قبائلی امور کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

قبائلی امور کی وزارت کے زیراہتمام قبائلی زبانوں سے متعلق ورکنگ گروپ کا پہلا اجلاس منعقد


ماہرین نے قبائلی زبانوں کی دستاویز بندی، ڈجیٹل تحفظ اور فروغ کے لیے لائحۂ عمل پر غور و خوض کیا

’ آدی وانی ‘کو قومی قبائلی زبانوں کے ذخیرے کے طور پر ترقی دینے کا منصوبہ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 15 OCT 2026 10:44AM by PIB Delhi

وزارتِ قبائلی امور نے آج قبائلی زبانوں سے متعلق ورکنگ گروپ کا پہلا اجلاس آن لائن ورکشاپ کی طرز پر  منعقد کیا۔ اجلاس کی صدارت وزارتِ قبائلی امور کی سکریٹری محترمہ رنجنا چوپڑا نے کی۔

اجلاس میں ملک بھر سے ممتاز ماہرینِ لسانیات، ماہرینِ تعلیم، محققین اور قبائلی برادریوں کی زبانوں پر عملی کام کرنے والے ماہرین نے شرکت کی۔ شرکاء میں پدم شری چامو کرشنا شاستری، چیئرمین بھاشا سمیتی، اور ڈاکٹر کے سرینواسا راؤ، سابق سکریٹری ساہتیہ اکادمی، بھی شامل تھے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image001_20261015104459_e393e8.jpg

وزارت نے اس ورکنگ گروپ کی تشکیل کی ہے، جس میں متعدد ممتاز اداروں کے نمائندے شامل ہیں۔ ان اداروں میں سینٹرل انسٹی ٹیوٹ آف انڈین لینگویجز(سی آئی آئی ایل) ، انڈین انسٹی ٹیوٹس آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) کے دہلی، دھارواڑ اور کانپور کے مراکز، تیج پور یونیورسٹی، منی پور یونیورسٹی، آسام یونیورسٹی، سکم یونیورسٹی، لیونگ ٹنگز انسٹی ٹیوٹ فار اینڈیجرڈ لینگویجز، کونسل فار ڈائیورسٹی اینڈ انوویشن(سی او ڈی آئی این) اور بھاشا سمیتی سمیت دیگر ادارے شامل ہیں۔ ورکنگ گروپ ملک بھر میں قبائلی زبانوں کی دستاویز بندی، تحفظ، تحقیق اور فروغ کے لیے جاری کوششوں کی رہنمائی کرے گا۔

زبانوں کے تحفظ اور برادریوں کی شمولیت پر توجہ:اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزارتِ قبائلی امور کی سکریٹری محترمہ رنجنا چوپڑا نے اس بات پر زور دیا کہ قبائلی برادریوں تک فلاحی اقدامات کی رسائی بہتر بنانے اور ان پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کے لیے زبان کا اہم کردار ہے۔انہوں نے کہا کہ ‘آدی وانی’ کا آغاز متعلقہ شعبوں میں کام کرنے والے افراد اور انتظامی اہلکاروں کی سہولت کے لیے ایک ترجمے کے آلے کے طور پر ہوا تھا، تاہم اس میں ایک جامع لسانی ذخیرے کی شکل اختیار کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ اس ذخیرے میں زبانوں کے متنی و لسانی مجموعے (کارپس)، ابتدائی درسی کتابیں، لغات اور برادریوں کی کہانیاں یکجا کی جا سکتی ہیں۔انہوں نے ابتدائی برسوں میں بچوں کی تعلیمی مشکلات اور سیکھنے کے عمل میں موجود خلا کو دور کرنے کے لیے مادری زبان پر مبنی کثیر لسانی تعلیم کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ساتھ ہی، انہوں نے کہا کہ مختلف اداروں اور محققین کی جانب سے پہلے ہی کیے جا چکے کام کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر یکجا کیا جائے، تاکہ ایک ہی کام کو بار بار کرنے سے بچا جا سکے۔

قبائلی زبانوں کی دستاویز بندی کے لیے لائحۂ عمل:اس اقدام کے پس منظر اور اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے جوائنٹ سکریٹری نے قبائلی برادریوں کے لسانی تنوع کو غیر معمولی قرار دیا اور ان کی زبانوں کو دستاویزی شکل دینے اور محفوظ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے ورکنگ گروپ کے لیے مجوزہ لائحۂ عمل کی وضاحت کرتے ہوئے اس کے اہم نکات پیش کیے، جن میں قبائلی زبانوں کی قومی سطح پر بنیادی فہرست اور صورتِ حال کا تعین، تحقیق و علمی کام، ڈیجیٹل دستاویز بندی اور لسانی ٹیکنالوجی، زبانی روایات اور ثقافتی وسائل کو برادریوں کی قیادت میں محفوظ کرنا، کثیر لسانی تعلیم اور تدریسی مواد کی تیاری، نیز قبائلی تحقیقی اداروں(ٹی آر آئی)، جامعات اور دیگر اداروں کے درمیان اشتراک و تعاون شامل ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image002_20261015104505_ec8686.jpg

آدی وانی: قومی قبائلی لسانی ذخیرے کی تشکیل:اجلاس میں ‘آدی وانی’ کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، جسے آئی آئی ٹی دہلی نے وزارتِ قبائلی امور کے اشتراک سے تیار کیا ہے۔ یہ پلیٹ فارم نو قبائلی زبانوں میں متن سے متن کے ترجمے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، اس میں تقریر سے متعلق سہولیات، آپٹیکل کریکٹر ریکگنیشن(او سی آر) یعنی تصویری متن کو قابلِ مطالعہ ڈیجیٹل متن میں تبدیل کرنے، اور ویڈیوز میں سب ٹائٹلز شامل کرنے کی سہولت بھی موجود ہے۔یہ پلیٹ فارم قبائلی تحقیقی اداروں (ٹی آر آئی) کی تیار کردہ 300 سے زائد ابتدائی درسی کتابوں تک تلاش کی سہولت کے ساتھ رسائی بھی فراہم کرتا ہے۔ ریاستی قبائلی تحقیقی اداروں نے دس زبانوں میں تقریباً 13.9 لاکھ متنی جملے اور لگ بھگ 300 گھنٹے کا صوتی ڈیٹا فراہم کیا ہے۔ اس پلیٹ فارم کو اینڈرائیڈ پر 48 ہزار سے زائد مرتبہ ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے، جبکہ اس کے ماہانہ صارفین کی تعداد تقریباً 6,500 ہے۔آئی آئی ٹی دہلی نے مجوزہ آزمائشی منصوبوں کے لیے ورکنگ گروپ سے تعاون طلب کیا، تاکہ ڈیٹا سیٹس کی لسانی جانچ و توثیق، املا اور رسم الخط کے معیارات کو یکساں بنانے، اور مختلف مخصوص شعبوں کی ضروریات کے مطابق اصطلاحات و الفاظ تیار کرنے میں مدد مل سکے۔

بھارتی زبانوں کی ترقی کے سات بنیادی ستون: پدم شری چامو کرشنا شاستری، چیئرمین بھاشا سمیتی، نے کسی بھی بھارتی زبان کی ترقی کے لیے سات بنیادی ستونوں کی نشاندہی کی۔ ان میں زبان بولنے والوں کا اپنی مادری زبان پر مسلسل عبور برقرار رکھنا، تعلیم، انتظامیہ، ابلاغ اور تفریح کے شعبوں میں زبان کا استعمال، عصری ادب اور علمی مواد کی تخلیق، بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق نئے الفاظ وضع کرنا، ٹیکنالوجی کو اپنانا، آن لائن اور آف لائن تدریسی و تعلیمی مواد اور نظام تیار کرنا، نیز مرکزی و ریاستی حکومتوں، کارپوریٹ اداروں اور معاشرے کے تمام طبقات کا تعاون حاصل کرنا شامل ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ زبان کی ترقی کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں میں اس کے بولنے والوں کو مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔

وزیرِ اعظم کے اس بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہ بھارت کی تمام مادری زبانیں قومی زبانیں ہیں، انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی زبان کو چھوٹا یا بڑا نہیں سمجھنا چاہیے۔ انہوں نے ‘ایک بھارت، شریشٹھ بھارت’ کے جذبے کے تحت لسانی تنوع کو منانے کی اپیل کی، جہاں تنوع خوب صورتی اور اتحاد طاقت کی علامت ہے۔ ساتھ ہی، انہوں نے مختلف زبانیں بولنے والوں کے درمیان قربت اور باہمی احترام کے جذبات کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بھاشا سمیتی، مرکزی اور ریاستی قبائلی جامعات، انڈین کونسل آف سوشل سائنس ریسرچ(آئی سی ایس ایس آر) اور وزارتِ تعلیم کے انڈین نالج سسٹمز(آئی کے ایس) ڈویژن کے درمیان اشتراک و تعاون کی تجویز بھی پیش کی، جس نے قبائلی مطالعات سے متعلق 38 منصوبوں کی معاونت کی ہے۔ انہوں نے ورکنگ گروپ پر زور دیا کہ وہ ایسے ترجیحی شعبوں کی نشاندہی کرے جن میں خصوصی توجہ کے ساتھ ٹھوس اقدامات کیے جا سکیں۔

دستاویز بندی اور احیائے زبان کے لیے منصوبہ: ساہتیہ اکادمی کے سابق سکریٹری ڈاکٹر کے. سرینواسا راؤ نے قبائلی زبانوں کی دستاویز بندی اور احیا کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا۔ اس منصوبے میں ایک قابلِ تلاش قومی ڈیٹا بیس تیار کرنے کی تجویز شامل تھی، جس میں ریاست اور زبان کے لحاظ سے مصنفین، اہل علم اور دستیاب وسائل کی فہرستیں مرتب کی جائیں۔ اس کے علاوہ، ضلع سطح پر برادریوں کے وسائل سے متعلق گروپ تشکیل دینے کی تجویز دی گئی، جن میں تربیت یافتہ قبائلی نوجوان محققین کے طور پر کام کریں۔ منصوبے میں پہلے سے موجود قبائلی لسانی اداروں کو دوبارہ فعال بنانے، ’آدی وانی‘ کے ذریعے برادریوں کے ڈیجیٹل آرکائیوز قائم کرنے، اور سہ ماہی جائزوں کے ساتھ دو سالہ عملی منصوبہ مرتب کرنے کی تجاویز بھی شامل تھیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ‘وکست بھارت’ یعنی ترقی یافتہ بھارت کے تصور کو عملی جامہ پہنانے کے لیے قبائلی برادریوں کو اپنی زبانوں کے وسائل خود تیار کرنے اور ان میں فعال طور پر حصہ ڈالنے کی ضرورت ہے۔

ادارہ جاتی اشتراک اور لسانی ٹیکنالوجی: میسورو میں واقع سینٹرل انسٹی ٹیوٹ آف انڈین لینگویجز (سی آئی آئی ایل) کے ڈائریکٹر پروفیسر بسوراج کُداگونٹی نے تجویز پیش کی کہ قبائلی زبانوں کو مرحلہ وار ترجیح دی جائے، ہر خطے کے لیے رابطہ کاروں کے ساتھ الگ ٹیمیں تشکیل دی جائیں اور ایک مشترکہ ذخیرہ تیار کیا جائے، جس میں ادارے اور انفرادی محققین اپنا مواد شامل کر سکیں۔ سی آئی آئی ایل کے سابق ڈائریکٹر پروفیسر شیلیندر موہن نے برادریوں، اسکولوں اور جامعات کے درمیان سہ فریقی اشتراک کی اہمیت اجاگر کی اور تمام ریاستوں کی قبائلی زبانوں اور مادری زبانوں کا ایک اٹلس تیار کرنے کی تجویز پیش کی۔

کونسل فار ڈائیورسٹی اینڈ انوویشن(سی او ڈی آئی این) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر کارتھک نارائنن نے مشترکہ میٹا ڈیٹا معیارات پر مبنی ڈجیٹل آرکائیوز کا ایک مربوط نیٹ ورک قائم کرنے کی تجویز دی، جس میں ‘آدی وانی’ قومی سطح پر مرکزی رسائی کے پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے۔ انہوں نے اس اقدام کی معاونت کے لیے سی او ڈی آئی این کے صوتی ڈیٹا سیٹس اور برادریوں کی تربیت کے پروگراموں سے استفادہ کرنے کی پیشکش بھی کی۔

تیج پور یونیورسٹی کے ڈاکٹر املیش گوپے نے نغماتی لہجوں والی زبانوں کے لیے صوتی ٹیکنالوجی میں اپنی مہارت کے ساتھ شمال مشرقی بھارت کی زبانوں سے متعلق لغات اور صوتی ڈیٹا سیٹس فراہم کرنے کی پیشکش کی۔ آئی آئی ٹی کانپور کی ڈاکٹر چیترا پٹّسوامی نے زبانوں کی دستاویز بندی کے لیے برادریوں کے افراد کو تربیت دینے کی اہمیت اجاگر کی اور متوازی لسانی ذخائر تیار کرنے کے لیے دلچسپ اور غیر لفظی اشاروں پر مبنی طریقے استعمال کرنے کی تجویز پیش کی۔آسام یونیورسٹی کی ڈاکٹر مونالی لونگمیلائی نے برادریوں کی شراکت سے بوڈو اور دیماسا زبانوں کے ثقافتی ورثے پر تیار کیے گئے ڈیجیٹل آرکائیو کے حوالے سے اپنے کام کی تفصیلات پیش کیں۔ سکم یونیورسٹی کے ڈاکٹر سمر سنہا نے اسکول کے مضامین کے لیے قبائلی زبانوں میں تکنیکی اصطلاحات وضع کرنے اور نسبتاً کم بولنے والوں والی زبانوں کی ضروریات کے مطابق لسانی منصوبہ بندی کے طریقے اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ دیگر اراکین نے بھی اپنے میدانی تجربات پیش کیے اور ادارہ جاتی و تکنیکی تعاون فراہم کرنے کی پیشکش کی۔

تعلیم میں قبائلی زبانوں کو شامل کرنا: نیشنل ایجوکیشن سوسائٹی فار ٹرائبل اسٹوڈنٹس(این ای ایس ٹی ایس) کے نمائندوں نے بتایا کہ 525 سے زائد ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکولوں میں، جہاں 1.7 لاکھ سے زیادہ طلبہ زیرِ تعلیم ہیں، اس پلیٹ فارم کو تدریسی سرگرمیوں میں استعمال کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ طلبہ، اساتذہ اور والدین کہانیوں، نظموں اور دیگر مواد کی فراہمی کے ذریعے قومی لسانی ذخیرے کو مزید مالا مال کر سکتے ہیں۔

اجلاس کے اختتام پر محترمہ رنجنا چوپڑا نے اراکین سے درخواست کی کہ وہ ان زبانوں کی تفصیلات فراہم کریں جن پر انہوں نے کام کیا ہے، نیز ان کے پاس دستیاب وسائل کی معلومات بھی شیئر کریں، تاکہ آئی آئی ٹی دہلی کے اشتراک سے ان مواد کو اس پلیٹ فارم میں شامل کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ وزارت اجلاس کے ایجنڈے کے نکات اراکین کے ساتھ شیئر کرے گی اور آئندہ کام کو آگے بڑھانے کے لیے لائحۂ عمل تیار کرے گی۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ برادریوں کے اشتراک سے تیار کیے جانے والے لسانی وسائل کی ملکیت انہی برادریوں کے پاس برقرار رہنی چاہیے۔

یہ اجلاس قبائلی زبانوں کی دستاویز بندی، ڈجیٹل تحفظ اور فروغ کے لیے مربوط کوششوں کو مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم پیش رفت ثابت ہوا۔ اس سلسلے میں ‘آدی وانی’ کو ایک ایسے قومی پلیٹ فارم کے طور پر فروغ دینے کا تصور پیش کیا گیا ہے جو لسانی تحقیق، ٹیکنالوجی، تعلیمی وسائل اور برادریوں کی قیادت میں جاری اقدامات کو ایک دوسرے سے جوڑے گا۔

***

ش ح۔ س ک۔ ج ا

U.No. 6121


(ریلیز آئی ڈی: 2323703) وزیٹر کاؤنٹر : 7
یہ ریلیز پڑھیں: English , Gujarati , Tamil