھیلو انڈیا' کے ذریعے آگے بڑھنے کے مواقع ملیں گے۔ ہمیں آنے والے کھیلوں کے مقابلوں کی تیاریوں کو مزید مضبوط کرنا ہے۔ 2028 میں لاس اینجلس اولمپکس ہیں، 2030 میں بھارت کامن ویلتھ گیمز کی میزبانی کرے گا، اور 2036 میں اولمپکس کی میزبانی کرنا بھی بھارت کی دلی خواہش ہے۔ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے لال قلعے سے 'ٹیلنٹ ہنٹ' مہم چلانے کی بات کہی ہے۔ آج گاؤں گاؤں جا کر صلاحیتوں کو تلاشا جا رہا ہے اور انہیں تراشا بھی جا رہا ہے۔ یہی کھلاڑی آنے والے وقت میں بھارت کے لیے میڈلز لے کر آئیں گے۔
ساتھیو،
ہمارے خواب بڑے ہیں، ہمارے عزائم بھی بڑے ہیں، اور انہیں پورا کرنے کا اعتماد بھی آج ہندوستان کے پاس ہے، ہر ہندوستانی کے پاس ہے۔ اور اسی لیے، میں پورے یقین کے ساتھ کہتا ہوں—
بھارت میں بڑے اسپورٹس ایوینٹس، We will Do it !
بھارت میں بڑے اسپورٹس ایوینٹس، We will Do it !
بھارت میں بڑے اسپورٹس ایوینٹس، We will Do it !
ٹاپ اسپورٹنگ نیشنز میں بھارت، We will Do it
گلوبل اسپورٹس ہب بنے بھارت، We will Do it!
بھارت میں ورلڈ کلاس اسپورٹس انفراسٹرکچر، We will Do it !
بھارت کے ہر کونے سے ایک چیمپئن، We will Do it !
ساتھیو،
ایشین گیمز میں ہماری کامیابی ملک کے بدلتے ہوئے مزاج کی بھی ایک مثال ہے۔ یہ ایک ایسی مثال ہے کہ کس طرح آج ملک کا نوجوان ہر بلندی کو چھونے کے لیے بے تاب ہے۔ ایسا کوئی مقام نہیں ہے جو بھارت کے نوجوانوں کے حوصلوں سے بڑا ہو! ایسا کوئی ہدف نہیں ہے جو ہماری نوجوان طاقت کی بساط اور استطاعت سے باہر ہو! صلاحیتوں کا ایک لامحدود آسمان سامنے ہے، اور منزل بھارت کا نوجوان خود طے کر رہا ہے۔ اسی لیے، دیکھتے ہی دیکھتے، بھارت آج دنیا کا تیسرا بڑا، تیسرا سب سے بڑا اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم بن گیا ہے۔ ہمارے نوجوان آج خلائی شعبے میں اپنی کمپنیاں بنا رہے ہیں، سیٹلائٹ ٹیکنالوجی پر کام کر رہے ہیں، یہی نوجوان دفاعی شعبے میں نئی ٹیکنالوجی تیار کر رہے ہیں، مصنوعی ذہانت میں نئے تجربات کر رہے ہیں۔ اور یہ تبدیلی صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں ہے۔ جس طرح کھیلوں میں آج دور دراز کے ٹیلنٹ کو بھی موقع مل رہا ہے، بالکل اسی طرح آج اسٹارٹ اپس، ریسرچ اور دیگر کاروباروں میں بھی چھوٹے شہروں اور گاؤں کے نوجوان نئے آئیڈیاز لے کر آگے آ رہے ہیں۔ اس خود اعتمادی کے پیچھے ایک بڑا بھروسہ ہے۔ گزشتہ ایک دہائی میں ملک نے جو نظام تیار کیا ہے، اس سے نوجوانوں کو یہ بھروسہ ملا ہے کہ وہ بڑے خواب دیکھ سکتے ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ ان کے خوابوں کو آگے بڑھانے کے لیے ملک کی پوری طاقت ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
ساتھیو،
ہماری کوششوں کا فائدہ صرف میدان میں کھیلنے والے کھلاڑیوں تک ہی محدود نہیں ہے۔ اسپورٹس کوچنگ، فزیو تھراپی، اسپورٹس مینجمنٹ، اسپورٹس براڈکاسٹنگ جیسے شعبوں میں بھی نوجوانوں کے لیے نئے کریئر کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ کھیلوں کے فروغ کے ساتھ ساتھ ان سے وابستہ متعدد پیشے بھی آگے بڑھ رہے ہیں۔ اس سے نوجوانوں کے لیے روزگار اور کاروبار کے نئے راستے کھلے ہیں۔
ساتھیو،
آج ہم جس کسی بھی شعبے میں ہیں، ہمیں اپنی کامیابی کے لیے محنت تو کرنی ہی ہے، ساتھ ہی نئی نسل کو سنوارنے کی ذمہ داری بھی اٹھانی ہے۔ اب آپ کے پاس بین الاقوامی ٹورنامنٹس کا بھی تجربہ ہے، اور اسی لیے میری گزارش ہوگی کہ آپ کچھ وقت ان بچوں کو ضرور دیں جو آپ کی طرح آگے بڑھنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ آپ کے پسینے سے ان کے خوابوں کو سینچنا ہے، کامیابی تب آتی ہے۔ جب بھی موقع ملے، اپنے گاؤں، اپنے شہر کے بچوں سے ملیے۔ الگ الگ اسکولوں میں جائیے۔ جن میدانوں پر آپ نے کھیلنا شروع کیا تھا، وہاں ضرور جائیے۔ آپ کے تجربات ان بچوں کے بہت کام آ سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے آپ کی ایک چھوٹی سی بات کسی بچے کو کھیلوں میں آگے بڑھنے کا حوصلہ دے دے۔
ساتھیو،
ملک کے نوجوانوں کو آپ سے صرف اسپورٹس کی ہی ترغیب نہیں ملتی ہے۔ کیونکہ، کھیل کا کردار صرف میدان تک ہی محدود نہیں ہے۔ کھیل ہمیں زندگی میں نظم و ضبط سکھاتے ہیں، زندگی میں گر کر پھر سے کھڑے ہونے کی، ہار کر جیتنے کی سیکھ کھیلوں سے ملتی ہے۔ ایک ہدف کے لیے کس طرح طویل عرصے تک اٹل رہنا ہے، کس طرح حالات کے حساب سے خود کو ڈھالنا ہے، اسپورٹس سے یہ ہماری روزمرہ کی زندگی کا حصہ بن جاتا ہے۔ یہی اسپورٹس پرسن والا جذبہ زندگی بھر کام آتا ہے۔
ساتھیو،
میں ہمیشہ کہتا ہوں، جو کھیلے گا، وہ کھِلے گا۔ آپ بھی کھیلتے رہیے، کھلتے رہیے، آنے والے مقابلوں اور مستقبل کی تمام کوششوں کے لیے، ایک بار پھر میری طرف سے آپ کو بہت بہت مبارکباد اور نیک خواہشات۔ آپ کا یہ جوش و خروش، یہ خود اعتمادی، یہی نئے بھارت کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ اسی خود اعتمادی کے ساتھ ہمیں بھارت کو نئی بلندیوں تک پہنچانا ہے۔ تو آئیے، ایک بار پھر پوری طاقت کے ساتھ میرے ساتھ بولیے—
وکست بھارت We will Do it
2047 تک وکست بھارت ، We will Do it
We will Do it!
ٹاپ تھری اکنامی، We will Do it
ٹاپ تھری اکنامی، We will Do it
آتم نربھر بھارت، We will Do it
آتم نربھر بھارت، We will Do it
عالمی مینوفیکچرنگ ہب، We will Do it
عالمی مینوفیکچرنگ ہب، We will Do it
ٹکنالوجی میں بھارت کی لیڈرشپ، We will Do it
خلا میں قدم، We will Do it
اولمپکس کا اہتمام، We will Do it
نئے کھیلوں میں میڈلز، We will Do it
ہاں، We will Do it
بہت بہت مبارکباد۔ بہت بہت شکریہ۔
*******
(ش ح –ا ب ن)
U.No:6170
(ریلیز آئی ڈی: 2324128)
وزیٹر کاؤنٹر : 7