وزیراعظم کا دفتر
ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے لداخ میں ترقیاتی منصوبوں کے آغاز کے موقع پر وزیر اعظم کے خطاب کا متن
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
15 OCT 2026 2:41PM by PIB Delhi
تقریب میں موجود لیفٹیننٹ گورنر جناب وی۔ کے۔ سکسینہ جی، بی آر او اور ایئرپورٹ اتھارٹی کے تمام سینئر افسران، مرکز کے زیر انتظام علاقے کے تمام افسران، دیگر معززین، میرے پیارے بھائیو اور بہنو۔
لداخ سی می-منگس کنلا، جُلے!
آج لداخ کی ترقی اور پیش رفت میں ایک اور باب کا اضافہ ہو رہا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ میں ٹیکنالوجی کے ذریعے اس موقع کا حصہ بن رہا ہوں۔ آج لداخ میں کئی اہم ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا گیا ہے۔ ان منصوبوں سے بہت سے لوگوں کا سفر آسان ہوگا، کہیں بجلی کی سہولتیں بہتر ہوں گی، کہیں پانی کی دستیابی بڑھے گی اور ہمارے قدیم ورثے کے تحفظ کو بھی نئی طاقت ملے گی۔ ابھی میں دیکھ رہا تھا کہ زانسکر میں برف بھی گر رہی تھی، اور میں دیکھ رہا تھا کہ زانسکر کے لوگوں کا جوش و خروش، جب برف گر رہی ہے، تب بھی ترنگا لہرانے کا ان کا جوش اور جذبہ۔
ساتھیو!
یہ ہے میرا لیہ، لداخ۔ میں ان منصوبوں کے لیے لداخ کے تمام لوگوں کو بہت بہت مبارک باد دیتا ہوں۔ میں ان منصوبوں میں کام کرنے والے تمام انجینئروں، مزدوروں اور مقامی ساتھیوں کو بھی مبارک باد دیتا ہوں۔ میں بی آر او کے ساتھیوں کی بھی خصوصی ستائش کرتا ہوں۔
ساتھیو!
کچھ عرصہ پہلے میں نے لیہ کے کشوک بکولا رنپوچے ایئرپورٹ کی ٹرمینل عمارت کا سنگِ بنیاد رکھا تھا۔ اور یہ میرا خوش نصیبی ہے کہ آج مجھے ہی اتنے اہم منصوبے کا افتتاح کرنے کی خوش نصیبی بھی حاصل ہوئی ہے۔ تقریباً ساڑھے چھ سو کروڑ روپے کی لاگت سے بنی اس ٹرمینل عمارت سے ایئرپورٹ کی سالانہ مسافر گنجائش 10 لاکھ سے بڑھ کر 35 لاکھ ہو جائے گی۔ یہاں پروازوں کی تعداد بھی تین گنا تک بڑھ سکتی ہے۔ اس ٹرمینل کی ایک اور خصوصیت ہے۔ لداخ کی سخت آب و ہوا کو مدنظر رکھتے ہوئے، اس میں جیوتھرمل ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس میں شمسی توانائی کا بھی استعمال ہوا ہے۔ بھارت میں جیوتھرمل حرارت کی سہولت والا یہ ملک کا پہلا ایئرپورٹ ٹرمینل ہے۔ آپ سب کو مبارک ہو! ہماری کوشش ہے کہ لداخ میں جدید بنیادی ڈھانچے کی ترقی ہو اور یہاں کے ماحول کا بھی پورا خیال رکھا جائے۔ اس ایئرپورٹ ٹرمینل سے لداخ کے سیاحتی شعبے کو بھی نئی توانائی ملے گی۔ میں اس جدید ایئرپورٹ ٹرمینل کے لیے لداخ کے اپنے تمام بھائیوں اور بہنوں کو بہت بہت مبارک باد دیتا ہوں۔
ساتھیو!
آج جن دیگر منصوبوں کا افتتاح کیا گیا ہے، ان کی بھی بہت اہمیت ہے۔ آج نِمّو–پدم–دارچا سڑک لداخ کے لوگوں کے نام وقف کی گئی ہے۔ اس پر تقریباً ڈھائی ہزار کروڑ روپے خرچ کیے گئے ہیں۔ جس سفر میں پہلے تقریباً 12 گھنٹے لگتے تھے، اب وہ تقریباً 3 گھنٹے میں مکمل ہو سکے گا۔ یعنی اس سے سفر کا وقت تو بچے گا ہی، اس سڑک سے تجارت اور کاروبار کو بھی بہت مدد ملے گی۔
ساتھیو!
اس سے پہلے مجھے سری نگر سے لیہ کو جوڑنے والی بجلی کی ترسیلی لائن کا سنگِ بنیاد رکھنے اور افتتاح کرنے کا موقع ملا تھا۔ آج ہانو کے پن بجلی منصوبے اور اس سے منسلک ترسیلی لائن کا بھی افتتاح کیا گیا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ بجلی کے قابلِ اعتماد انتظام سے روشنی تو آتی ہی ہے، لیکن روشنی سے صرف گھر ہی نہیں، زندگی بھی روشن ہو جاتی ہے، زندگی میں ایک بڑی تبدیلی آتی ہے۔ گاؤں میں کتنے ہی نئے کام ممکن ہو جاتے ہیں۔ بچوں کی تعلیم، صحت کی خدمات، مقامی لوگوں کے چھوٹے چھوٹے کاروبار، ہر شعبے میں اس کا فائدہ ملے گا۔ پوگا وادی میں بھی جدید ٹیکنالوجی سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے پر کام آگے بڑھ رہا ہے۔
ساتھیو!
آج پروجیکٹ امرت ہِم سروور کے تحت بنائے گئے 40 آبی ذخائر بھی لداخ کے لوگوں کے نام وقف کیے گئے ہیں۔ ان سے کسانوں کو ضرورت کے وقت آب پاشی کے لیے پانی دستیاب کرانے میں مدد ملے گی۔
ساتھیو!
ہمیشہ سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ لداخ میں قدرتی حالات کی وجہ سے زندگی بہت مشکل ہوتی ہے۔ قدرتی ماحول کے اپنے چیلنجز ہوتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ایسے حالات کے باوجود، پہلے کی حکومتوں نے لداخ کی ترقی کو ترجیح نہیں دی۔ لیکن آج مرکزی حکومت کے لیے لداخ کی ترقی بہت بڑی ترجیح ہے۔ مرکز کے زیر انتظام علاقہ بننے کے بعد سے یہاں ترقی کی ضروریات پر اور بھی زیادہ توجہ دی گئی ہے۔ 2019 تک لداخ میں تقریباً 1800 کلومیٹر سڑکوں کا جال تھا، آج یہ بڑھ کر 4 ہزار کلومیٹر سے زیادہ ہو گیا ہے۔ پہلے یہاں انیس بڑے پل تھے، آج ان کی تعداد تقریباً پچھتر ہو گئی ہے۔ ہیلی پیڈ کی تعداد بھی سات سے بڑھ کر چالیس سے زیادہ ہو گئی ہے۔ پہلے لداخ کے تقریباً ساڑھے تین فیصد گھروں میں ہی نل سے پانی پہنچتا تھا، آج تقریباً 99 فیصد گھروں تک نل سے پانی کی سہولت پہنچ چکی ہے۔ لداخ کے اسپتالوں میں بستروں کی تعداد بھی بڑھ کر دوگنی ہو چکی ہے۔ اس کے ساتھ ہی زوجیلا سرنگ جیسے اہم منصوبے پر بھی کام بہت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ اس کے مکمل ہونے سے لداخ کو ملک کے دوسرے حصوں سے سال بھر بہتر رابطہ سہولت ملے گی۔
ساتھیو!
مرکزی حکومت کا زور لداخ میں خوش حالی کے نئے امکانات پیدا کرنے پر بھی ہے۔ آج لداخ میں سیاحت کے مواقع بھی بڑھ رہے ہیں۔ یہاں سرمائی سیاحت اور مہماتی سیاحت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ مرکزی حکومت نے، اور ہم نے، وائبرنٹ ولیج مہم کے تحت لداخ کے 40 سے زیادہ سرحدی گاؤں کو ترقی دی جا رہی ہے، اور ہم اسے پہلا گاؤں کہتے ہیں۔ اس سے دور دراز کے گاؤں میں بھی روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
ساتھیو!
پہلے لداخ میں تقریباً ڈیڑھ سو ہوم اسٹے ہی تھے، آج ان کی تعداد بڑھ کر 3 ہزار ہو گئی ہے۔ لداخ میں گرین ہاؤس کے ذریعے کھیتی کو بھی مسلسل فروغ دیا گیا ہے۔ آج لداخ میں 11 ہزار گرین ہاؤس ہیں۔ ان سے کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔
ساتھیو!
لداخ میں ہائی کورٹ بنچ کے قیام کا مطالبہ بھی طویل عرصے سے کیا جا رہا تھا۔ اسے بھی ہماری حکومت نے ہی پورا کیا ہے۔ اسی سال اگست میں لداخ میں ہائی کورٹ کی بنچ کے قیام کو منظوری دی گئی ہے۔ اس سے انتظامیہ کے ساتھ ساتھ نظامِ انصاف بھی آسان ہو جائے گا۔
ساتھیو!
آج ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے بھی کئی نئے مواقع قریب آ رہے ہیں۔ ہوٹل، ریستوراں، ہوم اسٹے ہوں یا مقامی مصنوعات، آج آن لائن کاروبار آمدنی کے نئے راستے کھول رہا ہے۔ اسی لیے ہم نے لداخ اور دور دراز کے علاقوں میں بھارت نیٹ اور تیز رفتار انٹرنیٹ کی توسیع کی ہے۔ سرکاری خدمات تک رسائی آسان ہو، نوجوان آن لائن تعلیم حاصل کر سکیں اور مقامی کاروباری افراد ملک اور دنیا کی منڈیوں سے جڑ سکیں، اس کے لیے بھی مسلسل کام ہو رہا ہے۔
ساتھیو!
ہماری خصوصی توجہ لداخ کی نئی نسل پر ہے۔ یہاں کے نوجوانوں کو اچھی تعلیم ملے، نئی ٹیکنالوجی سیکھنے کا موقع ملے اور انہیں دوسرے شہروں پر انحصار نہ کرنا پڑے۔ اسی لیے لیہ میں ایک بڑا مرکزِ امتیاز قائم کیا جا رہا ہے۔ آئی آئی ٹی جموں اور آئی آئی ایم جموں کے ذیلی کیمپس قائم کرنے کی تجاویز پر بھی پیش رفت ہو رہی ہے۔ ان سے لداخ کے نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور نئی مہارتیں حاصل کرنے کے بہتر مواقع اپنے ہی علاقے میں مل سکیں گے۔
ساتھیو!
لداخ میں کھیلوں کے بھی بہت زیادہ امکانات ہیں۔ یہاں کے نوجوانوں نے آئس ہاکی، سرمائی کھیلوں اور کوہ پیمائی جیسے شعبوں میں اپنی خاص پہچان بنائی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ لداخ میں کھیلوں کی نئی پالیسی کے ذریعے کھیلوں کے ہنر کو آگے بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ یہاں کے نوجوانوں کو بہتر تربیت اور سہولتیں ملیں اور وہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر نئی کامیابیاں حاصل کریں۔
ساتھیو!
لداخ میں آپ سب اپنی محنت سے جو مصنوعات تیار کرتے ہیں، وہ بہترین ہوتی ہیں۔ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ جب میں غیر ملکی مہمانوں سے ملتا ہوں، تو اکثر لداخ میں بنی چیزیں انہیں تحفے میں دیتا ہوں اور انہیں آپ کے بارے میں بھی ضرور بتاتا ہوں۔ میں نے جرمنی کی چانسلر، سویڈن کے وزیر اعظم اور کرغزستان کے راشٹرپتی جی کو لداخ میں بنی مصنوعات تحفے میں دی ہیں۔ یہاں کی پشمینہ، سی بک تھورن اور مقامی دست کاریاں، خوبانی جیسے پھل، ان میں تجارت کے کتنے بڑے امکانات وابستہ ہیں۔ اور اسی لیے ہم نے لداخ کی خوبانی کو جی آئی ٹیگ دیا۔ آج دنیا بھر میں اس کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ یہاں کی مصنوعات کو نئی منڈیاں ملیں، ان کی بہتر تشہیر ہو اور ان کا فائدہ براہِ راست مصنوعات تیار کرنے والوں تک پہنچے۔ ہماری خصوصی توجہ چانگپا برادری کے مویشی پالنے والوں پر بھی ہے۔ ان کی محنت اور روایتی ہنر سے وابستہ پشمینہ کی پہچان کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔ لداخ میں اب اونچائی والے علاقوں میں پھولوں کی تجارتی کاشت کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔
ساتھیو!
لداخ کا ثقافتی ورثہ ہمارے ملک کا انمول اثاثہ ہے۔ یہاں کے قدیم مٹھ، بدھ مت کی روایات اور یہاں کے تہواروں کو محفوظ رکھنا اور آنے والی نسلوں کے لیے ان کی حفاظت کرنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اس سمت میں قابلِ احترام کشوک بکولا رنپوچے جی کا تعاون ہم سب کے لیے بہت بڑی مثال ہے۔ ہماری حکومت کی کوشش ہے کہ دنیا بھر کے لوگ لداخ کی ثقافت اور روایات سے واقف ہوں۔ اسی مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے آج لیہ میں بھارت کے پہلے پیٹروگلف کنزرویشن پارک کا افتتاح کیا گیا ہے۔ اس سے لداخ کے اس قدیم ورثے کو محفوظ رکھنے کی کوششوں کو مزید تقویت ملے گی۔ ہماری آنے والی نسلیں اپنے اس ورثے کو جان سکیں گی اور دنیا بھر سے آنے والے لوگ بھی لداخ کی مالا مال تاریخ سے واقف ہو سکیں گے۔
ساتھیو!
مجھے یقین ہے کہ ہم سب مل کر لداخ کو ترقی کی نئی بلندیوں تک لے جائیں گے۔ اسی کے ساتھ، میں آپ سب کو ترقی کے متعدد کاموں کے لیے ایک بار پھر بہت بہت مبارک باد دیتا ہوں۔
بہت بہت شکریہ۔ جُلے!
وضاحت: وزیر اعظم کے خطاب کا یہ ایک تخمینی ترجمہ ہے۔ اصل خطاب ہندی میں دیا گیا تھا۔
****
ش ح۔ک ح ۔ ت ع
U. N-6143
(ریلیز آئی ڈی: 2323836)
وزیٹر کاؤنٹر : 12