وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی حکومت نے جنوبی بحرِ ہند کے ماہی گیری معاہدے (ایس آئی او ایف اے) میں ہندوستان کی شمولیت کو منظوری دے دی


اس معاہدے میں شمولیت سے گہرے سمندر میں ماہی گیری کے شعبے میں ہندوستان کی موجودگی مضبوط ہوگی، زیادہ قدر والی سمندری وسائل تک رسائی بڑھے گی اور عالمی سطح پر ماہی گیری کے نظم و نسق میں شرکت کو فروغ ملے گا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 14 OCT 2026 5:18PM by PIB Delhi

مرکزی حکومت نے جنوبی بحرِ ہند کے ماہی گیری معاہدے (ایس آئی او ایف اے) میں ہندوستان کی شمولیت کو منظوری دے دی ہے۔ یہ ایک اہم تزویراتی پیش رفت ہے، جو عالمی سطح پر ماہی گیری کے نظم و نسق میں ہندوستان کی حیثیت کو مزید مضبوط بنائے گی۔ حکومتِ ہند کی جانب سے دسمبر 2025 میں گہرے سمندر میں ماہی گیری کے لیے رہنما خطوط جاری کیے جانے کے بعد، اس پہل سے ہندوستانی ماہی گیری کے بیڑے کو بین الاقوامی پانیوں تک وسعت دینے کے لیے ایک علاقائی فریم ورک دستیاب ہوگا۔ اس کے نتیجے میں ہندوستان اپنے تزویراتی مفادات کا تحفظ کرنے، معاشی مواقع کو وسعت دینے اور ایس آئی او ایف اے کے فریم ورک کے تحت زیادہ قدر والی سمندری وسائل کی پائیدار طریقے سے ماہی گیری کے جائز حقوق حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہوگا۔ مزید برآں، اس سے گہرے سمندر میں ہندوستان کی تسلیم شدہ موجودگی کی توثیق ہوگی اور قومی معاشی، سائنسی اور تزویراتی ترجیحات کے مطابق ملک کی بحری معیشت کو فروغ ملے گا۔

ایس آئی او ایف اے میں ہندوستان کی شمولیت کے بعد ہندوستانی پرچم بردار ماہی گیری کے جہاز اور کاروباری ادارے اس معاہدے کے دائرۂ اختیار میں اسکویڈ، ٹوتھ فش، الفونسینو اور مچھلیوں کی دیگر غیر ہجرت کرنے والی اقسام کا مجاز طریقے سے شکار کر سکیں گے۔

ایس آئی او ایف اے میں شمولیت سے ہندوستان معاہدے کے دیگر تعاون کرنے والے فریقوں کے ساتھ مل کر اس کے مقاصد کو آگے بڑھا سکے گا۔ ان مقاصد میں گہرے سمندر کے وسائل کے بارے میں سائنسی معلومات میں اضافہ اور ان کی پائیدار طریقے سے ماہی گیری، معاہدے کے تحت آنے والے وسائل کے سائنسی جائزوں میں شرکت اور غیر قانونی، غیر درج شدہ اور غیر منضبط ماہی گیری (آئی یو یو) کی روک تھام شامل ہیں۔

اس معاہدے میں شمولیت سے گہرے سمندر میں جہازوں پر سوار ہو کر معائنہ کرنے کی اسکیم (ایچ ایس بی آئی) میں فعال شرکت کے ذریعے ہندوستان کی تزویراتی علاقائی ترجیحات کو بھی آگے بڑھایا جا سکے گا اور ملک کی ساحلی سلامتی کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔ اس اسکیم کو ایس آئی او ایف اے کے تحت منظور کیا جا چکا ہے اور اس پر عمل درآمد کیا جانا ہے۔

فی الحال، ایس آئی او ایف اے میں تعاون کرنے والے غیر معاہد  فریق (سی این سی پی) کی حیثیت سے ہندوستان کو فیصلہ سازی کے عمل میں محدود شرکت حاصل ہے۔ اس میں سائنسی کمیٹی اور تعمیل کمیٹی جیسے اہم ادارے بھی شامل ہیں۔ معاہدے کا باقاعدہ فریق بننے سے ہندوستان ان اداروں میں مکمل طور پر شرکت کر سکے گا اور اسے سائنسی اعداد و شمار، تحقیقی پروگراموں اور مچھلیوں کے ذخائر کے جائزوں تک رسائی حاصل ہوگی۔ اس سے ہندوستانی ماہی گیروں اور کاروباری افراد کے لیے ماہی گیری کے نئے مواقع کھلیں گے۔ ایس آئی او ایف اے کے خطے میں پائیدار ماہی گیری کے طریقوں کو فروغ دینے میں ہندوستان کی فعال شراکت سمندری وسائل کے تحفظ، ان کی طویل مدتی بقا کو یقینی بنانے اور ہندوستانی ماہی گیر برادریوں کے روزگار کو سہارا دینے میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔

پس منظر:

گہرے سمندر کا حصہ دنیا کے مجموعی سمندری رقبے کا تقریباً 65 فیصد ہے اور اس وقت اس پر پانچ ممالک یا خطوں کا غلبہ ہے: چین (21فیصد)، تائیوان (13فیصد)، جاپان (11فیصد) ، جنوبی کوریا (11فیصد) اور اسپین (8فیصد)۔ بحرِ ہند میں علاقائی ماہی گیری کے انتظام کی دو بڑی تنظیمیں ہیں، یعنی انڈین اوشین ٹونا کمیشن (آئی او ٹی سی) اور جنوبی بحرِ ہند کا ماہی گیری معاہدہ (ایس آئی او ایف اے)۔ ہندوستان 1996 سے آئی او ٹی سی کا باقاعدہ فریق ہے۔ یہ تنظیم طویل فاصلے تک ہجرت کرنے والی ٹونا اور اس سے ملتی جلتی مچھلیوں کی اقسام کے انتظام کو منضبط کرتی ہے۔

ہندوستان 2022 سے ایس آئی او ایف اے میں تعاون کرنے والے غیر معاہد فریق (سی این سی پی) کی حیثیت سے شامل ہے۔ اس معاہدے میں شمولیت کے ذریعے ہندوستان ماہی گیری کے جائز حقوق، ایس آئی او ایف اے کے دائرۂ اختیار میں آنے والے گہرے سمندر کے علاقوں میں سمندری وسائل تک رسائی اور پہلے سے موجود عالمی ماہی گیری کے بیڑوں کے ساتھ اپنی تسلیم شدہ موجودگی قائم کرنے کا موقع حاصل کرے گا۔ یہ معاہدہ اپنے دائرۂ کار میں آنے والے علاقے میں مچھلیوں، مولسکس، کرسٹیشینز اور دیگر غیر متحرک انواع سمیت ماہی گیری کے وسائل کا احاطہ کرتا ہے، تاہم اس میں طویل فاصلے تک ہجرت کرنے والی انواع (سمندر کے قانون سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن، یو این سی ایل او ایس کے ضمیمہ اوّل میں درج)اور ان غیر متحرک انواع کو شامل نہیں کیا گیا ہے جو ساحلی ریاستوں کے ماہی گیری سے متعلق دائرۂ اختیار کے تحت  (یو این سی ایل او ایس کے آرٹیکل 77(4) کے مطابق) آتی ہیں ۔

فی الحال ہندوستانی ماہی گیری کے جہاز زیادہ تر خصوصی اقتصادی زون (ای ای زیڈ) سے 60 سے 80 ناٹیکل میل کے فاصلے تک کام کرتے ہیں۔ ہندوستان کو گہرے سمندر کے تمام ممکنہ علاقوں میں اپنی ماہی گیری کی صلاحیت کو فروغ دینے اور وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے دیگر ممالک کے خصوصی اقتصادی زون میں رسائی کے معاہدوں سے فائدہ اٹھانا بھی شامل ہے، جس سے قومی خزانے کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image001_20261014171937_5a5e17.jpg

*****

ش ح ۔ا ک۔   ر ب

U: 6081


(ریلیز آئی ڈی: 2323477) وزیٹر کاؤنٹر : 6
یہ ریلیز پڑھیں: हिन्दी , English , Tamil